US and its policies were responsible for the terrorism in the Muslim countries۔ SIRAJ

US and its policies were responsible for the terrorism in the Muslim countries and horrible wars were going on in thirteen Muslim states because of these. SIRAJ 

2

LAHORE, Jan. 31; Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Sirajul Haq, has said that the US and its policies were responsible for the terrorism in the Muslim countries and horrible wars were going on in thirteen Muslim states because of these.  

            Addressing a press conference at Quetta, he said that lawlessness and terrorism all over the world was because of the US. The US dropped nuclear bombs in Japan putting to death millions of people. The US was bent upon destroying the sovereignty of other states to occupy their resources. It had thrust war on different Muslims states to further divide the Muslim world, and to achieve this end, racial, ethnic and sectarian differences were being promoted in the Muslim states. The US had attacked Afghanistan on the pretext of the 9/11 tragedy and had reduced that country into a graveyard. The JI provincial chief Abdul Mateen Akhudzada and other party leaders were also present., 

            However, he said, that partial responsibility of the present state of affairs in the country also rested with our own people because we could not emerge as a single nation during the last 65 tears and took pride in our tribes, sects and race. He said that Europe was getting united to give respectable living to its people and added that Pakistanis would also have to follow them. As long as Islam does not become the ideology of the country, none of our problems could be solved, he added.

Sirajul Haq said there was no dearth of resources in the country, however, the problem lay with the unequal distribution of resources which was increasing poverty and sense of deprivation among the people. He said there was a confrontation between the oppressed and the oppressor in the country and the JI was striving to unite the workers and the downtrodden on one platform against the feudal lords and the tyrants.     

            The JI chief said that the Baloch were patriotic people and instead of pushing them to the corner, efforts should be made to bring them closer. He said the issue of Balochistan could be taking the leadership into confidence. He said the present silence could lead to an uprising and Prime Minister Nawaz Sharif should show political acumen and meet the Baloch leaders to resolve the situation. Balochsitan situation. He said that the Balochistan package announced by former Premier Syed Yousuf Raza Gilani should be implemented fully.  

            Referring to the Karachi situation, Sirajul Haq said there was the monopoly of a single party in the port city which was the main obstacle in the restoration of peace. He said that there was no single community in Karachi. Instead, lakhs of the Pushtoons, Baloch, and the Punjabis and were residing in Karachi. However, he media, the courts and the administration in Karachi was hostage to a single party. He said it was the responsibility of the federal government to establish rule of law and merit in Karachi for restoration of peace.  

            The JI chief rejected the proposed change in the Gowadar-Kashghar route and said any such attempt would be fully resisted.

Advertisements

خطے اور دیگر اسلامی ممالک میں دہشت گردی کا ذمہ دار امریکہ اور اس کی پالیسیاں ہیں۔سراج الحق

خطے اور دیگر اسلامی ممالک میں دہشت گردی کا ذمہ دار امریکہ اور اس کی پالیسیاں ہےں ، اس وقت 13 اسلامی ممالک میں امریکی پالیسیوں کے باعث خطرناک جنگ ہورہی ہے ، پاکستان میں مظلوم اور ظالم کے درمیان کشمکش جاری ہے جماعت اسلامی مزدوروں ، مظلوموں اور محنت کشوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرکے فیوڈل اور ظالم طبقے کے خلاف جدوجہد کررہی ہے ، بلوچستان کا مسئلہ یہاں قیادت کو اعتماد میں لے کر حل کیا جاسکتا ہے جب تک ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی اور میرٹ کی بحالی نہیں ہوگی اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے۔سراج الحق کی کوئٹہ میں پریس کانفرنس

