پاکستان اور ترکی قائدانہ کردار ادا کرکے یمن کا مسئلہ حل کرائے ‘ امیر جماعت اسلامی سراج الح

a1

 جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی قائدانہ کردار ادا کرکے یمن کا مسئلہ حل کرائے کیونکہ خلیج کی لڑائیوں کا فائدہ اسرائیل کو ملتا ہے جبکہ نقصان عالم اسلام کا ہوتا ہے اس لئے پاکستان اس مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے ۔ وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خان خٹک ‘قائمقام گورنر اسد قیصر اور ارکان قومی ‘صوبائی اسمبلی و سینٹ کے اعزاز میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی جانب سے دیئے گئے عشایئے کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے قومی وحدت اور اتفاق کی ضرورت ہے سب لوگوں بالخصوص سیاسی لیڈر شپ کو مل کر ملک کو کرپشن ‘ غربت‘ بیروزگاری ‘ مہنگائی‘ بد امنی اور لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کے لئے متحدہ کردار ادا کرنا چاہئے ۔ پاکستان ایٹمی صلاحیت والا ملک ہے اور وہ عالم اسلام کی قیادت کرے ۔ سعودی عرب اور یمن کے مابین تنازعہ کو بڑھانے کی بجائے اس مشکل کو حل کرنے کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے ۔ سعودی عرب کے ساتھ مفادات بھی وابستہ ہیں لیکن اس سے ہمارا روحانی تعلق بھی ہے ۔ دنیا میں صرف دو ایسے ممالک ہیں جن سے ہمارے قومی تعلقات ہیں جن میں ایک سعودی عرب اور دوسرا چین ہے ۔ ان ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ اثر انداز نہیں ہوتے ۔ ہم نے اپنے ملک میں بھی بحرانوں کو حل کرنے کے لئے مذاکرات اور پر امن راہ اختیار کی ہے عالم اسلام کے مابین تنازعات کے حل کے لئے بھی ایسی کوششیں کی جانی چاہئیں جس میں پاکستان اور ترکی کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے ۔ اس طرح کے حالات میں آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہئے یہاں اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔ قومی اتفاق رائے کے لئے کوششیں کی جائیں ۔ حرمین شریفین کی حفاظت عالم اسلام کی ذمہ داری ہے ۔ اسلام بھی ہمیں مسلمانوں کے مابین تنازعات کے حل کے لئے صلح کا درس دیتا ہے ۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو سینٹ انتخابات میں زبردست کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے ضمیر کے سودے کرنے والوں کو ناکام بنا دیا ۔ کروڑوں روپے کی پیشکش کو ٹھکرا کر اپنے ضمیر کا سودا ہونے نہیں دیا ۔ انشاء اللہ وہ دور واپس نہیں آئے گا جب لوگ کروڑوں لے کر پارلیمنٹ تک پہنچا کریں ۔ جن پارٹیوں کے ارکان بک گئے ہیں ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑنا ان کی قیادتوں کا کام ہے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو بہترین حکمت عملی پر خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں بھی خیبر پختونخوا دیگر صوبوں کی قیادت کرے ۔

پاکستان اور ترکی کے وزرائے اعظم مل کر سعودی عرب اور یمن میں مصالحت کا راستہ نکالیں ،جنگ بہت بڑی تباہی کا نام ہے ، ہمیں سعودی عرب کی سلامتی عزیز ہے ،حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ کی ہے ، حجاز مقدس کی حرمت اور ناموس پر دنیا بھر کے مسلمان کٹ مرنے کیلئے تیار ہیں ۔حکومت جوڈیشل کمیشن کا قیام اس معاہدے کی تمام شقوں کے مطابق کرے جن پر دونوں فریقین کا اتفاق ہوا تھا ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

pic (1)

