سراج الحق کی جانب سے سانحہ پشاور کی شدیدمذمت،معاملہ پرسیاست نہ کرنے کا مطالبہ

سراج الحق کی جانب سے سانحہ پشاور کی شدیدمذمت،معاملہ پرسیاست نہ کرنے کا مطالبہ

سانحہ پشاور کسی ایک خاندان کا غم نہیں یہ اٹھارہ کروڑ عوام کا غم ہے ،پوری قوم غمزدہ خاندانوں کے غم میں برابر کی شریک ہے

اتنے بڑے پیمانے پر بچوں کی شہادت کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں سوراخ موجود ہیں، جانوں پر کوئی سودا بازی نہیں کیجائے گی

10847154_374176699427119_2429541812918133975_o

جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسراج الحق نے سانحہ پشاور کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے قومی سانحہ قرارا دیا ہے۔سانحہ کی اطلاع ملتے ہی انھوں نے اسلام آباد کا دورہ ملتوی کیا اور راستہ سے واپس ہو کرپشاور پہنچ گئے جائے وقوعہ پر پہنچے اور وہاں سے فوراً ہسپتال گئے جہاں زخمیوں کی عیادت کی اور وہاں پرشہید بچوں کے غمزدہ خاندانوں کے افراد سے تعزیت کی اس موقعہ سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان بھی انکے ہمراہ تھے ۔اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دہشت گردی کی ہر صورت کی ہم ہر طرح کی مذمت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پر سیاست کرنے اور بال ایک دوسرے کے کورٹ میں پھنکنے کی بجائے صوبائی اور مرکزی سرکاراور اپوزیشن کو مل کر اتحاد کے ساتھ اس مشکل صورت حال کا مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا قوم اسے صرف متاثرہ خاندانوں کا غم نہ بننے دے بلکہ متحد ہو کر اس غم کو بانٹے۔ انھوں نے کہا کہ اتنے بڑے سانحہ کے رونما ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں ایسے شگاف اور سوراخ موجود ہیں جس کی وجہ سے ہمارے بچوں کی جانوں کا اتنے بڑے پیمانے پرنقصانا ہوا۔اس حملے کیلئیایسے وقت کا انتخاب کیا جب قوم سقوط ڈھاکہ کی برسی منا رہی تھی ۔انھوں نے کہا کہ سانحہ کے شکار زخمی بچوں سے میں ملاہوں کہ وہ پر عزم ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔انھوں نے کہا کہ اس موقع پر سماجی تنظیموں الخدمت فاؤنڈیشن ،ایدھی فاؤنڈیشن اور فلاح انسانیت کے رضا کاروں نے جس طرح امدادی سرگرمیاں کیں وہ قابل تحسین ہیں۔سراج الحق نے عوام سے اپیل کی کہ ہسپتالوں میں پہنچ کر زخمیوں کے لیے خون کے عطیات دیں انھوں نے الخدمت فاؤنڈیشن ضلع پشاور کے صدر ملک پرویز کو زخمیوں کے علاج معالجہ،خون اور شہدا کے لیے تابوتوں کا اور تجہیز و تکفین کا انتظام کرنے کی ہدایات کی۔انھوں نے کہا کہ اس حساس مقام کے چاروں طرف گورنر ہاؤس،وزیر اعلیٰ ہواس صوبائی سیکرٹریٹ اور اہم عمارتیں ہیں یہاں پر ایسے واقعہ کا رونما ہونا لمحہ فکریہ ہے۔انھوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کی جان کے تحفظ پرکسی قسم کی سودا بازی نہیں کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ بچوں کو کسی بھی معاشرہ میں جنگ کا ایندھن نہیں بنایا جا تا انھوں نے کہا کہ مرکزی اور صوبائی حکومتیں قوم کو اعتماد میں لے کر ایسے اقدامات کریں کہ آئندہ ایسے سانحات رونما نہ ہونے پائیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s