پاکستان اور ترکی قائدانہ کردار ادا کرکے یمن کا مسئلہ حل کرائے ‘ امیر جماعت اسلامی سراج الح

a1

 جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکی قائدانہ کردار ادا کرکے یمن کا مسئلہ حل کرائے کیونکہ خلیج کی لڑائیوں کا فائدہ اسرائیل کو ملتا ہے جبکہ نقصان عالم اسلام کا ہوتا ہے اس لئے پاکستان اس مسئلے کے حل میں مؤثر کردار ادا کرے ۔ وہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خان خٹک ‘قائمقام گورنر اسد قیصر اور ارکان قومی ‘صوبائی اسمبلی و سینٹ کے اعزاز میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کی جانب سے دیئے گئے عشایئے کے موقع پر اظہار خیال کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے قومی وحدت اور اتفاق کی ضرورت ہے سب لوگوں بالخصوص سیاسی لیڈر شپ کو مل کر ملک کو کرپشن ‘ غربت‘ بیروزگاری ‘ مہنگائی‘ بد امنی اور لوڈ شیڈنگ سے نجات دلانے کے لئے متحدہ کردار ادا کرنا چاہئے ۔ پاکستان ایٹمی صلاحیت والا ملک ہے اور وہ عالم اسلام کی قیادت کرے ۔ سعودی عرب اور یمن کے مابین تنازعہ کو بڑھانے کی بجائے اس مشکل کو حل کرنے کے لئے کردار ادا کرنا چاہئے ۔ سعودی عرب کے ساتھ مفادات بھی وابستہ ہیں لیکن اس سے ہمارا روحانی تعلق بھی ہے ۔ دنیا میں صرف دو ایسے ممالک ہیں جن سے ہمارے قومی تعلقات ہیں جن میں ایک سعودی عرب اور دوسرا چین ہے ۔ ان ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ اثر انداز نہیں ہوتے ۔ ہم نے اپنے ملک میں بھی بحرانوں کو حل کرنے کے لئے مذاکرات اور پر امن راہ اختیار کی ہے عالم اسلام کے مابین تنازعات کے حل کے لئے بھی ایسی کوششیں کی جانی چاہئیں جس میں پاکستان اور ترکی کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہئے ۔ اس طرح کے حالات میں آل پارٹیز کانفرنس بلانی چاہئے یہاں اس حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی ۔ قومی اتفاق رائے کے لئے کوششیں کی جائیں ۔ حرمین شریفین کی حفاظت عالم اسلام کی ذمہ داری ہے ۔ اسلام بھی ہمیں مسلمانوں کے مابین تنازعات کے حل کے لئے صلح کا درس دیتا ہے ۔ انہوں نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کو سینٹ انتخابات میں زبردست کردار ادا کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے ضمیر کے سودے کرنے والوں کو ناکام بنا دیا ۔ کروڑوں روپے کی پیشکش کو ٹھکرا کر اپنے ضمیر کا سودا ہونے نہیں دیا ۔ انشاء اللہ وہ دور واپس نہیں آئے گا جب لوگ کروڑوں لے کر پارلیمنٹ تک پہنچا کریں ۔ جن پارٹیوں کے ارکان بک گئے ہیں ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑنا ان کی قیادتوں کا کام ہے ۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پرویز خٹک کو بہترین حکمت عملی پر خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں بھی خیبر پختونخوا دیگر صوبوں کی قیادت کرے ۔

Advertisements

پاکستان اور ترکی کے وزرائے اعظم مل کر سعودی عرب اور یمن میں مصالحت کا راستہ نکالیں ،جنگ بہت بڑی تباہی کا نام ہے ، ہمیں سعودی عرب کی سلامتی عزیز ہے ،حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ کی ہے ، حجاز مقدس کی حرمت اور ناموس پر دنیا بھر کے مسلمان کٹ مرنے کیلئے تیار ہیں ۔حکومت جوڈیشل کمیشن کا قیام اس معاہدے کی تمام شقوں کے مطابق کرے جن پر دونوں فریقین کا اتفاق ہوا تھا ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

pic (1)