لاہور 30مارچ2015 ء  
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے وزرائے اعظم مل کر سعودی عرب اور یمن میں مصالحت کا راستہ نکالیں ،جنگ بہت بڑی تباہی کا نام ہے ، ہمیں سعودی عرب کی سلامتی عزیز ہے ،حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ کی ہے ، حجاز مقدس کی حرمت اور ناموس پر دنیا بھر کے مسلمان کٹ مرنے کیلئے تیار ہیں ۔حکومت جوڈیشل کمیشن کا قیام اس معاہدے کی تمام شقوں کے مطابق کرے جن پر دونوں فریقین کا اتفاق ہوا تھا ،ایم کیو ایم اپنا مسلح ونگ ختم کرکے ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے کاروبار میں ملوث کارکنوں کو قانون کے حوالے کردے ،کراچی آپریشن سیاسی نہیں کراچی کو جرائم اور دہشت گردی سے پاک کرنے کے مقاصدکیلئے ہونا چاہئے ۔30مئی کو خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے ،پنجاب اور سندھ کی حکومتیں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا جلد اعلان کریں ۔پنجاب میں کسانوں کے مطالبات سننے کی بجائے ان پر بدترین تشدد کیا گیا خادم پنجاب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈی بہاولدین میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ سے چوہدری ریاض فاروق ساہی نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر ضلعی امیر چوہدری ریاض وڑائچ ،نواز ساہی بھی موجودتھے ۔سراج الحق نے بعد ازاں ریاض فاروق ساہی کے بھتیجے کاشف نواز ساہی کی دعوت ولیمہ میں بھی شرکت کی ۔
    سراج الحق نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ سعودی عرب میں ہے ،سعودی عرب عالم اسلام کا روحانی مرکز اور قائد ہے ،جس کی سلامتی کیلئے امت کا ہر فرد فکر مند ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان مل کر یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کے منڈلاتے بادلوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور عالم اسلام کے خلاف دشمن کی سازشوں کو ناکام بنادیں ،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے حکمران باصلاحیت ہیں مجھے امید ہے کہ دونوں مل بیٹھ کر اس تنازعہ کا حل نکال سکتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے سے عوام کے اندر خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی تھی اوراب حکومت کا فرض ہے کہ وہ بالکل انہی نکات اور معاہدے کی تمام شرائط کے مطابق کمیشن کا قیام عمل میں لائے اور اس سلسلہ میں ابہام کو دور کیا جائے ،سراج الحق نے کہا کہ عوام سیاسی جماعتوں سے اپنے مسائل کے حل کی جو امید یں لگائے بیٹھے ہیںسیاسی جماعتوں کو ان کی طرف توجہ دینی چاہئے۔
    سراج الحق نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا قیام اور جرائم کا خاتمہ قومی ترقی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔جرائم کے خلاف کراچی میں جاری آپریشن کو متنازعہ بنانے کی کو شش کی جارہی ہے ،انہوںنے کہا کہ کراچی آپریشن کا مقصد صرف جرائم کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔انہوں نے کراچی میں تباہ شدہ انفراسٹریکچر کی بحالی کیلئے حکومت سے کراچی کو پانچ سو بلین کا خصوصی پیکیج دینے کا مطالبہ کیا تاکہ شہریوں کو پانی بجلی اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں مل سکیں ۔
    سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں غریبوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے ،غربت بے روزگاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں نظر نہیں آتی ،انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے جھونپٹریوں میں رہنے والوں کے مسائل پر توجہ نہ دی تو یہ غریب محلوں اور بنگلوں میں رہنے والوں کو بھی چین اور سکون سے نہیں رہنے دیں گے اور اگر یہی حالات رہے تو بہت جلد غربت اور بے بسی کے شکار محلوں کا رخ کریں گے ۔سراج الحق نے لاہور میں کسانوں پر ہونے والے پولیس تشدد اور پکڑ دھکڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں اور کاشکاروں کا کوئی پرسان حال نہیں،انہو ں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر فورم پر کسانوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائے گی ،ہم کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کسانوں کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔

جماعت اسلامی نے اپنے دروازے عام آدمی کیلئے کھول دیئے ہیں،دیانتدار اور معاشرے میں اچھی شہرت کے حامل لوگ جماعت اسلامی کے ممبر بن کر ہر سطح کی ذمہ داریوں تک پہنچ سکتے ہیں،اس مقصد کیلئے جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور کارکنان 3تا 15اپریل ملک بھر کے پانچ سو شہروں اور ہزاروں دیہاتوں ،گاﺅں اور گوٹھوں میں عوام کے پاس جائیں گے اورانہیں اپنے ممبر اور ووٹر بنائیں گے ۔سینیٹر سراج الحق کا منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب

00

لاہور 29مارچ201ء    
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی کے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی ذمہ دار ان کے دوروزہ خصوصی مشاورتی اجلاس کے بعد منصورہ میں پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے دروازے عام آدمی کیلئے کھول دیئے ہیں،دیانتدار اور معاشرے میں اچھی شہرت کے حامل لوگ جماعت اسلامی کے ممبر بن کر ہر سطح کی ذمہ داریوں تک پہنچ سکتے ہیں،اس مقصد کیلئے جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور کارکنان 3تا 15اپریل ملک بھر کے پانچ سو شہروں اور ہزاروں دیہاتوں ،گاﺅں اور گوٹھوں میں عوام کے پاس جائیں گے اورانہیں اپنے ممبر اور ووٹر بنائیں گے ۔جماعت کے ہر کارکن کو کم از کم ایک سو لوگوں کو جماعت کے ممبر اور ووٹر بنانے کا ہدف دیا گیا ہے ، 12روزہ رابطہ عوام مہم کے دوران ہم ایک کروڑ لوگوں کو جماعت اسلامی میں شامل کریں گے ۔اقلیتوں پرمشتمل پاکستانی برادری ہندو ،سکھ اور عیسائیوں کو بھی جماعت اسلامی کے کارکن بنایا جائے گاتاکہ 68سال سے ملکی اقتدار قابض انگریز کے غلاموں اور استعمار کے ایجنٹوں سے 18کروڑ عوام کو نجات دلائی جاسکے ،جماعت اسلامی آئندہ بلدیاتی اور قومی انتخابات میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی ۔اس موقع پرجماعت اسلامی کے نائب امراءمیاں محمد اسلم ،حافظ محمد ادریس سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ اور سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم اور شاہد شمسی بھی موجود تھے ۔
    سراج الحق نے کہا کہ اب پاکستان اور ظالم ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،ملک میں قومیتوں کی نہیں امیر اور غریب اور ظالم اور مظلوم کی لڑائی ہے ،انہوں نے کہا کہ اسی ظالم طبقہ کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا اور ہمارا ایک بازو ہم سے جدا ہوگیا ،اب اس طبقہ کوملک و قوم کی تقدیر سے مزید کھیلنے کا موقع نہیں دیں گے ،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حالات کو کوسنے اور سر پر ہاتھ رکھ کر روتے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا مسائل حل کرنے کیلئے قوم کو اٹھنا اور ظالموں لٹیروں اور کرپشن کے بادشاہوں کے خلاف جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہوگی ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عام آدمی جماعت اسلامی کے پاکیزہ کردار کی گواہی دیتا ہے ،عوام جانتے اور ببانگ دہل ہماری پاک دامنی کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اب اس محبت اور تعریف سے آگے بڑھ کر انہیں پاکستان کو جاگیر داروں وڈیروں اور سرمایہ داروں سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کے کندھے کے ساتھ کندھا اور قدم کے ساتھ قدم ملا کرچلنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بڑوں نے ہندوﺅ ں اور انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کیلئے بے مثال قربانیاں پیش کیں اس آزادی کو برقرار رکھنے اور انگریز اور مغربی استعمار کے 68سالہ ظالمانہ شکنجے کو توڑنے اور دور غلامی کا خاتمہ کرنے کیلئے بھی ایک بڑی عوامی تحریک کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ یہاں ظالم متحد اور مظلوم منتشر ہیں ،ہم آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے جمہوری لوگ ہیںاور آئینی اور جمہوری طریقے سے عوام کی مدد سے ملک میں اسلامی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں ،تاکہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ کرکے عوام کے غصب شدہ حقوق انہیں دلائے جاسکیں ۔انہوں نے کہا کہ میں خود کراچی ،اسلام آباد لاہور اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جاکر براہ راست عوام کو جماعت میں شامل کروں گا،میرا اصل ہدف معاشرے کا پسا ہوا اور غریب طبقہ ہے جس میں تانگہ ریٹرھی والے ،جوتے بنانے اور کپڑے سینے والے ،فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے غریب اور بے سہارا لوگ ہیں ۔
    خلیج کی صورتحال پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ خلیج کی جنگ سے ہمیشہ اسرائیل اور امریکہ نے فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کرانہیں کمزور اور ان کے وسائل پر قبضہ کیا ،انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے امت کے بڑوں کو مل بیٹھنا چاہئے اور پاکستان اور ترکی کو اس میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب میں مزید تناﺅ نہ ہو،گزشتہ صدی میں ایران عراق جنگ کی وجہ سے لاکھوں مسلمان لقمہ اجل بنے ،اس لئے اب ایسی نوبت نہیں آنی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنا اسلحہ بیچنے کیلئے خلیج کو ایک بار پھر میدان جنگ بنانا چاہتا ہے ۔   
           

