موجودہ سیاست سرمائے اور سرمایہ داروں کے تابع ہے ،قارون کے خزانے رکھنے والے ہی سیاست کرتے اور اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں

موجودہ سیاست سرمائے اور سرمایہ داروں کے تابع ہے ،قارون کے خزانے رکھنے والے ہی سیاست کرتے اور اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں دولت کی بنیاد پر میریٹ اور جمہوریت کو 68 سال سے یرغمال رکھا گیا ہے اب وقت آگیا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کیلئے موثر منصوبہ بندی کرے اگر اب سینیٹ انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن نے اپنی آنکھیں بند رکھیں تو پھر الیکشن کمیشن سے بھی عوام کا اعتماد اٹھ جائیگا۔سراج الحق

images (18)

لاہور28فروری2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ سیاست سرمائے اور سرمایہ داروں کے تابع ہے ،قارون کے خزانے رکھنے والے ہی سیاست کرتے اور اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں دولت کی بنیاد پر میریٹ اور جمہوریت کو 68 سال سے یرغمال رکھا گیا ہے اب وقت آگیا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کی روک تھام کیلئے موثر منصوبہ بندی کرے اگر اب سینیٹ انتخابات میں بھی الیکشن کمیشن نے اپنی آنکھیں بند رکھیں تو پھر الیکشن کمیشن سے بھی عوام کا اعتماد اٹھ جائیگا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی مرکزی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا سراج الحق نے کہا ہے کہ67سالہ سٹیٹسکو اور سرمائے کے تابع سیاست سے نجات کیلئے خواتین ،ہاری ،کسان جماعت اسلامی کے اسلامی پاکستان تحریک کا حصہ بن کر اپنا مؤثر کردار ادا کریں انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں غربت ،بے روز گاری ،مہنگائی اورجہالت کے خلاف جہاد کررہی ہے ،انہوں نے کہا کہ معاشرے میں موجود استحصالی قوتیں عوام کو آزاد ی کا حق دینے کیلئے تیار نہیں ، انہوں نے کہا کہ مخلوق خدا کا کنبہ ہے ،اس کنبہ کے ساتھ بھلائی اور اس کی فلاح کی فکر کرنا ہماری ذمہ داری ہے ،معاشرے کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی حکومت وقت کا اولین فرض ہوتا ہے مگر 67سالوں سے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ایسے لوگ بنے ہوئے ہیں جو عوام کو کچھ دینے کی بجائے ان کا سب کچھ چھین لینے کی پالیسی پر گامزن ہیں ،انہوں نے کہا کہ ملک پر مسلط انگریزوں کا پروردہ استحصالی طبقہ پاکستان کو ایک اسلامی اور خوشحال پاکستان بننے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ،انہوں نے کہا کہ سیاسی برہمنوں اور پنڈتوں نے ملک کی سیاست اور جمہوریت کو یرغمال اور تمام اختیارات اور وسائل پرقبضہ جما رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طبقہ اشرافیہ نے پاکستان کو اس کی حقیقی منزل اسلامی نظام سے دور کر رکھا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا دین ہمیں انسانوں سے محبت اور ان کی خدمت کا درس دیتا ہے ۔ سراج الحق نے کہا کہ ہمیں اپنی کمزوریوں پر قابو پاکرعوام الناس تک اپنے پیغام کو پورے اعتماد کے ساتھ پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ نبی مہربان حضرت محمد ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہم انسانیت کی فلاح پر مبنی آپﷺ کے لائے ہوئے نظام کو دنیا پر غالب کردیں ،انہو ں نے کہا کہ وہ وقت اب زیادہ دور نہیں جب پاکستان میں اسلامی انقلاب کا سورج طلوع ہوگا،انہوں نے کہا کہ خواتین کو آبادی کے 51فیصد حصے تک اپنی دعوت پہنچانے کیلئے ایسے منظم انداز میں کوشش کرنی چاہئے کہ کوئی گھر ایسا نہ رہے جہاں جماعت کی دعوت نہ پہنچی ہو۔سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی بہت جلد ملک میں خواتین کانفرنسز ،یوتھ کنونشنز اور کسان و مزدور ریلیوں کا انعقاد کرکے معاشرے کے تمام طبقات تک اپنی دعوت کو موثر انداز میں پہنچائے گی ۔انہوں نے کہا کہ 2015ء نوجوانوں کا سال ہے ،ملک بھر کے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد جماعت اسلامی کے ساتھ ہے ،نوجوان ہمارا مستبقل ہیں ،جماعت اسلامی نوجوانوں میں سیاسی شعور بیدا ر کرکے انہیں اسلامی تحریک کی جدوجہد کا ہراول دستہ بنائے گی ۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کے ذریعے تحریک کا حصہ بنانا ہماری ذمہ داری ہے ۔ جماعت اسلامی ملک میں اس نظام مصطفے ٰ ﷺ کے نفاذ کی جدوجہد کررہی ہے جس میں انسان انسان کا غلام نہ ہو،اسے آزادی اور انسانیت کے سارے حقوق حاصل ہوں ،جہاں کسی کا استحصال نہ ہو ، سراج الحق نے قومی سیاست میں جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے فعال کردار کو سراہتے ہوئے ملک میں نظام مصطفی ﷺ کیلئے ان کی جدوجہد کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ۔ 