لاہور 30مارچ2015 ء  
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے وزرائے اعظم مل کر سعودی عرب اور یمن میں مصالحت کا راستہ نکالیں ،جنگ بہت بڑی تباہی کا نام ہے ، ہمیں سعودی عرب کی سلامتی عزیز ہے ،حرمین شریفین کی حفاظت کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ کی ہے ، حجاز مقدس کی حرمت اور ناموس پر دنیا بھر کے مسلمان کٹ مرنے کیلئے تیار ہیں ۔حکومت جوڈیشل کمیشن کا قیام اس معاہدے کی تمام شقوں کے مطابق کرے جن پر دونوں فریقین کا اتفاق ہوا تھا ،ایم کیو ایم اپنا مسلح ونگ ختم کرکے ٹارگٹ کلنگ ،بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کے کاروبار میں ملوث کارکنوں کو قانون کے حوالے کردے ،کراچی آپریشن سیاسی نہیں کراچی کو جرائم اور دہشت گردی سے پاک کرنے کے مقاصدکیلئے ہونا چاہئے ۔30مئی کو خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے ،پنجاب اور سندھ کی حکومتیں بھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا جلد اعلان کریں ۔پنجاب میں کسانوں کے مطالبات سننے کی بجائے ان پر بدترین تشدد کیا گیا خادم پنجاب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کریں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے منڈی بہاولدین میں بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔جلسہ سے چوہدری ریاض فاروق ساہی نے بھی خطاب کیا ۔اس موقع پر ضلعی امیر چوہدری ریاض وڑائچ ،نواز ساہی بھی موجودتھے ۔سراج الحق نے بعد ازاں ریاض فاروق ساہی کے بھتیجے کاشف نواز ساہی کی دعوت ولیمہ میں بھی شرکت کی ۔
    سراج الحق نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ سعودی عرب میں ہے ،سعودی عرب عالم اسلام کا روحانی مرکز اور قائد ہے ،جس کی سلامتی کیلئے امت کا ہر فرد فکر مند ہے ،ہم چاہتے ہیں کہ ترکی اور پاکستان مل کر یمن اور سعودی عرب کے درمیان جنگ کے منڈلاتے بادلوں کو ختم کرنے کی کوشش کریں اور عالم اسلام کے خلاف دشمن کی سازشوں کو ناکام بنادیں ،انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے حکمران باصلاحیت ہیں مجھے امید ہے کہ دونوں مل بیٹھ کر اس تنازعہ کا حل نکال سکتے ہیں۔سراج الحق نے کہا کہ حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق رائے سے عوام کے اندر خوشی اور اطمینان کی لہر دوڑ گئی تھی اوراب حکومت کا فرض ہے کہ وہ بالکل انہی نکات اور معاہدے کی تمام شرائط کے مطابق کمیشن کا قیام عمل میں لائے اور اس سلسلہ میں ابہام کو دور کیا جائے ،سراج الحق نے کہا کہ عوام سیاسی جماعتوں سے اپنے مسائل کے حل کی جو امید یں لگائے بیٹھے ہیںسیاسی جماعتوں کو ان کی طرف توجہ دینی چاہئے۔
    سراج الحق نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کا قیام اور جرائم کا خاتمہ قومی ترقی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے ۔جرائم کے خلاف کراچی میں جاری آپریشن کو متنازعہ بنانے کی کو شش کی جارہی ہے ،انہوںنے کہا کہ کراچی آپریشن کا مقصد صرف جرائم کا خاتمہ ہونا چاہئے ۔انہوں نے کراچی میں تباہ شدہ انفراسٹریکچر کی بحالی کیلئے حکومت سے کراچی کو پانچ سو بلین کا خصوصی پیکیج دینے کا مطالبہ کیا تاکہ شہریوں کو پانی بجلی اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں مل سکیں ۔
    سراج الحق نے کہا کہ پاکستان میں غریبوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے ،غربت بے روزگاری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں نظر نہیں آتی ،انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے جھونپٹریوں میں رہنے والوں کے مسائل پر توجہ نہ دی تو یہ غریب محلوں اور بنگلوں میں رہنے والوں کو بھی چین اور سکون سے نہیں رہنے دیں گے اور اگر یہی حالات رہے تو بہت جلد غربت اور بے بسی کے شکار محلوں کا رخ کریں گے ۔سراج الحق نے لاہور میں کسانوں پر ہونے والے پولیس تشدد اور پکڑ دھکڑ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر کے کسانوں اور کاشکاروں کا کوئی پرسان حال نہیں،انہو ں نے کہا کہ جماعت اسلامی ہر فورم پر کسانوں کے حقوق کے لئے آواز اٹھائے گی ،ہم کسانوں کے ساتھ کھڑے ہیں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کسانوں کے مسائل پر فوری توجہ دی جائے اور ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کیا جائے۔

