سراج الحق کی اپیل پر ملک بھر میں یوم دعا و استغفار منایا گیا۔سانحہ پشاورکے سوگ میں لاھور اور کراچی کے جلسے ملتوی کرنے کا اعلان

سرا ج الحق نے سانحہ پشاور کی وجہ سے 21 دسمبر لاہور میں ہونے والی عوامی ریلی اور 25 دسمبر کو مزار قائد پر کراچی میں منعقد ہونے والا جماعت اسلامی کا جلسہ عام ملتوی کرنے کا اعلان کردیا

Siraj ul haq

لاہور 19دسمبر2014ئ

 امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر سانحہ پشاور کے شہداءکے لیے آج لاہور،کراچی ، پشاور ، کوئٹہ ، اسلام آباد سمیت ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں دعائیہ تقریبات منعقد کی گئیں اور یوم دعا منایا گیا ۔ اس موقع پر نماز جمعہ کے بعد مساجد میں اجتماعی دعا اور توبہ و استغفار کیا گیا اور شہدا کے والدین کے لیے صبر جمیل اور پاکستان میں دہشتگردی کے خاتمہ ، قوم کے اتحاد اور امن و امان کے قیام کے لیے خصوصی دعا مانگی گئیں اور اس ظالمانہ اقدام کی مذمت کی گئی ۔ سرا ج الحق نے سانحہ پشاور کی وجہ سے 21 دسمبر لاہور میں ہونے والی عوامی ریلی اور 25 دسمبر کو مزار قائد پر کراچی میں منعقد ہونے والا جماعت اسلامی کا جلسہ عام ملتوی کرنے کا اعلان بھی کیا۔

     سراج الحق نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے جنت کے پھولوں اور آسمان کے ستاروں کو مٹی میں دفن کیاہے یہ بہت بڑی قربانی ہے ۔ یہ قربانی ضرور رنگ لائے گی۔ جب ملکی آئین میں اللہ کی حاکمیت کو تسلیم کیا گیاہے تو اس آئین پر عمل درآمد بھی کیا جائے ۔ بدامنی اور دہشتگردی کا علاج صرف شریعت کے نفاذ میں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے قصاص کو زندگی قرار دیاہے مگر حکمرانوں نے یورپی یونین کے دباﺅ میں آ کر پھانسی کا قانون ختم کیا جس سے ملک دارالفساد بن گیا ۔ آئین میں موجود اسلامی دفعات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے ۔ جس طرح سزاﺅں پر عملدرآمد کسی فرد یا گروہ کی بجائے ریاست کا حق ہے اسی طرح قاتل کو معاف کرنے کا حق بھی مقتول کے ورثا کا ہے حکومت کا نہیں ۔ صدر ، وزیراعظم اور ریاست صلح کی کوشش کر سکتے ہیں مگر قاتل کو معاف نہیں کر سکتے ۔
    سراج الحق نے کہاکہ ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کا قتل ناصرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے لیے ایک سانحہ ہے جس کی مثال تاتاریوں کے علاوہ کہیں نہیں ملتی لیکن اگر ہم نے اس سانحہ سے بھی سبق حاصل نہ کیا اور غلطیوں اور کوتاہیوں پر قابو پا کر پاکستان کو اس کے نظریہ کے مطابق لے کر چلنے کی کوشش نہ کی تو بدامنی کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایک ہفتہ کے اندر امن و امان کے قیام کے لیے لائحہ عمل بنانے کا اعلان کیاہے اور اس کے لیے تمام پارلیمانی جماعتوں نے اپنے نمائندے بھی دے دیئے ہیں اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس واقعہ کی بنیاد پر صرف وقتی اقدامات کی بجائے پورے سسٹم کو ری وزٹ کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اپنے معاملات میں امریکہ اور مغرب سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک واضح دستور دیاہے جس میں تمام مسائل کا حل موجود ہے ۔ اب حکمرانوں کو اپنا قبلہ درست کرناہوگااور واشنگٹن اور نیویارک کی بجائے اپنا رخ مکہ اور مدینہ کی طرف کرناہوگا ۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی منزل اسلامی انقلاب ہے ہمیں یہاں اسلام کی بجائے کوئی دوسرا نظام قبول نہیں ۔
    سراج الحق نے کہاکہ پشاور سانحہ کے بعد وزیراعظم سمیت قومی قیادت کا پشاور میں جمع ہونا اور پھر آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد خوش آئند اوراحسن اقدام ہے ۔ کانفرنس میں تمام جماعتوں نے وزیراعظم کو امن قائم کرنے کے لیے میڈیٹ دیا۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا آئینی اور قانونی راستہ اختیار کرے جس سے ملک میں امن کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کا پہلا فرض عوام کی جان و مال اور عزت کا تحفظ ہے اگر کوئی حکومت اپنا یہ فرض پورا نہیں کرتی تو وہ حق حکمرانی کھو بیٹھتی ہے ۔ بعد ازاں سراج الحق نے پاکستان اورعالم اسلام کو درپیش چیلنجز سے نجات ، سانحہ پشاور کے شہدا کے لیے ایصال ثواب ، دہشتگردی کے خاتمہ اور امن و امان کے قیام کے لیے دعا کرائی ۔
    دریں انثا نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ محمد ادریس نے یوم دعا کے موقع پر سید مودودی انسٹیٹیوٹ کی مسجد میں شہدائے پشاور کے ایصال ثواب کے لیے دعاکرائی اور قنوت نازلہ پڑھی ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s