اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ہوسکتا ہے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق

اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ہوسکتا ہے جس میں عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکتاہے ، ہمارا ایجنڈا عام آدمی کا ایجنڈا ہے ،عام آدمی پاکستان سے محبت کرتا ہے اور پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان دیکھنا چاہتا ہے ،اسلامی اور خوشحال پاکستان کیلئے میں نے علماء کرام ،سیاستدانوں اور تاجروں سے بات کی ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق

i8

لاہور 27نومبر2014ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ہوسکتا ہے جس میں عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکتاہے ، ہمارا ایجنڈا عام آدمی کا ایجنڈا ہے ،عام آدمی پاکستان سے محبت کرتا ہے اور پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان دیکھنا چاہتا ہے ،اسلامی اور خوشحال پاکستان کیلئے میں نے علماء کرام ،سیاستدانوں اور تاجروں سے بات کی ہے ۔ان شاء اللہ جلد ہی تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد تحریک تکمیل پاکستان میں ہمارے شانہ بشانہ جدوجہد کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں گے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد سیکٹر جی ۔10میں شاپنگ مال کے افتتاح کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ،امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فاروق خان اور ملک مہربان بھی موجود تھے ۔سراج الحق نے کہا کہ ملک میں غربت اور افلاس کے ذمہ دار وہ حکمران اور اشرافیہ ہیں جو اپنی ذات سے آگے سوچنے کو تیار نہیں ،غریب طبقہ اپنا سب کچھ ملک و قوم پر نچھاور کرنے کو تیار ہے مگر جنہوں نے پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور ایک کوڑی بھی یہاں خرچ کرنے کو تیار نہیں ،ان کی جائیدادیں اور بنک بیلنس سب بیرون ملک ہیں وہ صرف حکومت کرنے پاکستان آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنے اجتماع عام میں پاکستان کے پسے ہوئے غریب عوام کا ایجنڈا پیش کیا ہے ۔ہم عوام کی قوت سے اقتدار میں آکر بنیادی ضرورت کی پانچ اشیاء آٹا ،چاول ،گھی ،چینی اور چائے پر سبسڈی دیں گے اور ان کی قیمتوں پر مکمل کنٹرول ہوگا ،اس کا اطلاق ہر اس فرد پر ہوگا جس کی ماہانہ آمدن تیس ہزار روپے سے کم ہوگی ،انہوں نے کہا کہ ہم غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرکے تعلیم کو عام اور مفت کریں گے ،امیر اور غریب کے بچوں کیلئے ایک جیسے تعلیمی اورہسپتال کے ادارے ہونگے ،انہوں نے کہا کہ ہم پانچ بڑی بیماریوں کا علاج بالکل مفت کردیں گے جن میں دل ،گردے ،کینسر ،ٹی بی اور جگر کی بیماریوں کا علاج سرکاری ہسپتالوں سے بالکل فری ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ صرف اس لئے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں کہ ان کے پاس علاج کرانے کی سکت نہیں ہوتی ،اسی طرح ملک بھر میں کروڑوں بچے غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب تک عام آدمی کو وہی سہولتیں میسر نہیں آئیں گی جو یہاں کا اشرافیہ استعمال کررہا ہے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ۔
سراج الحق نے کہا کہ ملک میں جاری سودی نظام اللہ سے بغاوت کا نظام ہے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرکے کوئی کس طرح خوشحال ہوسکتا ہے ،ہم حکومت سے بھی کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ میں سود کے حق میں دی گئی اپنی اپیل واپس لے ،انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے بغاوت اور جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے ،جماعت اسلامی حکومت میں آکر ہر طرح کے سودی کاروبار ختم کردے گی ،ہم عوام سے بھی اپیل کریں گے کہ وہ سودی اداروں کا بائیکاٹ کریں ،انہوں نے کہا کہ سودی نظام کی وجہ سے ہی ملک میں کمر توڑ مہنگائی ہے ،ورلڈ بنک کے قرضے بھی صرف امیر وں پر خرچ ہوتے ہیں اور ہتھکڑیاں غریبوں کو پہنائی جاتی ہیں ،انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں زکواۃ و صدقات کا نظام ہوتا تو آج ملک اس ابتری کا شکار نہ ہوتا ،ہم اقتدار میں آکر زکواۃ کا نظام نافذ کریں گے جس میں ہر بیوہ ،یتیم اور مسکین کی کفالت کی ذمہ دار حکومت ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ جو مظلوم عدالت میں اپنا کیس خود نہیں لڑ سکے گا اس کی طرف سے سرکاری وکیل پیش ہوگا ۔
دریں اثنا سراج الحق نے وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کو فون کر کے انہیں کراچی کے مدرسہ سے باز یاب ہونے والی باجوڑ ایجنسی کی بچیوں کو جلد از بحفاظت ان کے والدین تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