’’شان مصطفی ﷺ ملین مارچ ‘‘/سراج الحق اور دیگر کا خطاب

نبی ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔شان رسالت میں گستاخی کرنے والے دہشت گردوں کا آخری دم تک پیچھا کریں گے ،جب تک فرانس معافی نہ مانگے تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ جاری رہے گی ۔اقوام متحدہ حرمت انبیاء کا قانون بنائے ،امریکہ اگر صلیبی جنگ کا اعلان کر رہا ہے تو اوباماکو صلاح الدین ایوبی ؒ کو بھی یاد رکھنا چاہیے ،امت مسلمہ کا ایک ایک بچہ صلاح الدین ایوبی بننے کے لیے تیار ہے ۔’’شان مصطفی ﷺ ملین مارچ ‘‘/سراج الحق اور دیگر کا خطاب

Million March

کراچی 25جنوری2015ء
کراچی( ) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ نبی ﷺ سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے ۔شان رسالت میں گستاخی کرنے والے دہشت گردوں کا آخری دم تک پیچھا کریں گے ،جب تک فرانس معافی نہ مانگے تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ جاری رہے گی ۔اقوام متحدہ حرمت انبیاء کا قانون بنائے ،امریکہ اگر صلیبی جنگ کا اعلان کر رہا ہے تو اوباماکو صلاح الدین ایوبی ؒ کو بھی یاد رکھنا چاہیے ،امت مسلمہ کا ایک ایک بچہ صلاح الدین ایوبی بننے کے لیے تیار ہے ۔گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے معاملے میں حکومت نے سیاسی جماعتوں اور قوم کو یکجا نہیں کیا تو یہ کام جماعت اسلامی کرے گی ۔یہ معمولی واقعہ نہیں ہم اسے فراموش نہیں کر سکتے ،گلی گلی ناموس رسالت ﷺ کی تحریک چلے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی کراچی کے تحت نیپا چورنگی تا حسن اسکوائر تک منعقدہ شان مصطفی ملین مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ملین مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان اسد اللہ بھٹو ، جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ،پاکستان تحریک انصاف کے آفتاب جہانگیر ،مجلس شعائر اسلامی کے اظہر ہمدانی ،کراچی بار کے صدر نعیم قریشی ،شیعہ علماء کونسل کے علامہ ناظر عباس تقوی ، جمعیت علماء اسلام (ف)کے اسلم غوری ،جمعیت علمائے پاکستان قاضی احمد نورانی ،جمعیت علمائے اسلام(س) حافظ احمد علی ،پاکستان پیپلز پارٹی کے نجمی عالم اور دیگر نے خطاب کیا ۔اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما سلیم ضیاء کے علاوہ دیگر دینی ،مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی موجود تھے ۔ملین مارچ میں نظامت کے فرائض نائب امیر جماعت اسلامی کراچی اسامہ رضی نے انجام دیے ۔ملین مارچ میں لاکھوں مرد و خواتین ،بزرگ،بچے ،وکلاء ،تاجر ،صنعت کار اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی ۔ملین مارچ کے شرکاء میں مغرب کی گستاخانہ حرکت کے خلاف شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا ،ناموس رسالت ﷺ پر اپنی جان بھی قربان کرنے کا عزم کیا جاتا رہا،نیپا چورنگی سے حسن اسکوائر تک سر ہی سر تھے،ملین مارچ میں ہر طرف کلمہ طیبہ کے پر چم ہی پرچم تھے ،شرکاء نے اپنے ماتھے پر لبیک یا رسول اللہ کی پٹیاں باندھی ہوئی تھیں ۔ شرکاء نعرہ تکبیر اللہ اکبر ،سبیلنا سبیلنا الجہاد الجہاد،نامو س رسالت پر جان بھی قربان ہے ،گستاخ رسول کی سزا موت ہے موت ہے ،گستاخ اخبار کو بند کرو بند کرو ،کے نعرے لگا رہے تھے ۔