pic sirajul haq

لاہور31جنوری 2015
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ خطے اور دیگر اسلامی ممالک میں دہشت گردی کا ذمہ دار امریکہ اور اس کی پالیسیاں ہےں ، اس وقت 13 اسلامی ممالک میں امریکی پالیسیوں کے باعث خطرناک جنگ ہورہی ہے ، پاکستان میں مظلوم اور ظالم کے درمیان کشمکش جاری ہے جماعت اسلامی مزدوروں ، مظلوموں اور محنت کشوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرکے فیوڈل اور ظالم طبقے کے خلاف جدوجہد کررہی ہے ، بلوچستان کا مسئلہ یہاں قیادت کو اعتماد میں لے کر حل کیا جاسکتا ہے جب تک ملک میں آئین اور قانون کی بالادستی اور میرٹ کی بحالی نہیں ہوگی اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوں گے ، مدت سے پہلے کسی بھی حکومت کو گرانے کے نظریہ کے حق میں نہیں البتہ احتجاج ، جلسے ، جلوس جمہوریت کا حسن ہیں اس کا حق ہر کسی کو حاصل ہے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پہنچنے کے بعد الفلاح ہاﺅس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صوبائی امیر عبدالمتین اخونزادہ ، عبدالولی شاکر اور دیگر رہنماءبھی موجود تھے ۔
     امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ روئے زمین پر بدامنی اور دہشت گردی کا ذمہ دار امریکہ ہے جنہوں نے جاپان پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں لوگوں کو لقمہ اجل بنادیا ۔ افغانستان میں نائن الیون کا بہانہ بنا کر جس انداز میں بمباری کی گئی وہ قابل مذمت اور قابل افسوس ہے ۔ امریکہ پاکستان میں بھی بدامنی اور دہشت گردی کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے مگر اس کے باوجود ہم بھی اپنے آپ کو حالات وواقعات سے بری الذمہ نہیں سمجھتے ، 65 سالوں سے ہم ایک قوم کیوں نہیں بن سکے آج بھی ہم قبیلے ، مسلک اور زبان کی بنیاد پر فخر کرتے ہیں
    سراج الحق نے کہاکہ پاکستان میں مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ غیر منصفانہ تقسیم کا ہے ۔بلوچستان میں بے پناہ وسائل جن میں گیس ، کوئلہ ، کرومائٹ ، سونا اور دیگر معدنیات شامل ہیں وافر مقدار میں موجود ہیں لےکن یہاں غربت اور ناخواندگی سب سے زیادہ ہیں ۔ یہاں کے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لے کر روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہیں ۔میں اسلام آباد سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے یہاں کی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کرے ۔ یوسف رضا گیلانی کی جانب سے جس کاغذی پیکج کا اعلان ہوا تھا اس کو عملی جامعہ پہنچایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ آج جو خاموشی ہے یہ نیک شگون نہیں آنے والے کل میں یہ بڑا طوفان ثابت ہوسکتا ہے ۔ کراچی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک گروپ کی اجارہ داری ہے جس کی وجہ سے امن وامان ٹھیک نہیں ہورہا ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے باعث پورا شہر یرغمال ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کرچی میں میڈیا ، عدالتیں اور انتظامیہ یرغمال ہے ایک مخصوص گروہ نے کراچی میں امن وامان کو تباہ کیا ہے ۔ مرکزی حکومت میرٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے کراچی میں امن وامان قائم کرےں ۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پےپلزپارٹی ہمیشہ سے شریک اقتدار رہے ہیں مگر اپنے سیاسی مقاصد کے لئے وہ عوام کو دہشت گردی کی آگ میں جھونکتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پل ڈاٹ کے سروے کے مطابق پاکستان میں صرف جماعت اسلامی کے اندر ہی جمہوریت ہے جبکہ باقی ساری پارٹیاں سرمایہ داروں کے زیر تسلط ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ گوادر تک کاشغر روٹ کی تبدیلی کو جماعت اسلامی مسترد کرتی ہے اور اگر اس طرح کی کوشش کی گئی تو ہم اس کے خلاف ضرور اٹھ کھڑے ہوں گے ۔      
               

