معصوم بچوں کے قتل اور زخمی پڑے معصوم بچوں کو بھلایا جارہا ہے اور دوسرے موضوعات چھیڑے جارہے ہیں۔پروفیسر محمد ابراھیم خان

معصوم بچوں کے قتل اور زخمی پڑے معصوم بچوں کو بھلایا جارہا ہے اور دوسرے موضوعات چھیڑے جارہے ہیں۔ واقعے کی بے لاگ تحقیق ہونی چاہئے ۔ جو لوگ اقتدار میں ہیںعوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ ایک زندہ انسان کے قاتلوں کو تو لٹکایا جارہا ہے جبکہ سینکڑوں معصوم بچوں کے قاتلوں کو بچایا جارہا ہے۔پروفیسر محمد ابراہیم خان

IMG_1767

امیر جماعت اسلامی پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ معصوم بچوں کے قتل اور زخمی پڑے معصوم بچوں کو بھلایا جارہا ہے اور دوسرے موضوعات چھیڑے جارہے ہیں۔ واقعے کی بے لاگ تحقیق ہونی چاہئے ۔ جو لوگ اقتدار میں ہیںعوام کی جان و مال کی حفاظت کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے۔ ایک زندہ انسان کے قاتلوں کو تو لٹکایا جارہا ہے جبکہ سینکڑوں معصوم بچوں کے قاتلوں کو بچایا جارہا ہے۔ وہ المرکز اسلامی میں ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 16دسمبر کو پیش آنے والا واقعہ انتہائی المناک ہے۔ اس کی تحقیقات طشت ازبام ہونی چاہئیں۔جی ایچ کیو پر حملہ ہوا تو تحقیقات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔ نیول بیس پر حملے کی بھی تحقیقات نہیں ہوئیں اسی لئے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آرمی پبلک سکول پر حملے کو بنیاد بنا کر تحقیقات کی جائیں اور ملوث لوگوں کو سامنے لایا جایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کوئی بھی اس قسم کے وحشیانہ کام کرنے والوں کی حمایت نہیں کرتا ۔ ایسے لوگوں سرعام گولی مارنی چاہئے ۔ اگر مجھ پر یا کسی پر بھی الزام ہے تو ان کو عدالتوں کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے۔ پشاور واقعے میں شہید ہونے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو بتائی جارہی ہے۔ لیکن اس تعداد پر پردہ ڈالا جارہا ہے۔ اسی طرح مجرموں پر بھی پردہ ڈالا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پھانسی کی سزا پر پابندی لگانے والے قوم کے دشمن ہیں ۔ یہ پابندی امریکہ اور یورپی ممالک کے دباؤ پر لگائی گئی اور معصوم لوگوں کے قاتلوں کو تحفظ دیا گیا ۔ انہوں نے الطاف حسین کی طرف سے لال مسجد کو گرانے کے مطالبے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ ﷺ پر تو مسجد ضرار کو گرانے کے لئے وحی نازل ہوئی تھی کیا الطاف حسین پر بھی وحی نازل ہوئی ہے۔ ملک میں آئین موجود ہے ۔اگر اس پرعمل درآمد کیا جائے تو کسی مسجد کو گرانے کی ضرورت نہیں پیش آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ فاٹا میں فوجی عدالتوں کے قیام کی بات کی جارہی ہے۔ دہشت گردی تو کوئٹہ اور کراچی میں بھی ہورہی ہے۔کیاوہاں بھی فوجی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ ملک میں ایسے غیر آئینی اقدام کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا میں آپریشنز ہورہے ہیں ۔ وزیرستان سے دس لاکھ سے زائد لوگ نقل مکانی کرکے بنوں میں کسمپرسی کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ ضرب عزب میں کیا ہورہا ہے آج تک کسی کو معلوم نہیں اور نہ ہی ان علاقوں تک میڈیا کو رسائی دی جارہی ہے۔ انہوں نے حکو مت پر زور دیا کہ سینکڑوں بچوں کی شہادتیں رائیگاں نہیں جانی چاہئے اور ہزاروں واقعات کی طرح اس واقعے پر بھی پردہ نہ ڈالا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s