ریاست کے اہم ترین اداروں نےسانحہ بلدیہ ٹاؤنکےمعاملے میں ایم کیو ایم کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔سراج الحق

جے آئی ٹی رپورٹ میں اشارہ نہیں بلکہ ایم کیو کا براہ راست نام لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ کسی سیاسی جماعت کی نہیں ریاست کی انتہائی ذمہ دار ترین اداروں نے عدالت میں جمع کرائی ہے۔آئی ایس پی آر کے ترجمان نے وضاحت کے ساتھ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی رپورٹ میں خواتین ، بچوں اور دیگر مزدوروں کی شہادت اور فیکٹری کے مالک سے پندرہ کروڑ روپے بھتے کے مطالبے کا ذکر کیا ہے اور اس معاملے میں ایم کیو ایم کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔سراج الحق

000

۱۳؍فروری ۲۱۰۵ ء
پشاور ( )امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں اشارہ نہیں بلکہ ایم کیو کا براہ راست نام لیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ کسی سیاسی جماعت کی نہیں ریاست کی انتہائی ذمہ دار ترین اداروں نے عدالت میں جمع کرائی ہے۔آئی ایس پی آر کے ترجمان نے وضاحت کے ساتھ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی رپورٹ میں خواتین ، بچوں اور دیگر مزدوروں کی شہادت اور فیکٹری کے مالک سے پندرہ کروڑ روپے بھتے کے مطالبے کا ذکر کیا ہے اور اس معاملے میں ایم کیو ایم کو ذمہ دار قرار دیا ہے۔ رپورٹ آنے کے بعد قوم کی نظریں حکومت اور عدالتوں کی طرف ہیں کہ وہ مظلوموں اور شہداء کے ورثاء کو انصاف فراہم کرسکتے ہیں یا نہیں۔ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اٹھارہ کروڑ عوام کی نظریں اسلام آباد کے انصاف کی طرف ہیں۔ الطاف حسین عمران خان سے معافی مانگنے کی طرح بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے شہداء کے وارثین سے بھی معافی مانگے۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی طرح سانحہ پشاورکی بھی تحقیقات کی جائیں۔ حیرت ہے سندھ حکومت نے مزدوروں کا ساتھ دینے کے بجائے ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ الیکشن کمشنر وضاحت کرے کہ سنینٹ انتخابات میں پیسے کے استعمال کو روکنے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انتخابات کے لئے صاف ستھرا اور شفاف نظام بنانا اور پیسے کے استعمال کا تدارک کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔افسوس ہے کہ انسانی حقوق کے چیمپئین ہونے کے دعویدار ملک کے صدر نے امریکہ میں تین مسلمانوں کی شہادت کی کوئی مذمت نہیں کی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ کے انتخابات کے لئے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد میڈیا نمائندوں سے گفتگو اور بعد ازاں جامع مسجد سول سیکرٹریٹ میں خطبہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسراراللہ ایڈووکیٹ، سینئر صوبائی وزیر اور وزیر بلدیات عنایت اللہ خان،ممبران صوبائی اسمبلی ملک بہرام خان اور محمد علی سمیت صوبائی نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال خلیل بھی موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ 259افراد جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں کو جلایا جانا غیر معمولی واقعہ ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ کوئی اخباری یا کسی سیاسی جماعت کی رپورٹ نہیں بلکہ یہ ریاست کے ذمہ دار ترین اداروں کی رپورٹ ہے۔ فیکٹری مالک کے 15کروڑ بھتہ دینے سے انکار پر ایم کیو ایم نے انسانوں کو زندہ جلایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے سانحہ میں شہید ہونے والے 259افراد کے ورثاء کو انصاف فراہم نہ کیا تواس کو 259مزدور نہ سمجھیں ، پاکستان بھر کے مزدور اور اٹھارہ کروڑ عوام مزدوروں کے ساتھ ہیں۔ جماعت اسلامی مزدوروں ، مجبوروں اور مظلوموں کے ساتھ ہے ۔ ہم ان کی وکالت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ مزدوروں کے حقوق کا نعرہ لگانے والی پیپلز پارٹی نے اپنے نعرے کا پاس کیوں نہیں رکھا؟ رپورٹ آنے کے بعد سندھ حکومت نے کوئی سنجیدہ قدم اٹھانے کے بجائے ایم کیو ایم کے ساتھ بات چیت شروع کی اور سینیٹ کے عارضی مفادات کی خاطر ایم کیو ایم کو دوبارہ حکومت میں شامل کرنے کے لئے مذاکرات شروع کردئیے۔ پیپلز پارٹی کو مزدوروں کو ساتھ دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسے نظام کو برداشت نہیں کرسکتے جس میں کسی غریب، مزدور، ریڑی والے اور سبزی فروش کے ساتھ تو آہنی ہاتھوں سے نمٹا جاتا ہے لیکن واپڈا، سٹیل مل اور پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کو تباہ کرنے والوں ، بینکوں اور اٹھارہ کروڑ عوام کو لوٹنے والوں سیلوٹ کیاجاتا ہے۔ جماعت اسلامی اس نظام کے خلاف ہے ۔ ہم سانحہ پشاور کا بھی نتیجہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی خواہ کسی بھی نام سے کی جائے اس کا قلع قمع ہونا چاہئے۔ کوئی لسانی ،علاقائی یا مسلک کی بنیاد پر دہشت گردی کرے یا کسی اور بنیاد پردہشت گردی کرے اس کے خلاف یہ دیکھے بغیر کہ یہ کس تنظیم سے ہے ، کونسی زبان بولتا ہے یا اس کا کس مسلک سے تعلق ہے بلاامتیازکاروائی ہونی چاہئے۔ اکیسویں ترمیم کے حوالے سے ہمارا یہی موقف تھا کہ دہشت گردی جس شکل میں بھی ہو اس کاقلع قمع ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے انتخابات سر پر ہیں ۔ الیکشن کو تجارت اور وزیروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا کھیل بنایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قوم ہر الیکشن کے بعد اطمینان کے بجائے مزید بے اطمینانی کا شکار ہوجاتی ہے۔ پیسے کے استعمال کو روکنے کے لئے ایک صاف ستھرا اور شفاف نظام بنانا اور اس طرح پیسے کے استعمال کا تدارک کرنا الیکشن کمشن کاکام ہے۔ الیکشن کمیشن اس کے لئے قانون سازی کرے اور اس کے لئے غلطیوں سے پاک نظام بنانے کی سعی کرے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن وضاحت کرے کہ سینیٹ انتخابات میں پیسے کے استعمال کو روکنے کے لئے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت افسوس کا مقام ہے کہ امریکی صدر اوبامہ کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ امریکہ میں ایک دہشت گرد کے گھر میں گھس کر ایک مسلمان جوڑے اور ایک دوسری خاتون کو شہید کرنے کے واقعے کی مذمت کرتے ۔ حالانکہ امریکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کا چیمپئن بنا پھرتا ہے۔ جبکہ پوری دنیا میں انسانی حقوق کا ڈنڈورا پیٹنے والی اور انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی واقعے کی مذمت یا اس پر احتجاج کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s