کراچی میں مزار قائد سے ایک بڑے جلسہ عام کے ذریعے اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے ایک عظیم رابطہ عوام مہم ، روڈ میپ اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ لیاقت بلوچ

مینار پاکستان کے سائے تلے جماعت اسلامی کے تاریخی اور تاریخ ساز اجتماع عام کی بھرپور کامیابی کے بعد 25دسمبر کو کراچی میں مزار قائد سے ایک بڑے جلسہ عام کے ذریعے اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے ایک عظیم رابطہ عوام مہم ، روڈ میپ اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گااور مزار قائد پر ہونے والے اس عظیم الشان جلسہ عام کو اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے اہم اور کلیدی خطاب کو لاہور ،پشاور ،کوئٹہ ،ملتان ،فیصل آباد ،گوجرانوالہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں براہ راست نشر کیا جائے گا ۔لیاقت بلوچ

PC Liaqat Baloch

کراچی :06دسمبر

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے اعلان کیا ہے کہ مینار پاکستان کے سائے تلے جماعت اسلامی کے تاریخی اور تاریخ ساز اجتماع عام کی بھرپور کامیابی کے بعد 25دسمبر کو کراچی میں مزار قائد سے ایک بڑے جلسہ عام کے ذریعے اسلامی اور خوشحال پاکستان کے لیے ایک عظیم رابطہ عوام مہم ، روڈ میپ اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گااور مزار قائد پر ہونے والے اس عظیم الشان جلسہ عام کو اور امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کے اہم اور کلیدی خطاب کو لاہور ،پشاور ،کوئٹہ ،ملتان ،فیصل آباد ،گوجرانوالہ سمیت ملک کے دیگر شہروں میں براہ راست نشر کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام اپنے سیاسی ،جمہوری اور معاشی حقوق کی بحالی چاہتے ہیں اگر اسٹیبلشمنٹ اور ریاستی ادارے غیر جانب دار ہوجائیں اور کراچی کے عوام کو آزادانہ ،منصفانہ اور غیر جانب دارانہ انداز میں اپنی قیادت کو منتخب کرنے کا حق دیا جائے تو وہ جمہوری طور پر اپنے حقیقی نمائندے منتخب کر لیں گے اور ایک مہذب قیادت کے ذریعے اپنے مسائل خود حل کرلیں گے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن،سیکریٹری کراچی عبد الوہاب ،نائب امراء اسامہ رضی ،برجیس احمد ،امیر ضلع جنوبی حافظ عبد الواحد شیخ ،محمد اقبال چوہدری اور سید عبد الرشید بھی موجود تھے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ مینار پاکستان کے سائے تلے اجتماع عام میں بلا مبالغہ لاکھوں مرد و خواتین نے شرکت کی ،اجتماع عام کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ ایک اسلامی پاکستان ہی پاکستان کی عوام کی خوشحالی اور خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔قیام پاکستان کے مقاصد کو زندہ کرنا اور نا مکمل ایجنڈے کی تکمیل کرنا اجتماع عام میں کارکنا ن کو ہدف دیا گیا تھا ۔عوام کے قلب و نظر کی تبدیلی ،قیادت اورنظام کی تبدیلی اور مستحکم اور پائیدار نظام کے لیے ایک منظم ٹیم کی ضرورت ہے ۔اللہ سے توبہ استغفار کرنے ،نماز و زکوۃ قائم کرنے ،جھوٹ اور غیبت سے اجتناب کرنے اور روٹی اور روزی کے لیے حلال راستوں کو اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔عوام کے ساتھ مل کر ایک نئی امنگ اور جذبے کے ذریعہ اس جدو جہد کو منظم کریں گے ۔عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور امانت،دیانت اور خدمت کا نظام لانا چاہتے ہیں ۔عوام اس گلے سڑے نظام کرپشن ،موروثی سیاست سے تنگ آچکے ہیں ،سیاست اور جمہوریت کے نام غنڈہ گردی اور بد تہذیبی عوام کے لیے وبال جان بن گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام ،بلوچستان کے عوام اور قبائلی علاقوں کے عوام موجودہ حالات سے نجات اور اپنے حقوق کی بحالی چاہتے ہیں ۔جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہے اورہم ان کے حقوق کی بحالی کی جدو جہد جاری رکھیں گے ۔25دسمبر کو عوام کے تحرک سے منزل کو حاصل کریں گے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے تاریخ ساز اجتماع ،تبلیغی جماعت کے دو بڑے اجتماع ،جماعۃ الدعوہ کا اجتماع اور بحریہ ٹاؤن کی مسجد میں اہل سنت کے اجتماع میں عوام کی جتنی بڑی تعداد شریک ہوئی ہے ملک کی کوئی سیاسی اور سیکولر جماعت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک کی غالب اکثریت دو قومی نظریے کے تحت ،اسلامی اقدار اور ملک کے آئین کو اس کی روح کے ساتھ نافذ کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں ریاستی ادارے کے ایک اہم فرد کی طرف سے یہ کہا جانا کہ کراچی کا مسئلہ سیاسی مسئلہ ہے اور اس کو سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے ،بہت اہم بات ہے ۔جماعت اسلامی مسلسل اس حوالے سے اپنا موقف پیش کرتی رہی ہے درحقیقت کراچی کے عوام کو ان کے حق انتخاب اور غیر جانب دارانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا ہے اگر ان کو ان کا جمہوری حق مل جائے تو عوام اپنے مسائل خود حل کر لیں گے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک آج کل جن حالات اور بحران سے دوچار ہے اس کا حل صرف اور صرف مذاکرات میں ہی ہے اور امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی قیادت میں مذاکرات کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں ،مذاکرات کے 37دور ہو چکے ہیں اور ہم آج بھی مسائل کا حل مذاکرات میں ہی دیکھتے ہیں۔ مذاکرات سے دور رہنا ملک اور سیاست کو بند گلی کی طرف لے جانا ہے ۔وزیر اعظم، نواز شریف کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام کے لیے وہ اپنا کردار ادا کریں اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو بیرون ملک ان کے دورے اور کوششیں ملک کے لیے بار آور اور مفید ثابت نہیں ہوں گی ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ احتجاج کرنے اور دھرنے دینے والے بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے جسٹس ناصر اسلم زاہد کا نام تجویز کیا تھا لیکن ہم موجودہ الیکشن کمشنر کے تقرر کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں وہ بھی ایک اچھے اور نیک نام جج رہے ہیں ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اور انتخابی نظام کی اصلاح کی ضرورت ہے اور ضروری ہے کہ ملک میں متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کرائے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ آئین کے اندر فوج ،عدلیہ ،پارلیمنٹ ،بیورو کریسی سمیت ہر ادارے کا کردار واضح اور متعین ہے ضروری ہے کہ اس پر عمل کیا جائے ۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ ہم کے پی ٹی کے ملازمین کے سن کوٹے کی بحالی کی حمایت کرتے ہیں ۔، اسٹیل مل او ر دیگر قومی اداروں کی نج کاری کی پالیسی پر اپنا موقف واضح طور پر بیان کر چکے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ عوام کا معاشی قتل کسی طرح بھی مناسب نہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s