میں 2015میں الیکشن نہیں دیکھ رہا ،وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہئے ،ہم نہیں چاہتے کہ کوئی حکومت شہید ہوکر یہ کہے کہ اسے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔آئندہ الیکشن حکمرانوں کیلئے یوم الحساب ہو گا ،جو حکومت ڈلیور نہیں کرے گی اسے عوام کے غیظ و غضب کا شکارہونا پڑے گا۔سینیٹر سراج الحق کی منصورہ میں مجلس شورٰی کے اجلاس کے پہلے روز میڈیا سے گفتگو

pic  ameer jip

لاہور30اپریل2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ میں 2015میں الیکشن نہیں دیکھ رہا ،وفاقی و صوبائی حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہئے ،ہم نہیں چاہتے کہ کوئی حکومت شہید ہوکر یہ کہے کہ اسے کام کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔آئندہ الیکشن حکمرانوں کیلئے یوم الحساب ہو گا ،جو حکومت ڈلیور نہیں کرے گی اسے عوام کے غیظ و غضب کا شکارہونا پڑے گا۔موجودہ حکومت کا آدھا پیریڈناکامیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ، حکومت کو چاہئے کہ باقی کا وقت عوام کی خدمت میں دن رات ایک کردے ۔حکومت ابھی تک اپنے منشور پر عمل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے ،حکمرانوں کی طرف سے انتخابات میں کئے گئے وعدے اور دعوے نقش برآب ثابت ہوئے ہیں ،لوڈ شیڈنگ کے خاتمہ سے لے کر نوجوانوں کو روز گار دینے کے نعرے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں ۔جماعت اسلامی نے ملک سے اسٹیٹس کو کے خاتمہ کیلئے بڑی عوامی تحریک شروع کردی ہے ۔ہم عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانا چاہتے ہیں ۔وفاقی و صوبائی حکومتوںنے مزدوروں کے مسائل کے حل کیلئے کچھ نہیں کیا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں جاری مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم و دیگر رہنماءبھی موجودتھے ۔
    سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی کی شوریٰ نے اسٹیٹس کو کے خلاف ایک بڑی جدوجہد کا فیصلہ کیا ہے ،جب تک ملک پر اسٹیٹس کو اور کرپٹ نظام کی حکمرانی ہے غریب کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی ۔حکمران قومی دولت لوٹ کربیرون ملک منتقل کررہے ہیں ،انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کیلئے کسانوں اور مزدوروں کو ساتھ لیکر ایک بڑی تحریک کا آغاز کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پانچ سال کا عرصہ پورا کرے ،ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں سیاسی انارکی ہو اور وقت سے پہلے انتخابات کا ڈھول بجادیا جائے جس سے حکومت کو سیاسی شہید کا درجہ حاصل ہو جائے اور وہ عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے ۔ہم چاہتے ہیں کہ حکومت ڈلیور کرے اور عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت کی نصف ٹرم پوری ہونے کو ہے ،اس عرصہ میں وزیروں اور مشیروں کے دن تو شاید بدل گئے ہوں مگر عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے ۔ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام رہی ہے ،غربت ،مہنگائی ،بے روز گاری اور بدامنی میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہوا ہے ،نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں پکڑے روزگار کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں مگر انہیں نوکریاں نہیں مل رہیں ۔ملک بھر کے مزدور اپنے مسائل کے حل کیلئے حکومتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک اقتدار کے ایوانوں کے دروازے مزدروں کیلئے نہیں کھلیں گے مزدوروں کی حالت نہیں بدلے گی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر مزدوروں کے تمام مطالبات پورے کرے گی ۔
    ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا قیام سیاسی جرگہ کی بہت بڑی کامیابی ہے ،سیاسی جرگہ نے ملک و قوم کو بڑے بحران سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا ۔یمن کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہا کہ یمن کا مسئلہ مقامی ہے اور اسے وہیں دفنا دینا چاہئے ،یمن کے مسئلہ کو شیعہ سنی تنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جو تباہی و بربادی اور فساد فی الارض کے سوا کچھ نہیں ،ہم سعودی عرب کے ساتھ ہیں ،پاکستان کو ترکی کے ساتھ مل کر اس میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہئے ،انہوں نے کہا کہ یمن کی جنگ میں عالم اسلام کا نقصان ہوا ہے جبکہ اسلام دشمن قوتوں کا فائدہ ہے ،سعودی عرب حکومت میں اعلیٰ سطحی تبدیلیوں کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ محسوس ہوتا ہے کہ سعودی حکومت عوام کے خواہش کے مطابق حکومت تشکیل دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ سراج الحق نے کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈز کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور آئندہ بلدیاتی اور عام انتخابات میں جماعت اسلامی ایک بڑی قوت بن کر سامنے آئے گی۔

