بعض اوقات سفینے ساحل کے قریب ڈوب جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت فی الفور پی ٹی آئی سے مذکرات کی تاریخ کا اعلان کرے۔امیرجماعت اسلامی سراج الحق

حکمران غلط فہمی میں نہ رہیں ، بحران ابھی ختم نہیں ہوا ۔ بعض اوقات سفینے ساحل کے قریب ڈوب جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت فی الفور پی ٹی آئی سے مذکرات کی تاریخ کا اعلان کرے۔سراج الحق

3s

07دسمبر 2014ء
پشاور ( )امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمران غلط فہمی میں نہ رہیں ، بحران ابھی ختم نہیں ہوا ۔ بعض اوقات سفینے ساحل کے قریب ڈوب جاتے ہیں۔ وفاقی حکومت فی الفور پی ٹی آئی سے مذکرات کی تاریخ کا اعلان کرے۔ حکمران دھاندلی میں ملوث نہیں تو جوڈیشل کمیشن کے قیام میں تاخیر نہیں ہونی چاہئے ۔ملک کو بحران سے نکالنے کے سیاسی جرگہ اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ پشاور شہر کو ترقی دینے اور اسے ملک کا خوبصورت ترین شہر بنانے کے لئے بڑے پیمانے پر وسائل کی فراہمی کے لئے صوبائی حکومت سے بات کروں گاجبکہ شہر میں صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے جماعت اسلامی کے کارکن بھر پور مہم چلائیں گے جس میں وہ بذات خود بھی شریک ہوں گے۔ جماعت اسلامی کو عوام نے موقع دیا تو ملک بھر میں یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے جس میں دینی و عصری علوم کا حسین امتزاج ہوگا۔ غریب اور امیر کے بچے ایک ہی نظام تعلیم کے تحت تعلیم حاصل کرینگے۔ 25دسمبر کو مزارِ قائد سے تحریک پاکستان کے فیز ٹو کا آغاز کریں گے۔ملک میں اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسا بینکاری نظام قائم کریں گے جو غریبوں ، مزدوروں ، کسانوں ، ہاریوں ، خواتین اور نوجوانوں کو بلاسود قرضے دے گا جس سے وہ اپنا روزگار شروع کرسکیں گے۔ نئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر)رضا محمد خان سے امید کرتے ہیں کہ وہ ایسے اقدامات کریں گے جس سے لوگوں کا بیلٹ باکس پر اعتماد بحال ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور شہر میں واقع شیخ آباد پارک میں دینی مدارس سے حفظ مکمل کرنے والے طالب علموں کی تقریب دستار بندی میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اسراراللہ ایڈووکیٹ ، ضلع پشاور کے امیر صابر حسین اعوان ،قاری محمد ارشد ، قاری محمد نوشاد ، محمد روح اللہ توحیدی اور مولانا حضرت محمد بھی موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ ملک کو موجودہ سیاسی بحران سے نکالنے کے لئے وہ اپنی کوششیں جاری رکھیں گے، اگرچہ بعض لوگ انہیں یہ مشورہ بھی دیتے رہتے ہیں کہ حکومت اور پی ٹی آئی کو آپس میں لڑنے دیں لیکن میں انہیں کہتا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو تمام سیاستدانوں کو گھر جانا پڑے گا۔ہمیں ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے ۔1958، 1977اور1999ء میں جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کا خیال ہے کہ طاہر القادری کے جانے کے بعد بحران ختم ہوچکا ہے لیکن میں انہیں کہتا ہوں کہ بحران ختم نہیں ہوا اور اگر اسے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی تو یہ بحران مزید پھیل سکتا ہے۔ ہم لوگوں کو جوڑنے کی کوشش جاری رکھیں گے۔ آئین اور جمہوریت کی کشتی اس وقت بھی ہچکولے کھارہی ہے اس لئے سیاسی جرگے نے فیصلہ کیا ہے وہ بحران کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وفاقی وزیر کا بیان آیا ہے کہ پہلے جلسے جلوس ختم ہوں پھر مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ جلسے اور جلوس تو جمہوریت میں ہوتے رہتے ہیں ۔ دونوں فریقین کو انا کی لکیر عبور کرنی پڑے گی ۔ 65سالوں سے ملک سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور کرپٹ اشرافیہ کی گرفت میں ہے اور وہ ملک کے وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں ۔ کروڑوں غریب عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ۔وقت آگیا ہے کہ سٹیٹس کو کو توڑا جائے ۔ ہم ایسے نظام کو نہیں مانتے جس میں غریبوں کے بچے کوڑے کے ڈھیرمیں اپنا رزق تلاش کرتے ہوں اور امیر وں کے کتے بھی مربے اور پلاؤ کھاتے ہوں اور گرمی سے بچاؤ کے لئے ائیر کنڈیشن موجود ہوجبکہ پورا ملک اور کروڑوں عوام لوڈشیڈنگ ، مہنگائی اور بے روزگاری کی لپیٹ میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ فرنگی تو چلا گیا مگر فرنگیوں کا نظام اب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔ ہم ظلم کے اس نظام کو بدلیں گے ۔ سیاسی پنڈتوں اور برہمنوں سے اس ملک کے لوگوں کو نجات دلائیں گے اور حقیقی معنوں میں اسلامی نظام نافذ کریں گے جس میں ہر شخص کو انصاف ملے گا اور قومی وسائل اور خزانے کا منہ غریب عوام کے لئے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر مقابلے کے امتحانات انگریزی کے بجائے قومی زبان اردو میں منعقد کرے گی تاکہ سرکاری سکولوں میں ٹاٹ پر بیٹھنے والاغریب بچہ بھی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر بن سکے۔ جماعت اسلامی برسراقتدار آکر آٹا ، دال ، چاول ، چینی اور چائے پر سبسڈی دے گی جبکہ ہیپا ٹائٹس اور کینسرجیسی پانچ بیماریوں کے مفت علاج کی سہولت دے گی۔ سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر ملک کو آزاد خارجہ پالیسی دے گی ۔ ملکی معیشت کو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے شکنجے سے نجات دلائے گی ۔ اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔ قائد اعظم نے پاکستان بنایا لیکن پاکستان بننے کے بعد وہ بہت جلد رحلت فرما گئے جس کی وجہ سے قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکی۔ انشاء اللہ تعالیٰ 25دسمبر کو مزارِ قائد سے تحریک پاکستان کے مقاصد کے حصول کے لئے ایک عظیم الشان جدوجہد کا آغاز ہوگااور ایک لحاظ سے یہ تحریک پاکستان کا فیز ٹو ہوگا ۔ ہم ملک بھر کے غریب عوام کو منظم کرکے ملک کو استحصال ، لوٹ ماراور کرپشن سے نجات دلائیں گے اور پاکستان کو ایک مضبوط اسلامی فلاحی ریاست بنا کر دم لیں گے۔ انہوں نے اس موقع پر حفظ قرآن مکمل کرنے والے طلباء کی دستار بندی کی اور ان میں انعامات تقسیم کئے ۔ قبل ازیں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا لاہوری چوک پہنچنے پر شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں پیدل جلوس کی شکل میں شیخ آباد پارک لایاگیا۔ راستے میں جگہ جگہ ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں ہار پہنائے گئے۔ علاقے کے عوام اپنے ہردلعزیز قائد سراج الحق کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں سڑک کے دونوں اطراف موجود تھے ۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے ہاتھ ہلا کر عوام کے استقبالی نعروں کا جواب دیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s