مساجد اور مدارس پر پولیس چھاپے قابل مذمت ہیں ،سانحہ بلدیہ ٹاﺅن پر جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے باوجود پیپلز پارٹی کی صوبائی اور ن لیگ کی وفاقی حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے.۔لیاقت بلوچ

سینیٹ انتخابات کو پیسے کا کھیل بنانے والوں کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کاروائی کر ے، حکومت اور پی ٹی آئی کو عدالتی کمیشن پر اتفاق رائے کر لینا چاہئے،قومی ایکشن پلان پر تمام دینی ،سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اتفاق ہے مگر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بلا امتیاز کارروائی کرنے کی ضرورت ہے،قائم مقام امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو

pic liaqat baloch

لاہور22 فروری 2015ئ
    قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ سینیٹ انتخابات کو پیسے کا کھیل بنانے والوں کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کاروائی کر ے، حکومت اور پی ٹی آئی کو عدالتی کمیشن پر اتفاق رائے کر لینا چاہئے،قومی ایکشن پلان پر تمام دینی ،سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا اتفاق ہے مگر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بلا امتیاز کارروائی کرنے کی ضرورت ہے،مساجد اور مدارس پر پولیس چھاپے قابل مذمت ہیں ،سانحہ بلدیہ ٹاﺅن پر جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے باوجود پیپلز پارٹی کی صوبائی اور ن لیگ کی وفاقی حکومت کی خاموشی معنی خیز ہے،سینٹ کی چند ووٹوں کے لیے265انسانوں کو زندہ جلانے والے قاتلوں سے مفاہمت جمہوریت کے نام پر کلنک کا ٹیکہ ہے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کی خبروں نے عوام کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے،حکومت پہلے ہی پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس لگا کر عوام پر زائد بوجھ ڈال رہی ہے،عوام نے پیپلز پارٹی کو رد کردیا ہے،ن لیگ بھی اپنے انجام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ ن لیگ بھی اپنا دور مکمل کرے۔جماعت اسلامی متبادل قوت کے طور پر قوم کی امیدوں پر پورا ترے گی۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے المر کز الاسلامی چنیوٹ بازار فیصل آباد میںمیڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری محبوب الزماں بٹ،ضلعی امیر سردار ظفر حسین خان،عظیم رندھاوا،اکرم کھرل اور غلام عباس خان بھی موجود تھے۔
    لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت نے قومی ایکشن پلان کو پورا کرنے کی ذمہ داری پولیس پر ڈال دیتی ہے جو سراسر مذاق ہے۔پولیس کو مال بنانے کا بہانہ ہاتھ آگیا ہے، مساجد اور مدارس کے خلاف کارروائیاں کرکے حکومت کس کو خوش کرنا چاہتی ہے،پنجاب حکومت مساجد اور مدارس کے بارے میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام دینی اور مذہبی جماعتیں دہشت گردی کے حکومتی پلان کے ساتھ ہیں مگر صرف مساجد اور مدارس کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں جبکہ دہشت گرد کھلے عام کارروائیاں کرنے میں مصروف ہیں ،مساجد اور امام بارگاہوں میں حملے ہو رہے ہیں مگر اداروں کی ناکامی صاف نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ لندن کی آل پارٹیز کانفرنس میںسب جماعتوں نے اتفاق رائے سے ایم کیو ایم کو فاشٹ تنظیم قرار دیتے ہوئے مستقبل میں اس کے ساتھ کسی قسم کے سمجھوتے نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا مگر پہلے پیپلز پارٹی اور اب ن لیگ اپنے مفادات کی خاطر اپنے ہی کئے ہوئے معاہدوں سے انحراف کر رہی ہے،انہوںنے کہا کہ سانحہ بلدےہ مےں بے گناہ مرد و خواتےن مزدوروں کو بھتہ نہ دےنے پر جلا کر خاکستر کر دےنا کھلی درندگی اور بد ترےن دہشت گردی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے،حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سانحہ بلدےہ مےں ملوث افراد کی پارٹی وابستگی واضح طور پر اعلان کرےں تا کہ کراچی کے عوام جان لےں کہ کون عناصر شہر مےں قتل و غارت گری ،بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کی سےاست کر رہے ہےں ۔ انہوں نے کہاکہ پہلی جے آئی ٹی رپورٹ کی موجودگی میں دوبارہ جے آئی ٹی تشکیل دینا اپنے اداروں پر عدم اعتماد اور اس سانحہ میں ملوث ایک مخصوص فاشسٹ گروہ کو بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی،لسانی ،علاقائی اور علیحدگی کی بنیاد پر ہونے والی دہشتگردی کو صرف دہشت گردی قرار دے کر اس کے مرتکب افراد کے خلاف بلا امتیاز کاروائی کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں دیانت دار قیادت کا فقدان ہے جب تک پاکستان کے حکمران اپنا قبلہ درست نہیں کرتے ملک میں امن قائم نہیں ہوسکتا ،قر آن و سنت کا نظام آزادی و ترقی کا ضامن ہے، جماعت اسلامی پاکستان میں قرآن و سنت کے عادلانہ نظام کے نفاذ کی جدوجہد میں مصروف عمل ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s