الطاف حسین کی طرف سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے اور سندھ ون اور سندھ ٹو کا نعرہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی طرف سے نائن زیر پر رینجرز کے چھاپے اور مطلوب مجرموں کوپکڑنے کا ردعمل ہے ۔سراج الحق کا لاہور میں جماعت اسلامی کے ناظمین شعبہ جات کے اجلاس سے خطاب

pic ji meeting12

لاہور28اپریل2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ الطاف حسین کی طرف سے کراچی کو الگ صوبہ بنانے اور سندھ ون اور سندھ ٹو کا نعرہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کی طرف سے نائن زیر پر رینجرز کے چھاپے اور مطلوب مجرموں کوپکڑنے کا ردعمل ہے ۔ لسانی ، مسلکی اور قومیت کی بنیاد پر پاکستان کی جغرافیائی تقسیم سے نئے فتنے کھڑے ہوں گے ۔ انتظامی بنیادوں پر آئینی طریق کار کے مطابق نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اس پر مکمل قومی اتفاق رائے ہو ۔ بات صرف سندھ کی تقسیم تک محدود نہیں رہے گی بلکہ کئی یونٹ اٹھ کھڑے ہوں گے ۔سرائیکی ، ہزارہ ۱، پشتون بیلٹ سمیت کئی علاقوں کے عوام پہلے سے الگ صوبوں کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ہم ملک سے سٹیٹس کو کی سیاست کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ ہم عوام کو ان کے بنیادی حقوق دلانے کی جدوجہد کر رہے ہیں عوام بھی اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے اور سانپوں کو دودھ پلاکر اژدھے بنانے کے رویہ کو ترک کر کے ایسے لوگوں کا انتخاب کریں جو ان کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے لاہور میں جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی شعبہ جات کے ناظمین سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امراءراشد نسیم ، حافظ محمد ادریس اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ بھی موجود تھے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے میں کوئی قباحت نہیں مگر جب تک قومی اتفاق رائے نہ ہو ، اس مسئلے کو اٹھانا ملکی وحدت اور یکجہتی کے لیے خطرناک ہوگا ۔ اگر پاکستان کو لسانی اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی بات چل نکلی تو پھر اس کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ اسلام و پاکستان دشمن چاہتے ہیں کہ 1971 ءکی طرح پاکستان میں ایک بار پھر تعصبات کو ہوا دے کر قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کر دیا جائے ۔انہوں نے کہاکہ اس موقع پر قومی قیادت کو بیدار مغز ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ 68 سال تک ملک میں حکمرانی کرنے والوں نے اگر نظریہ پاکستان سے وفاداری کی ہوتی تو آج قوم مختلف گروہوں میں تقسیم نہ ہوتی ۔ ملک کے آئین پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے آج عوام کے اندر ایک مایوسی اور ناامیدی پائی جاتی ہے ۔ ملکی اقتدار پر قابض ٹولے نے تمام اداروں کو یرغمال بنارکھاہے ۔ اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ ، فوج اور اعلیٰ ترین عہدوں پر انہی وڈیروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے بیٹے بھتیجے اور بھانجے براجمان ہیں ، قوم نے جن لوگوں سے آزادی اور نجات کے لیے ایک تحریک چلائی تھی ،ابھی تک وہی ٹولہ مسلط ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ ملک میں ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے ۔ ظالم متحد اور مظلوم منتشر ہیں جس کی وجہ سے انہیں مسلسل مظالم کا سامنا ہے ۔جب تک عوام اہل اور دیانتدار قیادت کاانتخاب نہیں کریں گے انہیں تعلیم ، صحت اور روزگار کے غصب شدہ حقوق حاصل نہیں ہوںگے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دہشتگرد ی ملکی پیداوار نہیں اسے درآمد کیا گیا اور اسے کمائی کا ذریعہ بنایا گیاہے ۔ دہشتگردی اور بدامنی مشرف کی ملک دشمن پالیسیوں کا خمیازہ ہے جوقوم کو بھگتنا پڑ رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت دہشتگردی سے نمٹنے اور اسے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے دہشتگردی کی مارکیٹ مندے کاشکار ہوکر ختم ہورہی ہے ۔ حکمران بھی اب اس پالیسی کو لپیٹ رہے ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتیں اپنی مدت پوری کریں تاکہ آئندہ انتخابات میں عوام ان کے جھوٹے دعوﺅں اور نعروں کے جھانسے میں نہ آئیں اور انتخابات کے دن کو حکمرانوں کے لیے یوم حساب بنادیں۔
                  