جماعت اسلامی نے اپنے دروازے عام آدمی کیلئے کھول دیئے ہیں،دیانتدار اور معاشرے میں اچھی شہرت کے حامل لوگ جماعت اسلامی کے ممبر بن کر ہر سطح کی ذمہ داریوں تک پہنچ سکتے ہیں،اس مقصد کیلئے جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور کارکنان 3تا 15اپریل ملک بھر کے پانچ سو شہروں اور ہزاروں دیہاتوں ،گاﺅں اور گوٹھوں میں عوام کے پاس جائیں گے اورانہیں اپنے ممبر اور ووٹر بنائیں گے ۔سینیٹر سراج الحق کا منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب

00

لاہور 29مارچ201ء    
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے جماعت اسلامی کے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی ذمہ دار ان کے دوروزہ خصوصی مشاورتی اجلاس کے بعد منصورہ میں پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی نے اپنے دروازے عام آدمی کیلئے کھول دیئے ہیں،دیانتدار اور معاشرے میں اچھی شہرت کے حامل لوگ جماعت اسلامی کے ممبر بن کر ہر سطح کی ذمہ داریوں تک پہنچ سکتے ہیں،اس مقصد کیلئے جماعت اسلامی کے ذمہ داران اور کارکنان 3تا 15اپریل ملک بھر کے پانچ سو شہروں اور ہزاروں دیہاتوں ،گاﺅں اور گوٹھوں میں عوام کے پاس جائیں گے اورانہیں اپنے ممبر اور ووٹر بنائیں گے ۔جماعت کے ہر کارکن کو کم از کم ایک سو لوگوں کو جماعت کے ممبر اور ووٹر بنانے کا ہدف دیا گیا ہے ، 12روزہ رابطہ عوام مہم کے دوران ہم ایک کروڑ لوگوں کو جماعت اسلامی میں شامل کریں گے ۔اقلیتوں پرمشتمل پاکستانی برادری ہندو ،سکھ اور عیسائیوں کو بھی جماعت اسلامی کے کارکن بنایا جائے گاتاکہ 68سال سے ملکی اقتدار قابض انگریز کے غلاموں اور استعمار کے ایجنٹوں سے 18کروڑ عوام کو نجات دلائی جاسکے ،جماعت اسلامی آئندہ بلدیاتی اور قومی انتخابات میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی ۔اس موقع پرجماعت اسلامی کے نائب امراءمیاں محمد اسلم ،حافظ محمد ادریس سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ اور سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم اور شاہد شمسی بھی موجود تھے ۔
    سراج الحق نے کہا کہ اب پاکستان اور ظالم ایک ساتھ نہیں چل سکتے ،ملک میں قومیتوں کی نہیں امیر اور غریب اور ظالم اور مظلوم کی لڑائی ہے ،انہوں نے کہا کہ اسی ظالم طبقہ کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا اور ہمارا ایک بازو ہم سے جدا ہوگیا ،اب اس طبقہ کوملک و قوم کی تقدیر سے مزید کھیلنے کا موقع نہیں دیں گے ،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ حالات کو کوسنے اور سر پر ہاتھ رکھ کر روتے رہنے سے کچھ نہیں ہوگا مسائل حل کرنے کیلئے قوم کو اٹھنا اور ظالموں لٹیروں اور کرپشن کے بادشاہوں کے خلاف جماعت اسلامی کے ساتھ مل کر جدوجہد کرنا ہوگی ،انہوں نے کہا کہ پاکستان کا عام آدمی جماعت اسلامی کے پاکیزہ کردار کی گواہی دیتا ہے ،عوام جانتے اور ببانگ دہل ہماری پاک دامنی کا اعتراف کرتے ہیں لیکن اب اس محبت اور تعریف سے آگے بڑھ کر انہیں پاکستان