سراج الحق کا ملتان ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن اور الخدمت فاﺅنڈیشن کی تقریب سے خطاب

ملک میں پہلی بار پھولوں کے تابوت اٹھائے ، ہمیں اپنے گھر میں آگ لگانے والوں کو بے نقاب اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قانون کی حقیقی حکمرانی اور غیر قانونی اسلحہ کا سدباب کرنا ہوگا، مارشل لاءکا راستہ روکنے کے لئے حکومت ، پی ٹی آئی میں لڑائی ختم کرانے کی کوشش کررہا ہوں۔سراج الحق

pic sirajul  haq

لاھور23 دسمبر 2014
    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں پہلی بار پھولوں کے تابوت اٹھائے ، ہمیں اپنے گھر میں آگ لگانے والوں کو بے نقاب اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے قانون کی حقیقی حکمرانی اور غیر قانونی اسلحہ کا سدباب کرنا ہوگا، مارشل لاءکا راستہ روکنے کے لئے حکومت ، پی ٹی آئی میں لڑائی ختم کرانے کی کوشش کررہا ہوں ، حکومت کو جوڈیشل کمیشن ہر صورت بنانا پڑے گا اس لئے مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان میں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
     سراج الحق نے کہا کہ سانحہ پشاور کے بعد ہر شخص فکر مند ہے کہ دہشت گردی کو کس طرح ختم کیا جاسکتا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ نہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ آخری ضرور ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حکومت ، ریاست ، معاشرہ اور پاکستانی قوم کی حیثیت سے معصوم بچوں اور ان کے ورثاءکو دہشت گردی کا جواب ضرور دینا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی استعماری قوتوں نے تیل اور سونے کے ذخائر ہڑپ کرنے کےلئے عالم اسلام پر قبضہ کرنے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں پہلا وار پاکستان پر 1971میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت میں کیا جبکہ بعد میں عراق ، شام ، لیبیا اور افغانستان پر بمباری کرکے انہیں تباہ کیا اور ان کی معدنیات کی دولت پر قبضے کئے گئے جبکہ معاملہ یہاں تک نہ رکا بلکہ لوگوں کو مسلک اور قومیت کی بنیاد پر بھی لڑایا گیااس لئے سانحہ پشاور کوئی سڑک کا حادثہ نہیں بلکہ ایک پری پلان منصوبہ ہے ۔ سراج الحق نے کہا کہ مسلمانوں کو جب سے حقیقی جمہوریت کے ذریعے آگے بڑھنے کا موقع ملامغرب نے پائیدار جمہوریت کے آگے روڑے اٹکائے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کہ بقاء، استحکام اور خوشحالی حقیقی جمہوریت کی صورت میں ممکن ہے لیکن اس وقت پاکستان سیاست ، جمہوریت اور سیاسی جماعتیں یرغما ل ہیں ۔ ان کا کہنا تھا امریکہ نے آمرانہ ادوار میں زیادہ فائدہ اٹھایا اس لئے وہ پاکستان میں پائیدار جمہوریت نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ ماحول میں ملک میں میرٹ کی حکمرانی نہیں ہے ملک میں پیسے کا کھیل ہے جو کروڑوں روپے خرچ کر سکتا ہے وہ تو اسمبلی کا ممبر بن سکتا ہے کوئی اور نہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا موجودہ نظام ترقی کا باعث نہیں بن سکتا ملک کی ترقی اسلامی جمہوریت میں ہے کیونکہ اسلامی جمہوریت میں عدل و انصاف ، ایمان اور اصل آئین ہے مغربی جمہوریت لادین ہے اس لئے وکلا کو بھی ملک میں حقیقی جمہوریت کے قیام کے لئے تحریک چلانی چاہیے۔ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے اپنی تجاویز پیش کرتے ہوئے سراج الحق نے کہ ملک میں حقیقی قانون کی حکمرانی قائم کی جائے ، کسی آدمی کو بھی قانون سے استثنیٰ نہ دیا جائے اور تمام غیر قانونی اسلحہ چھیننے کے بجائے حکومت خود خرید کر لے یا پھر لائسنس دے کر اس کو قانونی شکل دے دی جائے۔ ان کا کہنا تھا پاکستان کو قیامت تک قائم رکھنے کے لئے اردو کو قومی زبان کے طور ہر ہر جگہ رائج کیا جائے ، انہوں نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ انتخابات میں صرف اس پارٹی کو الیکشن لڑنے کی اجازت دی جائے جو اپنی جماعت میں باقائدہ الیکشن کرواتی ہیں کیونکہ ملک کی سیاسی جماعتیں پارٹیاں نہیں پراپرٹیاں بن چکی ہیں باپ کے بعد بیٹا ہی کیوں قائد بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں وسائل کی کمی نہیں ہے اس کے باوجود گیس اور بجلی کا بحران ہے یہ صرف حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جوڈیشل کمیشن بنانے سے بھاگ نہیں سکتی کمیشن تو اسے ہر صورت بنانا پڑے گا کیونکہ حکومت نے کمیشن کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا اس لئے اب مزید وقت ضائع نہ کیا جائے ۔انہوں نے پاکستان تحریک انصاف سے بھی گذارش کی ہے کہ وہ اسمبلیوں میں واپس آ جائے اور 2015کو امن کا سال قراردیا جائے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت سانحہ پشاور پر کسی کو ذمہ دار ٹھہرانے یا آپس میں الجھنے اور لڑنے کا نہیں بلکہ یکسوئی اور امن قائم کرنے کا ہے اگر ملک میں امن قائم نہ ہوا تو پاکستان کسی اور جنگ کا مرکز بن سکتا ہے۔اس موقع پر صدر ہائیکورٹ بار سید اطہر حسین بخاری ، جنرل سیکرٹری سجاد حسین ٹانگرا، مرزا عزیر اکبر بیگ ، عظیم الحق پیرزادہ اور وسیم ممتاز ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا۔
    دریں اثنا سراج الحق نے ملتان میں سیلاب زدگان کی مدد کیلئے منعقدہ الخدمت فاﺅنڈیشن کی تقریب سے خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگوکرتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی دولت لوٹنے والے کرپٹ مافیا کی کرپشن کی کمائی کو بے نقاب کرکے اسے قومی خزانہ میں جمع کرایا جائے اور کرپشن کے تالاب میں نہانے والوں کو پکڑ کر عبرت ناک سزائیں دی جائیں ۔مسلح دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے معاشی اور سیاسی دہشت گردی کو بھی ختم کرنا ہوگا۔الخدمت فاﺅنڈیشن نے گزشتہ پانچ سالوں میں 23ارب روپے عوامی خدمت کے کاموں میں خرچ کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیلاب وزلزلہ زدگان کی امداد ،بے سہارا یتیم بچیوں کی شادیوں ،یتیم بچے بچیوں کی تعلیم، سیلاب سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو گھر تعمیر کرکے دینے ،غریبوں کومفت تعلیم اور صحت کی سہولتیں مہیا کرنے میں جماعت اسلامی ہمہ وقت خدمت کے کاموں میں مصروف رہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ الخدمت فاﺅنڈیشن کے پاس ملک بھر میں رضا کاروں کاوسیع ترین نیٹ ورک موجودہے ۔سراج الحق نے اعلان کیا کہ ملک میں امن اور خوشحالی کیلئے 2015 ءمیں نئے عوامی ایجنڈے کے ساتھ مہم کا آغاز کررہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب عوام اپنی گردنوںپر سے کرپٹ مافیا کو اتا ر پھینکیں گے ۔
    بعد ازاںسراج الحق نے سیلاب سے متاثرہ لوگوں میں الخدمت فاﺅنڈیشن کی طرف سے تعمیر کئے گئے گھروں کی چابیاں ،عورتوں میں سلائی مشینیں اور طلباءو طالبات میں تعلیمی وظائف تقسیم کئے ۔ تقریب سے راﺅ محمد ظفر، ڈاکٹر صفدر اقبال ہاشمی، ڈاکٹر ولی محمد مجاہد،محمد احمد چغتائی،پروفیسر افتخار چودھری، چودھری عزیر لطیف،راﺅ ظفر اقبال، میاں آصف محمود اخوانی ، عبدالجبار مفتی سمیت دیگر ذمہ داران نے بھی خطاب کیا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s