سراج الحق سے برطانوی ہائی کمشنر فلپ بارٹن کی ملاقات

11187822_913141625398804_3739354206678946970_o

اسلام آباد27اپریل2015ء

    اسلام آباد میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے برطانیہ کے ہائی کمشنر فلپ بارٹن نے ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں رہنماﺅں نے باہمی دلچسپی ، ملکی و بین الاقوامی امور اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ خطے میں قیام امن کیلئے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنا ضروری ہے ،عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کی کوششوں کو تیز کرے خاص طور پر برطانیہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے ۔سراج الحق نے برطانیہ میں مقیم پاکستانی برادری کے مسائل کے حل کی بھی بات کی خاص طور پر ویزہ کے حصول کیلئے درپیش مشکلات کودور اور اس سلسلہ میں آسانیاں پیدا کی جائیں ۔سراج الحق نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لیے پرامن افغانستان ضروری ہے برطانیہ کو افغانستان میں بھی قیام امن کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اورامریکہ سمیت عالمی برادری پر زور دینا چاہئے کہ وہ افغانستان میں مداخلت ختم کرکے افغان عوام کی آزادی اور خود مختاری کے احترام کو یقینی بنائیں ۔سراج الحق نے کہا کہ یمن کا مسئلہ مقامی مسئلہ ہے اسے عالمی مسئلہ بنانے کی بجائے وہیں پر حل ہونا چاہئے اور جنگ کے شعلے کو پھیلنے سے پہلے ہی بجھادینا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے زور پر حکومتوں کو ختم کرنے سے دنیا میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے اس لئے عالمی برادری کو کسی خطے اور علاقے میں بھی اس طرح کے معاملات کو سر اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہئے ۔اس موقع پر برطانوی ہائی کمشنرفلپ بارٹن نے سراج الحق کو پاکستان میں جاری برطانوی سرمایہ کاری کے منصوبوں کے بارے میں بھی بریف کیا۔فلپ بارٹن نے قومی سیاست میں جماعت اسلامی اور امیر جماعت کے کردار کی تعریف کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ جلد منصورہ آئیں گے اور جماعت کی قیادت سے تفصیلی ملاقات کریں گے ۔ملاقات میں نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ، ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر اور عطاءالرحمن بھی موجود تھے۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا پشاور میں طوفانی بارش کے بعد پشاور کے ہسپتالوں کے دورے

11180120_748841058566163_1226303360_n

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا پشاور میں طوفانی بارش کے بعد پشاور کے ہسپتالوں کے دورے ،زخمیوں کی عیادت کی ،الخدمت فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی خود نگرانی کی ،گذشتہ شب پشاور اور گردونواح میں طوفانی آندھی اور بادو باران کے بعد امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے پشاور شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور طوفانی بادوباران سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا ،بعد ازاں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے لیڈی ریڈنگ ہسپتال سمیت دیگر مقامی ہسپتالوں کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر زخمیوں کی عیادت بھی اور الخدمت فاؤنڈیشن کی سرگرمیوں کی براہ راست نگرانی بھی کی امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے موقع پر اعلیٰ صوبائی حکام سے بھی رابطے کئے اور زخمیوں کی فوری علاج معالجے اور اور دیگر نقصانات کے ازالے کی اپیل کی امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے الخدمت فاؤنڈیشن کی فوری امدادی کاروائیوں پر الخدمت کے رضاء کاروں کی امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے زبردست خراج تحسین پیش کی۔

کارکنان پنجاب سندھ اور خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کردیں ۔سراج الحق

