سراج الحق نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ان کی رہائش گاہ پرملاقات اور عیادت کی

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ان کی رہائش گاہ پرملاقات اور عیادت کی ۔ سراج الحق نے ڈاکٹر طاہر القادری کی خیریت دریافت کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

10805656_820800187966282_1513955951353603297_n

لاہور یکم دسمبر2014ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے ڈاکٹر طاہر القادری سے ان کی رہائش گاہ پرملاقات اور عیادت کی ۔ سراج الحق نے ڈاکٹر طاہر القادری کی خیریت دریافت کی اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
بعد ازاں سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ اور پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ حکومت کو آخر کار مذاکرات کی میز پر آنا پڑے گا بہتر یہی ہے کہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے ملک و قوم کو کسی نقصان کا سامنا کرنا پڑے ۔ حکومت کو چاہیے کہ جلد مذاکرات شروع کرے ۔ انہوں نے کہاکہ احتجاج اور جلسے جلوس جمہوریت کا حصہ ہیں ان سے کسی تیسری قوت کے آنے کا کوئی خطرہ نہیں ۔انہوں نے کہاکہ مسائل کا کوہ ہمالیہ اپنے کندھوں پر اٹھانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ہوگا۔ اپوزیشن حکومت کا آئینہ ہوتی ہے جسے دیکھ کر چہرے کا بناؤ سنگھار کیا جاتاہے ۔ حکومت کو آئینہ توڑنے کی بجائے چہرے کو درست کرناچاہیے ۔ حکومت نے ابھی تک مذاکرات میں کیے گئے انتخابی اصلاحات ، الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کے وعدوں پر عملدرآمد نہیں کیا ۔سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اس وقت سیاسی بحران کاشکار ہے ۔ ہماری خواہش تھی کہ 2013 ء کے انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکومتوں کے درمیان عوام کی خدمت کا مقابلہ ہومگر ایسا نہ ہوسکا عوام کی مشکلات و مسائل پہلے سے بھی بڑھ گئے ہیں ۔انہو ں نے کہاکہ چودہ اگست سے شروع ہونے والا سیاسی بحران اسی طرح جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوششوں سے چودہ اگست کو لاہور لڑائی کا مرکز بننے سے محفوظ رہا ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم نے حکومت ، پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے درمیان 37 بار مذاکرات کروائے اور دھرنوں کا مرحلہ حکمت اور دانائی سے اختتام پذیر ہوالیکن حکومت نے مذاکرات میں طے پانے والے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جس کی وجہ سے پی ٹی آئی ابھی تک سڑکوں پر ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام میں سیاسی شعور اجاگر کرنے کے لیے پی اے ٹی اور پی ٹی آئی نے ملک بھر میں جلسوں کا سلسلہ شروع کیا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے ، جمہوری ملک میں جلسے جلوس اور دھرنے نئی بات نہیں ۔
ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ جس ملک میں چودہ کارکنوں کے قتل کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیے بھی دھرنا دینا پڑے ، وہاں آئین و قانون پر عملدرآمد کی نوعیت کابخوبی اندازہ کیا جاسکتاہے ۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن کی رپورٹ کے بارے میں ایک سوا ل کے جواب میں انہوں نے کہاکہ متاثرہ پارٹی کی ڈیمانڈ کے مطابق کیس کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔
اس موقع پر پاکستان عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈا پور نے سراج الحق کی آمد کا خیرمقدم کیا اور کہاکہ جے آئی ٹی کی تشکیل میں سراج الحق کا کردار نہایت اہم تھا۔ سرا ج الحق ہر قدم پر ہمارے مد د گار رہے اور انہو ں نے حتی الوسع کوشش کی کہ معاملات خوش اسلوبی سے حل ہو جائیں مگر حکومت کی ڈھٹائی سے مذاکرات تعطل کاشکار ہوئے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s