Siraj wants federal cabinet meetings at Thar to know the situation

Thar/Siraj 30-12-2014

Siraj wants federal cabinet meetings at Thar to know the situation

pic  sirajul haq (1)

Siraj wants federal cabinet meetings at Thar to know the situation
LAHORE, Dec. 30; Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Sirajul Haq  has called for shifting the Sindh provincial capital to Thar for three years and holding of federal cabinet meetings in Tharparkar saying that this was the only solution of the backwardness and acute poverty in the desert area.
Addressing a “Save Thar” rally at Mithi, the headquarters of Tharparkar on Tuesday, he stressed that emergency measures were required to pull the Thar area out of the present critical situation. He suggested to Prime Minister Nawaz Sharif to immediately call a federal cabinet meeting in Thar so that the rulers spending most of their time in palaces were able to know about the plight of the people living in Thar like areas where death had been ruling since long.
Sirajul Haq also demanded that an FIR under section 302 PPC be registered against the Sindh Chief Minister and his cabinet for the death of more than six hundred children in the Thar area due to hunger and poverty within one year.
The JI chief noted that there was a vast desert area like Thar in India as well which was however fully irrigated and had flush green crops whereas the Thar in this country remained totally neglected as a desert. He said that the Thar and Badin areas were full of rich minerals including coal, gas, granite and other natural resources but little effort had been made to develop these.
Sirajul Haq said that after coming to power, the politicians forgot their election promises. He said that economic and political terrorism had made the plight of the masses still worse. He said that the feudal lords, vaderas and capitalists were busy in plunder of public wealth and it was due to their lavish livings that the every new born child in the country was under the debt of more than Rs. 70,000.
He stressed upon the government to control corruption and non-development expenditure and play its role for the development of Sindh.
He said if the masses elected the JI to power, the JI would evolve uniform systems of education and health for the entire country. He urged the people having love for the country and Sindh to stand by the JI against tyranny and exploitation.
He said that several children had died in Thar due to shortage of oxygen, and announced that the Al-Khidmat Foundation would make every effort to overcome this shortage.
JI Sindh chief, Dr Merajul Huda, speaking on the occasion, said it was unfortunate that the Sindh government had a huge sum of 1600 million dollars for the purchase of a new helicopter for the Sindh CM, but it did not a penny for the children starving in Thar.

وفاقی کابینہ کا اجلاس تھرمیں اور تین سال کیلئے سندھ کا دارالحکومت تھرمنتقل کیاجائےتھرکی پسماندگی اوربدحالی کا یہ واحد حل ہے۔سراج الحق

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے وفاقی کابینہ کا اجلاس تھر میںاور تین سال کیلئے سندھ کا دارالحکومت تھر منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرکی پسماندگی اور بدحالی کا یہ واحد حل ہے۔تھر میں جا ں بحق ہونے والے چھ سو سے زائد بچوں کے موت کی ایف آئی آر دفعہ تین سو دو کے تحت وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی کابینہ کےخلاف درج کی جائے۔

10891698_907240209289210_9030894590451266390_n

30/12/2014

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے وفاقی کابینہ کا اجلاس تھر میںاور تین سال کیلئے سندھ کا دارالحکومت تھر منتقل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھرکی پسماندگی اور بدحالی کا یہ واحد حل ہے۔تھر میں جا ں بحق ہونے والے چھ سو سے زائد بچوں کے موت کی ایف آئی آر دفعہ تین سو دو کے تحت وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی کابینہ کےخلاف درج کی جائے۔ سندھ کے عوام ہماری” اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان “تحریک میں شامل ہوکر ملک کی تقدیر بدلنے میں اہم کردار اد کریں۔ جماعت اسلامی بلاامتیاز رنگ ونسل ومذہب انسانیت کی خدمت پر یقین رکھتی ہے۔ حکمران ووٹ لینے کے بعد اپنے وعدے بھول جاتے ہیں، ان کی معاشی اور سیاسی دہشتگردی کی وجہ سے عوام کی حالت انتہائی خراب ہے۔ تھر اس وقت مشکل ترین دور سے گذررہا ہے۔ ایک سال میں چھ سو سے زائد بچے ادویات اور خوراک کی قلت کی وجہ سے انتقال کرچکے ہیں یہ بدترین انسانی المیہ ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے تھر پارکر کے ضلعی ہیڈکواٹر مٹھی میں” تھربچاﺅریلی“ کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ریلی سے امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹرمعراج الہدیٰ صدیقی ،ضلعی امیر میرمحمد بلیدی، حافظ نصراللہ عزیز،جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم ،پروفیسرنظام الدین میمن،عبدالغفار عمر،ممتاز سہتو،عبدالحفیط بجارانی،ودیگرنے بھی خطاب کیا۔ریلی میں ہندو ومسلم آبادی کی کثیر تعدا نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاءسراج الحق کی قیادت میں شہر کے مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے کشمیر چوک پہنچے جہاں مقامی لوگوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور سندھ ، تھر کی روایات کے مطابق سندھی اجرک تھر کی شال اور سندھی ٹوپی پیش کی۔قبل ازیں امیر جماعت اسلامی کابدین ،شادی لارج،کھیتلاڑی،روئی راڑوسمیت نصف درجن سے زائد مقامات پر لوگوں کی کثیر تعداد نے استقبال کیا۔امیر جماعت اسلامی نے ہینڈپمپ،کنووں کا افتتاح اور امدادی سامان متاثرین میں تقسیم کیا۔ جبکہ سول ہسپتال مٹھی کے دورے میں زیر علاج بچوں کی عیادت کے دوران الخدمت فاﺅنڈیشن کے تحت مختلف منصوبوں کا اعلان کیا۔
سراج الحق نے تھر ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی قیادت اور کارکنوں کے دلوں میں محبتوں کا ایک سمندر ہے جس کو خیبرپختونخوا کے پہاڑوں سے لیکر سندھ کے سمندر تک محسوس کیا جاسکتاہے۔،آج ہم محبتوں کا یہی پیغام لیکر تھر آئے ہیں۔ اس وقت تھر جس بدحالی کا شکار ہے اس سے نکالنے کیلئے ایمرجنسی بنیادوں © پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تھر کی صورتحال کے حوالے سے فوری طور پر وفاقی کابینہ کا اجلاس تھرپارکر میں بلائیں اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ تھر کے مسائل کے حل کیلئے سندھ کا دارلحکومت تین سال کیلئے تھرپارکر منتقل کیا جائے۔تاکہ حکمرانوں اور ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو یہ معلوم ہوسکے کہ عوام کے مسائل کیا ہیں اور وہ کن مشکلات سے گذررہے ہیں۔ یہ حکمران ووٹ لیتے وقت عوام سے بڑے وعدے کرتے ہیں لیکن اس کے بعد سب بھول جاتے ہیں۔ آج تھر میں موت کا رقص جاری ہے،ایک سال میں چھ سوسے زائد بچے غذائی قلت اور ہسپتالوں میں سہولیات کی عدم دستیابی کی وجہ سے انتقال کرچکے، رواں ماہ ایک سو پچیس بچوں کی اموات ہوچکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تما م بچوں کے موت کے ذمہ دار وزیراعلیٰ سندھ اور ان کی حکومت ہے۔ ان کیخلاف دفعہ تین سو دو کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے۔ سیاستدانوں اور وڈیروں نے معاشی اورسیاسی دہشتگردی مچائی ہوئی ہے، ان کی شاہ خرچیوں اور کرپشن کی وجہ سے ملک کا بچہ بچہ 70 سے 80 ہزار روپے کا مقروض ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری طرح بھارت میں بھی تھر کا ایک بڑا حصہ ہے لیکن وہ سرسبزوشاداب جبکہ ہماراتھر ویران ہے۔ ہمارے ہاں تھر اور بدین میں کوئلہ،گرینائنٹ،گیس اور دیگرقدرتی وسائل موجود ہیں لیکن ان سے عوام کو محروم رکھا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کرپشن پر کنٹرول اور غیرترقیاتی اخراجات کم کرکے سندھ کو سرسبز وشاداب بنانے کیلئے اپنا کردار ادا کرے۔اگر ہمیں اقتدار ملا تو غریبوں اور امیروں کیلئے یکساں صحت، تعلیم اوردیگر سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ میں پاکستان اور سندھ سے محبت کرنے والوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ظلم کیخلاف مظلوموں کا ساتھ دیں اور جماعت اسلامی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ مٹھی سول ہسپتال میں بچوں کی اموات آکسیجن نہ ہونے کی وجہ سے ہورہی ہیں اسلئے الخدمت فاﺅنڈیشن کے تحت آکسیجن کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اسی طرح آئی سی یو وارڈ کو اپ گریڈ کیا جائے گا اور بہت جلد ماہرڈاکٹروں کی ٹیم تھر کا دورہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام اصل میں حکومتوں کا ہے،ہم اپنے وسائل کے مطابق کام کررہے ہیں-
اس موقع پر جماعت اسلامی سندھ کے امیرڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے ریلی کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے ہسپتالوں کی صورتحال انہتائی خراب ہے جس کی وجہ سے بچے آئے روز مررہے ہیں، تھر کے لوگ بھی پاکستانی ہیں انہیں بھی اپناحق ملنا چاہئے ، افسوس یہ ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کا ہیلی کاپٹر خریدنے کیلئے سولہ سو ملین ڈالر کی رقم موجود ہے لیکن تھر کے بچوں کو بچانے کیلئے دوروپے کا بجٹ دستیاب نہیں۔ جماعت اسلامی تھر میں 1996ع سے فلاحی کاموں میں سرگرم ہے اور ابتک پندرہ سو سے زائد کنویں کھودے گئے اور پچاس سے زائد اسکول قائم کئے،جماعت اسلامی کل بھی مظلوموں کے ساتھ تھی اور آج بھی مظلوموں کے ساتھ ہے، ہمارے دروازے مسلم اور غیرمسلم سب کیلئے کھلے ہیں اور سراج الحق سارے ملک کیلئے ایک امید کی کرن بن کر آئے ہیں۔ جماعت اسلامی انسانیت کی بنیادوں پر تھر کو بچانے کیلئے میدان عمل میں آئی ہے۔ جماعت اسلامی کا امیر پشاور کے بچوں کےلئے خون کا عطیہ دے سکتے ہیں تو وہ تھر کے بچوں کو بھی تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ #

NATO forces landing in Afghanistan was unjustified…Siraj

SIRAJ/ NATO

NATO forces landing in Afghanistan was unjustified

Pic Sirajul Haq (33)

LAHORE, Dec. 29; Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Sirajul Haq, has said that the US led NATO troops had absolutely no right to land in Afghanistan and the forces supposedly on peace mission had only promoted terrorism and lawlessness in the region.

            Commenting on the withdrawal of the NATO forces from Afghanistan, the JI chief said in a  statement here on Monday that the saner elements within the US, Europe and all over the world had strongly opposed the invasion of Afghanistan while the responsible military and civil officers- both serving and retired- in the US administration had in their writings and articles, openly admitted the blunder committed by their country in this respect.

            Sirajul Haq, while welcoming the withdrawal of the NATO forces according to the plan as a positive move, impressed upon the US and the world institutions not to interfere in the affairs of Afghanistan anymore and instead leave it up to the Afghans to plan for their future. He warned that if the foreign powers tried to thrust a government of their choice in Kabul or set up military basis for political gains, peace in Afghanistan and the region would be disturbed.

            The JI chief also urged the Pakistan government not to miss the opportunity and take effective measures for ensuring a durable peace in the brotherly country with the support of the Afghan people through effective efforts at diplomatic level involving Russian, China, Iran and Turkey.

            He stressed that full support should be extended to the Afghan people for the preservation of their Islamic identity and tribal traditions.

پنجاب اور وفاقی حکومت نوٹس لے اور افغان مہاجرین کو تحفظ مہیا کیا جائے .لیاقت بلوچ

پاکستان اور افغانستان نے مہاجرین اور انصار کی اسلامی تاریخ کو زندہ رکھاہے ۔ یہ تعلق دنیا بھر کے لیے مثالی ہے ۔ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو فورسز کا انخلا پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے اب دونوں حکومتوں اور افواج کے مسائل کے مثبت حل کی طرف جانے کا فیصلہ کن مرحلہ ہے ۔