20150426_153534

پشاور26اپریل2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کارکنان پنجاب سندھ اور خیبر پختونخواہ میں بلدیاتی انتخابات کی تیاری شروع کردیں ،بلدیاتی انتخابات جمہوریت کی پنیری ہوتے ہیں ،جمہوریت کو گراس روٹ لیول سے مضبوط بنانے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا کردار انتہائی اہمیت رکھتا ہے ۔ملک میں جمہوریت کوفروغ دینے کیلئے عوام کو اپنا انتخابی رویہ بدلنا ہوگا۔کرپشن کے پروردہ اور لوٹ کھسوٹ کرنے والے بددیانت لوگوں سے نجات حاصل کرنے کیلئے اہل اور دیانت دار قیادت کا انتخاب ضروری ہے ۔کنٹونمنٹ انتخابات میں کامیاب ہونے والے جماعت اسلامی کے نمائندگان کوسیاست کو عبادت سمجھتے ہوئے عوام کی خدمت کیلئے دن رات ایک کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ایک بیان میں ملک بھر کےکنٹونمنٹانتخابات میں کامیاب ہونے والے جماعت اسلامی اور اس کے حمایت یافتہ نمائندوں کومبارک باددیتے ہوئے کیا۔
    سراج الحق نے کہا کہ جب عوام کسی فردکو اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں تو ان کے مسائل و مشکلات کے حل کی تمام تر ذمہ داری اس فرد کے کندھوں پر آجاتی ہے ،پاکستان میں عام طور پر کامیاب ہونے والے عوامی نمائندے اپنی اس ذمہ داری کا احساس کم ہی کرتے ہیں اورووٹ لینے کے بعد دوبارہ حلقے کا رخ نہیں کرتے ، عوام سارا سال اپنے نمائندوں کی شکل دیکھنے کو ترس جاتے ہیں ،یہ نام نہاد عوامی نمائندے لوگوں کے دکھ درد اور بوجھ بانٹنے کے بجائے اپنا بوجھ بھی عوام پر ڈال دیتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 68سال میں ملک و قوم مسائل کی دلدل میں دھنستے اور بحرانوں کا شکار ہوتے گئے ،ملک میں غربت جہالت ،بے روز گاری اور بدامنی انڈے بچے دیتی رہی ،عوام غربت کی چکی میں پستے رہے اور یہ عوامی نمائندے قومی سرمائے سے اپنے محل اور بنگلے تعمیر کرکے عیش و عشرت کی زندگی میں مگن رہے ۔انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں کو توعوام کی قابل رحم حالت دیکھ کرنیند نہیں آنی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے 2013کے انتخابات کے موقع پر عوام سے کئے گئے وعدوں اور اپنے انتخابی منشور پر عمل نہیں کیا ۔بجلی کی لوڈ شیڈنگ چھ ماہ میں ختم کردینے کے دعوے کرنے والے تین سال گزرنے کے باوجود لوڈشیڈنگ میں کوئی کمی نہیں دے سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ جلد از جلد اپنے منشور پر عمل درآمد کا آغاز کردے اور بقیہ تین سالوں میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کی کوشش کرے ۔
    سراج الحق نے کہا کہ کنٹونمنٹ انتخابات میں کامیاب ہونے والے نمائندوں کو اپنے گلی محلے کے مسائل کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے ،تعلیم صحت اور روزگار کی فراہمی کیلئے مرکزی اور صوبائی حکومتوں پر دباﺅ بڑھانا چاہئے ،بے روزگاری کے جن کو قابو کرنے کیلئے گھریلو دستکاریوں اور چھوٹی صنعتوں کے قیام کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے نمائندگان کو اپنی کارکردگی کے ذریعہ عوام کے دلوں میں جگہ بنانی چاہئے تاکہ آئندہ بلدیاتی انتخابات میں عوام جماعت اسلامی کے امیدواروں کا انتخاب کریں ۔سراج الحق نے کہا کہ جب تک ملک میں امانت و دیانت کے کلچر کو فروغ نہیں دیا جائے گا بدد یانت اور نااہل لوگ عوام کی گردنوں پر سوار رہیں گے ۔
    دریں اثنا سراج الحق نے صدر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن خیبر پی کے فدا گل ایڈووکیٹ سے ان کے گھر پر ملاقات کی اور انہیں کامیابی پر مبارکباد دی اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا ۔

پاک چائنا کوریڈور ملکی ترقی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے مگر حکومتی نااہلی کی وجہ سے کالا باغ ڈیم کی طر ح اس منصوبہ کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔حکومت فوری طور پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور لوگوں کے تحفظات دور کئے جائیں ۔حکمرانوں نے پاک چین اقتصادی راہداری پر اٹھنے والے سوالات کا جلد از جلدجواب نہ دیا تو غلط فہمیاں پیدا ہونے سے نفرتیں جنم لیں گی ۔امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا دیر ثمر باغ میں مختلف اجتماعات سے خطاب