کو جاگیر داروں وڈیروں اور سرمایہ داروں سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کے کندھے کے ساتھ کندھا اور قدم کے ساتھ قدم ملا کرچلنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہمارے بڑوں نے ہندوﺅ ں اور انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کیلئے بے مثال قربانیاں پیش کیں اس آزادی کو برقرار رکھنے اور انگریز اور مغربی استعمار کے 68سالہ ظالمانہ شکنجے کو توڑنے اور دور غلامی کا خاتمہ کرنے کیلئے بھی ایک بڑی عوامی تحریک کی ضرورت ہے ،انہوں نے کہا کہ یہاں ظالم متحد اور مظلوم منتشر ہیں ،ہم آئین کی حکمرانی پر یقین رکھنے والے جمہوری لوگ ہیںاور آئینی اور جمہوری طریقے سے عوام کی مدد سے ملک میں اسلامی انقلاب برپا کرنا چاہتے ہیں ،تاکہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ کرکے عوام کے غصب شدہ حقوق انہیں دلائے جاسکیں ۔انہوں نے کہا کہ میں خود کراچی ،اسلام آباد لاہور اور پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں جاکر براہ راست عوام کو جماعت میں شامل کروں گا،میرا اصل ہدف معاشرے کا پسا ہوا اور غریب طبقہ ہے جس میں تانگہ ریٹرھی والے ،جوتے بنانے اور کپڑے سینے والے ،فٹ پاتھ پر بیٹھنے والے غریب اور بے سہارا لوگ ہیں ۔
    خلیج کی صورتحال پر میڈیا کے نمائندوں کے سوالوں کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ خلیج کی جنگ سے ہمیشہ اسرائیل اور امریکہ نے فائدہ اٹھایا اور مسلمانوں کو آپس میں لڑا کرانہیں کمزور اور ان کے وسائل پر قبضہ کیا ،انہوں نے کہا کہ عالمی استعمار کی عالم اسلام کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے امت کے بڑوں کو مل بیٹھنا چاہئے اور پاکستان اور ترکی کو اس میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ایران اور سعودی عرب میں مزید تناﺅ نہ ہو،گزشتہ صدی میں ایران عراق جنگ کی وجہ سے لاکھوں مسلمان لقمہ اجل بنے ،اس لئے اب ایسی نوبت نہیں آنی چاہئے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنا اسلحہ بیچنے کیلئے خلیج کو ایک بار پھر میدان جنگ بنانا چاہتا ہے ۔   
           

ملک پر مسلط ظالمانہ نظام کوجڑ سے اکھاڑ کرپھینکنے کیلئے عوام جماعت اسلامی کے دست وباز و بن جائیں ،گزشتہ 68سال سے ملکی اقتدار پر قابض لوگوں کو ملک و قوم کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ہر حکومت میں ایک ہی طبقہ اشرافیہ کے لوگ شامل ہیں جو ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ اور اقتدار کوسہارا دیتے ہیں۔جماعت اسلامی اپنے مقاصد پر سمجھوتہ کیے بغیر اپنی تنظیم میں توسیع کیلئے وقت اور حالات کے مطابق اپنی پالیسیاں بدل رہی ہے۔ مستقبل قریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو جماعت اسلامی میں شامل کرکے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی ۔سراج الحق کا منصورہ میں مرکزی ،صوبائی اور ضلعی ذمہ دار ان کی دوروزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ سے خطاب

