دہشت گردی بل سے مذہب کا لفظ نکال لیا جائے ۔سراج الحق

ہم کبھی بھی دہشت گردوں کے حامی تھے اور نہ ہیں البتہ پارلیمنٹ میں پاس کئے جانے والے دہشت گردی بل کی حمایت اس لئے نہیں  کرتے کہ اس بل کے ذریعے اسلام اور مدارس کے خلاف ایک پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور دہشت گردی کا سارا الزام مدارس میں پڑھنے والوں پر لگا دیا گیا ہے ، بل کا نام مذہبی دہشت گردی رکھ کر مسلمانوں کی دل آزاری کی جا رہی ہے،بل  سے لفظ ’’مذہب ‘‘نکال لیا جائے اس لئے کہ اسلام امن و استحکام کا دین ہے ۔ سراج الحق کا لوئر دیر میں سیرت النبی ؐ کانفرنس سے خطاب 

pic amir jip

پشاور 21جنوری 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم کبھی بھی دہشت گردوں کے حامی تھے اور نہ ہیں البتہ پارلیمنٹ میں پاس کئے جانے والے دہشت گردی بل کی حمایت اس لئے نہیں کرتے کہ اس بل کے ذریعے اسلام اور مدارس کے خلاف ایک پروپیگنڈا کیا جارہا ہے اور دہشت گردی کا سارا الزام مدارس میں پڑھنے والوں پر لگا دیا گیا ہے ، بل کا نام مذہبی دہشت گردی رکھ کر مسلمانوں کی دل آزاری کی جا رہی ہے،انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر بل کے نام سے لفظ ’’مذہب ‘‘نکال لیا جائے اس لئے کہ اسلام امن و استحکام کا دین ہے ۔ جماعت اسلامی ایک تحریک کا نام ہے،مسلمانوں کو قومیت ،فرقہ واریت اور زبان کے نام پر لڑایا جا رہا ہے،دھماکہ دہشت گردی دنیا کے کسی کونے میں ہوتباہی مسلمانوں پر مسلط کردی جاتی ہے،اسلامی ممالک کے علاوہ پوری دنیا میں امن ہی امن ہے، پارلیمنٹ میں پاس کئے جانے والے ملٹری کورٹس بل پر تحفظات ہیں،اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کی ضمانت ہے ۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے لوئر دیرجندول منڈا میں سیرت النبی ﷺ کانفرنس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
سراج الحق نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں اسلامی تحریک کا نام ہے ،دنیا میں امن ہی امن ہے مگر اسلامی ممالک کو فرقہ واریت ،زبان اور قومیت کے نام پر لڑایا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ نائن الیون دھماکہ امریکہ میں ہوا اور آگ وبارود عراق ،افغانستان اور پاکستان پربرسایا جا رہا ہے جس سے مسلمانوں کے بارے میںیہودی لابی کے عزائم واضح ہوتے ہیں، فلسطین، لیبیا ، شام سمیت 13اسلامی ممالک میں جاری جنگیں اور بد امنی اس منصوبہ کی ایک کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلامی فلاحی ریاست کے قیام کے بغیر پاکستان میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔
سراج الحق نے پیغمبراسلام ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے اخبا ر اور فرانسیسی حکومت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ فرانسیسی حکومت ہوش کے ناخن لے اور مسلمانوں کی دل آزاری سے باز آئے ۔نوجوانوں کو مخا طب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ایک منصوبے کے تحت علمائے دین،مدارس،طلبہ۔پگڑی اور جہاد کو بد نام کر کے مسلمانوں کو فحاشی ،عریانی،بے پردگی ،موسیقی ،ناچ گانے جیسی بے ہودگی میں مبتلا کر کے انگریزوں کی تہذیب کا شکار بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر قوم جماعت اسلامی پر اعتماد کا اظہار کر کے ووٹ دے تو پاکستان میں امن واستحکام،عدل وانصاف کا بول بالا ہوسکتاہے اور قوم کواسلامی حکومت ا ور وہ تمام سہولیات اور حقوق دیں گے جن سے آج تک انہیں محروم رکھا گیا ہے ۔انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ غلامان اوبامہ کو چھوڑ کر غلامان مصطفی ﷺکا ساتھ دیں اور امت کو جگانے،اسلام کے نور کو چارسو پھیلانے اوراسلامی پاکستان وخوشحال پاکستان کے حصول کیلئے 23 اور 25جنوری کے ملین مارچ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s