جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ کی چیف الیکشن کمشنرآف پاکستان کو پیشکش

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے چیف الیکشن کمشنرآف پاکستان جسٹس رضا ء محمد کو انتخابی اصلاحات کے لیے جماعت اسلامی کی طرف سے پیکیج پیش کر دیا ہے اور کمیشن کے چاروں اراکین سے رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ۔

Pic Laiqat Baloch

جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے چیف الیکشن کمشنرآف پاکستان جسٹس رضا ء محمد کو انتخابی اصلاحات کے لیے جماعت اسلامی کی طرف سے پیکیج پیش کر دیا ہے اور کمیشن کے چاروں اراکین سے رضا کارانہ طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا ۔جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو سپریم کورٹ کے مساوی آئینی حیثیت دینے کا مطالبہ کرتے ہو ئے کہا الیکشن کمیشن کو مالیاتی اور انتظامی طور پر خود مختار کیے بغیر آزادانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی نہیں بنایا جا سکے گا۔ جماعت اسلامی پاکستان نے چیف الیکشن کمشنر کو متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات کا فارمولا پیش کر دیا ہے اور مذاکراتی کمیٹیوں سے انتخابی دھاندلی کی تشریح اور عدالتی کمیشن کے ٹرم آف ریفرنس کے معاملات میں پیشررفت کا مطالبہ کیا ہے ۔ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس اور بنیادی اقدام اٹھائے بغیر تحریک انصاف سے احتجاج کی کال کو واپس لینے کا مطالبہ نہیں کر سکتے ۔انتخابی دھاندلی ثابت ہونے پر نواز شریف کو اقتدار چھوڑنا ہو گا اور اسمبلیاں نہیں چلنی چاہیں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوں نے چیف الیکشن کمیشن آف پا کستان جسٹس رضا محمد خان سے ملاقات اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کر تے ہو ئے کیا ۔اس مو قع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد زبیر فارو ق خان بھی اُن کے ہمراہ تھے ۔
لیاقت بلو چ نے کہا ملک میں طویل عرصہ سے الیکشن کمیشن متتازعہ چلا آ رہا ہے جو بھی انتخابات کروائے گئے ان تمام پر اعتراضات ہوتے رہے ہیں موجودہ چیف الیکشن کمشنر پر تمام جماعتیں متفق ہیں ۔ انہیں عوامی تائید اور حمایت حاصل ہے جو کہ چیف الیکشن کمشنر کے لیے ایک بڑی طاقت ہے۔توقع ہے کہ وہ اقدامات اٹھائے جائیں گے جس سے 18 کروڑ عوام کو انتخابی عمل کے حوالے سے اطمینان ہو سکے۔الیکشن کمیشن کو انتظامی مالیاتی طور پر بااختیار بنانے ،عدالت عظمیٰ کے مساوی آئینی حیثیت دینے ،بائیو میٹرک سسٹم و الیکڑانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال ،ہر صورت میں آئین کی شقوں 62,63 پر عملدرآمد کو یقینی بنانے اور اس شرط پر پورا نہ ا ترنے والے امیدواروں کی جماعتوں کو انتخابات میں حصہ نہ لینے سمیت دیگر تجاویز دی گئیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیشن کے چاروں اراکین کا احترام کرتے ہیں۔انتخابات میں ان کاکنڈٹ سب کے سامنے ہے الیکشن کمیشن کی مکمل طور پر تشکیل نو ہونی چاہیے۔ ان اراکین کی پی پی کے دور میں تقرری ہوئی تھی حکومت بھی کہہ رہی ہے ان کے دور میں یہ تقرریاں نہیں ہوئیں اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ چاروں اراکین خود راستہ بنائیں تاکہ کمیشن پر عوامی اعتمادبحال ہو سکے۔ کمیشن کو غلطیوں سے پاک صاف شفاف انتخابی فہرستوں کی تیاری پولنگ سکیم پر کسی کے اثر انداز نہ ہونے اور 62,63 پر عملدرآمد کا میکانزم وضع کرنے کی تجاویز دی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ریٹرنگ آفیسران پر نہ چھوڑا جائے۔ بلدیاتی انتخابات نہ کروا کر عوام کو ان کے بنیادی حق سے محروم رکھا جا رہا ہے اس معاملے پر عوام میں شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں۔ جیسے صوبائی حکومتیں چاہتی ہیں بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر ویسے ہی کمیشن موم کی ناک کی طرح مڑ جاتا ہے۔اسی طرح مختلف ممالک میں متناسب نمائندگی کا کامیاب تجربہ کیا جا چکا ہے اس سے جمہوریت مضبوط ہوئی ہے متناسب نمائندگی کی بنیاد پر انتخابات سے جاگیرداروں،سرمایہ داروں اور مفاد پرستوں کو انتخابات میں سیاسی جماعتوں کو یرغمال بنانے کاموقع نہیں مل سکے گا۔ عوام کو پارٹیوں کو ان کے منشور کی بنیاد پر ووٹ کے حق کے استعمال کا موقع ملے گا ۔مذاکرات کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ بات چیت کے لیے حکومت اور تحریک انصاف نے اپنے دروازے کی کنڈی کھول دی ہے۔ملک سیاسی کشیدگی کا متحمل نہیں ہو سکتا اس قسم کی سیاست سے آئین اور جمہوریت کو خطرات لاحق ہونگے مذاکرات سے سیاست کے چہرے پر نکھار آئے گا سیاسی قیادت کا قد کا ٹھ بڑھے گا مذاکرات کے ذریعے جمہوری استحکام کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ تصادم سے بچا جائے کمیٹیاں بن گئیں ہیں توقع ہے کہ بہتر نتیجہ نکلے گا عدالتی کمیشن کے قیام میں اصل رکاوٹ انتخابی دھاندلی کی تشریح ہے وقت ضائع کیے بغیر ٹی او آرز بنائے جائیں اپنی اپنی کمیٹیوں کو نواز شریف اور عمران خان بااختیار بنائیں تاکہ مذاکرات کی کامیابی سے عوام کو سکون ملے اور ملک کی سلامتی اور استحکام کو باہر سے جو خطرات لاحق ہیں قوم ان کے مقابلے کے لیے متحد ہو اور سیکیورٹی سے اپنا فرض ادا کر سکے ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے کہا کہ جسٹس سردار رضا انتخابی عمل میں شریک رہے ہیں وہ قائمقام چیف الیکشن کمشنر بھی رہ چکے ہیں وہ اونچ نیچ کو بہتر جانتے ہیں توقع ہے کہ الیکشن کمیشن کو عوامی جذبات کا ترجمان ادارہ بنائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کی خواہش پر تو کسی کو احتجاج کال واپس لینے کا مطالبہ نہیں کر سکتے حکومت کو انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لیے بنیادی اور ٹھوس اقدام اٹھانا ہو گا دھاندلی ثابت ہو جاتی ہے تو نواز شریف کی حکومت کو جانا ہو گا اور ان اسمبلیاں نہیں چلنی چاہیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s