siraj 28

لاہور28مارچ2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں جاری جماعت اسلامی کے مرکزی ،صوبائی اور ضلعی ذمہ دار ان کی دوروزہ خصوصی تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک پر مسلط ظالمانہ نظام کوجڑ سے اکھاڑ کرپھینکنے کیلئے عوام جماعت اسلامی کے دست وباز و بن جائیں ،گزشتہ 68سال سے ملکی اقتدار پر قابض لوگوں کو ملک و قوم کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں۔ہر حکومت میں ایک ہی طبقہ اشرافیہ کے لوگ شامل ہیں جو ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ اور اقتدار کوسہارا دیتے ہیں۔جماعت اسلامی اپنے مقاصد پر سمجھوتہ کیے بغیر اپنی تنظیم میں توسیع کیلئے وقت اور حالات کے مطابق اپنی پالیسیاں بدل رہی ہے۔ مستقبل قریب میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کو جماعت اسلامی میں شامل کرکے انہیں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں گی ۔کھیلوں اور کلچر کے میدان میں نمایاں کارکردگی کے حامل نوجوانوں کو پورے ملک میںجماعت کے نظم میں سمویا جائے گا۔خواتین ،اساتذہ ،وکلاء،کسانوں مزدوروں اور طلباءو نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد کو جماعت کے کارکن بنایا جائے گا۔
    سراج الحق نے کہا کہ کیمونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی شکست اور ناکامی کے بعد اب عالمی سطح پر موجود خلا کو پر کرنے کیلئے اسلامی تحریکوں کے پاس بہترین موقع ہے ،حالات کا تقاضا ہے کہ عالم اسلام اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر دنیا کو اسلام کے عدل و انصاف اور مساوات پر مبنی نظام سے روشناس کرائے ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں اسلامی انقلاب کیلئے ہر طرح کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہے ،ہم ملک میںایسا نظام حکومت چاہتے ہیںجس میں انسان ایک دوسرے کے غلام اور محتاج نہ ہوں اور سب کو یکساں حقوق مل سکیں ،انہوں نے کہا کہ اقتدار پر قابض ظالم جاگیرداروں اور بے رحم سرمایہ داروں نے ملک میں غربت ،جہالت ،مہنگائی بے روزگاری اور بدامنی کو ختم کرنے کی بجائے اسے فروغ دیا ہے ،مقتدر طبقہ نہیں چاہتا کہ ملک کے غریب غرباءکسان اور محنت کش ان کے برابر بیٹھ سکیں اس لئے انہوں نے ایک منصوبہ کے تحت عوام کو ایسے سنگین مسائل میں الجھا رکھا ہے کہ وہ ہمیشہ عسرت ،تنگ دستی اور پیٹ کی آگ بجھانے کی فکر میںمبتلا رہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس استحصالی طبقے میں نیا اضافہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھی ہو گیاہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے زرعی میدان میں بیماریاں پیدا کرتے ہیں اور پھر ان کے وقتی علاج پیش کر کے دونوں ہاتھوں سے مال بنارہے ہیں ۔ یہ طبقہ غیر مسلح رہ کر بھی دہشتگردی پھیلارہاہے۔
    سراج الحق نے کہا کہ ملک میں پنجابی سندھی ،بلوچ اور پٹھان کی نہیں ظالم اور مظلوم کی لڑائی ہے ،آج تک ملک پر افراد اور پارٹیوں کی حکومت رہی جنہوں نے قومی مفادات پر اپنے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جس کی وجہ سے ملک مسائلستان بن گیا ،انہوں نے کہا کہ آنے والے بلدیاتی اور قومی انتخابات میں جماعت اسلامی ایک بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی ،انہوں نے کہا کہ عوام کو بھی اپنی آئندہ نسلوں اور ملک کے مستقبل کی خاطر اپنا انتخابی رویہ بدلنا ہوگا،انہوں نے کہا کہ سانپوں کو دودھ پلا کر اژدھا بنانے والے اس کے ڈسنے سے محفوظ نہیں رہ سکتے ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی بلدیاتی اور قومی انتخابات میں خدمت کے جذبہ سے سرشار عوامی قیادت کو میدان میں اتارے گی۔

Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Senator Sirajul Haq, has expressed deep concern over the growing confrontation in the Gulf and said the US and the Zionist powers were once again trying to make the Muslim world a battle field.

