بھارت پاکستانی دریاﺅں پر بند باندھ کرپاکستان کو نجربنانے کیلئے آبی دہشتگردی کررہا ہے مگر حکمران مودی کی خوشامد میں لگے ہوئے ۔سراج الحق

زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بھارت پاکستانی دریاﺅں پر بند باندھ کرپاکستان کو نجربنانے کیلئے آبی دہشتگردی کررہا ہے مگر حکمران مودی کی خوشامد میں لگے ہوئے ۔سراج الحق کا خیر پور ٹامے والی میں کسان کنونشن سے خطاب میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو 

10568947_862293773816923_4209340238620986864_n
لاہور 3فروری 2015ئ
    امیرجماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ زراعت پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی ہے جس کو توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بھارت پاکستانی دریاﺅں پر بند باندھ کرپاکستان کو بنجربنانے کیلئے آبی دہشتگردی کررہا ہے مگر حکمران مودی کی خوشامد میں لگے ہوئے ہیں ۔چولستان اور تھر کی لاکھوں ایکٹر بنجر اراضی ہاریوںا ور کسانوں میں تقسیم کی جائے ۔ملکی آبادی کا 68فیصد زراعت سے منسلک ہے مگر ملک پر قابض اشرافیہ نے کسانوں اور ہاریوں کی زندگی اجیرن کررکھی ہے ۔کاشتکاروں کوکھاد ،بیج ،زرعی ادویات اور مشینری کی قیمتوں پر سبسڈی ملنی چاہئے۔ کسانوں کو سرکاری سرپرستی میں لوٹا جارہا ہے ۔اگر کسانوں کے مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو میں ہزاروں کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اسلام آبادتک مارچ کروں گا۔چوروں اور لٹیروں سے نجات کیلئے آئندہ انتخابات میں کسان جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیر پور ٹامیوالی میں کسان کنونشن سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ہوئے کیا ۔کسان کنونشن سے امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر ، صادق خان خاکوانی اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔قبل ازیں خیر پور ٹامے والی پہنچنے پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں اونٹ پر سوار کرکے جلسہ گاہ پہنچایا گیا۔
    سراج الحق نے کہاکہ پاکستان پر مسلط اشرافیہ نے عوام کو زندہ درگور کر رکھا ہے ،کسان اور مزدورسب سے زیادہ مظلوم طبقہ ہے جن کی زندگی سے سکون چھین لیا گیا ہے ،کسان سار اسال محنت کرتا ہے مگر اس کی محنت کا پھل جاگیردار اور سرمایہ دار کھاتے ہیں اور کسان کے بچے بھوکے پیٹ سوتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ جب تک اس ظالمانہ نظام کو لپیٹ کر ملک میں قرآن و سنت کے عادلانہ نظام کا نفاذ نہیںکیا جاتا ،ترقی و خوشحالی خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا ۔ایک طرف ظالم وڈیرے ہیں جنہیں اپنی جاگیروں کی حدود کا علم نہیں اور دوسری طرف وہ ہاری اور مزارعے ہیں جن کی کئی پشتیں ان وڈیروں کی غلامی کرتے گزر گئی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام وسائل اور اداروں کوحکمرانوں نے یرغمال بنا رکھا ہے ،اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے جاگیردارملک میں زراعت کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں انہوں نے کہا کہ یہ ظالم جاگیر دار جاگیریں تقسیم ہونے کے خوف سے اپنی بیٹیوں کو بھی ان کے حقوق نہیں دیتے اور بچیوں کی قرآن سے شادیاں کروادیتے ہیں ،سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر بڑی بڑی جاگیریں بحق سرکار ضبط کرکے انہیں غریب کسانوں میں تقسیم کردے گی۔انہوں نے کہا کہ ان ظالم وڈیروں اور جاگیر داروں نے انگریز سے وفاداری اور قوم سے بے وفائی اور غداری کے صلے میں یہ جاگیریں حاصل کی تھیں۔
    سراج الحق نے کہا کہ تمام مسائل کا واحد حل ملک میں نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ میں ہے ۔آج تک جتنے نظام آزمائے گئے ہیں انہوں نے ملک و ملت کو مسائل اور بحرانوں سے دوچار کیا ۔پاکستان جس کے پاس سونا اگلنے والی زرخیز زمین اور محنت کرنے والے کسان ہیں وہ نااہل اور کسان دشمن قیادت کی وجہ سے آلو پیاز تک بیرون ملک سے درآمد کرنے پر مجبور ہے ۔
    بعدازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کروز میزائل ”رعد“ کے کامیاب تجربے پر پوری قوم کومبارکباد دی ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ حکمرانوں کو احسا س کرنا چاہیے کہ عوام غربت و مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اگر غریب مزدور کسان اٹھ کھڑے ہوئے تو ان کے محلات باقی رہیں گے اور نہ اقتدار قائم نہیں رہے گا ۔ ۔ ہم عوامی اور کسان مزدور راج چاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دہشتگردی ملک میں نہیں تھی بلکہ یہ ڈالروں کے عوض درآمد کی گئی ہے ۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت دہشتگردی سے نہ صرف انسانوں کا قتل ہوا ہے بلکہ سیاسی معاشی سماجی قتل بھی کیا ہے ۔ اگر حکومت یکسو ہو اور نیت سے اس کو ختم کرنا چاہے تو پوری قوم اس کا ساتھ دے گی ۔ قوم دہشتگردی کا خاتمہ اور امن چاہتی ہے لیکن بدقسمتی سے حکومت نے 21 ترمیم میں قوم کو تقسیم کر نے کی کوشش کی ہے ۔ حکومت سنجیدہ رویہ اپنائے اور ہم نے جو ترمیم پیش کی ہے اس کو منظور کرے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم دہشتگردی کے خلاف ہیں خواہ وہ دینی مدارس کے طلبہ کریں یا تعلیمی اداروں کے طلبہ اور قوم پرست کریں ، ہم ہر قسم کی دہشتگردی کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ 30 لاکھ طلبہ مدارس میں زیر تعلیم ہیں ۔ قوم یہ نہیں چاہتی کہ ان کے دین پر کوئی آنچ آئے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے اندر احتساب موجود ہے ۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں ہمارے ارکان رہے ہیں کسی پر کرپشن ، لوٹ مار کا الزام نہیں ہے اس کا مخالفین بھی اعتراف کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ صرف جماعت اسلامی ہے جس میں دیانت و امانت ہے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ ہماری خواہش ہے کہ حکومت اور عمران خان کے درمیان سنجیدہ مذاکرات ہوں اور حکومت جوڈیشل کمیشن جلد قائم کر ے، جتنی تاخیر کی جائے گی اتنا ہی حکومت کے لیے نقصان دہ ہوگا ۔ ہم نے جرگے کے ذریعے آئین اور جمہوریت کو بچانے اور مارشل لاءکا راستہ روکنے کی کوشش کی تھی جو کامیاب رہی ۔
   

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s