20150424_122202

دیر24اپریل2015ئ   
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاک چائنا کوریڈور ملکی ترقی کیلئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے مگر حکومتی نااہلی کی وجہ سے کالا باغ ڈیم کی طر ح اس منصوبہ کو بھی متنازعہ بنایا جارہا ہے ۔حکومت فوری طور پر اپنی پوزیشن واضح کرے اور لوگوں کے تحفظات دور کئے جائیں ۔حکمرانوں نے پاک چین اقتصادی راہداری پر اٹھنے والے سوالات کا جلد از جلدجواب نہ دیا تو غلط فہمیاں پیدا ہونے سے نفرتیں جنم لیں گی ۔ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کیلئے زیر زمین سرگرمیوںپر نہیں جمہوری اور آئینی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے ۔ عوام مٹھی بھر اشرافیہ سے نجات کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔جماعت اسلامی کے پاس ملک و قوم کو بحرانوں سے نکالنے کیلئے واضح پروگرام اور اہل اور دیانت دار قیادت موجود ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر پختونخواہ کے حلقہ پی کے 95میں انتخابی مہم کے سلسلہ میں نکالے گئے روڈ کاروان کی قیادت کرتے ہوئے مختلف مقامات پر کارنر میٹنگز اور انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر حلقہ پی کے 95سے جماعت اسلامی کے امیدوار اعزاز الملک افکاری اور رکن قومی اسمبلی صاحبزادہ محمد یعقوب خان بھی موجود تھے ۔
    سراج الحق نے کہا کہ عوام گزشتہ 68سال سے استحصالی طبقہ کے ہاتھوں یرغمال ہےں ۔اس طبقہ اشرافیہ نے ملک کے تمام اداروں پر اپنا تسلط قائم کررکھا ہے ،عام آدمی تعلیم صحت اور روزگار کی سہولتوں کی عدم دستیابی کی وجہ سے سخت پریشان ہے ،گرمی کے آغاز پر دیہاتوں اور شہروں میں کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے جس سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے اور لوگ سخت پریشانی میں مبتلا ہیں ،انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ ملکی ترقی اور خوشحالی کا ایک شاندار منصوبہ ہے جسے متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پاکستان آئی ایم ایف کا غلام رہے اور خود انحصاری اور خود مختاری کی منزل کو حاصل کرکے اپنے قدموں پر کھڑا نہ ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف کے چنگل سے نجات حاصل نہیں کرتا ،معاشی ترقی اور خوشحالی کی منزل کو حاصل نہیں کرپائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اقتدار میں موجود استعماری قوتوں کے ایجنٹ پاکستان کو ہر قیمت پر خود انحصاری اور آزادی کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کرر ہے ہیں ۔
    سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں میں پہنچانے کیلئے جمہوری اور آئینی جدوجہد کررہی ہے ۔تاکہ اقتدار پر قابض جاگیر دار ،وڈیر ے اور سرمایہ دار عام آدمی کا استحصال نہ کرسکیں ،انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس جہاد میں جماعت اسلامی کے دست و بازو بن کر پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور خوشحال فلاحی ریاست بنانے میں ہمارا ساتھ دیں ۔انہوں نے ایک بار پھر اپنے عوامی ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر ملک میں یکساں نظام تعلیم رائج کرے گی ،پانچ بڑی بیماریوں کا سرکاری ہسپتالوں میں مفت علاج ہوگا اور تیس ہزار سے کم ماہانہ آمدنی والے خاندانوں کو آٹا ،گھی ،چاول چائے اور چینی کی قیمتوں میں سبسڈی دے گی ۔انہوں نے کہا کہ پاکستانی زبانوں کو ذریعہ تعلیم اور اردوکو دفتری زبان بنایا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ غریب کا بچہ بھی اسی سکول میں تعلیم حاصل کرے گا جس میں صدر اور وزیر اعظم کا بچہ پڑھتا ہوگا۔سراج الحق نے کہا کہ ہسپتالوں میں مریض اور عدالتوں میں مظلوم وی آئی پی ہوگا اور ملک سے ہر طرح کے وی آئی پی کلچر اور اسٹیٹس کو کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکیں گے ۔

 

ہم کسی تنظیم کے خلاف نہیں بلکہ نفرت اور تعصب کے خلاف ہیں عوام پسند نہیں کرتے کہ لیڈر آپس میں لڑیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ قوم کے لیڈر عوام کے مسائل حل کریں،کراچی میں جماعت اسلامی ایک ٹھوس حقیقت ہے ہم نے شہر کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

11008532_1106018049424791_6064735204442498531_o

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم کسی تنظیم کے خلاف نہیں بلکہ نفرت اور تعصب کے خلاف ہیں عوام پسند نہیں کرتے کہ لیڈر آپس میںلڑیں بلکہ وہ چاہتے ہیں کہ قوم کے لیڈر عوام کے مسائل حل کریں،کراچی میں جماعت اسلامی ایک ٹھوس حقیقت ہے ہم نے شہر کے لیے لازوال قربانیاں دی ہیں، راشد نسیم کی صورت میں شہر کے عوام کو حقیقی ترجمان ملے گا ،ہم عوامی خدمت کی بنیاد پر ووٹ مانگ رہے ہیں ۔حکومت جب سات کروڑ سموں کی تصدیق کر سکتی ہے تو دو لاکھ ووٹو ں کی تصدیق کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں لگا سکتی ؟ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل منصورہ سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر NA-246سے جماعت اسلامی کے امیدوار راشد نسیم ،امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن ،نائب امراء مظفر احمد ہاشمی ،برجیس احمد ،مسلم پرویز ،مرکزی سیکریٹری اطلاعات امیر العظیم ،امیر ضلع وسطی منعم ظفر خان اور دیگر بھی موجود تھے ۔

