حکومت توہین رسالت ﷺ کے خلاف فوری طور پر اسلام آباد میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرے اور دہشت گردی سے ہزار گنا بڑے اس مسئلہ پر قوم کو اعتماد میں لے ۔

حکومت توہین رسالت ﷺ کے خلاف فوری طور پر اسلام آباد میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرے اور دہشت گردی سے ہزار گنا بڑے اس مسئلہ پر قوم کو اعتماد میں لے ۔حکومت پاکستان کا فرض تھا کہ وہ خاکوں کی اشاعت کے فوری بعد اپنی یہ ذمہ داری پوری کرتی اور او آئی سی کا اجلاس بلا کر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھاتی لیکن حکومت نے مغرب ،یورپ اور امریکہ کے خوف سے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کی ۔امیرجماعت اسلامی سراج الحق کاآل پارٹیزکانفرنس سے خطاب

pic ji apc

لاہور17فروری 2015
    جماعت اسلامی پاکستان کی میزبانی میں منصورہ میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ پر ہونے والی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت توہین رسالت ﷺ کے خلاف فوری طور پر اسلام آباد میں اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد کرے اور دہشت گردی سے ہزار گنا بڑے اس مسئلہ پر قوم کو اعتماد میں لے ۔حکومت پاکستان کا فرض تھا کہ وہ خاکوں کی اشاعت کے فوری بعد اپنی یہ ذمہ داری پوری کرتی اور او آئی سی کا اجلاس بلا کر ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کے خلاف اقوام متحدہ میں آواز اٹھاتی لیکن حکومت نے مغرب ،یورپ اور امریکہ کے خوف سے اپنی یہ ذمہ داری پوری نہیں کی ۔توہین رسالت ﷺ کے جرم کو عالمی جرم قرار دیا جائے ۔جس طرح حضرت عیسی ٰ ؑ کی اہانت جرم ہے اسی طرح نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺسمیت تمام انبیا ءاور آسمانی کتب کی توہین کو جرم قرار دیا جائے ۔مسلم دشمن شیطانی قوتیں اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی اہانت کو تہذیبوں کے درمیان تصادم اور دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنے کی کوشش کررہی ہیں۔دنیا بھر کے مسلمان تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیلئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ، اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے والے دراصل اسلام کے پھیلاﺅ سے خوف زدہ ہیں اور دنیا کو خوف زدہ کرکے وہ اسلام کے بڑھتے قدموں کو روکنا چاہتے ہیں ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی صدارت میں منعقدہ قومی کانفرنس سے امیر جماعة الدعوة حافظ محمد سعید ،امیر جمعیت علمائے اسلام مولانا سمیع الحق ،سابق صدر جسٹس ریٹائرڈ رفیق تارڑ ،مفتی منیب الرحمن ،لیاقت بلوچ ،قاری محمد حنیف جالندھری ،وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،تحریک انصاف کے رہنما اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الرشید ،سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان ،پیپلز پارٹی کے رہنما نوید چوہدری ،جمیعت علمائے پاکستان کے صد ر پیر اعجاز ہاشمی ،جمعیت علمائے اسلام (ف)کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا امجد خان ،امیر تنظیم اسلامی حافظ عاکف سعید ،مجلس وحدت المسلمین کے رہنماءسید ناصر شیرازی ،سید عطاءالمومن شاہ ،مسیحی راہنما سابق ایم این اے جے سالک ،چیئرمین پاکستان گردوارہ پربندھک کمیٹی سردار شام سنگھ سمیت ملک بھر کی 40کے قریب دینی و سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں اور نمائندہ وفود نے شرکت کی اور تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیلئے تن من دھن نچھاور کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ عالم اسلام کے حکمرانوں کے اندر زندگی کی رمق نظر نہیں آتی ،سب زندہ لاشیں ہیں جو مسلمان ہونے کے باوجود دینی غیر ت و حمیت سے عاری اور مغرب کے وفادار ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اگر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی تو ہم حکمرانوں کو شاباش دینے میں بخل سے کام نہ لیتے ،اور اگر حکومت تحفظ ناموس رسالت ﷺ کیلئے کوئی قدم اٹھاتی تو نہ صرف دنیا بھر میں اس کی عزت میں اضافہ ہوتا بلکہ پوری قوم بھی حکومت کے ساتھ ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ توہین رسالت ﷺ کے پے درپے واقعات نے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کو بے چین کردیا ہے لیکن ان حکمرانوں کی غیرت نہیں جاگی ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسلم دنیا کے حکمران مدینہ منور ہ میں حضور ﷺ کے قدموں میں بیٹھ کر ان کی عزت و ناموس ﷺ کے تحفظ کا عہد کریں اور مغرب اور یورپ پر واضح کردیں کہ آئندہ اس قسم کی کسی جسارت کو کسی صورت بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ناموس ﷺ ہمارے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے ،اگر ہم اس کے تحفظ کیلئے بھی کچھ نہیں کرتے تو ہماری دنیا و آخرت تباہ ہوتی ہے ،ہم اپنے ایمان بچانے کیلئے ہر صورت پیغمبر مہربان ﷺ کی ناموس کا تحفظ کریں گے اور ان کی عزت و تکریم پر کٹ مریں گے ۔