IMG_48662
جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے لاہور میں افغانستان کے ساتھ تجارت کرنے والے تاجر رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اور افغانستان کا جغرافیائی مقام بہت اہم ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان خونی ، دینی ، مذہبی ، ثقافتی رشتے صدیوں پر محیط ہیں ۔ دونوں ممالک میں غالب اکثریت مسلمانوں کی ہے جن کا رہن سہن ، روٹی روزی ، تہذیب و تمدن اورثقافت مشترک ہے دونوں ممالک کے عوام میں انسانی ہمدردیاں ، رواداریاں ، جرأت و استقامت اور غیر ت و حمیت یکساں پائی جاتی ہے ۔ دونوں ممالک میں غربت ، بیماری ، تکالیف اور مشکلات خصوصاً دشمن کی چالیں بھی ان کے خلاف ایک جیسی ہیں ۔ 35 سال سے پاکستان اور افغانستان نے مہاجرین اور انصار کی اسلامی تاریخ کو زندہ رکھاہے ۔ یہ تعلق دنیا بھر کے لیے مثالی ہے ۔ افغانستان سے امریکہ اور نیٹو فورسز کا انخلا پاکستان اور افغانستان دونوں کے لیے یکساں اہمیت کا حامل ہے اب دونوں حکومتوں اور افواج کے مسائل کے مثبت حل کی طرف جانے کا فیصلہ کن مرحلہ ہے ۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ دو ہمسایہ اور اسلامی ممالک کے قریبی تعلقات کے ڈر اور خوف کی وجہ سے اسلام دشمن قوتیں سازشیں اور مشترکہ منصوبے بنارہے ہیں ۔ سانحہ پشاور ، آرمی پبلک سکول میں غیر انسانی ، المناک اور ہولناک خون ریزی تاریخ انسانی پر بدنما داغ کا واقعہ ہے ۔اس واقعہ کی پشت پر بھی دشمن قوتوں کا اصل ہدف یہ ہے کہ کہ دو برادر اسلامی ملک ایک دوسرے کے قریب نہ رہ سکیں ۔ پاکستان ، افغانستان کی حکومتوں خصوصاً افغانستان کے عوام کو اس صورتحال میں بیدار رہ کر اپنا کردار ادا کرناہوگا۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ لاہور میں اعظم کلاتھ مارکیٹ وسطی ایشیا کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے ۔ملک میں دہشتگردی کے حالات اور روک تھام کے اقدامات کی آڑ میں پولیس اور سیکورٹی اداروں کی روش بہت تشویش نا ک ہے ۔ افغان تاجر پاکستانی کپڑا افغانستان اور وسطی ایشیا کے تمام ممالک تک لے کر جاتے اور پاکستان کو زر مبادلہ کما کر دیتے ہیں ۔ حکومتی اداروں کی روش تجارت کو خراب کررہی ہے ۔ پنجاب اور وفاقی حکومت نوٹس لے اور افغان مہاجرین کو تحفظ مہیا کیا جائے ۔

پاکستان کسی سیاستدان ، جرنیل یا مولوی کا نہیں ، یہ اٹھارہ کروڑ عوام کا ہے اور وہی اس کی حفاظت کریں گے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سرا ج الحق

 ملک میں وہی پرانا نظام چل رہا ہے ، وہی تھانہ کلچر اور پرانی ذہنیت برقرار ہے ۔ ملک میں اسی طر ح ظلم ، قتل وغارت گری اور مہنگائی کا راج ہے۔نام نہاد جمہوری پارٹیوں اور فوجی حکمرانوں نے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور مشرقی بازو کو ہم سے کاٹ ڈالا۔ غلام ذہنیت کے حکمران ہی ناانصافی کی بڑی وجہ ہے۔

Pic Sirajul Haq (33)

امیر جماعت اسلامی پاکستان سرا ج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کسی سیاستدان ، جرنیل یا مولوی کا نہیں ، یہ اٹھارہ کروڑ عوام کا ہے اور وہی اس کی حفاظت کریں گے۔ پاکستان میں وزیر اعظم اور پارٹیاں تبدیل ہوتی ہیں لیکن عوام کی تقدیر نہیں بدلتی۔ غلام ذہنیت کے حکمران ابھی تک قوم کو متفقہ زبان تک نہیں دے سکے۔ 2014ء افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی شکست کا سال ہے۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام افغانیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ افغانستان کی طرح پاکستان میں بھی امریکہ کے غلاموں کا جھنڈا سر نگوں ہوگا۔ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد پرویز مشرف اور اس کی پالیسیاں ہیں۔ بلوچستان ، کراچی اور قبائلی علاقوں میں غیر ملکی ایجنسیوں کو اجازت دے کر سازشوں کا مرکز بنایا گیا ۔ عالم اسلام ابھررہا ہے اور ایک ہورہا ہے۔ امریکہ یہ برداشت نہیں کرسکتا ، وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کررہا ہے۔سانحہ پشاور نہایت اندوہناک ہے۔ اس کی تحقیقات کی جائیں اور تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ایٹم بم سے زیادہ قوت قومی یکجہتی میں ہے۔ دہشت گردی کا واحد علاج قومی یکجہتی اور شریعت کا نظام ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے ، جس نے اس کو ڈھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا وہ ہاتھ توڑ دیں گے۔ علماء اور مدارس کی توہین ناقابل برداشت ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل منصورہ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیوڑ بازار ضلع مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان ، امیر جماعت اسلامی ضلع مردان ڈاکٹر عطاء الرحمن ، نائب امیر ضلع سلطان محمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔جلسہ عام میں سینکڑوں افراد نے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شرکت کے اعلانات کئے۔
سراج الحق نے کہا کہ 65سال سے ملک میں وہی پرانا نظام چل رہا ہے ، وہی تھانہ کلچر اور پرانی ذہنیت برقرار ہے ۔ ملک میں اسی طر ح ظلم ، قتل وغارت گری اور مہنگائی کا راج ہے۔نام نہاد جمہوری پارٹیوں اور فوجی حکمرانوں نے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور مشرقی بازو کو ہم سے کاٹ ڈالا۔ غلام ذہنیت کے حکمران ہی ناانصافی کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کے غریب باہر کے ممالک میں محنت مزدوری کرکے پیسے پاکستان بھیجتے ہیں اور ہمارے حکمران ٹیکسوں کی صورت میں غریبوں کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکراتی رہیں ، اب انہیں ذلیل اور شکست خوردہ ہوکر افغانستان سے نکلنا پڑ رہا ہے ۔ یہ مجاہدین کے لئے کامیابی کا سال ہے لیکن پاکستان میں شہادتوں کا سال ہے۔ پاکستان کے ہر بازار ، چوراہے اور شہر میں پاکستانیوں کا خون بہتا رہا ۔ اب 2015ء پاکستان کے لئے امن کا سال ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان ممالک میں کرپٹ اور غلامانہ ذہنیت رکھنے والے حکمران امریکہ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں کوئی اہم واقعہ یا حادثہ پیش آتا ہے تو سیکولر اور مغرب زدہ طبقہ اسلام ، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنا لیتا ہے ۔مدارس پاکستان میں عوام کی امانت ہیں ۔قیام پاکستان سے پہلے بھی مدارس قائم تھے ۔جب انگریز ان کو ختم نہ کرسکے تو ان کے غلام ان کو کیسے ختم کرسکتے ہیں ۔ ہم علماء اور مدارس کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے ۔ہم اقتدار میں آکر اسلامی پاکستان میں آئمہ مساجد کے لئے تنخواہیں مقرر کریں گے۔ قوم کو ایک نظام تعلیم دیں گے ۔ ہم ملک کو شرعی نظام دیں گے جو سود سے پاک ہوگا۔ جس میں معیشت، عدالت، تعلیم اور سیاست اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ہوگی ۔ ہر پارٹی تبدیلی کا نعرہ لگا رہی ہے ۔ کوئی پاکستان کو برطانیہ ، کوئی امریکہ اور کوئی فرانس کی طرز پر بنانے کے دعوے کررہا ہے ۔ کوئی نئے اور پرانے پاکستان کی بات کررہاہے۔ لیکن ہم صرف اسلامی پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ صرف جماعت اسلامی کے پاس متبادل نظام ہے۔ اس کے پاس دیانتدار قیادت اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ وہ قوم کو اکھٹا کرنے کا گُر جانتے ہیں۔ ہم وزارتوں میں بھی درویشی کرتے ہیں اور درویشی میں بادشاہی کرتے ہیں۔قوم کے لئے ہمیشہ قربانی جماعت اسلامی نے دی ہے۔ وہ لوگ اپنی اور پارٹی کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ، ہم اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
دریں اثناسراج الحق نے افغانستان سے نیٹو فورسز کی واپسی پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سرپرستی میں نیٹو فورسز کا افغانستان میں آنے کا کوئی جواز نہیں تھا، امن قائم کرنے کے نام پر آنے والی فورسز نے خطے میں دہشت گردی اور بدامنی کو فروغ دیا ۔امریکہ یورپ اور دنیا بھر کے غیر جانبدار حلقوں نے افغانستان میں44ممالک کی فورسز کی چڑھائی کی شدید مخالفت کی تھی، امریکی انتظامیہ اور افواج کے موجودہ اور سابق ذمہ داران نے کتابیں اور مضامین لکھ کراپنی غلطی کا کھلا اعتراف کیا ۔اب جبکہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق نیٹو فورسز واپس جارہی ہیں تو یہ امر خوش آئند ہے ۔جماعت اسلامی امریکہ اور عالمی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان کے مستقبل میں ٹانگ اڑانے کی بجائے یہ کام افغان قوم پر چھوڑ دیا جائے ۔افغانستان کی حکومت بنانے ،گرانے اور وہاں پر اڈے قائم کرکے سیاسی مفادات سمیٹنے کی کوشش کی گئی تو افغانستان اور خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس موقع کو ضائع مت کریں ،رو س چین ایران اور ترکی سمیت خطے کے ممالک سے سفارت کاری کے ذریعے افغانستان میں عوام کی تائید کے مطابق پر امن مستقبل کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے ایک دفعہ پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی اسلامی اور قبائلی شناخت کو برقرا ر رکھتے ہوئے افغان عوام کی عالمی سطح پر مکمل تائید کی جانی چاہئے ۔

تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کوواضح مینڈیٹ دے دیا ہے۔سراج الحق

تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کوواضح مینڈیٹ دے دیا ہے۔ اب حکومت کا امتحان شروع ہوگیا۔پشاور شہر کئی دہائیوں سے مسلسل قربانیاں دے رہا ہے ۔اس کے شہریوں کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔مرکزی حکومت شہر کی عزت افزائی کرتے ہوئے دلیر ترین شہر کارتبہ دے۔سراج الحق

1

26دسمبر 2014ء
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کوواضح مینڈیٹ دے دیا ہے۔ اب حکومت کا امتحان شروع ہوگیا۔پشاور شہر کئی دہائیوں سے مسلسل قربانیاں دے رہا ہے ۔اس کے شہریوں کے حوصلے اب بھی بلند ہیں۔مرکزی حکومت شہر کی عزت افزائی کرتے ہوئے دلیر ترین شہر کارتبہ دے۔ آرمی پبلک سکول کو یونیورسٹی کا درجہ دے کر پرنسپل طاہرہ قاضی کے نام سے منسوب کیا جائے جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر معصوم طلبہ کی جان بچائی ۔صوبائی حکومت کا سکولوں کو بچوں کے نام سے منسوب کرنے کے فیصلے کو سراہتے ہیں۔ اس فیصلے سے بچوں کی قربانی زندہ رہے گی۔ قوم کی خواہش ہے کہ اس تاریخی قربانی کے بدلے میں اسے امن ملے ۔ قبائلی علاقوں کو مشران کے مشورے کے ساتھ ایک نظام دیا جائے اور اسے مزید سرزمین بے آئین نہ رکھا جائے ۔ لاکھوں آئی ڈی پیز کے لئے ایمرجنسی پروگرام تشکیل دیا جائے ، ان کے لئے روزگار اور عزت کے ساتھ واپسی کا اہتمام کیا جائے۔ 2015ء کو امن کا سال قرار دیا جائے ۔ سیاست اور پارٹی مفادات سے بالاتر ہوکر قومی امن مارچ کا اہتمام کیا جائے۔ ملک میں تمام مسائل کی جڑ نظریۂ پاکستان سے بے وفائی ہے۔ ملک بھر کے علماء کرام نے دہشت گردی اور بالخصوص پشاور میں سکول کے معصوم بچوں کے سفاکانہ قتل کی مذمت کی۔منبر و محراب کی قوت استعمال کرکے دہشت گردی کا قلع قمع کرنے کی حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے۔ شریعت اور مساجد کے خلاف پروپیگنڈہ مغربی ممالک اور استعمار کا ایجنڈہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آرمی پبلک سکول کی شہید پرنسپل طاہرہ قاضی اور شہید طالب علم ثاقب کے لواحقین سے تعزیت اور فاتحہ خوانی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرت ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سیکرٹری اطلاعات اسراراللہ ایڈوکیٹ ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات شمشاد احمد خان ایڈوکیٹ، سیکرٹری سیاسی کمیٹی بحراللہ ایڈوکیٹ ، سابق صوبائی وزراء حافظ حشمت خان اور کاشف اعظم اورممبر میڈیا سیل سبز علی خان نوید اور تفہیم الرحمن بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ سراج الحق نے کہا کہ 16دسمبر کے اندوہناک سانحے کے بعد پشاور میں زندگی رک گئی ہے ۔چہروں سے مسکراہٹیں ختم ہوگئی ہیں ۔ اس حادثے کے اثرات تادیر قائم رہیں گے ۔ یہاں کے عوام نے معصوم فرشتے کفن میں لپیٹ کر مٹی کے حوالے کئے ہیں ۔ اس واقعے نے پوری قوم اور تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی اپیل پر ہم نے ان کو مکمل مینڈیٹ دے دیا ہے ۔ اب نواز شریف اور ان کی پوری ٹیم کا امتحان ہے۔ سیاسی جماعتوں نے ان کو یہ مینڈیٹ امن کے لئے دیا ہے ۔تاہم انہوں نے کہا کہ پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے ممکنہ اقدامات اور سٹریٹیجی کے بنیادی خدوخال کے خاکے یا Concept Paper کی منظوری دی ہے اور پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں منظور کردہ متفقہ سفارشات کی روشنی میں تفصیلی منصوبہ بنائیگی اور اس حوالے سے جو بھی قانون سازی کی کرنا ہوگی یا اقدامات تجویز کئے جائیں گے وہ حکومت قومی اسمبلی میں پیش کرے گی اور عوام کا منتخب ایوان اس کی منظوری دے گا اور ہمیں امید ہے کہ جو بھی اقدامات ہوں گے وہ آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کیا جائے گا۔ جمہوریت میں اکثریت کے فیصلوں کو مانا جاتا ہے۔ جماعت اسلامی سمیت کچھ جماعتوں کو پارلیمانی پارٹیوں کے اجلاس میں بعض نکات سے اختلاف تھا ۔یہ نکات قومی اسمبلی میں پیش کئے جائیں گے اور قانون بنانے کے لئے ایک ایک لفظ جائزہ لیا جائے گا۔ اگر اب بھی ملک میں امن قائم نہ ہوسکا تو پھر کبھی بھی اس کی توقع نہیں رکھی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے پشاور کے قریب ہیں ، ان کے اثرات براہ راست پشاور پر مرتب ہوتے ہیں۔ حکومت ابھی تک قبائل کے مسائل حل نہیں کرسکی ۔ قبائلی علاقوں میں سکول ، کالجز اور یونیورسٹیاں نہیں ہیں، حتیٰ کہ پینے کے صاف پانی کا بھی انتظام نہیں ۔ بجٹ میں تمام قبائلی علاقوں کے لئے اتنی رقم رکھی جاتی ہے جس سے شہر کی ایک بڑی سڑک ایک بڑی سڑک بھی تعمیر نہیں ہوسکتی۔قبائلی علاقوں میں غربت کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ حکومت ان علاقوں کے مسائل حل کرنے کے لئے فوری پروگرام وضع کرے ۔ انہوں نے کہا کہ مساجد اور مدارس کی سرپرستی اور نگرانی پوری قوم کررہی ہے۔ دینی مدارس کے مسلمہ بورڈز اور جید علماء کرام کے مشوروں سے مدارس کے لئے جدید نظام وضع کیا جائے۔ دینی مدراس میں لاکھوں طلبہ علم حاصل کرتے ہیں لیکن بجٹ میں ان کے لئے کوئی رقم مختص نہیں۔ آج بھی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے ممبر و محراب سب سے بڑی قوت ہے۔ ملک میں اتحاد و اتفاق اور دہشت گردی کے خاتمے کی جدوجہد کی قیادت علماء کرام ہی کرسکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جرم اگر وزیر اعظم کرے ، کوئی وزیر یا کوئی عالم دین قانون سب کے لئے برابر ہے اور جس نے بھی جرم کیا ہے اس کے خلاف قانون حرکت میں آنا چاہئے۔لیکن لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کے بیان کو بنیاد بنا کر لال مسجد گرانی کی بات کرنا انتہائی نامناسب ہے۔ جو بھی یہ کرتے ہیں وہ ملک دشمن قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کررہے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا ۔ ہمارے تمام مسائل کی جڑ نظریۂ پاکستان سے بے وفائی ہے۔ اب بھی اگر ملک میں مکمل اسلامی نظام نافذ کردیا جائے تو پاکستان کے تمام مسائل ختم ہوجائیں گے اور دہشت گردی کی یہ لہر بھی خود بخود دم توڑ دیگی۔قبل ازیں آرمی پبلک سکول کی شہید پرنسپل طاہرہ قاضی کے شوہر قاضی ظفر سے اظہار تعزیت کے بعد ان سے گفتگو کے دوران امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم شہداء کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ شہید طاہرہ قاضی نے قربانی کی جو مثال قائم کی ہے اس پر پوری قوم کو فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نیک نیتی اور جرأت سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پوری قومی قیادت سے ملنے والے مینڈیٹ کی روشنی میں اقدامات کرے تو دہشت گردی کے عفریت کو شکست دی جاسکتی ہے۔ اس وقت حکومت ، افواج پاکستان اور ملک کی پوری سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک صفحے پر آچکی ہے۔ اب حکومت کی پوری ٹیم کی آزمائش ہے کہ پوری قوم کی طرف سے ملنے والے واضح مینڈیٹ کو کس طرح موثر انداز میں بروئے کار لاکر ملک میں پائیدار امن قائم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

معصوم بچوں کے قتل اور زخمی پڑے معصوم بچوں کو بھلایا جارہا ہے اور دوسرے موضوعات چھیڑے جارہے ہیں۔پروفیسر محمد ابراھیم خان

معصوم بچوں کے قتل اور زخمی پڑے معصوم بچوں کو بھلایا جارہا ہے اور دوسرے موضوعات چھیڑے جارہے ہیں۔ واقعے کی بے لاگ تحقیق ہونی چاہئے ۔ جو لوگ اقتدار میں ہیںعوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ ایک زندہ انسان کے قاتلوں کو تو لٹکایا جارہا ہے جبکہ سینکڑوں معصوم بچوں کے قاتلوں کو بچایا جارہا ہے۔پروفیسر محمد ابراہیم خان

IMG_1767

امیر جماعت اسلامی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے قتل اور زخمی پڑے معصوم بچوں کو بھلایا جارہا ہے اور دوسرے موضوعات چھیڑے جارہے ہیں۔ واقعے کی بے لاگ تحقیق ہونی چاہئے ۔ جو لوگ اقتدار میں ہیںعوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ ایک زندہ انسان کے قاتلوں کو تو لٹکایا جارہا ہے جبکہ سینکڑوں معصوم بچوں کے قاتلوں کو بچایا جارہا ہے۔ وہ المرکز اسلامی میں ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 16دسمبر کو پیش آنے والا واقعہ انتہائی المناک ہے۔ اس کی تحقیقات طشت ازبام ہونی چاہئیں۔جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔ نیول بیس پر حملے کی بھی تحقیقات نہیں ہوئیں اسی لئے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کو بنیاد بنا کر تحقیقات کی جائیں اور ملوث لوگوں کو سامنے لایا جایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی اس قسم کے وحشیانہ کام کرنے والوں کی حمایت نہیں کرتا ۔ ایسے لوگوں سرعام گولی مارنی چاہئے ۔ اگر مجھ پر یا کسی پر بھی الزام ہے تو ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے۔ پشاور واقعے میں شہید ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو بتائی جارہی ہے۔ لیکن اس تعداد پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ اسی طرح مجرموں پر بھی پردہ ڈالا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پھانسی کی سزا پر پابندی لگانے والے قوم کے دشمن ہیں ۔ یہ پابندی امریکہ اور یورپی ممالک کے دباؤ پر لگائی گئی اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کو تحفظ دیا گیا ۔ انہوں نے الطاف حسین کی طرف سے لال مسجد کو گرانے کے مطالبے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ پر تو مسجد ضرار کو گرانے کے لئے وحی نازل ہوئی تھی کیا الطاف حسین پر بھی وحی نازل ہوئی ہے۔ ملک میں آئین موجود ہے ۔اگر اس پرعمل درآمد کیا جائے تو کسی مسجد کو گرانے کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا میں فوجی عدالتوں کے قیام کی بات کی جارہی ہے۔ دہشت گردی تو کوئٹہ اور کراچی میں بھی ہورہی ہے۔کیاوہاں بھی فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ ملک میں ایسے غیر آئینی اقدام کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں آپریشنز ہورہے ہیں ۔ وزیرستان سے دس لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی کرکے بنوں میں کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ضرب عزب میں کیا ہورہا ہے آج تک کسی کو معلوم نہیں اور نہ ہی ان علاقوں تک میڈیا کو رسائی دی جارہی ہے۔ انہوں نے حکو مت پر زور دیا کہ سینکڑوں بچوں کی شہادتیں رائیگاں نہیں جانی چاہئے اور ہزاروں واقعات کی طرح اس واقعے پر بھی پردہ نہ ڈالا جائے۔