سراج الحق کا مسجد منصورہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب

نواز شریف سمیت اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو عزت مغرب اور امریکہ سے وفاداری کی بجائے حضرت محمد ﷺ سے اظہارمحبت کے بدلے میں ملے گی،توہین رسالت ﷺ جیسے گھناﺅنے جرم پر بھی اگر کسی کی ایمانی غیرت نہیں جاگتی تو اسے اپنے ایمان کی فکرکرنی چاہئے۔سراج الحق کا مسجد منصورہ میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب

pic 1

 
لاہور 30جنوری 2015ء
   امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ نواز شریف سمیت اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو عزت مغرب اور امریکہ سے وفاداری کی بجائے حضرت محمد ﷺ سے اظہارمحبت کے بدلے میں ملے گی،توہین رسالت ﷺ جیسے گھناﺅنے جرم پر بھی اگر کسی کی ایمانی غیرت نہیں جاگتی تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے ،فرانس میں توہین آمیز خاکوں پر اسلامی ممالک کے حکومتی ایوانوں میں قبرستان کی سی خاموشی چھائی رہی جبکہ غیرت مند مسلمان سڑکوں پر احتجاج کرتے رہے ،ہم صرف حضرت محمد ﷺ اور قرآن عظیم کی نہیں بلکہ تمام انبیاءاور آسمانی کتب کے احترام کی بات کرتے ہیں ،عالمی امن کو یقینی بنانے کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی اور ڈائیلاگ ضروری ہے ،ابنیاءاور کتب سماوی کی توہین کو عالمی جرم قرار دیا جائے اور ایسی قانون سازی کی جائے کہ کسی کو بھی مذہب اور انبیاءکی توہین کی جرا ¿ت نہ ہو۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
     سراج الحق نے کہا ہے کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں گستاخیاں اور قرآن کریم پر مقدمہ چلا کر نذر آتش کرنے جیسے واقعات کا تسلسل عالمی امن کو تہ وبالا کرنے کیلئے صیہونیوں کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے ،صلیبی جنگوں کی پشت پر ہمیشہ صیہونی سازشیں کارفرمارہی ہیں ،یہودی مسلمانوں اور مسیحیوں کو لڑانے کیلئے خفیہ سازشوں میں مصروف رہتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ توہین رسالت ﷺ کرکے دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے دلوں کو زخمی کیا گیا ،لیکن اس بدترین دہشت گردی کو روکنے کیلئے اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے کسی عالمی ادارے کی طرف سے کوئی آواز نہیں اٹھائی گئی،انہوں نے مسلم ممالک کے حکمرانوں کی بزدلانہ خاموشی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ قیامت کے روز حضور ﷺ کے سامنے کیا منہ لیکر جائیں گے،انہوں نے کہا کہ ہم گستاخان رسول ﷺ کا تعاقب کرتے رہیں گے اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے جب تک کہ اپنے پیغمبر ﷺ اور کتاب اللہ کو ان کی ناپاک جسارتوں سے محفوظ نہیں کرلیتے ۔انہوں نے کہا کہ حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کرنا لاکھوں مسلمان اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک اور اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی پہلی اسلامی ریاست ہے ،مگر اس کے حکمرانوں کا رویہ انتہائی بزدلانہ اور قابل مذمت ہے ، اس مسئلہ پر اور کسی طرف سے آواز کا نہ اٹھایا جانا اتنا تکلیف دہ نہیں جتنی تکلیف پاکستانی حکمرانوں کی خاموشی سے عوام کو پہنچی ہے ۔
    سراج الحق نے تمام سیاسی و دینی جماعتوں سے اپیل کی کہ حضور ﷺ کے ناموس کے تحفظ کیلئے ذاتی و پارٹی مفادات سے بالا تر ہوکر سب متحد ہوجائیں ،حضرت محمد ﷺ کی عزت و عظمت سے بڑھ کرہمیں کوئی چیز عزیز نہیں ۔

Muslim rulers’ respect lies in showing love for the Prophet and not the west .SIRAJ

Muslim rulers’ respect lies in showing love for the Prophet and not the west .SIRAJ

pic 2

  LAHORE, Jan. 30: Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Sirajul Haq, has said that the Muslim rulers including Prime Minister Nawaz Sharif can get respect through their expression of love for the Holy Prophet (PBUH) and not through their loyalty to the west and the US.