ملک پر مسلط ظالمانہ نظام کوجڑ سے اکھاڑ کرپھینکنے کیلئے عوام جماعت اسلامی کے دست وباز و بن جائیں ،گزشتہ 68سال سے ملکی اقتدار پر قابض لوگوں کو ملک و قوم کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ہر حکومت میں ایک ہی طبقہ اشرافیہ کے لوگ شامل ہیں جو ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ اور اقتدار کوسہارا دیتے ہیں۔جماعت اسلامی اپنے مقاصد پر سمجھوتہ کیے بغیر اپنی تنظیم میں توسیع کیلئے وقت اور حالات کے مطابق اپنی پالیسیاں بدل رہی ہے۔ مستقبل قریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو جماعت اسلامی میں شامل کرکے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی ۔سراج الحق کا منصورہ میں مرکزی ،صوبائی اور ضلعی ذمہ دار ان کی دوروزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ سے خطاب

siraj 28

لاہور28مارچ2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں جاری جماعت اسلامی کے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی ذمہ دار ان کی دوروزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک پر مسلط ظالمانہ نظام کوجڑ سے اکھاڑ کرپھینکنے کیلئے عوام جماعت اسلامی کے دست وباز و بن جائیں ،گزشتہ 68سال سے ملکی اقتدار پر قابض لوگوں کو ملک و قوم کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ہر حکومت میں ایک ہی طبقہ اشرافیہ کے لوگ شامل ہیں جو ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ اور اقتدار کوسہارا دیتے ہیں۔جماعت اسلامی اپنے مقاصد پر سمجھوتہ کیے بغیر اپنی تنظیم میں توسیع کیلئے وقت اور حالات کے مطابق اپنی پالیسیاں بدل رہی ہے۔ مستقبل قریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو جماعت اسلامی میں شامل کرکے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی ۔کھیلوں اور کلچر کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے حامل نوجوانوں کو پورے ملک میںجماعت کے نظم میں سمویا جائے گا۔خواتین ،اساتذہ ،وکلاء،کسانوں مزدوروں اور طلباءو نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کو جماعت کے کارکن بنایا جائے گا۔
    سراج الحق نے کہا کہ کیمونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی شکست اور ناکامی کے بعد اب عالمی سطح پر موجود خلا کو پر کرنے کیلئے اسلامی تحریکوں کے پاس بہترین موقع ہے ،حالات کا تقاضا ہے کہ عالم اسلام اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دنیا کو اسلام کے عدل و انصاف اور مساوات پر مبنی نظام سے روشناس کرائے ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی انقلاب کیلئے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہے ،ہم ملک میںایسا نظام حکومت چاہتے ہیںجس میں انسان ایک دوسرے کے غلام اور محتاج نہ ہوں اور سب کو یکساں حقوق مل سکیں ،انہوں نے کہا کہ اقتدار پر قابض ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں نے ملک میں غربت ،جہالت ،مہنگائی بے روزگاری اور بدامنی کو ختم کرنے کی بجائے اسے فروغ دیا ہے ،مقتدر طبقہ نہیں چاہتا کہ ملک کے غریب غرباءکسان اور محنت کش ان کے برابر بیٹھ سکیں اس لئے انہوں نے ایک منصوبہ کے تحت عوام کو ایسے سنگین مسائل میں الجھا رکھا ہے کہ وہ ہمیشہ عسرت ،تنگ دستی اور پیٹ کی آگ بجھانے کی فکر میںمبتلا رہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس استحصالی طبقے میں نیا اضافہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھی ہو گیاہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے زرعی میدان میں بیماریاں پیدا کرتے ہیں اور پھر ان کے وقتی علاج پیش کر کے دونوں ہاتھوں سے مال بنارہے ہیں ۔ یہ طبقہ غیر مسلح رہ کر بھی دہشتگردی پھیلارہاہے۔
    سراج الحق نے کہا کہ ملک میں پنجابی سندھی ،بلوچ اور پٹھان کی نہیں ظالم اور مظلوم کی لڑائی ہے ،آج تک ملک پر افراد اور پارٹیوں کی حکومت رہی جنہوں نے قومی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے ملک مسائلستان بن گیا ،انہوں نے کہا کہ آنے والے بلدیاتی اور قومی انتخابات میں جماعت اسلامی ایک بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی ،انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی اپنی آئندہ نسلوں اور ملک کے مستقبل کی خاطر اپنا انتخابی رویہ بدلنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ سانپوں کو دودھ پلا کر اژدھا بنانے والے اس کے ڈسنے سے محفوظ نہیں رہ سکتے ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی اور قومی انتخابات میں خدمت کے جذبہ سے سرشار عوامی قیادت کو میدان میں اتارے گی۔

Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Senator Sirajul Haq, has expressed deep concern over the growing confrontation in the Gulf and said the US and the Zionist powers were once again trying to make the Muslim world a battle field.

IMG_1928

LAHORE, Mar. 27; Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Senator Sirajul Haq, has expressed deep concern over the growing confrontation in the Gulf and said the US and the Zionist powers were once again trying to make the Muslim world a battle field.

Addressing a large Friday congregation at Mansoora mosque, he said that the protection of the holy land and the Haramain Sharifain was the duty of not Saudi Arabia alone but of the entire Muslim world, and the Muslims all over the world were ready to lay down their lives for the security their spiritual centre. However, he said that there was need for great care and caution besides serious talks.  

He said that like the Iran-Iraq war, the US now wanted to trigger a war between Saudi Arabia and Iran because such a conflict between Muslim states would help the enemy powers to sell their arms and ammunition besides taking over the Muslim world’s resources. He said that Pakistan should try to cool down the situation in order to foil the enemy designs.

Senator Sirajul Haq said that the Muslim world should try to resolve its issues through dialogue and should not provide an opportunity to the forces of Kufr       to achieve its agenda through war between different Muslim states. He said the US and Israel had embarked upon a plan to trigger war between Arab states to sell their weapons and weaken the Muslim world. The situation demanded that the leadership of the Muslim world sat down and resolved their issues through talks and mutual understanding.  

                On the national issues, the JI chief said that all the problems of the country and the nation could be solved with the enforcement of the Shariah. He said that the Quaid e Azam had on more than one hudnred occasions,  stated that the Holy Quran would be the constitution of Pakistan and the Khilafat would be the model for the Islamic state. As such, those talking of secularism were violating the constitution. he said that Pakistan is an Islamic democratic state and a distinction between

religion and non- religion or religious and secular was a wrong interpretation of the constitution.

            Senator Sirajul Haq said that during the last 68 years, Pakistan had been ruled by those who had secured jagirs from the British for betraying the nation and for accepting British slavery.

            He said that the Ji was striving for the supremacy of the constitution and the law. it wanted to bring about an islamic revolution through peaceful, demcoratic struggle and did not believe in underground activities.  

            Sirajul Haq said the primary issue in the country was not of nationalism, ethnicity, Punjabi or Sindhi. The real issue was of the oppressor and the oppressed. The tyrant vaderas wanted to continue the prevailing oppresive system at all costs while the oppressed were trying to get rid of the present system. He said the JI was trying to unite the oppressed and the deprived in order to ensure them their right to live.

امریکہ اور صیہونی قوتیں ایک بار پھر عالم اسلام کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہیں ۔سرزمین حرمین شریفین کی حفاظت صرف سعودی عرب نہیںپوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے روحانی مرکز کے تحفظ کیلئے کٹ مرنے کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس مسئلہ پر انتہائی احتیاط اور باہم گفت و شنید کی ضرورت ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