تمام سیاسی ودینی جماعتوں کی کی قیادت نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھر پور مینڈیٹ دیا ہے ۔ سراج الحق

نئے صوبوں کا قیام نہ تو غیر شرعی ہے نہ ہی نظریہ پاکستان اور آئین کیخلاف ہے۔ جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں ضرور بننے چاہئیں مگر نفرت کی بنیاد پر نہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے، اسلامی اور خوشحال پاکستان کے حصول کیلئے پوری قوم یکجا ہو چکی ہے تمام سیاسی ودینی جماعتوں کی کی قیادت نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھر پور مینڈیٹ دیا ہے ۔سراج الحق 

pic 2

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام نہ تو غیر شرعی ہے نہ ہی نظریہ پاکستان اور آئین کیخلاف ہے۔ جہاں جہاں ضرورت ہو وہاں ضرور بننے چاہئیں مگر نفرت کی بنیاد پر نہیں ۔ دہشت گردی کے خاتمے، اسلامی اور خوشحال پاکستان کے حصول کیلئے پوری قوم یکجا ہو چکی ہے تمام سیاسی ودینی جماعتوں کی کی قیادت نے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو دہشت گردی کے خاتمے کیلئے بھر پور مینڈیٹ دیا ہے ۔ اب حکومتی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ اس سے فائدہ اُٹھا کر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرے۔ غیر ملکی قوتوں کا آلہ کار فرد ہویا ادارہ اس کو آئین وقانون کے مطابق سزا ملنی چاہئے ۔ دہشت گردی پر دینی جماعتوں کو مورد الزام ٹھہرانا سیکو لرلابی اور استعماری قوتوں کے ایجنٹوں کا طے شدہ ایجنڈا ہے۔ قاضی حسین احمد ، مولانا فضل الرحمن سمیت سب سے زیادہ دینی جماعتوں کے قائدین پر حملے ہوئے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیا لات کا اظہار انہوں نے ملتان میڈیا سنٹر میں ایڈیٹرز ، کالم نگاروں اور سینئر صحافیوں سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکر ٹری اطلاعات امیر العظیم ، صوبائی نائب امیر چودھری عزیر لطیف، صوبائی ڈپٹی سیکر ٹری جنرل راﺅ ظفر اقبال، ضلعی امیر میاں آصف محمود اخوانی ، میڈیا ایڈوائزر کنور محمد صدیق بھی اُن کے ہمراہ تھے۔ 
    سراج الحق نے کہاکہ سانحہ پشاور سے ہم نے سبق حاصل کر کے اپنی آئندہ نسلوں کو تحفظ دینے کی منصوبہ بندی نہ کی تو ایسے حالات کا تسلسل نہیں رک سکے گا۔ ۔ حکومت عوام کے جان ومال کے تحفظ کی ذمہ داری پوری کرے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اجتماع عام کے موقع پر 33ممالک سے اسلامی تحریکوں کے55 قائدین نے پر امن اور جمہوری طریقے سے اپنی دعوت کو آگے بڑھانے کا عزم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ کرنا حکومت اور اداروں کا کام ہے ۔ سیاسی فیصلوں کی بجائے دانش مندی کا مظاہرہ کیا تو دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کی بات کرنا حکومت کا ساتھ دینا نہیں حکومت کی تبدیلی آئینی طریقے سے ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سی سیاسی جماعتیں فیوڈل طبقہ کی نمائندہ ہےں صرف جماعت اسلامی ہی عام آدمی کی نمائندہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اصولوں پر سود ے بازی نہیں کرسکتے نہ ہی اسٹیٹس کو کے حامل لوگوں کو جماعت اسلامی کا پلیٹ فارم فراہم کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسلامی تشخص اور اسلام کو بدنام کرنا استعماری قوتوں کا پہلا ایجنڈا ہے۔ پاکستان میں مسلح جدوجہد کی گنجائش نہیں۔ مسلح جدوجہد دین اور پاکستان کو نقصان پہنچائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں تین سو سے زائد علماءکرام نے فتویٰ دیا ہے کہ دہشت گردی سے دینی مدارس کا کوئی تعلق نہیں۔ مدارس کو بدنام کرنا دشمن کا ایجنڈا ہے ۔ تخریب کاری میں جو بھی ملوث ہو اُس کیخلاف کاروائی ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اس نے1965ءاور 1971ءمیں ہمیں دھوکہ دیا ۔1971ءمیں بحری بیڑہ نہ آیا بیڑہ غرق ضرور ہوگیا۔ استعماری قوتیں پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتی ہیں۔ پاکستان کو افغانستان کی بجائے پاکستان پر توجہ دینی چاہئے۔
    دریں اثنا اسلامی جمعیت طلبہ کے68واں یوم تاسیس کے موقع پر ”دارالسلام “ میں اسلامی جمعیت طلبہ ملتان کے زیراہتمام ایک تقریب میں بھی سابق ناظم اعلیٰ و امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے خصوصی شرکت کی اور سالگرہ کا کیک کاٹا۔ اس موقع پر طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ جمعیت اس ملک کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے۔ جمعیت نے ہر شعبہ زندگی کیلئے دین دار اور امانت دار قیادت تیار کی۔اس ملک کے نوجوان اسلامی انقلاب کا ہراول دستہ ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے لاکھوں نوجوانوں کی ذہنی اور فکری تر بیت کی ہے۔ جماعت اسلامی اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کیلئے کوشاں ہے۔ 

سراج الحق کا ملتان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور الخدمت فاﺅنڈیشن کی تقریب سے خطاب