Addressing the Friday congregation at Mansoora mosque, he said if someone’s sense of religious   dignity was not aroused on the heinous crime of blasphemy, he should take care of his faith.

            The JI chief said there was silence of the graveyards in the corridors of power in the Muslim states on the publication of blasphemous caricatures in a France journal while the Muslim masses have been agitating on roads and streets.

            Sirajul Haq said that the repeated incidents of the blasphemy of the Noble Prophet and the mock trials of the Holy Quran and setting the holy book afire were chain of the Zionists plot to disturb world peace. The Zionists had always been at the back of the crusades as they had always hatched conspiracies to pit the Muslims and the Christians against each other.

He said the repeated incidents of the blasphemy had hurt the one and a half billion Muslims in the world. However, none of the international bodies including the UN had raised voice against this.   

Sirajul Haq said, the Muslims did not talk of the sanctity of the Holy Prophet Muhammad (pbuh) and the Holy Quran alone, instead they stressed for the respect for all the prophets of Allah and all revealed books.   He said that inter=faith harmony and dialogue was imperative for world peace. Therefore, blasphemy of the prophets of God and desecration of the divine books should be declared an international crime and stringent laws should be made in this regard so that no body dared to indulge in such a crime.

             Condemning the silence of the Muslim rulers on the issue, the JI chief however declared that the JI and its like- minded parties would continue to chase the blasphemers till they stopped this unholy practice.  He said that the Muslims considered it greatest honour to lay down their lives for safeguarding the sanctity of the beloved Prophet (pbuh). He urged all the political and religious parties to join at a single platform on the issue of blasphemy.

نریندر مودی جیسے انتہا پسند اور مسلمانوںکے قاتل کو اوباما کی آشیر باد خطے کو جنگ کے حوالے کرنے کی سازش ہے ۔سراج الحق

نریندر مودی جیسے انتہا پسند اور مسلمانوںکے قاتل کو اوباما کی آشیر باد خطے کو جنگ کے حوالے کرنے کی سازش ہے ،امریکہ اور بھارت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر انہوں نے کسی مشترکہ ایڈوینچرکی کوشش کی تو یہ جنگ صرف اس خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عالمی امن کیلئے تباہ کن ہوگی.سراج الحق کا منصورہ میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب

pic 2pic 1 

لاہور29جنوری 2015ئ
    جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ نریندر مودی جیسے انتہا پسند اور مسلمانوںکے قاتل کو اوباما کی آشیر باد خطے کو جنگ کے حوالے کرنے کی سازش ہے ،امریکہ اور بھارت کو سمجھ لینا چاہئے کہ اگر انہوں نے کسی مشترکہ ایڈوینچرکی کوشش کی تو یہ جنگ صرف اس خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عالمی امن کیلئے تباہ کن ہوگی ۔کشمیر کشمیریوں کا ہے بھارت جتنی جلدی یہ بات سمجھ لے اتنا ہی اس کا فائدہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں ہونے والے مرکزی ذمہ داران کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر نائب امرا حافظ محمد ادریس، اسد اللہ بھٹو ،راشد نسیم ،میاں محمد اسلم سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ ،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،سید وقاص انجم جعفری اور سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم بھی موجود تھے ۔
    سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا ہر جگہ ماتم کیا جارہا ہے ، پانچ مشیرخارجہ ہونے کے باوجود خارجہ پالیسی کی کوئی سمت مقرر نہیں ،حکمران امریکہ کی کھلے عام دھمکیوں اور پاکستان کے خلاف سازشوں کے باوجود امریکی گود میں بیٹھنا اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ،امریکہ خطے میں بھارت کو بالادست قوت بنانے کے منصوبہ پر عمل پیرا ہے اور اس نے بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی بھی یقین دہائی کروادی ہے جوکسی طرح بھی خطے کے مفاد میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی خارجہ پالیسی تضادات اور گومگو کی صورتحال سے دوچار ہے ،حکمران ابھی تک امریکی گود سے اترنے کو تیار نہیں ،انہوں نے کہا کہ اس موقع پر خود وزیر اعظم کو چاہئے تھا کہ خطے میں طاقت کے توازن کو بگاڑنے کی امریکی سازشوں کے خلاف کھل کر بات کرتے اور امریکی سفیر کو بلا کر واضح پیغام دینا چاہئے تھا۔سراج الحق نے کہا کہ ہم نے تو حکومت کو کھلے دل سے آفر دی ہے کہ اگر ان کے پاس وزارت خارجہ سنبھالنے کیلئے اہل فرد نہیں تو ہم آپ کو بلامعاوضہ خدمات دینے والے افراد مہیا کرنے کو تیار ہیں ،انہوں نے کہا کہ جب تک حکمران اپنی ذات کے خول میں بند ہیں ملک کو اندرونی اور بیرونی مسائل کا سامنا رہے گا۔
    سراج الحق نے مرکزی ذمہ داران کی مشاورت سے نوجوانوں کو بڑی تعدا د میں جماعت میں شامل کرنے اور اس سال کو نوجوانوں کا سال قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔جماعت اسلامی آئندہ ماہ ملک بھر میں نوجوانوں کے بڑے بڑے اجتماعات منعقد کرے گی۔سراج الحق نے کہا کہ ملک کا نوجوان طبقہ اپنے مستقبل کے حوالے سے سخت پریشان ہے ،لاکھوں نوجوان ہاتھوں میں اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں پکڑے نوکری کے حصول کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن کسی کو روز گار نہیں مل رہا ،انہوں نے کہا کہ باصلاحیت نوجوان مایوسی اور ناامیدی کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں مگر نااہل حکمرانوں کو ذرا برابر خیال نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو باعزت روز گار فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔
    دریں اثنا امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جماعة الدعوة کے امیر پروفیسر حافظ محمد سعید سے ملاقات کی ۔ملاقات میں دونوں راہنماﺅں نے ملک اورخطے کی مجموعی صورتحال پر غور کیا اور پاکستان کو درپیش اندرونی و بیرونی خطرات کا جائزہ لیا اور ان کے تدارک کے حوالے سے گفتگو کی ۔ 
       

جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو سیاسی فرعونوں اور برہمنوں کی سندھ اورپنجاب میں بڑی جاگیروں کو عوام میں تقسیم کر دیں گے ۔سراج الحق کا راجووال (اوکاڑہ) میں کسان کنونشن سے خطاب

۔حکومت زمین کی ملکیت کی حد مقرر کرے ۔ کسی کے پاس گھر بنانے کی جگہ نہیں اور کسی کو اپنی جاگیر وں کی حد معلوم نہیں ۔ ملک میں انڈیا کی طرح جاگیردارانہ سسٹم کا خاتمہ کیا جائے ۔ جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو سیاسی فرعونوں اور برہمنوں کی سندھ اورپنجاب میں بڑی جاگیروں کو عوام میں تقسیم کر دیں گے ۔سراج الحق کا راجووال (اوکاڑہ) میں کسان کنونشن سے خطاب 

