پاکستان کسی سیاستدان ، جرنیل یا مولوی کا نہیں ، یہ اٹھارہ کروڑ عوام کا ہے اور وہی اس کی حفاظت کریں گے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سرا ج الحق

 ملک میں وہی پرانا نظام چل رہا ہے ، وہی تھانہ کلچر اور پرانی ذہنیت برقرار ہے ۔ ملک میں اسی طر ح ظلم ، قتل وغارت گری اور مہنگائی کا راج ہے۔نام نہاد جمہوری پارٹیوں اور فوجی حکمرانوں نے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور مشرقی بازو کو ہم سے کاٹ ڈالا۔ غلام ذہنیت کے حکمران ہی ناانصافی کی بڑی وجہ ہے۔

Pic Sirajul Haq (33)

امیر جماعت اسلامی پاکستان سرا ج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کسی سیاستدان ، جرنیل یا مولوی کا نہیں ، یہ اٹھارہ کروڑ عوام کا ہے اور وہی اس کی حفاظت کریں گے۔ پاکستان میں وزیر اعظم اور پارٹیاں تبدیل ہوتی ہیں لیکن عوام کی تقدیر نہیں بدلتی۔ غلام ذہنیت کے حکمران ابھی تک قوم کو متفقہ زبان تک نہیں دے سکے۔ 2014ء افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی شکست کا سال ہے۔ پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام افغانیوں کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ افغانستان کی طرح پاکستان میں بھی امریکہ کے غلاموں کا جھنڈا سر نگوں ہوگا۔ ملک میں دہشت گردی کی بنیاد پرویز مشرف اور اس کی پالیسیاں ہیں۔ بلوچستان ، کراچی اور قبائلی علاقوں میں غیر ملکی ایجنسیوں کو اجازت دے کر سازشوں کا مرکز بنایا گیا ۔ عالم اسلام ابھررہا ہے اور ایک ہورہا ہے۔ امریکہ یہ برداشت نہیں کرسکتا ، وہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کررہا ہے۔سانحہ پشاور نہایت اندوہناک ہے۔ اس کی تحقیقات کی جائیں اور تمام تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ایٹم بم سے زیادہ قوت قومی یکجہتی میں ہے۔ دہشت گردی کا واحد علاج قومی یکجہتی اور شریعت کا نظام ہے۔ مسجد اللہ کا گھر ہے ، جس نے اس کو ڈھانے کے لئے ہاتھ بڑھایا وہ ہاتھ توڑ دیں گے۔ علماء اور مدارس کی توہین ناقابل برداشت ہے۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل منصورہ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیوڑ بازار ضلع مردان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ عام سے امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان ، امیر جماعت اسلامی ضلع مردان ڈاکٹر عطاء الرحمن ، نائب امیر ضلع سلطان محمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔جلسہ عام میں سینکڑوں افراد نے اپنے خاندانوں اور ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شرکت کے اعلانات کئے۔
سراج الحق نے کہا کہ 65سال سے ملک میں وہی پرانا نظام چل رہا ہے ، وہی تھانہ کلچر اور پرانی ذہنیت برقرار ہے ۔ ملک میں اسی طر ح ظلم ، قتل وغارت گری اور مہنگائی کا راج ہے۔نام نہاد جمہوری پارٹیوں اور فوجی حکمرانوں نے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور مشرقی بازو کو ہم سے کاٹ ڈالا۔ غلام ذہنیت کے حکمران ہی ناانصافی کی بڑی وجہ ہے۔ پاکستان کے غریب باہر کے ممالک میں محنت مزدوری کرکے پیسے پاکستان بھیجتے ہیں اور ہمارے حکمران ٹیکسوں کی صورت میں غریبوں کا پیسہ لوٹ کر باہر منتقل کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور نیٹو افواج افغانستان کے پہاڑوں سے سر ٹکراتی رہیں ، اب انہیں ذلیل اور شکست خوردہ ہوکر افغانستان سے نکلنا پڑ رہا ہے ۔ یہ مجاہدین کے لئے کامیابی کا سال ہے لیکن پاکستان میں شہادتوں کا سال ہے۔ پاکستان کے ہر بازار ، چوراہے اور شہر میں پاکستانیوں کا خون بہتا رہا ۔ اب 2015ء پاکستان کے لئے امن کا سال ثابت ہوگا ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمان ممالک میں کرپٹ اور غلامانہ ذہنیت رکھنے والے حکمران امریکہ کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں کوئی اہم واقعہ یا حادثہ پیش آتا ہے تو سیکولر اور مغرب زدہ طبقہ اسلام ، مساجد اور مدارس کو نشانہ بنا لیتا ہے ۔مدارس پاکستان میں عوام کی امانت ہیں ۔قیام پاکستان سے پہلے بھی مدارس قائم تھے ۔جب انگریز ان کو ختم نہ کرسکے تو ان کے غلام ان کو کیسے ختم کرسکتے ہیں ۔ ہم علماء اور مدارس کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے ۔ہم اقتدار میں آکر اسلامی پاکستان میں آئمہ مساجد کے لئے تنخواہیں مقرر کریں گے۔ قوم کو ایک نظام تعلیم دیں گے ۔ ہم ملک کو شرعی نظام دیں گے جو سود سے پاک ہوگا۔ جس میں معیشت، عدالت، تعلیم اور سیاست اسلامی اصولوں کی بنیاد پر ہوگی ۔ ہر پارٹی تبدیلی کا نعرہ لگا رہی ہے ۔ کوئی پاکستان کو برطانیہ ، کوئی امریکہ اور کوئی فرانس کی طرز پر بنانے کے دعوے کررہا ہے ۔ کوئی نئے اور پرانے پاکستان کی بات کررہاہے۔ لیکن ہم صرف اسلامی پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ صرف جماعت اسلامی کے پاس متبادل نظام ہے۔ اس کے پاس دیانتدار قیادت اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ وہ قوم کو اکھٹا کرنے کا گُر جانتے ہیں۔ ہم وزارتوں میں بھی درویشی کرتے ہیں اور درویشی میں بادشاہی کرتے ہیں۔قوم کے لئے ہمیشہ قربانی جماعت اسلامی نے دی ہے۔ وہ لوگ اپنی اور پارٹی کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ، ہم اللہ تعالیٰ کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔
دریں اثناسراج الحق نے افغانستان سے نیٹو فورسز کی واپسی پر اپنے ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سرپرستی میں نیٹو فورسز کا افغانستان میں آنے کا کوئی جواز نہیں تھا، امن قائم کرنے کے نام پر آنے والی فورسز نے خطے میں دہشت گردی اور بدامنی کو فروغ دیا ۔امریکہ یورپ اور دنیا بھر کے غیر جانبدار حلقوں نے افغانستان میں44ممالک کی فورسز کی چڑھائی کی شدید مخالفت کی تھی، امریکی انتظامیہ اور افواج کے موجودہ اور سابق ذمہ داران نے کتابیں اور مضامین لکھ کراپنی غلطی کا کھلا اعتراف کیا ۔اب جبکہ اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق نیٹو فورسز واپس جارہی ہیں تو یہ امر خوش آئند ہے ۔جماعت اسلامی امریکہ اور عالمی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ افغانستان کے مستقبل میں ٹانگ اڑانے کی بجائے یہ کام افغان قوم پر چھوڑ دیا جائے ۔افغانستان کی حکومت بنانے ،گرانے اور وہاں پر اڈے قائم کرکے سیاسی مفادات سمیٹنے کی کوشش کی گئی تو افغانستان اور خطے میں امن قائم نہیں ہوسکے گا۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس موقع کو ضائع مت کریں ،رو س چین ایران اور ترکی سمیت خطے کے ممالک سے سفارت کاری کے ذریعے افغانستان میں عوام کی تائید کے مطابق پر امن مستقبل کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے ایک دفعہ پھر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی اسلامی اور قبائلی شناخت کو برقرا ر رکھتے ہوئے افغان عوام کی عالمی سطح پر مکمل تائید کی جانی چاہئے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s