ملک میں پہلی بار پھولوں کے تابوت اٹھائے ، ہمیں اپنے گھر میں آگ لگانے والوں کو بے نقاب اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قانون کی حقیقی حکمرانی اور غیر قانونی اسلحہ کا سدباب کرنا ہوگا، مارشل لاءکا راستہ روکنے کے لئے حکومت ، پی ٹی آئی میں لڑائی ختم کرانے کی کوشش کررہا ہوں۔سراج الحق

pic sirajul  haq

لاھور23 دسمبر 2014
    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں پہلی بار پھولوں کے تابوت اٹھائے ، ہمیں اپنے گھر میں آگ لگانے والوں کو بے نقاب اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قانون کی حقیقی حکمرانی اور غیر قانونی اسلحہ کا سدباب کرنا ہوگا، مارشل لاءکا راستہ روکنے کے لئے حکومت ، پی ٹی آئی میں لڑائی ختم کرانے کی کوشش کررہا ہوں ، حکومت کو جوڈیشل کمیشن ہر صورت بنانا پڑے گا اس لئے مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
     سراج الحق نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد ہر شخص فکر مند ہے کہ دہشت گردی کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ آخری ضرور ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت ، ریاست ، معاشرہ اور پاکستانی قوم کی حیثیت سے معصوم بچوں اور ان کے ورثاءکو دہشت گردی کا جواب ضرور دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی استعماری قوتوں نے تیل اور سونے کے ذخائر ہڑپ کرنے کےلئے عالم اسلام پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں پہلا وار پاکستان پر 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں کیا جبکہ بعد میں عراق ، شام ، لیبیا اور افغانستان پر بمباری کرکے انہیں تباہ کیا اور ان کی معدنیات کی دولت پر قبضے کئے گئے جبکہ معاملہ یہاں تک نہ رکا بلکہ لوگوں کو مسلک اور قومیت کی بنیاد پر بھی لڑایا گیااس لئے سانحہ پشاور کوئی سڑک کا حادثہ نہیں بلکہ ایک پری پلان منصوبہ ہے ۔ سراج الحق نے کہا کہ مسلمانوں کو جب سے حقیقی جمہوریت کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع ملامغرب نے پائیدار جمہوریت کے آگے روڑے اٹکائے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کہ بقاء، استحکام اور خوشحالی حقیقی جمہوریت کی صورت میں ممکن ہے لیکن اس وقت پاکستان سیاست ، جمہوریت اور سیاسی جماعتیں یرغما ل ہیں ۔ ان کا کہنا تھا امریکہ نے آمرانہ ادوار میں زیادہ فائدہ اٹھایا اس لئے وہ پاکستان میں پائیدار جمہوریت نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحول میں ملک میں میرٹ کی حکمرانی نہیں ہے ملک میں پیسے کا کھیل ہے جو کروڑوں روپے خرچ کر سکتا ہے وہ تو اسمبلی کا ممبر بن سکتا ہے کوئی اور نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظام ترقی کا باعث نہیں بن سکتا ملک کی ترقی اسلامی جمہوریت میں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریت میں عدل و انصاف ، ایمان اور اصل آئین ہے مغربی جمہوریت لادین ہے اس لئے وکلا کو بھی ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے سراج الحق نے کہ ملک میں حقیقی قانون کی حکمرانی قائم کی جائے ، کسی آدمی کو بھی قانون سے استثنیٰ نہ دیا جائے اور تمام غیر قانونی اسلحہ چھیننے کے بجائے حکومت خود خرید کر لے یا پھر لائسنس دے کر اس کو قانونی شکل دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان کو قیامت تک قائم رکھنے کے لئے اردو کو قومی زبان کے طور ہر ہر جگہ رائج کیا جائے ، انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابات میں صرف اس پارٹی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے جو اپنی جماعت میں باقائدہ الیکشن کرواتی ہیں کیونکہ ملک کی سیاسی جماعتیں پارٹیاں نہیں پراپرٹیاں بن چکی ہیں باپ کے بعد بیٹا ہی کیوں قائد بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے اس کے باوجود گیس اور بجلی کا بحران ہے یہ صرف حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے سے بھاگ نہیں سکتی کمیشن تو اسے ہر صورت بنانا پڑے گا کیونکہ حکومت نے کمیشن کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا اس لئے اب مزید وقت ضائع نہ کیا جائے ۔انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سے بھی گذارش کی ہے کہ وہ اسمبلیوں میں واپس آ جائے اور 2015کو امن کا سال قراردیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سانحہ پشاور پر کسی کو ذمہ دار ٹھہرانے یا آپس میں الجھنے اور لڑنے کا نہیں بلکہ یکسوئی اور امن قائم کرنے کا ہے اگر ملک میں امن قائم نہ ہوا تو پاکستان کسی اور جنگ کا مرکز بن سکتا ہے۔اس موقع پر صدر ہائیکورٹ بار سید اطہر حسین بخاری ، جنرل سیکرٹری سجاد حسین ٹانگرا، مرزا عزیر اکبر بیگ ، عظیم الحق پیرزادہ اور وسیم ممتاز ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔
    دریں اثنا سراج الحق نے ملتان میں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے منعقدہ الخدمت فاﺅنڈیشن کی تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی دولت لوٹنے والے کرپٹ مافیا کی کرپشن کی کمائی کو بے نقاب کرکے اسے قومی خزانہ میں جمع کرایا جائے اور کرپشن کے تالاب میں نہانے والوں کو پکڑ کر عبرت ناک سزائیں دی جائیں ۔مسلح دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے معاشی اور سیاسی دہشت گردی کو بھی ختم کرنا ہوگا۔الخدمت فاﺅنڈیشن نے گزشتہ پانچ سالوں میں 23ارب روپے عوامی خدمت کے کاموں میں خرچ کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیلاب وزلزلہ زدگان کی امداد ،بے سہارا یتیم بچیوں کی شادیوں ،یتیم بچے بچیوں کی تعلیم، سیلاب سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو گھر تعمیر کرکے دینے ،غریبوں کومفت تعلیم اور صحت کی سہولتیں مہیا کرنے میں جماعت اسلامی ہمہ وقت خدمت کے کاموں میں مصروف رہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ الخدمت فاﺅنڈیشن کے پاس ملک بھر میں رضا کاروں کاوسیع ترین نیٹ ورک موجودہے ۔سراج الحق نے اعلان کیا کہ ملک میں امن اور خوشحالی کیلئے 2015 ءمیں نئے عوامی ایجنڈے کے ساتھ مہم کا آغاز کررہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب عوام اپنی گردنوںپر سے کرپٹ مافیا کو اتا ر پھینکیں گے ۔
    بعد ازاںسراج الحق نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں الخدمت فاﺅنڈیشن کی طرف سے تعمیر کئے گئے گھروں کی چابیاں ،عورتوں میں سلائی مشینیں اور طلباءو طالبات میں تعلیمی وظائف تقسیم کئے ۔ تقریب سے راﺅ محمد ظفر، ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، ڈاکٹر ولی محمد مجاہد،محمد احمد چغتائی،پروفیسر افتخار چودھری، چودھری عزیر لطیف،راﺅ ظفر اقبال، میاں آصف محمود اخوانی ، عبدالجبار مفتی سمیت دیگر ذمہ داران نے بھی خطاب کیا۔

