سراج الحق اور شاہ محمود قریشی کی اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو

دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے ،پوری قوم اسلامی اور خوش حال پاکستان کے حصول کیلئے یکجا ہوچکی ہے ،تحریک انصاف کا کردار قابل تحسین ہے جس نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف حکومت سے تعاون کرنے کا اعلان کیا،سراج الحق

pic jip - pti

سراج الحق اور شاہ محمود قریشی کی اسلام آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو
لاہور22 دسمبر 2014
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے ،پوری قوم اسلامی اور خوش حال پاکستان کے حصول کیلئے یکجا ہوچکی ہے ،تحریک انصاف کا کردار قابل تحسین ہے جس نے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دہشت گردی کے خلاف حکومت سے تعاون کرنے کا اعلان کیا ،تمام سیاسی قیادت نے متحد ہوکر وزیر اعظم نواز شریف کو دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور مینڈیٹ دیا ہے اور حکومتی صلاحیتوں کا امتحان ہے کہ وہ کس حد تک قوم کو مطمئن کرتی ہے ۔2015کا سال ان شاء اللہ ملک میں امن ،خوشحالی اور ترقی کا سال ہوگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے فر نٹیئر ہاؤس اسلام آباد میں تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی سے ملاقات کے بعد ان کے ہمراہ میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سراج الحق نے اس امید کا ٰاظہار کیاکہ حکومت قومی امن کے قیام کے لیے جلد لائحہ عمل دے گی۔اس حوالے سے تمام جماعتوں اداروں وفاقی و چاروں صوبائی حکومتوں سمیت قوم کا ہر فرد اس چیلنج سے عہدہ براہ ہونے کا عزم رکھتا ہے ۔حکومت کو نئے سال کو 2015 ء کو امن کا سال قرار دے دینا چاہیے امن کے علاوہ کوئی دوسری چوائس نہیں ہو سکتی سب اس مقصد کے حصول کے لیے مصروف عمل ہو جائیں ورنہ پاکستان بھی عراق اورشام بن سکتا ہے ہم اتنے کمزور نہیں ہیں کہ اس چیلنج کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ دہشت گردی و انتہاء پسندی کے خلاف ملک بھر میں منبر و محراب سے پوری شدت سے آواز بلند ہو رہی ہے اس کا بھرپو فائدہ اٹھایا جائے تمام علمائے کرام دہشت گردی کے خلاف یکسو ہیں کوئی بھی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا۔ بعض اندر اورباہر کے لوگ اس طرح کے واقعات کو اسلام اور پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔پاکستان کے تمام علمائے کرام نے اس دہشت گردی کے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اس کے خلاف احتجاج ہو رہا اب یہ حکومت کاامتحان ہے کہ قومی امن کے ہدف کو کس طرح حاصل کرتی ہے قومی مفادات ہمیشہ سیاسی مفادات پر مقدم ہوتے ہیں۔ تحریک انصاف کے موجودہ کردار کے حوالے سے انہیں زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں ۔اب حکومت کا بھی فرض ہے کہ تحریک انصاف کے حوالے سے معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرکے قوم کو سرپرائز دے۔مسائل مذاکرات کی میز پر حل ہو سکتے ہیں حکومت سازگار ماحول کی ذمہ دار ہے۔ استعفوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ اگر حکومت بھی کمیشن کے قیام کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہے تو یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہو سکتا ہے۔ فلاحی ،سیاسی،جمہوری اور خوشحال پاکستان ہمارا مشترکہ ایجنڈہ ہے ۔سانحہ پشاور کے بعد تمام سیاسی جماعتیں ماضی کو بھلا کر یکسوئی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہیں ۔ سیاسی جماعتیں مرکزی سرکار کی سفارشات کا انتظار کر رہی ہیں جنہیں دوبارہ آل پارٹیز کانفرنس کی منظوری کے بعد قوم کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔2015ء امن کا سال ہو گا ملک بھر میں اس حوالے سے کوششیں ہونی چاہئیں۔ ہم اس نئے سال میں پاکستان کو ایک فلاحی پاکستان بنانے میں کامیاب ہوں گے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خلاف پوری قوم اور سیاسی جماعتیں یکجا ہیں۔ چیلنجز نئے نہیں ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کمزوریاں دور کرنے کے لیے اصلاحات نافذ کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ تفتیش میں مشکلات ،گواہوں کے حوالے سے تحفظات،قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی تربیت ،انہیں جدید اسلحہ و آلات سے لیس کرنے کی باتیں پہلے بھی ہوتی رہیں اصل بات عزم کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ1965ء کی طرح ایک بار پھر پوری قوم یکسو ہوئی ہے اس جذبہ زندہ رہناچاہیے پوری قوم کا اب یہی عزم ہے کہ اس مسئلے کو ترجیح اول ملنی چاہیے اور تمام وسائل دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے بروکار لانے چاہیں حکومت مالی وسائل سے گنجائش نکال سکتی ہے کیونکہ تیل کی قیمتیں نصف ہونے پر پاکستان کا تیل کا ساڑھے پندرہ ارب ڈالر کا بل بھی کئی ارب ڈالر کم ہو گیا ہے۔دہشت گردی اور انتہاء پسندی ہی قوم کی ترجیحات میں شامل ہے۔سرمایہ کاری کے لیے دہشت گردی سے پاک سازگار ماحول ناگزیر ہے۔حکومت سال 2015ء کو امن کا سال قرار دینے کی تجویز پر اتفاق کر چکی ہے اب اس حوالے سے ترجیحات کا تعین ہونا چاہیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مضبوط اور رابطوں کے فقدان کو دور کیا جائے یہی قوم کے جذبات ہیں۔اسی کو مدنظر رکھ کر اپنے سیاست مقاصد کو پس پشت ڈال کر دھرنا ختم کر دیا تاکہ حکومت کی توجہ اس مسئلے پر زیادہ سے زیادہ مبذول ہو سکے۔ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اصل معاملہ عدالتی کمیشن کا قیام اور اس کے کام کا آغاز ہے۔حکومت ماحول بنائے اپنے وعدے کو پورا کرے۔انہوں نے کہا کہ اس سازگار ماحول میں پاکستان تحریک انصاف اور حکومت ایک ہی نشست میں معاملات طے کر سکتی ہیں ۔ حکومتی ترجمان بھی اسی قسم کا بیان دے چکے ہیں اب یہ حکومتی رویے پر ہے کہ وہ ماحول سازگار بنائے تاکہ معاملات میں پیش رفت ہوسکے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s