سراج الحق نے کہا کہ توہین رسالت کے سانحے کے بعد میں نے نواز شریف سے اپیل کی کہ 18کروڑ عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے OICاجلاس بلائیں اور اقوام متحدہ سے رابطہ کریں لیکن انھوں نے OICکا اجلاس نہ بلایا تو پھر میں نے خود 18کروڑ عوام کی طرف سے عالم اسلام کی اسلامی تحریکوں سے رابطہ کیا اور کہا کہ اب ہمیں عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے احتجاج کرنا چا ہیے اس کے بعد ہم نے پاکستان میں ملین مارچ کا اعلان کیا اور عالم اسلام کے اندر بھی پُر زور احتجاج کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر پیرس میں شیطانی اور گستاخانہ عمل کے دفاع کے لیے لاکھوں افراد جمع ہو سکتے ہیں تو ناموس تحفظ مصطفی ﷺ کے لیے دنیا بھر سے کروڑوں مسلمان کیوں نہیں نکل سکتے ۔محبت رسول میں ایک بار مرنا نہیں بلکہ بار بار مرنا نصیب ہو جائے تو یہ زندگی کی معراج ہے ،حب رسول ﷺ زندگی کی متاع ہے ،امام مالک نے فرمایا تھا کہ اگر یہ امت شان مصطفی کا تحفظ نہ کر سکے تو اس امت کے وجود کا کوئی مقصد ہی نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم تما م انبیاء کی عزت و تکریم کرتے ہیں اور کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔حضور ﷺ نے محبت کا درس دیا قبیلوں کو شیر و شکر کیا حضو ﷺ سے محبت کرنا ہمارے عقیدہ ایمان کا لازمی حصہ ہے ،نبی ﷺ پر ہمارے ماں باپ اور زندگی اور سب کچھ قربان ہے اگرآپ ﷺکی شان میں گستاخی کی گئی ہے تو ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم آخری دم تک ان دہشت گردوں کا پیچھا کرتے رہیں گے جو ایک شیطانی اور گستاخی کے فعل کے مرتکب ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس گستاخی کے خلاف جمعیت کے نوجوانوں نے مظاہرہ کیا اور فرانس کے سفارت خانے میں یاد داشت پیش کرنے کی کوشش کی لیکن ان پرفائرنگ کی گئی لیکن حیرت ہے کہ لندن میں بیٹھے ہوئے لندن کے شہری نے مطالبہ کیا کہ جماعت اسلامی پر پابندی لگائے ہم کہتے ہیں کہ جب ہم امریکہ کے خلاف احتجاج کرتے ہیں تو ان کو کیوں پریشانی ہوتی ہے ؟آپ کیوں لندن میں بیٹھ کر مسلسل جماعت اسلامی کی کردار کشی کرتے رہتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں قومی اتفاق رائے ختم ہوجائے میں تمام جماعتوں اور سب سے اپیل کرتا ہوں کہ تحریک حرمت رسول میں شامل ہوجائیں ،گلی گلی کوچوں کوچوں میں اس تحریک کو آگے بڑھائیں ،یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فرانس معافی نہ مانگ لے اور اقوام متحدہ ایسا قانون نہ بنا لے کہ کسی بھی نبی کی شان میں گستاخی جرم قرار پائے ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے جس طرح سانحہ 16دسمبر کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلایا آج بھی فرض بنتا ہے کہ ناموس رسالت ﷺ کے مسئلے پر بھی وہ تما م جماعتوں کا اجلاس بلائیں اور مغرب کو پیغام دیں کہ امت مسلمہ کے عوام اور حکمران متحد و متفق ہیں ۔