پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کا نظام انگریز کا نافذ کردہ نظام ہے۔ یہ مجرموں کے لئے بنایاگیا تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد اسے آزاد لوگوں پر برقرار رکھا گیا۔اگر ایف سی آر اتنا ہی اچھا نظام ہے تو اسے اسلام آباد میں نافذ کردیا جائے۔ ایف سی آر بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے ۔ اس کی وجہ سے قبائلی علاقے ترقی نہیں کرسکے اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

Press Conference,

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ایف سی آر کا نظام انگریز کا نافذ کردہ نظام ہے۔ یہ مجرموں کے لئے بنایاگیا تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد اسے آزاد لوگوں پر برقرار رکھا گیا۔اگر ایف سی آر اتنا ہی اچھا نظام ہے تو اسے اسلام آباد میں نافذ کردیا جائے۔ ایف سی آر بنیادی انسانی حقوق کے خلاف ہے ۔ اس کی وجہ سے قبائلی علاقے ترقی نہیں کرسکے اور اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ ظلم ، جبر اور لاٹھی کا نظام ہے ، خودی، عزت اور وقار ختم کردیتا ہے ۔ قبائلی اب بیدار ہوچکے۔ ایک لمحے کے لئے بھی یہ نظام برداشت نہیں۔ ابھی تک ایف سی آر میں ترامیم پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ قبائلی اصلاحات چاہتے ہیں لیکن یہ اصلاحات اسلام آباد کی بیوروکریسی نہیں قبائلی عوام کے مشورے سے لائی جائیں ۔ قبائلی علاقوں کو الگ صوبہ یا گلگت بلتستان کے طرزپر منتخب فاٹا کونسل بنائی جائے۔ قبائلی علاقوں میں ایک فرد کے پاس عدالتی اور انتظامی اختیارات ہیں۔وہ سب کا احتساب کرتا ہے لیکن اس کے احتساب کے لئے کوئی ادارہ نہیں۔انتظامی اور عدالتی اختیارات جدا کئے جائیں ۔ پندرہ سال کی بدامنی اور آپریشنز کی وجہ سے قبائلی عوام برباد اورمعاشی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔قبائلی عوام کے لئے آئندہ دس سال کے لئے تمام واجبات معاف کئے جائیں۔ آپریشن کے ذریعے علاقے فتح کئے جاسکتے ہیں لیکن دل محبت سے جیتے جاتے ہیں۔ ایک کروڑ قبائلی پاکستان سے محبت رکھتے ہیں اور بغیر تنخواہ کے پاکستان کی حفاظت کررہے ہیں۔قبائلیوں نے قائد اعظم سے کئے گئے تمام وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کی ہے لیکن اسلام آباد نے محبت کا ثبوت نہیں دیا۔ لاکھوں آئی ڈی پیز دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں۔ حکومت نے اپریل میں ان کی واپسی کا اعلان تو کردیا لیکن کوئی مناسب شیڈول نہیں دیا۔ مقتدر قوتوں کی سوچ میں تبدیلی آرہی ہے۔ قبائلی علاقوں میں بھی تبدیلی کی امید رکھتے ہیں۔ فاٹا کے حقوق کے لئے ہماری جدوجہد پُر امن اور آئین و قانون کے دائرے میں جاری رہے گی۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتے کے روزالمرکز الاسلامی پشاور میں باجوڑ کی سیاسی جماعتوں پر مشتمل باجوڑ سیاسی اتحاد کے وفد کے رہنماؤں کے ہمراہ پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس میں جماعت اسلامی فاٹا کے امیر صاحبزادہ ہارون الرشید، جماعت اسلامی باجوڑ کے امیر مولانا عبدالمجید ، پیپلز پارٹی کے اخونزادہ چٹان ، پاکستان مسلم لیگ ن کے حاجی راحت یوسف ، پاکستان مسلم لیگ ق کے حاجی سید بادشاہ ، اے این پی کے برہان الدین خان ، باجوڑ کی تاجر برادری کے رہنما محمد حمید صوفی اور صحافی برادری کے رہنما حاجی حبیب اللہ سمیت دیگر رہنما بھی موجود تھے۔ قبل ازیں المرکز الاسلامی میں سینیٹر سراج الحق نے باجوڑ سیاسی اتحاد کے وفد سے ملاقات کی اور ان کے مسائل سے آگاہی حاصل کی۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ایف سی آر کی وجہ سے قبائلی علاقوں میں ترقی نہیں ہورہی۔ وہاں سیاسی ،تعلیمی اور سماجی نظام درہم برہم ہے۔ پوری دنیا میں آزادی اور بیداری کی لہر جاری ہے لیکن یہاں پر ابھی تک انگریزوں کا رائج کردہ نظام برقرار ہے۔ آج تمام سیاسی جماعتوں نے اپنے مفادات اور اختلافات بالائے طاق رکھ کر قبائلی علاقوں کی ترقی کا عزم کیا ہے۔ اس وقت قبائلی علاقوں میں مکمل نظام تباہ و برباد ہے۔ تعلیمی ادارے بند ہیں ، سڑکوں کا نظام مفلوج ہے۔ایف سی آر ترقی کے راستے میں سپیڈ بریکر ہے۔ قبائلی علاقوں کے مسائل وہاں کے ماحول اور رسم و رواج کے مطابق ان کے مشورے سے ہی حل ہوسکتے ہیں۔ قبائلی علاقوں کے عوام کو وہ تمام شہری حقوق دئیے جائیں جو آئین پاکستان کے مطابق اسلام آباد کے کسی شہری کو حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام پاکستان سے محبت رکھنے والے ہیں۔ انہوں نے اس ملک کے لئے اپنا خون دیا ہے۔ ملک کے مقتدر لوگ ان کے مستقبل کا فیصلہ لاٹھی اور گولی کی بجائے آزادی ، حقوق ، قلم کتاب اور بنیادی شہری حقوق دے کر کریں۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ وہ فاٹا کے سینیٹرز اور ممبران قومی اسمبلی کے ساتھ بھی مشورہ کریں گے اور قبائلی عوام کے مسائل کا حل مل کر نکالنے کی کوشش کریں گے اور اپنے ذاتی فنڈ کا ایک حصہ قبائلی عوام کے لئے قانون کے مطابق وقف کریں گے۔تحریک انصاف کا مؤقف بھی ہمارے ساتھ ہے اور ان کے بھی یہی مطالبات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آئی ڈی پیز کی مشکلات حل ہوجانی چاہئیں۔حکومت نے اپریل میں ان کی واپسی کا اعلان کیا ہے لیکن کوئی بھی مناسب شیڈول نہیں دیا۔ حکومت ان کی واپسی عزت اور وقار کے ساتھ ممکن بنائے، ان کے تمام مسائل فوری طور پر حل کئے جائیں ۔ اگر ہم نے محسوس کیا کہ حکومت آئی ڈی پیز کی واپسی کے سلسلے میں مخلص نہیں تو ہمارے لئے سو راستے کھلے ہیں۔ مشورے کے ساتھ کوئی راستہ اختیار کریں گے۔ قبائلی عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد شروع کردی ہے اس کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ۔ پُرامن طریقے سے آئین اور قانون کے دائرے کے اندر ہر طریقے سے تحریک چلائیں گے۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s