امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا ایک دن گورنمنٹ سکول کے بچوں کے نام

پشاور۔۔۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پشاور گڑھی راج کول میں گورنمنٹ پرائمری سکول کادورہ کیا ۔بچوں کو پڑھایا اور بچوں میں تحائف بھی تقسیم کئے۔۔۔۔۔

51

پشاور۔۔۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پشاور گڑھی راج کول میں گورنمنٹ پرائمری سکول کادورہ کیا ۔بچوں کو پڑھایا اور بچوں میں تحائف بھی تقسیم کئے۔۔۔۔۔
پشاور—
امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ دفاع کے بعد تعلیم وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کی اولین ترجیح ہونی چاہئے اور وسائل کا بڑا حصہ تعلیم کے فروغ کیلئے مختص ہونا چاہئے ملک میں رائج مختلف نظام ہائے تعلیم قوم کو طبقاتی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کا باعث بن رہے ہیں ملک میں یکساں نظام تعلیم اور نصاب تعلیم ہونا چاہئے۔جس میں مختلف صوبوں اور علاقوں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے معمولی ردوبدل کی گنجائش موجود ھو۔تعلیم کی طرف جتنی توجہ دی جانی چاہئے تھی وہ نہیں دی گئی ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور شہر میں گورنمنٹ پرائمری سکول گڑھی راجکول رنگ روڈ کے دورے اور سکول کے مختلف کلاسوں میں پڑھانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقعہ پرصوبائی سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ خان ایڈوکیٹ ،اور جاعت اسلای سیاسی کمیٹی کے صوبائی سیکرٹری بحر اللہ خان بھی موجود تھے ،امیر جماعت اسلامی نے پرائمری سکول میں تقریبا دو گھنٹے گذارے اور طلبہ کو پڑھاتے ہوئے سوالات کئے اور تسلی بخش جوابات طلبہ کو داد دی اور چھوٹے طلبہ میں گفٹ تقسیم کئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ اگرچہ اٹھا رویں ترمیم کے بعدشعبہء تعلیم صوبوں کے سپرد کر دیا گیا ہیتاہم پھر بھی اس بات کی ضرورت ہے کہ وفاقی حکومت اور چاروں صوبائی حکومتیں مل کر بیٹھیں اور ملک کے پورے تعلیمی نظام کا جائزہ لیں اور ملک بھر کیلئے یکساں نظام تعلیم اور یکساں نصاب تعلیم وضع کریں انہوں نے کہا کہ غریبوں اور امیروں کے بچوں کیلئے ایک ہی قسم کا تعلیمی نظام ہونا چاہئے اور صدر مملکت اور وزیر اعظم کے بیٹے کو جو تعلیمی ماحول میسر ہو وہی ایک عام غریب اور مزدور کے بچے کو بھی میسر ہونا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ آج بھی بہت سے سرکاری سکولوں میں بچے ٹاٹوں پر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں اور جس سکول میں بیٹھ کر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں وہاں پر انہوں نے دیکھا کہ ایک کلاس روم میں ایک استاد کو ستر سے لیکر اسی بچوں کو ایک ہی استاد کو پڑھانا پڑ رہا ہے حالانکہ ایک کلاس میں کسی صورت 45سے زیادہ طلبہ نہیں ہونے چاہئے انہوں نے کہا کہ 70/80طلبہ پر مشتمل کلاس روم میں استاد صرف بچوں کو بمشکل کنٹرول ہی کرسکتا ہے انہیں یکسوئی سے پڑھا نہیں سکتا اورطلبہ کو استاد کی طرف سے جو توجہ درکار ہوتی ہے وہ نہیں ملتی انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر تعلیم سے بات کریں گے انہوں نے کہا کہ ملک میں مقابلے کے تمام امتحانات قومی زبان میں ہونے چاہئے انہوں نے کہا کہ وہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ تعلیم کو قوم کا مسئلہ نمبر 1 قرار دیکر قومی وسائل کا زیادہ سے زیادہ حصہ مختص کردیں اور اس مقصد کیلئے مستقل اور دیرپا لائحہ عمل مرتب کریں ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ بدھ کے روز تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے انکی تفصیلی ملاقات ہوئی ہے ۔عمران خان موجودہ سیاسی بحران کے حل کیلئے حکومت سے بات چیت پر آمادہ ہے اس لئے میں بھی وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بھی فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آجائیں اور چوکوں اور چوراہوں پر اپنا مؤقف بیان کرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر مسائل کی حل تلاش کریں انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ امید کی شمع روشن ہے اور اب بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ انشاء اللہ مذاکرات سے مسائل کا حل نکل آئیگا انہوں نے کہا کہ ہم بھی انتخابی نظام کا اصلاھ چاہتے ہیں اور عمران خان سے ملاقات میں انتخابی نظام میں اصلاحات کے علاوہ خیبر پختونخوا حکومت کی مجموعی کارکردگی پر بھی بات ہوئی ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s