سر اج الحق نے کہا کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں کم عرصے میں چین کی حیرت انگیز ترقی ہمارے لیے مثال ہے ،آبادی اور مسائل کے باوجود چین کی ترقی کی وجہ یہ ہے کہ وہاں کی قیادت مخلص اور کرپشن سے پاک ہے ،پاکستان میں بھی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ملک سے کرپشن کا خاتمہ کر دیا جائے ،پاکستانی معاشرے کو باہر سے نہیں بلکہ اندر کے کرپٹ عناصر سے خطرہ ہے ،سراج الحق نے کہا کہ اب پورے ملک کی نگاہیں کراچی پر لگی ہوئی ہیں ،ہم پُر امن اور دوستانہ ماحول میں این اے 246کا میچ کھیلنا چاہتے ہیں ، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ضمنی انتخابات میں بائیو میٹرک سسٹم لگایا جائے اگر حکومت سات کروڑ سموں کی تصدیق کر سکتی ہے تو دو لاکھ ووٹوں کی تصدیق کے لیے بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں لگا سکتی؟الیکشن کمیشن نے ہمیں پریزائیڈنگ آفیسر زکی لسٹ فراہم نہیں کی ۔ماضی میں متحدہ کے پارٹی ورکروں کو پریزائیڈنگ آفیسرز ظاہر کیا گیا ہمیں فی الفور لسٹ فراہم کی جائے تا کہ ان کی تصدیق کر سکیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں کچھ لوگوں کو خوف ہے کہ اس بار سلیکشن کے بجائے الیکشن نہ ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کراچی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہے ،پاکستان کی ترقی کا انحصار کراچی پرہے ،عوام چاہتے ہیں کہ یہاں ایسی فضا قائم ہو کہ یہاں رہنا ممکن ہو لوگ یہاں سے ہجرت پر مجبور ہو گئے ہیں تاجروں کی ایک بڑی تعداد ملائیشیا اور دبئی چلی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ قلیل عرصے میں 300سے زیادہ ہڑتالیں کی گئیں اور المیہ یہ ہے کہ کوئی ہڑتال پانی ،بجلی یا عوامی مسائل پر نہیں ہو ئی ۔300ہڑتالیں پارٹی مفادات کے لیے کی گئیں ،یہ کراچی ہے یا ہڑتال نگر؟انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام کا ووٹ کراچی کا مستقبل طے کرے گا ،26سال سے کراچی جل رہا ہے ،یہاں متحدہ کا قبضہ ہے ،پورے کراچی کو یرغمال بنا دیا گیاہے ،انہوں نے کہا کہ شہر کراچی میں جب جماعت اسلامی کی حکومت تھی تو ان کے مےئر کو اس لیے ہٹایا گیا کہ انہوں نے کراچی کے حقوق کے لیے آواز بلند کی تھی ،نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنے دور میں32بڑے کالجز تعمیر کیے تھے ۔ہارٹ ڈیزیز اسپتال اور بچوں کے لیے پلے گراؤنڈ بنائے تھے ۔بڑی بڑی سڑکیں اور پلوں کی تعمیر نعمت اللہ خان کا کارنامہ ہے ۔

حکومت حلقہ 246 میں بائیومیٹرک سسٹم کے تحت الیکشن کروائے ۔ کیا حکومت اتنی بے بس ہے کہ وہ صرف ایک حلقے میں بائیو میٹرک سسٹم کے تحت الیکشن نہیں کروا سکتی ۔ الطاف حسین نے کل کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ سے معافی تو مانگ لی مگر یہ نہیں بتایا کہ وہ کن کن جرائم کی معافی مانگ رہے ہیں اور کیا ایم کیو ایم ان دہشتگردوں کو قانون کے حوالے کر دے گی ۔سراج الحق کی منصورہ میں پریس کانفرنس

