کسی مسلمان کو مسجد یں جلانے اور مدرسے گرانے کی باتیں زیب نہیں دیتیں ۔ سراج الحق

تمام سیاسی قیادت نے متحد ہو کر وزیراعظم کو قیام امن کے لیے زبردست مینڈیٹ دیا ہے اب حکومتی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرے۔

لاہور۔۔۔امیر جماعت اسلامی سرا ج الحق نے  کہاہے کہ تمام سیاسی قیادت نے متحد ہو کر وزیراعظم کو قیام امن کے لیے زبردست مینڈیٹ دیا ہے اب حکومتی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی قائم کرے ۔امید ہے کہ پارلیمانی کمیٹی قوم کو بہتر لائحہ عمل دے گی ۔ بین الاقوامی آلہ کار فرد ہو یا ادارہ ، اس کو آئین کے مطابق سزا ملنی چاہیے ۔ استعماری قوتیں ہر واقعہ کو اسلام سے نتھی کر کے مسلمانوں کو بدنام اور دنیا کو اسلام سے متنفر کرنے کی کوشش کرتی ہیں ۔ حکومت غیر قانونی اسلحہ کو قانونی بنائے یا خرید کر اسلحہ خانہ میں جمع کرے ۔ جب حکومت لوگو ں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوتی ہے تو وہ گھروں میں کلاشنکوفیں رکھتے ہیں ۔وزیراعظم کا بیان ہے کہ ا بھی ملک میں داعش کے اثرات نہیں ۔ کسی مسلمان کو مسجد یں جلانے اور مدرسے گرانے کی باتیں زیب نہیں دیتیں ۔ جرم مولانا کرے یا وزیر مشیر ، سب کو سزا ملنی چاہیے ، کسی ایک فرد کی غلطی پر پورے دین کو مورد الزام نہیں ٹھہراناچاہیے۔ ان خیالات کا ا ظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔

سراج الحق نے کہاکہ ڈالرز کے کاروبار نے ملک و ملت کو بہت نقصان پہنچایا ہے اب یہ کاروبار بند ہوناچاہیے ۔ ہماری آزادی اور خود مختاری کو آئی ایم ایف ، ورلڈ بنک اور ا مریکہ کے ہاتھ بیچ دیاگیا ہے ۔ اب ہمارے فیصلے قومی مفاد میں نہیں بلکہ امریکی مفاد میں ہوتے ہیں ۔ یہودی ساہوکاروں اور یورپی یونین کے کہنے پر ملکی آئین اور شریعت کے احکامات کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے جس کا خمیازہ ہمیں بدترین دہشتگردی کی صورت میں بھگتنا پڑ رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ دشمن ہمیں مسلکوں ، علاقوں اور قومیت کی بنیاد پر تقسیم کرناچاہتاہے اور اس کا اصل ہدف ایٹمی قوت کی حامل اسلامی مملکت کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا ہے ۔ یہ امریکی ایجنڈا ہے کہ پاکستان میں انتشار اور انارکی پھیلا کر اسے ایک غیر محفوظ ملک ثابت کیا جائے ۔ بحیثیت قوم ہماری ذمہ داری ہے کہ ان سازشوں کو ناکام بنائیں ۔

سرا ج الحق نے کہاکہ سانحہ پشاور معمولی حادثہ نہیں ،یہ نائن الیون سے بڑا واقعہ ہے اگرہم نے اس سے سبق حاصل کر کے اپنی آئندہ نسلوں کو تحفظ دینے کی منصوبہ بندی نہ کی تو ایسے حادثات کا تسلسل نہیں رک سکے گا ۔ انہوں نے کہاکہ اس سے قبل واہگہ بارڈر ، کوئٹہ ، کامرہ ، کراچی نیول بیس اور جی ایچ کیو پر دہشتگردی کے بڑے واقعات پیش آچکے ہیں مگر جن حکومتوں ایسے واقعات کو روکناہے وہ اس ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہی ہیں ۔ انہوں نے ملٹری عدالتوں کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت اور عدالتیں عام آدمی کو انصاف مہیا کرنے میں ناکام نہ ہوتیں تو اس طرح کے مطالبات سامنے نہ آتے ۔ انہوں نے کہاکہ شریعت میں قاتل کو معاف کرنے کا حق صرف مقتول کے ورثا کو ہے کسی صدر یا وزیراعظم کو نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ سانحہ پشاور کے بعد سیاست میں تبدیلی آگئی ہے ہے اور حکومت اور عمران خان دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے ایک میز پر بیٹھ گئے ہیں مگر تحریک انصاف دھاندلی کی تحقیقات کے مطالبہ سے دستبردار نہیں ہوئی ۔ اب ضروری ہے کہ فوری طور پر جوڈیشل کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے ۔ جب دونوں فریق عدالت پر اعتماد کرتے ہیں تو عدالت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ آئندہ ملک میں انتخابی نظام کو شفاف اور بااعتماد بنایا جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان دونوں اسلامی ممالک اور پڑوسی ہیں ان کو پراکسی وار ختم کر کے عوامی سطح پر دوستی کو آگے بڑھانا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ مودی حکومت نے پہلا حملہ سیالکوٹ بارڈر پر کیا ۔ انڈیا کی تنگ نظر اور متعصب حکومت جنگی جنون میں مبتلاہے جس سے خطے کو سخت خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ انڈیا میں مسلمانوں کو سرکاری سرپرستی میں زبردستی ہندو بنایا جارہاہے ۔ علاقائی امن کے لیے ہندوستان کو اپنا رویہ درست کرناہو گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s