دوسوساٹھ انسانوں کو زندہ جلانے سے بڑھ کر دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوسکتا۔سراج الحق

حکومت نے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کی جے آئی ٹی رپورٹ پرکان نہ دھرے تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حکمران دہشت گردی کو اسلام اور دینی مدارس کے ساتھ جوڑنے پر مصر ہیں ۔260انسانوں کو زندہ جلانے سے بڑھ کر دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوسکتا۔ سراج الحق

20150210_151604

لاہور12فروری 2015
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت نے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن کی جے آئی ٹی رپورٹ پرکان نہ دھرے تو عوام یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوں گے کہ حکمران دہشت گردی کو اسلام اور دینی مدارس کے ساتھ جوڑنے پر مصر ہیں ۔260انسانوں کو زندہ جلانے سے بڑھ کر دہشت گردی کا کوئی واقعہ نہیں ہوسکتا۔سانحہ پشاور کے بعد پوری قوم نے حکومت کو دہشت گردی کے خاتمہ کا مینڈیڈیٹ دیا تھا ۔سانحہ بلدیہ ٹاﺅن حکمرانوں کیلئے ایک ٹیسٹ کیس بن چکا ہے ۔سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی نے بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے ایک لسانی تنظیم جس کے تانے بانے اس واقعہ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اسے حکومت میں شامل کر کے اسے شیلٹرفراہم کیا جارہاہے ۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اپنے شہریوں کو جان و مال کا تحفظ فراہم کرے ۔ صدیوں سے چلنے والے مدارس پر ایسے الزامات برطانوی دور میں بھی نہیں لگے جو موجودہ حکمران لگا رہے ہیں ۔جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل منصورہ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاورمیں مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
    سراج الحق نے کہا کہ پشاور سانحہ کے بعد دہشت گردی کے خلاف قوم میں پیدا ہونے والی یکجہتی اور اتحاد کو حکمران اپنی غیر سنجیدگی اور اقتدار کی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں ،سانحہ پشاور درندگی اور حیوانیت کی بدترین مثال تھا جس نے قوم کو متحدکردیا تھااور امید بندھی تھی کہ ملک سے دہشتگردی کے خاتمہ اور امن و امان کے قیام کی راہ میں اب کوئی رکاوٹ حائل نہیں رہے گی مگر حکومت نے مذہب اور مدارس کو دہشت گردی سے جوڑ کر اتحاد کی اس فضا کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا اورملک میں مختلف بنیادوں پر قتل و غارت گری کا کھیل کھیلنے والوں کو کھلی چھوٹ دیدی گئی۔انہوں نے کہا کہ سانحہ بلدیہ ٹاﺅن سے بڑھ کر دہشت گردی کیا ہوسکتی ہے جس میں اڑھائی سو سے زائد غریب مزدوروں اور محنت کشوں کو زندہ جلا دیا گیا اور سینکڑوں گھرانوں سے ان کے سہارے چھین لئے گئے ۔جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کی رپورٹ کے بعد حکومت کو اس پر فوری کاروائی کرنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کو سیاست کی نذر کیا تو ملک سے دہشت گردی کے خاتمہ کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر جے آئی ٹی رپورٹ پر اپنا موقف واضح کرے ۔
    سراج الحق نے کہا کہ برصغیر میں گزشتہ کئی صدیوں سے مساجد کے ساتھ دینی مدارس کا سلسلہ چلا آرہا ہے ۔یہ مدارس بچوں اور بچیوں کی دینی تعلیم کے مراکز کے ساتھ ساتھ اسلام کی دعوت و تبلیغ کا بھی ذریعہ ہیں ،اپنی مدد آپ اور اہل خیر کے تعاون سے چلنے والے ان مدارس نے ہزاروں علمائے کرام ،فقہاءاور نامور محدثین پیدا کیے جنہوں نے حصول علم کے بعد اسلام کی روشنی کو چہار دانگ عالم پھیلانے میںنمایاں کردار ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تیس لاکھ طلباءاور طالبات مدارس میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ،حکومت کی طرف سے ان اداروں کی سرپرستی کی جاتی ہے نہ تعلیمی بجٹ میں ان کا کوئی حصہ رکھا جاتا ہے ۔
    سراج الحق نے ملک میں جگہ جگہ افغان مہاجروں کی پکڑ دھکڑپردکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہمارے برادرانہ تعلقات ہیں ،ہم اسلامی اخوت کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں ،افغان مہاجرین گزشتہ چالیس سال سے یہاں مقیم ہیں اور اپنے کاروبار اور محنت مزدوری کررہے ہیں ،پاکستانی قوم نے انہیں مہمانوں کی طرح رکھا ہے ، افغانستان سے اچھے تعلقات کیلئے ضروری ہے کہ افغان مہاجرین کے ساتھ اچھا اور بھائیوں والا سلوک جاری رکھا جائے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s