اگر وہ او آئی سی کا اجلاس بلالیں تو ہم سمجھیں گے کہ انہوں نے قیادت کا حق ادا کر دیا ہے لیکن اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو ہم سمجھیں گے کہ وہ مغرب کے ساتھ ہیں ،امریکہ اور اس کے حواریوں نے دنیا بھر کے امن کو تباہ کیا ہے اور بے شمار بے گناہوں کا خون بہایا ہے ملعون سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین نے جب توہین رسالت کی تو یورپ نے اس کو پناہ کیوں دی ؟انہوں نے کہا کہ مغرب خود اپنے کردار پر نظر ڈالے آخر وہ کیوں چاہتا ہے کہ صلیبی جنگ کا آغاز ہو جائے اگر وہ چاہتے ہیں کہ صلیبی جنگ شروع ہوجائے تو ہمارا ایک ایک بچہ صلاح الدین ایوبی ثابت ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ شان مصطفی ﷺ کا تقاضہ ہے کہ ملک میں نظام مصطفی نافذ کیا جائے اور اس ملک کو اسلامی پاکستان بنایا جائے اسی لیے ہم مینار پاکستان سے اسلامی اور خوشحال پاکستان کی تحریک شروع کی ہے افسوس ہے کہ 67سالوں میں ملک کے اندر اسلامی نظام نافذ نہ ہو سکا ۔انہوں نے کہا کہ کراچی عاشقان مصطفی ﷺ کا شہر ہے آپ کا آج کا ملین مارچ کو کامیا ب کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ شمع رسالت کے پروانے ہیں اور آپ نے فرانس سمیت تمام گستاخ رسول ﷺ اور شاتمین رسول کو پیغام دیا ہے کہ ہم ان کا پیچھا کریں گے اور انکے انجام تک جدو جہد جاری رکھیں گے ۔ اسد اللہ بھٹو نے کہاکہ عوام نے ملین مارچ میں بھرپور شرکت کر کے ثابت کردیا ہے کہ یہ شہر محمد ﷺ کے غلاموں کا شہر ہیں ،دہشت گرد مسلمان نہیں ،دہشت گرد امریکہ ،فرانس اور یورپ ہیں ،ہم امریکی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں ،جب پوپ گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرسکتا ہے تو اسلامی حکمرانوں نے کیوں چپ سادھ لے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک عام شخص کی توہین کا قانون موجود ہے تو کون سا قانون نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی اجازت دیتا ہے ، نواز شریف اب تک فرانس کی مذموم حرکت پر خاموش ہیں ،انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکہ اور فرانس کے سفیروں کو ملک بدر کیا جائے ، مغربی آقاؤں کے غلام بننے کے بجائے محمدﷺ کے غلام بننے کی ضرورت ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آج میں کراچی کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ یہ شہر غلامان مصطفی کا شہر ہے حرمت رسول کے تحفظ کے لیے اپنی جان بھی قربان کردیں گے،امریکہ کے غلام کہہ رہے تھے کہ اس مسئلے پر احتجاج نہیں کرو ،تمہیں کراچی کی عوام نے مسترد کردیا ہے اور کراچی کے عوام امریکہ کے غلاموں کو الوداع کہہ رہے ہیں ،کراچی کے عوام نے دامن مصطفی ﷺ تھام لیا ہے اور ہر قسم کی تفریق اور تعصب کو ختم کر دیا ہے ۔کراچی کی گلی گلی محلے محلے میں یہ تحریک چلے گی اور کراچی کے عوام مغرب کے چیلنج کو قبول کرتے ہیں ۔امریکہ مغربی تہذیب کا امام ہے ،امریکہ نے ہیرو شیما ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے تھے ،افغانستان کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے،ویت نام میں قتل عام کیا ہے ہم ایسی تہذیب کو قبول نہیں کرتے ۔انہوں نے کہاکہ عوام کے نمائندے سراج الحق ہیں ،امریکہ کے غلام اور مغرب کے حاشیہ بردار اس قوم کے نمائندے نہیں ہو سکتے ۔ #

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s