IMG_0030
لاہور27مارچ2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر افسوس کا اظہار کیاہے ۔ انہوں کہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی قوتیں ایک بار پھر عالم اسلام کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہیں ۔سرزمین حرمین شریفین کی حفاظت صرف سعودی عرب نہیںپوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے روحانی مرکز کے تحفظ کیلئے کٹ مرنے کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس مسئلہ پر انتہائی احتیاط اور باہم گفت و شنید کی ضرورت ہے۔ عراق ایران جنگ کی طرح اب امریکہ ایران اور سعودی عرب میں جنگ چھیڑنا چاہتا ہے۔ عالمی طاقتیں عالم اسلام کو باہم دست و گریبان کرکے اپنا اسلحہ بیچنا اور ان کے وسائل پر قبضہ کرناچاہتی ہیں ۔دشمن کے ان ناپاک عزائم کوناکام بنانے کیلئے پاکستان اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے ۔
سراج الحق نے کہا کہ عالم اسلام کو اپنے مسائل مل بیٹھ کر باہمی گفت و شنید ہی سے حل کرنے چاہئیں اور عالم کفر کو ایسا موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ مسلم ممالک کے درمیان جنگ و جدل سے اپنے مفادات پورے کرسکے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل عالم اسلام کو کمزور کرنے اور اپنا اسلحہ بیچنے کیلئے عرب ممالک میں جنگ کی آگ بھڑ کانے کے مکروہ منصوبے پر عمل پیرا ہےں ،ان حالات میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کی قیادت مل بیٹھ کر اپنے اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل اور باہمی رنجشوں کو دور کرے ۔قومی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر ملک میں نظام شریعت نافذ کردیا جائے توتمام مسائل حل ہوسکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم ؒ نے اپنے قریبا 114خطابات میں پاکستان کا دستور قرآن اور خلافت کو ماڈل حکومت قرار دیا تھا ،انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان میں سیکولر اور لادین نظام کی بات کرنے والے ہیںوہ پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے ،یہاں مذہب اور غیر مذہب اور مذہبی اور سیکولر کی تقسیم کرنا غیر آئینی اور دستور پاکستان کی غلط تعبیر ہے ۔حضور ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں نظام مصطفے ٰ کا نفاذ ہو۔
سراج الحق نے کہا کہ پاکستان پر 68سال سے وہی لو گ قابض ہیں جنہوں نے انگریز کی غلامی کے عوض جاگیریں حاصل کیں ،اور اللہ اور رسول ﷺ اور قوم سے بے وفائی اور غداری کی،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں آئین و قانون کی بالا دستی کیلئے کوشاں ہے اور جمہوری اور آئینی طریقے سے رائے عامہ کو ہموار کرکے ملک میں اسلامی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے، ہم خفیہ طریقوں اور گوریلا کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قومیت ،لسانیت یا پنجابی اور سندھی کا کوئی مسئلہ نہیں ،اصل مسئلہ ظالم اور مظلوم کا ہے ،انہوں نے کہا کہ ظالم وڈیرے اور سرمایہ دار ہر قیمت پر اپنے ظالمانہ نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں جبکہ مظلوم ان کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر کے مظلوموں محروموں اور مجبور وں کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس ظالمانہ شکنجہ کو توڑ کر لوگوں کو آزادی سے جینے کا حق دلایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے 68سال بعد بھی ملک میں استحصالی اور طبقاتی نظام جاری ہے ،ہماری معیشت ،معاشرت اور نظام تعلیم اور نظام حکومت آج بھی وہی ہے جو انگریز دور میں تھا ۔انہوں نے کہاکہ ملک پر آج تک افراداور پارٹیوں کی حکومت رہی جنہوں نے ذاتی اقتدار کو طول دینے کیلئے ملک و قوم کو سنگین بحرانوں سے دوچارکیا ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنا نہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نظام کا غلبہ چاہتی ہے تاکہ یہاں انصاف کا بول بالا ہو اور غریبوں کو بھی زندگی گزارنے کی وہی سہولتیں مل سکیں جو امراءکو حاصل ہیں ۔ 
 

اسلام آباد کی ظالمانہ پالیسیوں نے قبائلی عوام کو اندھیروں میں دھکیل دیاہے ۔ محب وطن قبائلی عوام کے ساتھ اسلام آباد کا ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہاہے ۔ پاکستان کے قبائل کے ساتھ ریڈ انڈین جیسا رویہ رکھا جاتاہے اور ان کے مسائل کا حل ہمیشہ آپریشن ہی کو سمجھا جاتاہے جبکہ یہاں کے بچوں کو قلم اور کتاب ، نوجوانوں کو روزگار اور بزرگوں کو عزت و احترام دینے کی ضرورت ہے ۔ امیرجماعت اسلامی سینیٹرسراج الحق کا شباب ملی فاٹا کے نوجوانوں کے وفد سے گفتگو

IMG_0018

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ اسلام آباد کی ظالمانہ پالیسیوں نے قبائلی عوام کو اندھیروں میں دھکیل دیاہے ۔ محب وطن قبائلی عوام کے ساتھ اسلام آباد کا ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک رہاہے ۔ پاکستان کے قبائل کے ساتھ ریڈ انڈین جیسا رویہ رکھا جاتاہے اور ان کے مسائل کا حل ہمیشہ آپریشن ہی کو سمجھا جاتاہے جبکہ یہاں کے بچوں کو قلم اور کتاب ، نوجوانوں کو روزگار اور بزرگوں کو عزت و احترام دینے کی ضرورت ہے ۔ قبائلی علاقوں میں تعلیمی ادارے ہیں نہ میڈیکل اور انجینئرنگ کالجز اور یونیورسٹیاں ہیں حالانکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح قبائل میں بھی تعلیمی ادارے کھولے ۔ اسی محرومی کے احساس کے وجہ سے 1971 ء میں بہت بڑا سانحہ رونما ہوچکاہے ۔ ایسے سانحات سے بچنے کے لیے حکومت کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔ دہشتگردی کے خاتمہ کے لیے قبائلی عوام کے دلوں کو جیتنے کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے شباب ملی فاٹا کے صدر شاہجہاں کی قیادت میں فاٹا کے علاقوں کے نوجوانوں کے وفد سے اپنی رہائش گاہ پر ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ 

سراج الحق نے کہاکہ پرویز مشرف کراچی میں الطاف حسین کی جگہ لینا چاہتے ہیں ۔وہ چاہتے ہیں کہ ایم کیو ایم کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو وہ پر کریں اگر ایسا ہوا تو یہ کراچی کے عوام کے ساتھ ان کا ایک اور دھوکہ ہوگا ۔ سراج الحق نے کہاکہ گورنر ہاؤس سندھ مجرموں کا سرپرست اورجرائم میں ملوث پایا گیاہے ۔ کراچی میں بوری بند لاشوں ، بھتہ خوری اور ٹارگٹ کلنگ کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے کراچی کے عوام کو گھروں سے باہر آناہوگا اورمحب وطن اور دیانتدار قیادت کا انتخاب کرناہوگا ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ گورنر سندھ کو فوری طور پر برطرف کیا جائے تاکہ کراچی میں مجرموں کو مزید ریلیف نہ مل سکے ۔ سراج الحق نے کہاکہ بعض ممالک اور سامراجی قوتیں اب بھی درپردہ دہشتگردوں کو بچانے کی کوشش میں ہیں ۔
شاہ جہان آفریدی نے مطالبہ کیاکہ قبائلی علاقوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جائے اور جس طرح سپریم کورٹ نے ملک کے دیگر علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کروانے کا اعلان کیاہے ، سپریم کورٹ قبائلی علاقوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کا اعلان کرے ۔جس پر سراج الحق نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ ایوان بالا میں بھی اس حوالے اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔

حکومت مغربی ایجنڈے پر چلی تو اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی: سراج الحق و دیگر رہنماﺅں کا اتحاد امت کانفرنس سے خطاب 

SARAJ UL HAQ-2

           لاہور 25مارچ2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکومت مغربی ایجنڈے پر چلتی رہی تو اپنی مدت پوری نہیں کر پائے گی۔ مسجد کے منبر و محراب اسلام کا مورچہ اور میزائل ہےں ، ان سے ٹکرانے والا پاش پاش ہو جائے گا۔ آج تک کسی مسجد میں پاکستان کا جھنڈا نہیں جلایا گیا قومی پرچم جلانے والی جماعت ایوان میںبیٹھی ہے ،اتحاد امت کے لیے ملی یکجہتی کونسل کے ساتھ ہیں، دہشت گردی اس ملک کے عوام کے لیے پرویز مشرف کا تحفہ ہے۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں ملی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام اتحاد امت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ملی یکجہتی کونسل اس کانفرنس پر مبارکباد کی مستحق ہے اس وقت کراچی سے خیبر تک ہر مسلمان اس اتحاد کی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اتحاد امت کی طرف یہ سفر بہت تیز تو نہیں لیکن ایک اہم سفر ہے انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت قوم کے ہر فرد کا ایشو ہے اور یہ کام ایک عام مسلمان سے قبل تمام مسلم حکمرانوں کا تھا اور اگر وہ مدینہ میں اس حوالے سے نبی کریم کے قدموں میں بیٹھ جاتے تو کسی اور اقدام کی ضرورت ہی نہ تھی۔انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے 57 اسلامی ممالک کے سربراہ ایک طرف اور عوام دوسری طرف ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم سفیروں سے ملاقات کر کے اس ایشو کو اٹھائیں گے اور انہیں بتائیں گے کہ ایک پر امن دنیا کے لیے ضروری ہے کہ تمام انبیاءکی ناموس کا تحفظ کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ سیاست انبیاءکا مشن ہے پاکستان کے آئین میں اسلام کو اولیت ہے اور یہ اسلام کے نام پر بنا ہے ہم پاکستان میں 1973ءکے آئین پر عمل چاہتے ہیں اس سے پاکستان اسلامی فلاحی ریاست بنے گا۔ بد قسمتی سے حکمران مسلسل آئین کی خلاف ورزی کرتے چلے آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مسلح دہشت گردی اس ملک کے عوام کے لیے پرویز مشرف کا تحفہ ہے اور اس بربادی کااصل ذمہ دار پرویز مشرف ہے یہاں سیاسی و معاشی ہر طرح کی دہشت گردی ہے ،مسجد کا منبر و محراب اسلام کا مورچہ اور میزائل ہے جو اس سے ٹکرائے گا ابرہہ کی طرح پاش پاش ہو جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جو علماءکی بے عزتی کرے گا ہم گریبان پکڑیں گے۔ انہوں نے کہاکہ نیٹو کا اسلحہ کس مسجد سے برآمد ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ 258 مزدور کسی مسجد کے طالب علم نے جلائے یا ایک سیاسی جماعت کے کارکن نے چلائے۔انہوں نے کہا کہ کسی مسجد میں پاکستان کا جھنڈا نہیں جلایا گیا بلکہ اس سیاسی جماعت نے جلایا ہے جو ایوان میں موجود ہے، انہوں نے کہا کہ اب لعن طعن کی سیاست نہیں ہو گی بلکہ یہ رائٹ اور رانگ کی سیاست کا وقت ہے اگر حکومت مغربی ایجنڈے پر چلی تو اپنی مدت پوری نہیں کرے گی انہوں نے کہا کہ امت کو ایک کرنے کے لیے ہم ملی یکجہتی کونسل کے ساتھ ہیں۔قبل ازیں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت الدعوة کے مرکزی رہنماپروفیسر امیر حمزہ نے کہا کہ جس طرح عالم کفر متحد ہے اسی طرح مسلم ممالک بھی ملکر حرمت رسول ﷺ کے لیے ڈٹ جائیں بلکہ ہر مسلمان ملک میں ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے حوالے سے ایک الگ وزارت بنائیں۔ ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدرحافظ عاکف سعید نے کہا کہ اس وقت یورپ میں توہین رسالت کے لیے ایک جامع پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چاند پر تھوکنے والا اپنے منہ پر ہی تھوکتا ہے تاہم افسوس کہ پونے دو ارب کے قریب مسلمان دنیا میں آباد ہیں لیکن رسول ﷺ کی ناموس کی حفاظت نہیں ہو پارہی ہے۔ علامہ سید ساجد نقوی سینئر نائب صدر ملی یکجہتی کونسل نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کے لیے اس وقت عملی اقدام کی شدید ضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس فکری انتشاری کے دور میں دینی قوتوں کے درمیان مزید یکجہتی کی ضرورت ہے ۔اس حوالے سے 10 اپریل کو جامع الکوثر میں علماءکی کانفرنس ہو گی۔امت اس وقت امن اور اتحاد کے لیے ترس رہی ہے پہلے اتحاد ہو گا تو پھر تحفظ ہو گا۔۔ ملی یکجہتی کونسل کے نائب صدر اور تنظیم وفاق المدارس دینیہ کے نائب صدر نیاز حسین نقوی نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں بیس ہزار مدارس اور پچیس لاکھ سے زائد طلباءہیں۔انہوں نے آغاز اسلام میں مساجد ہی مدارس بھی تھے بد قسمتی سے مدارس کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا ہے اور ہر غلط کام یا دہشت گردی کی ذمہ داری مدارس پرڈال دی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ بد قسمتی سے آج وہ لوگ مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں جو ان کے محافظ ہیں۔یہ مدارس اسلام کے محافظ ہیں۔۔ رابطہ المدارس کے سربراہ شیخ الحدیث مولانا عبد المالک نے کہا کہ دینی مدارس ایمان کے ادارے اور محافظ ہیں اور یہ ہر مسلمان کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ انگریز نے پاک و ہند میں مدارس کو مٹانے کی کوشش کی لیکن قیام پاکستان کے بعد حکومتوں کا فرض تھا کہ وہ مدارس کو قائم کرتے اور انہیں تحفظ فراہم کرتے بد قسمتی سے اس وقت مدارس کی توہین ہو رہی ہے اور مدارس کی توہین کی خواہش رکھنے والے سن لیں مدارس قائم رہیں گے اور انہیں ختم کرنے والے مٹ جائیں گے۔قاری عبد الرشید نے وفاق المدارس کے سیکرٹری جنرل قاری حنیف جالندھری کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ اتحاد امت کانفرنس کے انعقاد پر قائدین مبارکباد کے مستحق ہیں ۔انہوں نے کہا کہ مدارس اور عبادتگاہوں پر حملے دشمنوں کی سازش ہے ان کا تحفظ اسی صورت ہو گا جب آپس میں اتحاد ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی کے پی کے سابق سینیٹر پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ خطبات جمعہ اتحاد امت کے راستے میں ایک بہترین ذریعہ کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی حفاظت کے لیے باہمی اتفاق اتحاد کی ضرورت ہے۔جمعیت علمائے اسلام نظریاتی کے زبیر احمد نے کہا کہ مدارس اور مساجد کے تحفظ کے لیے فرقہ وارایت سے پاک نصاب تعلیم اور خطبہ جمعہ ہی ملک میں امن لا سکتا ہے۔کانفرنس سے پیر محفوظ مشہدی ، اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر علامہ سعید افتخار حسین نقوی ، دیوان سید آل حبیب علی خان اور مولانا محمد امجد نے بھی خطاب کیا ۔
           

امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے الائیڈ بینک کے ریٹائرڈ ملازمین کے جرگہ کی ملاقات،ملازمین نے درپیش مسائل سے آگاہ کیا ،سراج الحق نے مسائل کے حل کیلئے ایوان بالا میں آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرادی۔جبکہ منصورہ لاہور میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے بھی خطاب کیا

IMG_0009

امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے الائیڈ بینک کے ریٹائرڈ ملازمین کے جرگہ کی ملاقات،ملازمین نے درپیش مسائل سے آگاہ کیا ،سراج الحق نے مسائل کے حل کیلئے ایوان بالا میں آواز اٹھانے کی یقین دہانی کرادی ۔گذشتہ روز امیرجماعت اسلامی سراج الحق سے المرکز الاسلامی پشاور میں الائیڈ بینک سے ریٹائرڈ شدہ ملازمین کے ایک نمائندہ جرگہ نے ڈاکٹرحبیب الرحمان اور محمد ارشاد تنولی کی قیادت میں ملاقات کی اور انکو درپیش مشکلات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ الائیڈ بینک کے ریٹائرڈ ملازمین سے انتہائی امتیازی سلوک جاری ہے دس سال پہلے پینشن پر جانے والے وہی پنشن لے رہے ہیں ملازمین کی چھٹیاں بھی کھائی گئیں ہیں اور استحصال کی جارہی ہے جسکی وجہ سے ایسے ملازمین بھی موجود ہیں جو آج بھی ایک سو پچاس روپے تنخواہ لے رہے ہیں ۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان بالا میں عام آدمی کا ایک نمائندہ ہوں اور اشرافیہ کے ہاتھوں پھسے ہوئے طبقے کی ترجمانی ایوان بالا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ پاکستان بھر کے الائیڈ بینک کے ملازمین کے مسائل کے حل کیلئے ایوان بالا میں بھرپور آواز اٹھاؤنگا اور مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز و سفارشات پیش کرونگا۔دریں اثناء منصورہ لاہور میں مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ کرچی کئی عشروں سے بدامنی کی آگ میں جل رہاہے ۔ ہزاروں لوگ ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوری کا شکار ہو چکے ہیں ۔ حالیہ آپریشن میں پکڑے گئے مجرموں کے بیانات سے واضح اشارے ملے ہیں کہ اس میں کراچی کی لسانی تنظیم ملوث ہے اور اس کے ذمہ داران کے ایما پر کئی سرکاری افسران اور بااثر لوگ قتل کیے گئے ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مجرم گورنر ہاؤس میں پناہ لیتے ہیں اور انہیں وہاں تحفظ ملتاہے ، اس لیے یہ ضروری ہے کہ گورنر سندھ کو فوری طور تبدیل کیا جائے ۔ اجلاس میں نائب امراء راشد نسیم ،حافظ محمد ادریس ،میاں محمد اسلم ،سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ ،امیر جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخواہ پروفیسر محمد ابراہیم خان ،امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم و دیگر بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کراچی کو جرائم سے پاک کرنے کے لیے گورنر سندھ کی تبدیلی ضروری ہے اس کا مطالبہ تحریک انصاف نے بھی کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ بیرونی طاقتیں کراچی کے معاملات میں مداخلت کر رہی ہیں ان کی کوشش ہے کہ آپریشن میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ نرمی برتی جائے ۔ حکومت اور فوج اگر سنجیدہ ہے اور ملک سے دہشتگردی کو ختم کرناچاہتی ہے تو انہیں بے لاگ انصاف کرنا اور مجرموں سے سختی کے ساتھ نپٹنا پڑے گا ۔ اگر اس موقع پر کوئی دباؤ قبول کیا گیا اور مجرموں کو رعایت دی گئی تو اس کے سنگین اور دور رس نتائج نکلیں گے، ملک اور خصوصاً کراچی کا امن خواب و خیال بن کر رہ جائے گا ۔
سراج الحق نے کہاکہ تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان جوڈیشل کمیشن پر جو اتفاق ہواہے ، وہ خوش آئند ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت بلاتاخیر اور جلد از جلد جوڈیشل کمیشن تشکیل دے ۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار بھی کیا کہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بعد تحریک انصاف اسمبلیوں میں حاضر ہو جائے گی ۔ سراج الحق نے کہاکہ ملک سخت بحران سے دوچار ہے ۔ مہنگائی ، کرپشن ، بے روزگاری ، بدامنی نے عام آدمی کا جینا حرام کر رکھاہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ آپس میں لڑنے کے بجائے ان مسائل کے خاتمہ کے لیے متحد ہو کر کوشش کریں ۔