Advertisements

شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے۔سراج الحق

لاہور27فروری2015ئ
 شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے ،الیکشن کمیشن لکیر کا فقیر بننے کی بجائے انتخابات کو شفاف بنانے کا طریقہ کار وضح کرے ،اگر نیت ٹھیک ہو تو بہت سے راستے نکل سکتے ہیں ۔بعض لوگ پیسوں کے بریف کیس لئے پھرتے ہیں تاکہ ممبران اسمبلی کے ضمیر کو خرید سکیں ۔5مارچ کا الیکشن ممبران اسمبلی سمیت وفاق اور اور الیکش کمیشن کا بھی امتحان ہے۔سراج الحق  

669279-siraj-1391925802-953-640x480

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ شفاف الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کی بنیادی ذمہ داری ہے ،الیکشن کمیشن لکیر کا فقیر بننے کی بجائے انتخابات کو شفاف بنانے کا طریقہ کار وضح کرے ،اگر نیت ٹھیک ہو تو بہت سے راستے نکل سکتے ہیں ۔بعض لوگ پیسوں کے بریف کیس لئے پھرتے ہیں تاکہ ممبران اسمبلی کے ضمیر کو خرید سکیں ۔5مارچ کا الیکشن ممبران اسمبلی سمیت وفاق اور اور الیکش کمیشن کا بھی امتحان ہے ،ماضی میں جن لوگوں کو انتخابات کے حوالے سے شکوک وشبہات تھے وہ بھی اپنے جیبوں اور بریف کیسوں میں رقوم لیکر امیدواروں کے گھروں کا طواف کررہے ہیں ،تمام اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ سینیٹ الیکشن کے حوالے سے مشاور ت ہوئی ہے تاکہ سینیٹ انتخابات میں پیسے کے عمل دخل کو روکا جاسکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں مسجد مہابت خان میں جمعہ کے اجتماع اور بعد ازاں صوبائی اسمبلی میں خطاب اور میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
    سراج الحق نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات جیسے جیسے قریب آرہے ہیں سوداگروں اور سرمایہ داروں کی سرگرمیوں میں بھی تیزی آرہی ہے ،انہوں نے کہا کہ جو لوگ دولت کے بل بوتے پر ایوان کے تقدس کو پامال کرنا چاہتے ہیں ان کاراستہ روکنے کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کی ہے ،ایسے لوگوں کو انتخابات میں شرکت کا موقع نہیں ملنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کے ارادے ٹھیک نہیں ،وہ اراکین اسمبلی کو منڈی کا مال سمجھتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے ،امید ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی ایسے افراد کا راستہ روکنے کی کوشش کریں گی جن کا مقصد سیاست نہیں تجارت ہے ۔انہوں نے کہا کہ خفیہ رائے شماری میں ووٹ بیچے اور خریدے جاتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ سینیٹ کا انتخاب اراکین اسمبلی کیلئے ایک امتحان ہے ،دیکھنا یہ ہے کہ اس امتحان میں کتنے لوگ خود کوانمول بناتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ پیسے کے بل بوتے پر ایوان میں پہنچنا چاہتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ ہارس ٹریڈنگ کی روک تھا م کیلئے موثر اقدامات ہونے چاہئیں ،سیاسی جماعتیں طے کریں کہ وہ آئندہ کسی بھی انتخاب میں کسی ایسے شخص کو اپنا امید وار نامزد نہیں کریں گی جو آئین کی دفعہ 62-63پر پورا نہ اترتا ہو ۔انہوں نے کہا کہ ہماری تمام جمہوریت پسند جماعتوں سے اپیل ہے کہ وہ ایک کمزور جمہوریت کو دھبہ لگانے کے خلاف دیوار بن جائیں اگر ایک کمزور جمہوریت کو دھبہ لگ گیا تو پھر ہم کبھی نہیں سنبھل سکیں گے ،انہوں نے کہا کہ موجودہ انتخابی طریقہ کارکی تبدیلی کیلئے کوئی مﺅثر طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ اگر کوئی ضمیر فروخت کرنا چاہے تو اسکا راستہ روکا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کو شفاف بنانے کیلئے الیکشن کمیشن جو بھی تجویز دے گا کوئی سیاسی جماعت اس کی مخالفت نہیں کریگی۔