3

لاہور 28جنوری 2015ئ
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت زمین کی ملکیت کی حد مقرر کرے ۔ کسی کے پاس گھر بنانے کی جگہ نہیں اور کسی کو اپنی جاگیر وں کی حد معلوم نہیں ۔ ملک میں انڈیا کی طرح جاگیردارانہ سسٹم کا خاتمہ کیا جائے ۔ جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو سیاسی فرعونوں اور برہمنوں کی سندھ اور پنجاب میں بڑی جاگیروں کو عوام میں تقسیم کر دیں گے ۔ یہ جاگیریں انگریز کے ایجنٹوں نے اسلام اور قوم سے غداری کے عوض حاصل کیں ان جاگیروں پر غریب کسانوں کاحق ہے ۔ غریبوں کو اتنا مجبور نہ کیا جائے کہ وہ بنگلوں کا رخ کر لیں ۔ عوام کا استحصال کرنے والے سمجھ لیں کہ تنگ آمد بجنگ آمد عوام ان کی گردنیں ناپنے کے لیے تیار ہو جائیں گے ۔ موجودہ حکومت کی دوسالہ کارکردگی نے قوم کو سخت مایوس کیا ہے ۔ مہنگائی ، بے روزگاری اور بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ نے غریبوں کا جینا حرام کردیاہے ۔ مسائل صرف وزیروں اور حکومتی ممبران اسمبلی کے حل ہوتے ہیں ۔ حکومت نے غریب کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے راجو وال اوکاڑہ میں بڑے کسان کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر ، نائب امیر وقار ندیم وڑائچ ، ضلعی امیر ڈاکٹر لیاقت علی کوثر او ر کسان بورڈ پاکستان کے چیئرمین چوہدری نثار احمد ایڈووکیٹ نے بھی خطاب کیا ۔ کنونشن میں علاقہ بھر کے ہزاروں کسانوں نے شرکت کی ۔ قبل ازیں سراج الحق نے راجو وال میں قاضی حسین احمد ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا ۔
     سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ جماعت اسلامی کی حکومت آئی تو ہم پاکستان کو بیج ، کھاد ، زرعی ادویات اور مشینری پر سبسڈی دیں گے اور پانچ بیماریوں کینسر ، گردوں ، دل ، ہیپاٹائٹس ، تھلیسیمیاکا سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہوگا اور 30 ہزار سے کم آمدن والے شہریوں کو گھی ، چاول ، آٹا ، چینی اور چائے کی قیمتوں پر سبسڈی دیں گے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہمیں اسلامی انقلاب کے لیے بندوق اٹھانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی انقلاب عوام اپنی جمہوری جدوجہد سے لائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ بھارت کو سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی دے رہاہے اور ہمارے ساتھ لاشوں کی تجارت کر رہاہے ۔
    سراج الحق نے کہاکہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کے کسان 24 گھنٹے محنت کرتے ہیں اور اپنا پسینہ بہاتے ہیں مگر حکومت کی طرف سے ان کی محنت کا انہیںکوئی صلہ نہیں ملتا ۔ سال بھر کے بعد جب فصل کٹتی ہے تو صنعتکار اس فصل کو اونے پونے داموں لوٹ لیتے ہیں اور کسان بیچارے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عوام نے 68 سال سے سانپوں اور اژدھوں کو پالا ہے اور آج یہ اژدھے عوام کو ڈس رہے ہیں ۔ اقتدار کے ایوانوں پر جاگیردار وں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہے جنہوں نے پورے نظام کو یرغمال بنایا ہواہے ۔ قومی اداروں اور وسائل پر اسی اشرافیہ کا قبضہ ہے جس کو غریب سے کوئی سروکار نہیں ۔ وہ صرف اپنے اقتدار کو طول دیتے ہیں اور غریبوں کو اس وقت شکل دکھاتے ہیں جب انہیں ان کے ووٹ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکمران شہزادے ہیں جو صرف شہزادوں کے مسائل کو سمجھتے ہیں ۔ وہ عوام کو جان و مال کا تحفظ دینے کی بجائے انہیں اپنی حفاظت کے لیے کتے رکھنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔
    ڈاکٹر سید وسیم اختر نے اپنے خطاب میں کہاکہ ملک میں اندھیروں کا راج ہے ۔ بل آتے ہیں مگر بجلی نَہیں آتی ۔ پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگی رہتی ہیں ۔ گیس نہ ہونے کی وجہ سے چولہے ٹھنڈے ہو گئے ہیں ۔ 59 فیصد نوجوان بے روزگارہیں ۔ اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں ہاتھوں میں لےے پھرتے ہیں مگر انہیں روزگار نہیں ملتا ۔ مزدوروں اور کسانوں کو پیٹ پالنے کے لیے دو وقت کی روٹی میسر نہیں ۔ ملک کے چالیس فیصد عوام کو 24 گھنٹے میں صرف ایک وقت کا کھانا نصیب ہوتاہے ۔ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کسان اور زراعت ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ میں نے پنجاب اسمبلی میں کسانوں سے ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