سراج الحق اور شاہ محمود قریشی کی اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے ،پوری قوم اسلامی اور خوش حال پاکستان کے حصول کیلئے یکجا ہوچکی ہے ،تحریک انصاف کا کردار قابل تحسین ہے جس نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف حکومت سے تعاون کرنے کا اعلان کیا،سراج الحق

pic jip - pti

سراج الحق اور شاہ محمود قریشی کی اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
لاہور22 دسمبر 2014
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے ،پوری قوم اسلامی اور خوش حال پاکستان کے حصول کیلئے یکجا ہوچکی ہے ،تحریک انصاف کا کردار قابل تحسین ہے جس نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف حکومت سے تعاون کرنے کا اعلان کیا ،تمام سیاسی قیادت نے متحد ہوکر وزیر اعظم نواز شریف کو دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور مینڈیٹ دیا ہے اور حکومتی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ کس حد تک قوم کو مطمئن کرتی ہے ۔2015کا سال ان شاء اللہ ملک میں امن ،خوشحالی اور ترقی کا سال ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے فر نٹیئر ہاؤس اسلام آباد میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سراج الحق نے اس امید کا ٰاظہار کیاکہ حکومت قومی امن کے قیام کے لیے جلد لائحہ عمل دے گی۔اس حوالے سے تمام جماعتوں اداروں وفاقی و چاروں صوبائی حکومتوں سمیت قوم کا ہر فرد اس چیلنج سے عہدہ براہ ہونے کا عزم رکھتا ہے ۔حکومت کو نئے سال کو 2015 ء کو امن کا سال قرار دے دینا چاہیے امن کے علاوہ کوئی دوسری چوائس نہیں ہو سکتی سب اس مقصد کے حصول کے لیے مصروف عمل ہو جائیں ورنہ پاکستان بھی عراق اورشام بن سکتا ہے ہم اتنے کمزور نہیں ہیں کہ اس چیلنج کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ دہشت گردی و انتہاء پسندی کے خلاف ملک بھر میں منبر و محراب سے پوری شدت سے آواز بلند ہو رہی ہے اس کا بھرپو فائدہ اٹھایا جائے تمام علمائے کرام دہشت گردی کے خلاف یکسو ہیں کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ بعض اندر اورباہر کے لوگ اس طرح کے واقعات کو اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔پاکستان کے تمام علمائے کرام نے اس دہشت گردی کے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اس کے خلاف احتجاج ہو رہا اب یہ حکومت کاامتحان ہے کہ قومی امن کے ہدف کو کس طرح حاصل کرتی ہے قومی مفادات ہمیشہ سیاسی مفادات پر مقدم ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے موجودہ کردار کے حوالے سے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔اب حکومت کا بھی فرض ہے کہ تحریک انصاف کے حوالے سے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرکے قوم کو سرپرائز دے۔مسائل مذاکرات کی میز پر حل ہو سکتے ہیں حکومت سازگار ماحول کی ذمہ دار ہے۔ استعفوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ اگر حکومت بھی کمیشن کے قیام کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے۔ فلاحی ،سیاسی،جمہوری اور خوشحال پاکستان ہمارا مشترکہ ایجنڈہ ہے ۔سانحہ پشاور کے بعد تمام سیاسی جماعتیں ماضی کو بھلا کر یکسوئی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہیں ۔ سیاسی جماعتیں مرکزی سرکار کی سفارشات کا انتظار کر رہی ہیں جنہیں دوبارہ آل پارٹیز کانفرنس کی منظوری کے بعد قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔2015ء امن کا سال ہو گا ملک بھر میں اس حوالے سے کوششیں ہونی چاہئیں۔ ہم اس نئے سال میں پاکستان کو ایک فلاحی پاکستان بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف پوری قوم اور سیاسی جماعتیں یکجا ہیں۔ چیلنجز نئے نہیں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کمزوریاں دور کرنے کے لیے اصلاحات نافذ کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ تفتیش میں مشکلات ،گواہوں کے حوالے سے تحفظات،قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تربیت ،انہیں جدید اسلحہ و آلات سے لیس کرنے کی باتیں پہلے بھی ہوتی رہیں اصل بات عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ1965ء کی طرح ایک بار پھر پوری قوم یکسو ہوئی ہے اس جذبہ زندہ رہناچاہیے پوری قوم کا اب یہی عزم ہے کہ اس مسئلے کو ترجیح اول ملنی چاہیے اور تمام وسائل دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بروکار لانے چاہیں حکومت مالی وسائل سے گنجائش نکال سکتی ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں نصف ہونے پر پاکستان کا تیل کا ساڑھے پندرہ ارب ڈالر کا بل بھی کئی ارب ڈالر کم ہو گیا ہے۔دہشت گردی اور انتہاء پسندی ہی قوم کی ترجیحات میں شامل ہے۔سرمایہ کاری کے لیے دہشت گردی سے پاک سازگار ماحول ناگزیر ہے۔حکومت سال 2015ء کو امن کا سال قرار دینے کی تجویز پر اتفاق کر چکی ہے اب اس حوالے سے ترجیحات کا تعین ہونا چاہیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط اور رابطوں کے فقدان کو دور کیا جائے یہی قوم کے جذبات ہیں۔اسی کو مدنظر رکھ کر اپنے سیاست مقاصد کو پس پشت ڈال کر دھرنا ختم کر دیا تاکہ حکومت کی توجہ اس مسئلے پر زیادہ سے زیادہ مبذول ہو سکے۔ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اصل معاملہ عدالتی کمیشن کا قیام اور اس کے کام کا آغاز ہے۔حکومت ماحول بنائے اپنے وعدے کو پورا کرے۔انہوں نے کہا کہ اس سازگار ماحول میں پاکستان تحریک انصاف اور حکومت ایک ہی نشست میں معاملات طے کر سکتی ہیں ۔ حکومتی ترجمان بھی اسی قسم کا بیان دے چکے ہیں اب یہ حکومتی رویے پر ہے کہ وہ ماحول سازگار بنائے تاکہ معاملات میں پیش رفت ہوسکے۔