تعلیمی اداروں کو ملنے والی سرکاری گرانٹ میں مدارس کو بھی شامل کیا جائے۔سراج الحق

  امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی سربراہی میں منصورہ میں ہونے والے اتحاد تنظیمات مدارس کے اجلاس میں مغرب کے دباﺅ پر دینی مدارس کے خلاف ہونے والے گمراہ کن پراپیگنڈہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اجلاس کے شرکاءنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور واقعہ کی آڑ میں اسلام اور اسلامی شعائر اور مساجد و مدارس کے خلاف جاری مہم کو بند کیا جائے۔

pic

3/1/2015
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی سربراہی میں منصورہ میں ہونے والے اتحاد تنظیمات مدارس کے اجلاس میں مغرب کے دباﺅ پر دینی مدارس کے خلاف ہونے والے گمراہ کن پراپیگنڈہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے اجلاس کے شرکاءنے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پشاور واقعہ کی آڑ میں اسلام اور اسلامی شعائر اور مساجد و مدارس کے خلاف جاری مہم کو بند کیا جائے ۔ دینی مدارس پاکستان کے نظریے اور جغرافیے کے محافظ ہیں اور ان مدارس میں پڑھنے والے 30 لاکھ طلبا و طالبات پاکستان کے وفادار ہی نہیں اس کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ قومی ایکشن پلان اور سرکاری اشتہارات سے دینی مدارس کا نام خارج کیا جائے ۔ تعلیمی اداروں کو ملنے والی سرکاری گرانٹ میں مدارس کو بھی شامل کیا جائے ۔ زیادہ تر دینی مدارس پہلے سے ہی رجسٹرڈ ہیں جن مدارس کی بار بار درخواستوں کے باوجود ابھی تک رجسٹریشن نہیں ہوسکی ان کی فوری رجسٹریشن کی جائے اور مدارس کی آڈٹ رپورٹ جلد مکمل کر کے عوام کے سامنے لائی جائے ۔ 
    اجلاس میں تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے صدر مفتی منیب الرحمن ، ناظم تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان ،مولانا عبدالمالک سربراہ رابطة المدارس الاسلامیہ ، چیئرمین پنجاب قرآن بورڈ غلام محمد سیالوی ، ناظم اعلیٰ وفاقی المدارس قاری محمد حنیف جالندھری ، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان، قاری یٰسین ظفر ناظم اعلیٰ وفاق المدارس السلفیہ پاکستان، مولانا عبدالمصطفیٰ ناظم اعلیٰ تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان ، نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ محمد ادریس ، سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے شرکت کی ۔
    اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاکہ اسلام محبت و اخوت اور بھائی چارے کی تعلیم دیتاہے ۔ حضرت محمد رحمة اللعالمین ہیں ۔ دینی مدارس میں پڑھانے والے علمائے کرام اور لاکھوں دینی طلبا پاکستان کا اثاثہ ہیں ۔ شرم کا مقام ہے کہ مغرب اور سیکولر لابی کے اشاروں پر ان دینی مدارس کے خلاف ایک زہریلا پراپیگنڈہ جاری ہے اور مدارس کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جارہاہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ تعلیمی اداروں کے لیے سرکاری بجٹ میں مدارس اسلامیہ کا بھی حصہ مقرر کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی کی آڑ میں مدارس و مساجد کے خلاف کسی کاروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ایکشن پلان میں وفاق المدارس کے علما کو بھی شامل کیا جائے اور دینی مدارس کے بارے میں ان کی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ دینی مدارس کو بنکوں میں اکاﺅنٹ کھلوانے کی اجازت نہیں ۔ شرم کی بات ہے کہ سٹیٹ بنک مسلسل دینی مدارس کی طرف سے اکاﺅنٹ کھولنے کی درخواست پر کوئی فیصلہ نہیں کر رہا ۔ حکومت مخصوص لابی کے دباﺅمیں آ کر مدارس کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے باز رہے ۔ 
    سراج الحق نے کہاکہ مغرب نے جس طرح مسلکوں اور فرقوں کی بنیاد پر مسلمانوں کو تقسیم کیاہے وہ ڈرتاہے کہ مسلمان دوبارہ متحد نہ ہو جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ مغرب اور اس کے ذہنی غلاموں کو خوش کرنے کے لیے دینی مدارس کے خلاف جاری پراپیگنڈہ ختم کیاجائے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ کوئی مسلمان مساجد اور مدارس کی توہین برداشت نہیں کر سکتا ۔ دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا امریکہ اور مغرب کا ایجنڈا ہے کہ دنیا کو اسلام سے دو ر رکھا جائے ۔ 
    قاری حنیف جالندھری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پشاور کے کربناک سانحہ کی سب نے بلاتفریق مذمت کی ہے ۔ حکومت اس کے مجرموں اور ان کے سرپرستوں کو بے نقاب کرے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام مخالف قوتیں اس واقعہ کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہیں لیکن پاکستان کے اسلام پسند عوام ان کی سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت دینی مدارس کو اپنا حریف سمجھنے کی بجائے دوست سمجھے ۔ ہم پاکستان کے نظریے اور جغرافیہ کے محافظ اور چوکیدار ہیں۔ 
    اس موقع پر مفتی منیب الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ علمائے کرام کو اپنی دینی خدمات پر فخر ہے ۔ ہم میدان میں ہیں اور میدان میں رہیں گے ۔ ہمیں اسلام کی خدمت سے کوئی قوت نہیں روک سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ایکشن پلان کے لیے آئین میں جو ترمیم کرنا چاہتی ہے کرے مگر اس کی زد میں مدارس نہیں آنے چاہئیں ۔ ہم دہشتگردی میں مدارس اسلامیہ کو ملوث کرنے کی سازش کی مذمت کرتے ہیں اگر حکومت یا کسی ادارے کے پاس کسی مدرسہ کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن ، اکاﺅنٹس کھولنے کی سہولت اور دینی اداروں کو عصری تعلیم کے لیے سہولتیں دینے کے اپنے معاہدوں پر عمل نہیں کیا ۔ انہو ں نے کہاکہ حکمران ماضی میں کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کریں اور مدارس کو قوم کی خدمت اور اسلامی نظام حیات کے فروغ کے لیے اپنا فریضہ ادا کرنے دیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s