پاکستان ایک نظریے، ایک فلسفے، ایک وژن، ایک نصب العین اور ایک واضح مقصد کا نام ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور ہزاروں، لاکھوں شہداءاور مجاہدین نے یہ ملک چند وڈیروں، جاگیرداروں اور کرپٹ اشرافیہ، کرپٹ بیوروکریٹس کے لیے حاصل نہیں کیا، بلکہ ان کی یہ لازوال جدوجہد اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے تھی۔سراج الحق کا اسلام آباد میں استقبالیہ سے خطاب

 pic sirajul haq (3)

 
لاہور23مارچ2015ء
    امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان ایک نظریے، ایک فلسفے، ایک وژن، ایک نصب العین اور ایک واضح مقصد کا نام ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح ؒ اور ہزاروں، لاکھوں شہداءاور مجاہدین نے یہ ملک چند وڈیروں، جاگیرداروں اور کرپٹ اشرافیہ، کرپٹ بیوروکریٹس کے لیے حاصل نہیں کیا، بلکہ ان کی یہ لازوال جدوجہد اس ملک میں اسلامی نظام کے قیام کے لیے تھی۔ یہی کرپٹ اشرافیہ، وڈیرے، جاگیردار اس ملک کو 68 سال سے لوٹ رہے ہیں۔ آج 23 مارچ کا دن ہے، خوشی و مسرت کا دن ہے، ایک دوسرے کو مبارکباد دینے کا دن ہے، آئیے اس دن عہد کریں کہ اس مملکتِ خداداد پاکستان کو قائد اعظم علیہ الرحمة کی سوچ اور لاکھوں شہداء اور مہاجرین کی لازوال قربانیوں کے طفیل حقیقی معنوں میں ایک اسلامی پاکستان بناکر رہیں گے( انشاءاللہ!)۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہارانہوں نے اسلام آباد میں ساو ¿تھ ایشین فٹس آل چمپین شپ کی فاتح پاکستانی کم عمر نوجوانوں کی ٹیم کے اعزاز میں دیے گئے استقبالیے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    سراج الحق نے کہا کہ انتہائی مسرت کا مقام ہے کہ آج 7 سال بعد یومِ پاکستان کے موقع پر پریڈ کا انعقاد ہوا ہے۔ پوری قوم خوشی، عزم، اتحاد و اتفاق کےساتھ آگے بڑھنے کے عزم سے سرشار اور پُرجوش ہے۔ پاکستان کی بری، بحری اور فضائی افواج نے آج اس پریڈ میں اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ میں پاک فوج اور پوری قوم کو اس شاندار پرفارمنس پر مبارکباد دیتا ہوں۔ یومِ پاکستان کی مناسبت سے افواج ِ پاکستان کی آج کی تقریب سے قوم کو حوصلہ ملا۔ ہم بھی فوج کو مبارکباد دیتے ہیں اور عزم کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم پُرعزم اور (انشاءاللہ) ناقابلِ تسخیر قوم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے رنگ و نسل، مذہب و مسلک کی سوچ سے بالاتر ہوکر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج صدرِ پاکستان جناب ممنون حسین صاحب نے یومِ پاکستان پر اپنی تقریر کے دوران حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک و قوم کو معاشی مسائل کا سامنا ہے اور اس کی بنیادی وجہ مِس منیجمنٹ اور کرپشن ہے۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کرپشن کے اس ناسور کا علاج کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ساو ¿تھ ایشین فُٹس آل چمپین شپ میں پہلی بار حصہ لیتے ہوئے چمپین شپ جیتنے والی پاکستانی حوصلہ مند نوجوانوںکی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت نے سرپرستی نہیں کی تو کیا ہوا، پوری قوم آپ جیسے حوصلہ مند بچوں کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ خواہش ہے کہ فُٹس آل کی طرح پاکستان کھیلوں کے تمام بین الاقوامی ایونٹس میں جیت کر آئے۔
    سراج الحق نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ قوم 68 سال سے ملک لوٹنے والوں کا محاسبہ کرے اور آئندہ الیکشن کو کرپٹ مافیا ، اشرافیہ اور جاگیرداروں کے یومِ حساب بنادے۔استقبالیہ تقریب میں فُٹس آل فیڈریشن پاکستان کے اعلیٰ عہدیداروں سمیت، قومی اسمبلی میں جماعتِ اسلامی پاکستان کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اللہ، جماعتِ اسلامی اسلام آباد کے امیر زبیر فاروق خان، امیر جماعتِ اسلامی
راولپنڈی شمس الرحمن سواتی، شبابِ ملی پاکستان کے صدر زبیر احمد گوندل، صدر شبابِ ملی اسلام آباد شاہد گوندل سمیت مقامی جماعت کے دیگر عہدیداروں اور صحافی برادری کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