خواجہ سعد رفیق اور سید زعیم قادری پر مشتمل مسلم لیگ ن کے وفد نے منصورہ میں قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے ملاقات

خواجہ سعد رفیق کی منصورہ میں لیاقت بلوچ سے ملاقات
میڈیا سے گفتگو
pic ji- pml leaders
لاہور 26فروری 2015ئ
خواجہ سعد رفیق اور سید زعیم قادری پر مشتمل مسلم لیگ ن کے وفد نے منصورہ میں قائم مقام امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں نائب امیر جماعت اسلامی حافظ محمد ادریس     ،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، نذیر احمد جنجوعہ ، امیر العظیم اور اظہراقبال حسن بھی موجود تھے ۔ ملاقا ت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ ہمیں وزیراعظم نے خصوصی طور پر منصورہ بھیجا ہے تاکہ سینیٹ کے انتخابات میں ووٹوں کی بولی لگانے والوں کی مذموم کوششوں کو روکا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے ہارس ٹریڈنگ کی لعنت کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا تہیہ کر رکھاہے ۔ حکومت چاہتی ہے کہ سینیٹ انتخابات میں خفیہ بیلٹ کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے ووٹنگ ہو تاکہ اس خرابی کو دور کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ جو ممبران پارلیمنٹ اپنی جماعتوں کی پالیسی کے خلاف چلتے ہیں ان کا بھی پتہ چلایا جاسکتاہے ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ وزیراعظم چند دن بعد تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کو مدعو کریں گے اور اس مسئلہ کے مستقل حل کے لیے لائحہ عمل بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت بائیسویں ترمیم کے ذریعے ہارس ٹریڈنگ کے تمام راستے بند کردیناچاہتی ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں خواجہ سعد رفیق نے کہاکہ ملک میں ایکشن پلان دہشتگردی کو روکنے کے لیے ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداے یا پولیس کے کچھ اہلکار اگر اس کی آڑ میں دینی طبقات کو ہراساں کررہے ہیں تو انہیں پکڑا جائے گا اور ان کی سخت باز پرس ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم تمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں ۔ کے پی کے میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کی اتحادی حکومت ہے ۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قائم امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں انتخابی نظام کو شفاف بنانے کی ہر کوشش کاساتھ دے گی ۔ کسی بھی نوعیت کی ہارس ٹریڈنگ جو جمہوریت کے لیے بدنامی کا باعث ہو اسے ختم ہوناچاہیے ۔ اگر 2013 ءکے انتخابات کی طرح سینٹ کا الیکشن بھی متنازعہ ہوگیا ، تو پارلیمانی نظام کے لیے خطرناک ہوگا اور انتخابات پر کسی کو اعتماد نہیں رہے گا۔ انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد پر کسی کو اعتراض نہیں ، یہ ایکشن پلان دہشتگردی کے خاتمہ اور دہشتگردوں کو پکڑنے کے لیے بنایا گیا تھا لیکن پولیس کو دیئے گئے اختیارات کا ناجائزہ استعمال کیا جارہاہے اور اس ایکشن پلان کو دینی طبقے کو ٹارگٹ کرنے کا ذریعہ سمجھ لیاگیاہے ۔ انہوں نے مساجد و مدارس پر چھاپے مارے جانے اور علماءکرام کو ہراساں کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو فوری طور پر اس پر اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے اور جو لوگ ملک میں اس کی آڑ میں اسلام کو بدنام کررہے ہیں ، ان کے خلاف بھی ایکشن لیا جاناچاہیے ۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ حکومت علما کی نظر بندیوں کے احکامات پر نظر ثانی کرے گی ۔
لیاقت بلوچ نے کہاکہ انتخابی نظام کو شفاف بنانے کے لیے آئین کی دفعہ 62-63 پر عمل ہوناچاہیے ۔ اصل کام سیاسی جماعتوں کا ہے کہ وہ ایسے قابل بھروسہ افراد کو ٹکٹ دیں جو اپنے ضمیر کا سودا کر نے والے اور عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے نہ ہوں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s