sir2

لاہور19اپریل2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت حلقہ 246 میں بائیومیٹرک سسٹم کے تحت الیکشن کروائے ۔ کیا حکومت اتنی بے بس ہے کہ وہ صرف ایک حلقے میں بائیو میٹرک سسٹم کے تحت الیکشن نہیں کروا سکتی ۔ الطاف حسین نے کل کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ سے معافی تو مانگ لی مگر یہ نہیں بتایا کہ وہ کن کن جرائم کی معافی مانگ رہے ہیں اور کیا ایم کیو ایم ان دہشتگردوں کو قانون کے حوالے کر دے گی جنہوں نے اپنے جرائم کا جے ٹی آئی کے سامنے خود اعتراف کیا ۔ کراچی میں بدامنی اور خوف کی فضا اب بھی موجود ہے اور الطاف حسین خود بھی کراچی آنے سے خوفزدہ ہیں ۔ کراچی میں امن اور خوشحالی پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی بھی ضرورت ہے ۔ ہم قائد اعظم کے وژن کے مطابق ہم ملک کے گلی کوچوں سے چلائیں گے ۔ الطاف حسین نے مجرموں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا ۔ قوم کو نعروں کی نہیں ، سیاسی شعور اور امن و امان کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم بھی موجودتھے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دنیا ئے اسلام کا سب سے بڑا شہر کراچی اس وقت انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہے ۔ 24سال سے اس شہر پر ایم کیو ایم کا قبضہ ہے ۔ ایم کیو ایم کو شہر کا قبضہ دلانے میں ملک کے بعض اداروں او ر بین الاقوامی قوتوں کا نہایت گھناﺅنا کردار ہے ۔الطاف حسین نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اب بھی ایک دو تین کہہ کر شہر کو بند کر سکتے ہیں لیکن وقت نے ثابت کر دیاہے کہ اب ان کی زبان میں وہ اثر نہیں رہا۔ الطاف حسین جب جلسے میں اسٹیبلشمنٹ سے معافیاں مانگ رہے تھے ، تو پاکستان کے عوام چاہتے تھے کہ وہ ۹ اپریل کو زندہ جلائے گئے وکلا ، بلدیہ ٹاﺅن میں 260 مزدوروں اور ولی خان بابر کے پکڑے گئے قاتلوں کی طرف سے بھی معافی مانگیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کو اسٹیبلشمنٹ سے نہیں اپنے گناہوں کی اللہ تعالیٰ اور پاکستان کے عوام سے معافی مانگنی چاہیے ۔ سراج الحق نے کہاکہ کراچی کے عوام کا اصل مسئلہ خوف وبدامنی کا خاتمہ ہے ۔ کراچی کے چھوٹے بڑے تاجر ،وکلا اور شہری اب بھی خوف و ہراس میں مبتلاہیں ۔ میڈیا اور عدلیہ یرغمال ہے کوئی اینکر سچ بول سکتاہے نہ کسی صحافی کا قلم سچ لکھ سکتاہے ۔ اگر کوئی وکیل جرا ¿ت کے ساتھ کسی کا مقدمہ لڑتاہے یا کوئی جج دیانتدار ی سے فیصلہ کرنے کی جرا ¿ت کرتاہے تو اسے اگلے روز ہی ختم کر دیاجاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں اس دن کے انتظار میںہوں جس دن نہ صرف کراچی کے شہری امن و امان میں ہوں بلکہ خود الطاف حسین بھی کراچی آتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہ کریں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں ہمارے کئی کارکنوں کو شہید کر دیا گیا اور درجنوں کو اغوا کر کے زخمی کیا گیا مگر ہم نے ظلم کا بدلہ صبر سے لیاہے آج وہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ کراچی پر صرف ان کی حاکمیت ہے ، اسٹیبلشمنٹ سے معافیاں مانگ رہے ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہمیں اب اپنے سیاسی رویوں کو تبدیل کرناچاہیے ۔ اللہ تعالیٰ نے عوام کو کراچی میں تبدیلی کا ایک موقع دیاہے اب انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے مستقبل اور اپنی آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں افراد اور پارٹیوں کی نہیں ، میرٹ اور قانون کی حکومت چاہتے ہیں ملک میں قومیتوں اور مسلکوں کی نہیں ،ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے ۔ کامیابی اسی میں ہے کہ قوم متحد ہو کر ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو ۔
    ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ الیکشن لڑنا سب کا جمہوری حق ہے کراچی میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے پاس پہلے سے نمائندگی موجود ہے اب عوام کو چاہیے کہ وہ جماعت اسلامی کو نمائندگی کاحق دیں ۔ انہوں نے کہاکہ حلقہ 246 ہمارے اور تحریک انصاف کے گہرے دوستانہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ جماعت اسلامی سٹیٹس کو کے خلاف اور حق کے ساتھ ہے اور میں سراج الحق ہوں ۔
    سراج الحق نے جماعت اسلامی اور اہل پاکستان کی طرف سے چین کے صدر کو پاکستان کے دو روزہ دورہ کی آمد پر خوش آمدید کہا ۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین دوستی لازوال اور بے مثال ہے ۔ دونوں ممالک کی دوستی ہر نئے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے اور مسلسل عظمتوں اور رفعتوں کی جانب گامزن ہے ۔ چین ہمارا ایسا دوست ہے جس نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ۔ سراج الحق نے بتایا کہ ہمارے اور چین کی نیشنلسٹ پارٹی کے درمیان چند سال قبل ایک ایم او یو سائن ہوا تھا جس کی پابندی ہم دونوں کر رہے ہیں ۔

کراچی فتح کرنے نہیں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے آیا ہوں ۔یہاں وکلا کو زندہ جلایا گیا ۔ ایسا پُر امن شہر بنانا چاہتے ہیں جہاں الطاف حسین بھی بلا خوف و خطر آسکےں ۔سراج الحق