خواجہ سعد رفیق اور سید زعیم قادری پر مشتمل مسلم لیگ ن کے وفد نے منصورہ میں قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے ملاقات

خواجہ سعد رفیق کی منصورہ میں لیاقت بلوچ سے ملاقات
میڈیا سے گفتگو
pic ji- pml leaders
لاہور 26فروری 2015ئ
خواجہ سعد رفیق اور سید زعیم قادری پر مشتمل مسلم لیگ ن کے وفد نے منصورہ میں قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں نائب امیر جماعت اسلامی حافظ محمد ادریس     ،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، نذیر احمد جنجوعہ ، امیر العظیم اور اظہراقبال حسن بھی موجود تھے ۔ ملاقا ت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ ہمیں وزیراعظم نے خصوصی طور پر منصورہ بھیجا ہے تاکہ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی بولی لگانے والوں کی مذموم کوششوں کو روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا تہیہ کر رکھاہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ بیلٹ کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ ہو تاکہ اس خرابی کو دور کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ جو ممبران پارلیمنٹ اپنی جماعتوں کی پالیسی کے خلاف چلتے ہیں ان کا بھی پتہ چلایا جاسکتاہے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ وزیراعظم چند دن بعد تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو مدعو کریں گے اور اس مسئلہ کے مستقل حل کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بائیسویں ترمیم کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کے تمام راستے بند کردیناچاہتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ ملک میں ایکشن پلان دہشتگردی کو روکنے کے لیے ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداے یا پولیس کے کچھ اہلکار اگر اس کی آڑ میں دینی طبقات کو ہراساں کررہے ہیں تو انہیں پکڑا جائے گا اور ان کی سخت باز پرس ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں ۔ کے پی کے میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی اتحادی حکومت ہے ۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائم امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں انتخابی نظام کو شفاف بنانے کی ہر کوشش کاساتھ دے گی ۔ کسی بھی نوعیت کی ہارس ٹریڈنگ جو جمہوریت کے لیے بدنامی کا باعث ہو اسے ختم ہوناچاہیے ۔ اگر 2013 ءکے انتخابات کی طرح سینٹ کا الیکشن بھی متنازعہ ہوگیا ، تو پارلیمانی نظام کے لیے خطرناک ہوگا اور انتخابات پر کسی کو اعتماد نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر کسی کو اعتراض نہیں ، یہ ایکشن پلان دہشتگردی کے خاتمہ اور دہشتگردوں کو پکڑنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن پولیس کو دیئے گئے اختیارات کا ناجائزہ استعمال کیا جارہاہے اور اس ایکشن پلان کو دینی طبقے کو ٹارگٹ کرنے کا ذریعہ سمجھ لیاگیاہے ۔ انہوں نے مساجد و مدارس پر چھاپے مارے جانے اور علماءکرام کو ہراساں کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو فوری طور پر اس پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور جو لوگ ملک میں اس کی آڑ میں اسلام کو بدنام کررہے ہیں ، ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جاناچاہیے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت علما کی نظر بندیوں کے احکامات پر نظر ثانی کرے گی ۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ انتخابی نظام کو شفاف بنانے کے لیے آئین کی دفعہ 62-63 پر عمل ہوناچاہیے ۔ اصل کام سیاسی جماعتوں کا ہے کہ وہ ایسے قابل بھروسہ افراد کو ٹکٹ دیں جو اپنے ضمیر کا سودا کر نے والے اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے نہ ہوں ۔

سراج الحق کا جدہ میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب

۔سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری پاکستان میں اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لیے خود بھی اور پاکستان میں موجود اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے ذریعے بھی جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔سراج الحق کا جدہ میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب

669279-siraj-1391925802-953-640x480
لاہور 26فروری 2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق سعودی عرب کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے ہیں ۔ اسلام آباد روانگی سے قبل جدہ میں پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی شہری پاکستان میں اسلامی نظام حکومت کے قیام کے لیے خود بھی اور پاکستان میں موجود اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کے ذریعے بھی جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ جماعت اسلامی ملک میںاسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ اسلامی پاکستان ، خوشحال پاکستان ہی ہمارا ایجنڈا ہے۔ جب تک پاکستان کو اس کے نظریہ اور مقصد قیام سے ہم آہنگ نہیں کیا جائے گا ، ملک میں ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق سراج الحق نے کہاکہ جمہوریت کے نام پر ملک میں سیاسی دنگل ہورہاہے ۔ سیاست اور جمہوریت سرمایہ داروں ، جاگیرداروں اور وڈیروں کا کھیل بن گیاہے ، کوئی غریب رکن اسمبلی بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں سینٹ کے انتخابات ہونے جارہے ہیں مگر ہر طرف ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت اور ہارس ٹریڈنگ کی خبریں ہیں ، دولت کے بل بوتے پر ملک کے ایوان بالا کا رکن منتخب ہونے کے لیے لوگ کروڑوں روپے خرچ کر کے ووٹ خرید نے کے لیے سرگرم ہیں۔
سراج الحق نے کہاکہ اگر سینیٹ کے الیکشن کو ہارس ٹریڈنگ اور دولت کا کھیل بنادیا گیا تو ملک کے اعلیٰ ترین آئین ساز ادارے کا تقدس قائم نہیں رہ سکے گا ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اوورسیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دلا نے کے لیے ہر سطح پر آواز اٹھائے گی ۔ سعودی عرب سمیت عرب ریاستوں ، خلیج اور دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں جو پاکستان کو ایک باوقار اور خوشحال ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں ۔

لیاقت بلوچ کی صدارت میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے المرکز الاسلامی پشاور میں اہم اجلاس

سینیٹ انتخابات کے حوالے سے قائمقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی صدارت میں جماعت اسلامی کے صوبائی پارلیمانی بورڈ کا اجلاس

liaqat baloch 25 feb
سینیٹ انتخابات کے حوالے سے قائمقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی صدارت میں جماعت اسلامی کے صوبائی پارلیمانی بورڈ کا اجلاس ،صوبائی سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان ،نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم اور ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان محمد اصغر اور جماعت اسلامی کے ممبران اسمبلی کی شرکت۔المرکز الاسلامی پشاور میں سینیٹ کے انتخابا ت کے حوالے سے جماعت اسلامی کے صوبائی پارلیمانی بورڈ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت قائمقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ منعقد ہوا اجلاس میں جماعت اسلامی کے ممبران سوبائی اسمبلی کے علاوہ سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ ،وزیر خزانہ مظفرسید ،وزیر اوقاف حاجی حبیب الرحمان نے شرکت کی اس موقع پر سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے لیاقت بلوچ کو سینیٹ کے انتخابا ت کے حوالے سے بریفنگ دی اس موقع پر جماعت اسلامی کے پارلیمانی بورڈ کے ممبران نے سینیٹ انتخابات کے حوالے سے لائحہ عمل طے کیا اور مشاورت کی۔

سراج الحق کی سابق سوڈانی صدراورسعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ سے ملاقاتیں

سراج الحق نے مدینہ منورہ میں سابق سوڈانی صدر عبدالرحمن سوار الذہب اور سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ سے ملاقات کی

pic amir jip -1
لاہور25فروری2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے مدینہ منورہ میں سابق سوڈانی صدر عبدالرحمن سوار الذہب اور سعودی عرب کے مفتی اعظم عبدالعزیز آل الشیخ سے ملاقات کی ۔ملاقات میں عبدالرشید ترابی اور عبدالغفار عزیز بھی موجود تھے ۔

۔۔سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کا استعمال سیاسی دہشتگردی ہے ۔سراج الحق کا مدینہ منورہ میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب

۔سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کا استعمال سیاسی دہشتگردی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس سیاسی دہشتگردی کے خلاف متحد ہوجاناچاہیے ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی قیمتی سرمایہ ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے فکر مندی وطن سے محبت کی علامت ہے سراج الحق کا مدینہ منورہ میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے دیئے گئے استقبالیہ سے خطاب

pic jip amir

لاہور25فروری2015    
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہاہے کہ سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کا استعمال سیاسی دہشتگردی ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو اس سیاسی دہشتگردی کے خلاف متحد ہوجاناچاہیے ۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی قیمتی سرمایہ ہیں۔ اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے فکر مندی وطن سے محبت کی علامت ہے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے مدینہ منورہ میں پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے اپنے اعزاز میںدیے گئے استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    سراج الحق نے کہاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنی شب و روز محنت سے کثیر زرمبادلہ کما کر پاکستان بھیج رہے ہیں جو ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے ،انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دے ،انہوں نے کہا کہ دنیا کے بیشتر ممالک نے بیرونی ممالک میں رہائش پذیر شہریوں کو ووٹ کاحق دے رکھا ہے مگر حکومت پاکستان پتہ نہیں کیوں یہ حق دینے میں لیت و لعل کر رہی ہے۔انہوں نے وزارت خارجہ اور سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ملک کے شہریوں کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کی طرف توجہ دے اور اس سلسلہ میں پاکستانیوں کی بہتر اور بھرپور انداز میں رہنمائی کی ذمہ داری کو پورا کیا جائے ۔اس موقع پر جماعت اسلامی پاکستان کے ڈائریکٹر امور خارجہ عبدالغفار عزیز بھی موجودتھے ۔
    واضح رہے کہ سراج الحق نے رابطة عالم اسلامی کی دعوت پر مکہ مکرمہ میں منعقدہ اسلامی کانفرنس میں شرکت کی اور عمرہ ادا کیا اور روضہ ¿ رسول پر حاضری دی ۔

Pakistanies in Saudi Arabia are ambassadors of Pakistan.SIRAJ

Pakistanis in Saudi Arabia are ambassadors of Pakistan..SIRAJ

pic sirajul haq (1)

Pakistanis in Saudi Arabia are ambassadors of Pakistan

LAHORE, Feb. 24: Ameer, Jamaat e Islami Pakistan, Sirajul Haq, has said that the Pakistanis working in Saudi Arabia were the country’s ambassadors in the holy land and they should strive to raise the image of Pakistan through their conduct. He was speaking at a reception hosted in his honour by the Pakistani community in Holy Makkah during his current visit there.

             Sirajul Haq said that Saudi Arabia and Pakistan were linked together through the eternal bond of Islam which prompted believers to sacrifice their all for their brethren in faith and give them preference in all respects.

He stressed upon the Pakistani community to pay full respect and honour to the laws of Saudi Arabia.  He thanked the Saudi government, especially Khadame Haramain Sharifain Sultan Salman bin Abdul Aziz, for expressing deep love and affection for the Pakistani citizens in the holy land and said that they were enjoying special facilities in all walks of life.

            The JI chief said that cooperation between the Muslim countries especially common education syllabi, common economic market and reforms in the media were the dire needs of the time.

            The JI chief urged the Pakistanis in Saudi Arabia to make special prayers for the end of terrorism in the Pakistan, for the progress and stability in the country and for the enforcement of the Islamic system. He was confident that Pakistan would soon become a land of peace and would also play a leading role in establishment of peace all over the world.

            Sirajul Haq said that the Pakistani citizens working abroad were also playing important role in the building and development of the country and they must get the right to vote in the elections in the country.  He said the JI would make its best efforts in this direction.

            However, he deplored that the country’s parliamentary institutions had become trading centers. He said the masses should reject for all times, the assembly members who proved to be saleable commodity. He said they should also play meaningful role for reforms in their own country.

سراج الحق کا مکہ مکرمہ میں پاکستانی کمیونٹی کی استقبالیہ تقریب سے خطاب

سعودی عرب میں روزگار کیلئے آئے ہوئے پاکستانی شہری پاکستان کے سفیر ہیں،وہ یہاں بھی اپنے کردار کے ذریعے ملک کا نام روشن کریں اور ملک میں بھی اصلاح قیادت کی کوششوں کا فعال حصہ بنیں۔سراج الحق کا مکہ مکرمہ میں پاکستانی کمیونٹی کی استقبالیہ تقریب سے خطاب

pic sirajul haq (1)