IMG_1928

LAHORE, Mar. 27; Ameer, Jamaat e Islami, Pakistan, Senator Sirajul Haq, has expressed deep concern over the growing confrontation in the Gulf and said the US and the Zionist powers were once again trying to make the Muslim world a battle field.

Addressing a large Friday congregation at Mansoora mosque, he said that the protection of the holy land and the Haramain Sharifain was the duty of not Saudi Arabia alone but of the entire Muslim world, and the Muslims all over the world were ready to lay down their lives for the security their spiritual centre. However, he said that there was need for great care and caution besides serious talks.  

He said that like the Iran-Iraq war, the US now wanted to trigger a war between Saudi Arabia and Iran because such a conflict between Muslim states would help the enemy powers to sell their arms and ammunition besides taking over the Muslim world’s resources. He said that Pakistan should try to cool down the situation in order to foil the enemy designs.

Senator Sirajul Haq said that the Muslim world should try to resolve its issues through dialogue and should not provide an opportunity to the forces of Kufr       to achieve its agenda through war between different Muslim states. He said the US and Israel had embarked upon a plan to trigger war between Arab states to sell their weapons and weaken the Muslim world. The situation demanded that the leadership of the Muslim world sat down and resolved their issues through talks and mutual understanding.  

                On the national issues, the JI chief said that all the problems of the country and the nation could be solved with the enforcement of the Shariah. He said that the Quaid e Azam had on more than one hudnred occasions,  stated that the Holy Quran would be the constitution of Pakistan and the Khilafat would be the model for the Islamic state. As such, those talking of secularism were violating the constitution. he said that Pakistan is an Islamic democratic state and a distinction between

religion and non- religion or religious and secular was a wrong interpretation of the constitution.

            Senator Sirajul Haq said that during the last 68 years, Pakistan had been ruled by those who had secured jagirs from the British for betraying the nation and for accepting British slavery.

            He said that the Ji was striving for the supremacy of the constitution and the law. it wanted to bring about an islamic revolution through peaceful, demcoratic struggle and did not believe in underground activities.  

            Sirajul Haq said the primary issue in the country was not of nationalism, ethnicity, Punjabi or Sindhi. The real issue was of the oppressor and the oppressed. The tyrant vaderas wanted to continue the prevailing oppresive system at all costs while the oppressed were trying to get rid of the present system. He said the JI was trying to unite the oppressed and the deprived in order to ensure them their right to live.

امریکہ اور صیہونی قوتیں ایک بار پھر عالم اسلام کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہیں ۔سرزمین حرمین شریفین کی حفاظت صرف سعودی عرب نہیںپوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے روحانی مرکز کے تحفظ کیلئے کٹ مرنے کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس مسئلہ پر انتہائی احتیاط اور باہم گفت و شنید کی ضرورت ہے۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