karachi bar pic
لاہور18اپریل2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ میں کراچی فتح کرنے نہیں بلکہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے آےا ہوں ،9اپرےل کو کراچی مےں وکلا کو زندہ جلاےا گےا ،ہم کراچی کو اےسا پُر امن شہر بنانا چاہتے ہےں جہاں الطاف حسےن بھی بلا خوف و خطر واپس آسکیں ۔ہم اجمل پہاڑی کو اجمل صدیقی اور فےصل موٹا کو فےصل بنائےں گے۔ الےکشن مےں بائےو مےٹرک سسٹم کا استعمال کیا جائے اس سے دود ھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا ،وکلا نے ہمےشہ جمہورےت اور جمہوری سےاست کا ساتھ دےا ہے اور ہمےشہ ڈکٹےٹر کے سامنے کھڑے ہوئے ہےں جماعت اسلامی نے بھی ہمےشہ وکلا تحرےک کا ساتھ دےا ہے اور ہم آج بھی وکلا برادری کے ساتھ کھڑے ہےں 24سالوں مےں اےم کےو اےم نے کراچی کے عوام کو کچھ نہےں دےا ےہاں سےاسی اور معاشی دہشت گردی جا ری ہے ۔کراچی ملک کی معاشی اور نظرےاتی شہ رگ ہے ،کراچی بار سے خطاب مےرے لےے اعزا ز کی بات ہے ،کراچی مےں نفرتوں کے بجائے امن و محبت کی شمع روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خےالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کراچی بار کی دعوت پر کراچی بار سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔اس موقع پر کراچی بار کے صدر نعےم قرےشی اےڈوکےٹ نے بھی خطاب کےا۔سر اج الحق کی بار آمد پر بار کے عہدےداران اور سےنئر وکلا سمےت وکلا برادری نے شاندار استقبال کےا اور پھولوں کی پتےاں نچھا ور کےں ۔
سراج الحق نے کہا کہ جب مارشل لاءکے دور میں عوام اور سیاست دانوں کا بولنا مشکل ہو تو بار ایسوسی ایشن ہی وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں سے انسانی حقوق کی مہم چلائی جاتی ہے۔ میں آج ان لوگوں کے درمیان ہوں جنہوں نے ایٹم بم تو نہیں بنایالیکن اس سے بڑھ کر کام کیا اور پاکستان بنایا ۔بابائے قوم بھی پاک وہند ہی نہیں بلکہ دنیا بھر مےں ایماندار اور بہترین وکیل تھے ۔ اٹھارہ کروڑ عوام پر وکلا کا بہت بڑا احسان ہے ۔جب پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ کے آگے سب نے سرجھکادیا تھا اس وقت ایک وکیل نے ہی نعرہ مستانہ بلند کیا تھا ۔جماعت اسلامی نے بھی اس تحریک میں وکلا کا ساتھہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ قومیتوں کا نہیں، لسانی نہیں بلکہ بنیادی مسئلہ ظالم اور مظلوم کا ہے یہ ظالم بلوچوں میں بھی موجود ہیں، سندھیوں ،پنجابےوں اور پٹھانوں میں بھی موجود ہیں اور یہ متحد بھی ہیں لیکن مظلوم منتشر ہیں ان کا کوئی پلیٹ فارم نہیں ظالم طبقہ لسانیت اور مسلک کے نام پر عوام کوتقسیم کرکے مظلوموں کو لڑواتا ہے ۔مارشل لا ءہویا جمہوریت دونوں میں ان کے وارے نیارے ہوتے ہیں۔1947 ءسے ہی مغلیہ خاندان حکمران نظر آرہے ہیں ۔میڈیا آزاد تھا لیکن اس پر بھی سرمایہ داروں نے قبضہ کرلیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جسے چاہیں ہیرو اور جسے چاہیں زیرو بنادےں ۔اٹھارہ کروڑ عوام ان کے غلام ہیںپاکستان کے موجودہ نظام میں میرے جیسے غریب لوگوں کے لیے جگہ نہیں ۔موجودہ جمہوریت جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا کھیل ہے ٹیکس اور ووٹ دینے والے عوام کے لیے کوئی جگہ نہیں پاکستان کو خطرہ بیرونی سے زیادہ اندرونی دشمنوں سے ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ پورے ملک کا مسئلہ ہے ملک میں قانون کی بالادستی نہیں ۔ آئین کے تحت اردوکو ملک بھرکی سرکاری زبان بنایا جانا تھا لیکن ایسا اب تک نہیں ہوا انگریزی ہی رائج ہے ۔ہم نے خےبر پختون خواہ میں اپنی حکومت میں تمام دفاتر میں اردو زبان رائج کردی تھی لیکن اب پھر اس کی جگہ انگرےزی رائج کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ طاہر پلازہ میں وکلا کوزندہ جلایا گیا لےکن ان کے ورثاءکو اب تک انصاف نہیں مل سکا۔انہوں نے کہا کہ مجرم مجرم ہوتا ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی زبان یا کسی بھی مسلک سے ہو ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا کمیشن بنایا جائے جس کے ذرےعے سے ان لوگوں کی مدد کی جائے جو دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے بھی دشمنی کی نہیں ،محبت کی بات کرتے ہیں عوام نے ایم کیو ایم پر دس مرتبہ اعتماد کیا ان کو ایوانوں میں پہنچایالیکن انہوں نے اس عرصہ میں عوام کو کےا دیا۔ سوائے بدامنی کے اور اسی بدامنی کی وجہ سے الطاف حسےن کراچی نہیں آنا چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ ایک حلقہ میں بھی بائیو میٹرک سسٹم کےوںنافذنہیں کیا جاسکتا ؟ کیا حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ؟انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کے لیے ایک ہی تعلیمی نصاب ہونا چاہیے اورا س کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے ہم پانچ بیماریوں کا مفت علاج کرائیں گے اور تیس ہزار سے کم آمدنی والوں کو پانچ بنیادی چیزوں پر سبسڈی دیں گے اور اسٹیٹس کو ختم کریں گے۔ سیاسی جرگہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس جرگے میں مختلف لوگوں نے مل کرکام کیا اور ہم سب کی کوششوں سے پی ٹی آئی ایوان میں آئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر کوئی ڈکٹیٹر مسلط ہوتا ۔سب نے مل کر مارشل لاءکا راستہ روکا ہے۔#