لاہور24فروری2015ئ     
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے مکہ المکرمہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب میں روزگار کیلئے آئے ہوئے پاکستانی شہری پاکستان کے سفیر ہیں،وہ یہاں بھی اپنے کردار کے ذریعے ملک کا نام روشن کریں اور ملک میں بھی اصلاح قیادت کی کوششوں کا فعال حصہ بنیں۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کی تعمیر و ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں انہیں بیرون ممالک میں رہتے ہوئے ووٹ ڈالنے کا حق ملنا چاہیے۔ جماعت اسلامی اس ضمن میں بھرپور سعی کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پارلیمانی ادارے خرید و فروخت کی منڈیاں بن گئے ہیں عوام کو بکاو ¿ مال بن جانے والے ارکان کو ہمیشہ کے لئے مسترد کردینا چاہیے۔
     جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق سراج الحق نے کہاکہ پاکستان اور سعودی عرب اسلام کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے دو اسلامی ملک ہیں ۔اسلام کا لافانی رشتہ ہمیں ایک دوسرے کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے اور اپنی ذات پر اپنے بھائی کو ترجیح دینے پر آمادہ کرتا ہے ۔ سراج الحق نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کے بعد پاکستان وہ اکلوتا ملک ہے جو لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہوا۔ اپنا وعدہ پورا نہ کرنے کے باعث ہمیں اسلامی ریاست کی برکات حاصل نہیں ہوسکیں۔ سراج الحق نے پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ سعودی حکومت کے قانون کا مکمل احترام اور پابندی کریں اور اسے ہر چیز پر مقدم رکھتے ہوئے پاکستان کے وقار کو بلند کریں ،انہوں نے سعودی حکومت اور خاص طور پر خادم حرمین شریفین سلطان سلمان بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے پاکستانی شہریوں کیلئے خصوصی محبت اور شفقت کا اظہار کیا ہے اور انہیں ہر شعبہ زندگی میں خصوصی مراعات حاصل ہیں ۔انہوں نے حرمین شریفین میں مقیم پاکستانی شہریوں کو ہدائت کی کہ وہ حرم کعبہ اور مسجد نبوی ﷺ میں اپنے لئے دعاﺅں کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ترقی و خوشحالی ،امن و امان ،دہشت گردی سے نجات اور ملک میں نظام مصطفٰے ﷺ کی نفاذ کیلئے خصوصی دعائیں کریں ۔انہوں نے کہا کہ ان شاءاللہ وہ وقت بہت قریب ہے جب پاکستان نہ صرف امن کا گہوارہ بنے گا بلکہ دنیا بھر میں قیام امن کیلئے اپنا قائدانہ کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ مسلم ممالک کے مابین ہمہ پہلو تعاون، مشترک اور تعمیری تعلیمی نصاب ، مشترک اقتصادی منڈیاں اور اصلاحی ذرائع ابلاغ کی ترویج وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک کے روشن مستقبل کی امید ہے۔

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بدترین دہشت گردی ہے۔ سراج الحق

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بدترین دہشت گردی ہے۔ عالم اسلام بیک آواز ہوکر ہی اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کا مکہ مکرمہ میں منعقدہ بین الاقوامی اسلامی کانفرنس سے خطاب

 IMG_1928  
لاہور23فروری2015ئ
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے مکہ مکرمہ میں منعقدہ بین الاقوامی اسلامی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی بدترین دہشت گردی ہے۔ عالم اسلام بیک آواز ہوکر ہی اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کی پیروی کر کے ہی دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی جاسکتی ہے انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایسی کسی جسارت کا راستہ روکنے کےلئے تمام مسلمان حکمرانوں کو مشترکہ اور سنجیدہ کوششیں کرنا ہوں گی۔
    جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق سراج الحق نے کہاکہ کشمیر اور فلسطین امت مسلمہ کے اجتماعی مسائل ہیں ۔ فلسطین اور کشمیر میں دو کروڑ سے زائد مسلمان یہود و ہنود کے ظالمانہ قبضے میں ہیں ۔ نصف صدی سے زائد عرصہ سے ان مسلم علاقوں کو اسلحہ کے زور پر غلام بنایا گیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ عالم اسلام ان اجتماعی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنائے تاکہ کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں کو اسرائیل اور بھارت کی غلامی سے نجات دلائی جاسکے ۔انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش میں اسلامی تحریک کے قائدین پر حسینہ واجد کے حکومتی مظالم حد سے بڑھ چکے ہیں مسلم حکمرانوں کو ان مظالم کے خلاف بھی آواز بلند کرنا اور حسینہ واجد حکومت کے مظالم کے سد باب کے لیے ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