سراج الحق کا منصورہ میں جماعت اسلامی پنجاب کے تنظیمی کنونشن سے خطاب میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

حکومت نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو مس ہینڈل کیا جس سے انتشار پھیلا ،مہذب معاشروں میں کسی بے گناہ کے ایک قطرہ خون بہنے کو برداشت نہیں کیا جاتا مگر یہاں درجنوں کارکن ہنگاموں کی نذر ہوجاتے ہیں لیکن کسی کو پرواہ نہیں ہوتی ،الیکشن کمشنر کا تقرر خوش آئند ہے ۔امیرجماعت اسلامی سراج الحق

pic amir jip
سراج الحق کا منصورہ میں جماعت اسلامی پنجاب کے تنظیمی کنونشن سے خطاب میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
لاہور9دسمبر2014ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستا ن سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے احتجاج کو مس ہینڈل کیا جس سے انتشار پھیلا ،مہذب معاشروں میں کسی بے گناہ کے ایک قطرہ خون بہنے کو برداشت نہیں کیا جاتا مگر یہاں درجنوں کارکن ہنگاموں کی نذر ہوجاتے ہیں لیکن کسی کو پرواہ نہیں ہوتی ،الیکشن کمشنر کا تقرر خوش آئند ہے ۔ الیکشن کمیشن آئینی اور مالی اختیارات از خوداپنے ہاتھ میں لے لے ،اختیار ات کوئی دیتا نہیں ہمیشہ لینے پڑتے ہیں ، قوم ایک آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن چاہتی ہے جس کی دیانت داری پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے ۔ملک سے سٹیٹس کو صرف جماعت اسلامی ختم کرسکتی ہے ،ہمارے پاس موجودہ نظام کے متبادل شریعت کا نظام موجود ہے جو انسانی حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی پنجاب کے تنظیمی کنونشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔کنونشن سے امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر، نائب امیر امیر العظیم اور سیکریٹری جنرل نذیر احمد جنجوعہ نے بھی خطاب کیا ۔کنونشن میں پنجاب بھر کے امرائے اضلاع ،سیکریٹریز اور صوبائی ذمہ داران نے شرکت کی ۔
سراج الحق نے کہا کہ حکومت اور پی ٹی آئی اپنے اپنے گھوڑے تو نہلانا چاہتے ہیں مگر پانی کے پاس جانے کیلئے تیار نہیں ہیں،پوری قوم موجودہ حالات سے پریشان ہے ، لاہور اور فیصل آباد کی طرح ہمیں مزید کسی خون خرابے کا انتظار نہیں کرنا چاہئے ،ملک کسی انتشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ،اگر گاڑی کے بریک فیل ہوگئے تو پھر سب کو آنکھیں بند کرکے کسی حادثے کا انتظار کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ عمران خان وزیراعظم کے استعفیٰ سے پیچھے ہٹے تھے تو حکومت کو بھی جوڈیشل کمیشن بنانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے تھی، اب بھی وقت ہے حکومت انا کو چھوڑ کر سنجیدگی سے مذاکرات کی طرف آئے اور مذاکرات کا ٹائم فریم طے کرکے بات چیت کا آغاز کردے،انہوں نے کہا کہ یہی حالات رہے تو نہ صرف ملکی معیشت کا بیڑ ا غرق ہوگا بلکہ جلاﺅ گھیراﺅ اور مرو مارو سے انتشار اور انارکی پھیلے گی ،جو کسی طرح بھی ملکی مفاد میں نہیں ۔77-58 اور1999 ءمیں لگنے والے مارشل لاﺅںکا سبب بھی سیاسی جماعتوں کے درمیان عدم برداشت اور باہمی اختلافات تھے ،موجودہ بحران اور انتشار ڈیڑھ درجن معصوم سیاسی کارکنوں کے جان لے چکا ہے ،فریقین اپنی کمٹمنٹ کے مطابق معاملات کو مذاکرات کے ذریعہ نپٹانے کے وعدوں کو پورا کریں ۔
سراج الحق نے کہا کہ چاروں طرف کے حالات ایسے ہیں کہ ملک کسی پرتشددمہم جوئی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ہم فریقین کو جوڑنے کی بات کرتے ہیں مگر کچھ لوگ اپنے مخصوص مقاصد کیلئے ان کو قریب آنے سے روک رہے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو لاشوں کی سیاست کا کھیل کھیلنے اور سیاسی مجاور بننے کی کوشش کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ حالات کو نارمل کرنے اور امن و امان کو یقینی بنانے کی ذمہ داری بہر حال حکومت کی ہے مگر اب تک کے حالات سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کو اپنی اس ذمہ داری کا پوری طرح احساس نہیں ۔سراج الحق نے کہا کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والی جماعتوں کے اپنے اندر جمہوریت کا نام و نشان نہیں ،سیاسی پارٹیاں پراپرٹیز بن گئی ہیں جو وراثت کی طرح بچوں کو منتقل ہوتی ہیں ،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں شفاف انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن از خود ایک ایک نمائندہ مقرر کرے جو اپنی نگرانی میں انتخابی پراسس مکمل کروائے ۔انہوں نے کہا کہ چہرے بدلنے سے نظام تبدیل نہیں ہوتے ،68سال سے سیاست اور جمہوریت چند خاندانوں کے گھر کی لونڈی بنی ہوئی ہے جنہوں نے تمام اختیارات پر قبضہ کررکھا ہے ،انہیں صرف اپنے اقتدار سے غرض ہے عوام کی فلاح وبہبود ان کا کبھی بھی ایجنڈا نہیں رہا ۔انہوں نے کہا کہ 25دسمبر کو کراچی میں مزار قائد سے اسلامی و فلاحی ریاست کے ایجنڈے کا روڈ میپ دونگا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s