IMG_0030
لاہور27مارچ2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر افسوس کا اظہار کیاہے ۔ انہوں کہا ہے کہ امریکہ اور صیہونی قوتیں ایک بار پھر عالم اسلام کو میدان جنگ بنانا چاہتی ہیں ۔سرزمین حرمین شریفین کی حفاظت صرف سعودی عرب نہیںپوری امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے روحانی مرکز کے تحفظ کیلئے کٹ مرنے کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں لیکن اس مسئلہ پر انتہائی احتیاط اور باہم گفت و شنید کی ضرورت ہے۔ عراق ایران جنگ کی طرح اب امریکہ ایران اور سعودی عرب میں جنگ چھیڑنا چاہتا ہے۔ عالمی طاقتیں عالم اسلام کو باہم دست و گریبان کرکے اپنا اسلحہ بیچنا اور ان کے وسائل پر قبضہ کرناچاہتی ہیں ۔دشمن کے ان ناپاک عزائم کوناکام بنانے کیلئے پاکستان اس آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرے ۔
سراج الحق نے کہا کہ عالم اسلام کو اپنے مسائل مل بیٹھ کر باہمی گفت و شنید ہی سے حل کرنے چاہئیں اور عالم کفر کو ایسا موقع نہیں دینا چاہئے کہ وہ مسلم ممالک کے درمیان جنگ و جدل سے اپنے مفادات پورے کرسکے ،انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل عالم اسلام کو کمزور کرنے اور اپنا اسلحہ بیچنے کیلئے عرب ممالک میں جنگ کی آگ بھڑ کانے کے مکروہ منصوبے پر عمل پیرا ہےں ،ان حالات میں ضروری ہے کہ عالم اسلام کی قیادت مل بیٹھ کر اپنے اختلافات کو افہام و تفہیم سے حل اور باہمی رنجشوں کو دور کرے ۔قومی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اگر ملک میں نظام شریعت نافذ کردیا جائے توتمام مسائل حل ہوسکتے ہیں ،انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم ؒ نے اپنے قریبا 114خطابات میں پاکستان کا دستور قرآن اور خلافت کو ماڈل حکومت قرار دیا تھا ،انہوں نے کہا کہ جو لوگ پاکستان میں سیکولر اور لادین نظام کی بات کرنے والے ہیںوہ پاکستان کے آئین کی خلاف ورزی کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے ،یہاں مذہب اور غیر مذہب اور مذہبی اور سیکولر کی تقسیم کرنا غیر آئینی اور دستور پاکستان کی غلط تعبیر ہے ۔حضور ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے کہ پاکستان میں نظام مصطفے ٰ کا نفاذ ہو۔
سراج الحق نے کہا کہ پاکستان پر 68سال سے وہی لو گ قابض ہیں جنہوں نے انگریز کی غلامی کے عوض جاگیریں حاصل کیں ،اور اللہ اور رسول ﷺ اور قوم سے بے وفائی اور غداری کی،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں آئین و قانون کی بالا دستی کیلئے کوشاں ہے اور جمہوری اور آئینی طریقے سے رائے عامہ کو ہموار کرکے ملک میں اسلامی انقلاب برپا کرنا چاہتی ہے، ہم خفیہ طریقوں اور گوریلا کاروائیوں پر یقین نہیں رکھتے ،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قومیت ،لسانیت یا پنجابی اور سندھی کا کوئی مسئلہ نہیں ،اصل مسئلہ ظالم اور مظلوم کا ہے ،انہوں نے کہا کہ ظالم وڈیرے اور سرمایہ دار ہر قیمت پر اپنے ظالمانہ نظام کو قائم رکھنا چاہتے ہیں جبکہ مظلوم ان کے چنگل سے نجات حاصل کرنے کیلئے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ ہم ملک بھر کے مظلوموں محروموں اور مجبور وں کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس ظالمانہ شکنجہ کو توڑ کر لوگوں کو آزادی سے جینے کا حق دلایا جاسکے ۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے 68سال بعد بھی ملک میں استحصالی اور طبقاتی نظام جاری ہے ،ہماری معیشت ،معاشرت اور نظام تعلیم اور نظام حکومت آج بھی وہی ہے جو انگریز دور میں تھا ۔انہوں نے کہاکہ ملک پر آج تک افراداور پارٹیوں کی حکومت رہی جنہوں نے ذاتی اقتدار کو طول دینے کیلئے ملک و قوم کو سنگین بحرانوں سے دوچارکیا ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنا نہیں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے نظام کا غلبہ چاہتی ہے تاکہ یہاں انصاف کا بول بالا ہو اور غریبوں کو بھی زندگی گزارنے کی وہی سہولتیں مل سکیں جو امراءکو حاصل ہیں ۔