سراج الحق نے کہا کہتحفظ ناموس رسالت کا مسئلہ کسی ایک پارٹی یا فرقے کا مسئلہ نہیں ۔ تحفظ ناموس رسالت کے لیے ہم سب کا ایک ہونا فرض ہے ۔ اگر یہ امت ناموس رسالت کا تحفظ نہ کر سکی تو اسکاوجود باقی نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب سے اہم مسئلہ ہے جس پر عالم اسلام کے حکمرانوں کو متحد ہوناپڑے گا، امت کو اطمینان یورپ کے ساتھ مکالمہ کرنے کے لیے سربراہان امت کا کوئی وفد نہیں گیا ۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ تمام پارٹیوں اور مذاہب کی نمائندگی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا امن اس مسئلہ سے مشروط ہے ،پرامن اور خوشحال دنیا کے لیے تحفظ ناموس رسالت ضروری ہے آج کا یہ اجلاس عالم اسلام کے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے ۔ اس موقع پر مولانا سمیع الحق نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی نے امت کو متحد کرنے کا احسن قدم اٹھایا ہے ،مسئلہ ناموس رسالت مذمت کی حد تک نہیں ٹھوس بنیادوں پر اس کے لیے لائحہ عمل بناناہوگا۔امت میں آج کوئی صلاح الدین ایوبی موجودنہیں،انہوں نے کہا کہ اسلامی ممالک کے حکمران غیر و حمیت سے خالی ، کھوکھلے بت ہیں جن کا کوئی وزن نہیں ہے ۔ہمیں دہشتگرد کہنے والے خود سب سے بڑے دہشتگرد ہیں ۔حضور کے خاکے بنانے والے دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ پرتمام جماعتوں کو مل کر ریلی نکالنی چاہیے تھی ۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ محمد سعید نے کہا کہ فرانس میں چارلی ایبڈو پر حملہ کے خلاف چالیس ممالک نے کہاکہ ہم سب چارلی ہیں تو ہم سب محمدی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم آج عہد کرتے ہیں کہ ناموس رسالت کے لیے ہم سب ایک ہیں ۔مسلم حکمرانوں کو اٹھنا چاہیے تھا ۔ انتشار حکمرانوں کی بے حسی کی وجہ سے ہے ۔ حکمران متحد ہو جائیں تو انتشار ختم ہوگا اور امن قائم ہوگا ۔ سعد رفیق نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی راویت کے مطابق امت کے مسئلہ پر پوری قومی قیادت کو متحد کیاہے ۔ دنیا میں انتہاپسندی اور شدت پسندی مغرب اور اقوام متحدہ کے جانبدارانہ رویہ سے بڑھی ،عالم اسلام کے تمام مسائل اتحاد و یکجہتی سے حل ہو سکتے ہیں ۔کشمیر اور فلسطین سمیت مسلم ممالک کے مسائل کو حل نہیں کیا گیا ۔ جس کے نتیجہ میں مایوسی بڑھی اور بدامنی کو فروغ ملا،انہوں نے کہا کہ عالمی سامراج کی اسلام دشمن پالیسیاں عالم اسلام میںمسلمانوں میں تشدد پسندانہ رویے کو پھیلا رہی ہیں۔
    چیئرمین علماءکونسل پاکستان طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کیا قادیانیت کے خلاف بات کرنا نفرت پھیلانے کے زمرہ میں نہیں آتا ۔ قومی ایکشن پلان کی آڑ میں قادیانیوں کی کتب کو پھیلایا جارہاہے۔پاکستان میں محمد عربی کے خلاف چھپنے والے لٹریچر کی اشاعت بند ہونی چاہیے ۔نبی آخر الزمان ﷺ کی اہانت پر مبنی قادیانیوں کی کتابوں کو کیوں ضبط نہیں کیا جارہا ۔پیر سلطان احمد علی نے کہا کہ عالمی استعمار مسلمانوں کے دل سے روح محمد نکالنے کی سازشوں میں مصروف ہے ۔ قومی و بین الاقوامی سطح پر واضح پیغام گیاہے ۔ منظم جدوجہد کی ضرورت ہے ۔ علامہ ابتسام الٰہی ظہیر نے کہا کہ توہین رسالت کو قوم کے سامنے واضح کیا جائے ،علماءکی ذمہ داری ہے۔ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ علما کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے میدان عمل میں دیوانہ وار نکلیں اورحکمرانوں کی ذمہ داری کہ دنیا کے سامنے توہین رسالت کے خلاف آواز اٹھائیں اور تحفظ ناموس رسالت کے لیے عالمی سطح پر قانون سازی کروائیں ۔آل پارٹیز کا مشترکہ اعلامیہ ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے پڑھ کر سنایا ۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تحفظ ناموس رسالت ﷺ قومی کانفرنس کے اختتام پر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں ایک اسٹیرنگ کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا جو ناموس رسالت ﷺ کی تحریک کو منظم کرے گی ۔کمیٹی میں عبدالرحمن مکی ،مولانا امجد خان ،عبدالرحمن فاروقی ،خواجہ سعد رفیق ،امیر حمزہ ،مولانا اللہ وسایا۔میاںمحمود الرشید ،قاری زوار بہادر ،پیر محفوظ مشہدی ،حافظ کاظم رضا ،پرویز مسیح بھی اس کمیٹی میں شامل ہیں ۔علاوہ ازیں فیصلہ کیا گیا کہ اہم افراد پر مشتمل دو وفود تشکیل دیئے جائیں گے ۔ایک وفداسلام آباد میں مسلم ممالک کے سفیروں سے ملاقات کر کے اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے پر انہیں قائل کرے گا اور دوسرا وفد مغربی ممالک کے سفرا سے ملاقاتیں کرے گااور اس مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرے گا۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s