کراچی فتح کرنے نہیں عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے آیا ہوں ۔یہاں وکلا کو زندہ جلایا گیا ۔ ایسا پُر امن شہر بنانا چاہتے ہیں جہاں الطاف حسین بھی بلا خوف و خطر آسکےں ۔سراج الحق

karachi bar pic
لاہور18اپریل2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ میں کراچی فتح کرنے نہیں بلکہ عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے آےا ہوں ،9اپرےل کو کراچی مےں وکلا کو زندہ جلاےا گےا ،ہم کراچی کو اےسا پُر امن شہر بنانا چاہتے ہےں جہاں الطاف حسےن بھی بلا خوف و خطر واپس آسکیں ۔ہم اجمل پہاڑی کو اجمل صدیقی اور فےصل موٹا کو فےصل بنائےں گے۔ الےکشن مےں بائےو مےٹرک سسٹم کا استعمال کیا جائے اس سے دود ھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہوجائے گا ،وکلا نے ہمےشہ جمہورےت اور جمہوری سےاست کا ساتھ دےا ہے اور ہمےشہ ڈکٹےٹر کے سامنے کھڑے ہوئے ہےں جماعت اسلامی نے بھی ہمےشہ وکلا تحرےک کا ساتھ دےا ہے اور ہم آج بھی وکلا برادری کے ساتھ کھڑے ہےں 24سالوں مےں اےم کےو اےم نے کراچی کے عوام کو کچھ نہےں دےا ےہاں سےاسی اور معاشی دہشت گردی جا ری ہے ۔کراچی ملک کی معاشی اور نظرےاتی شہ رگ ہے ،کراچی بار سے خطاب مےرے لےے اعزا ز کی بات ہے ،کراچی مےں نفرتوں کے بجائے امن و محبت کی شمع روشن کرنے کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خےالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کے روز کراچی بار کی دعوت پر کراچی بار سے خطاب کرتے ہوئے کےا۔اس موقع پر کراچی بار کے صدر نعےم قرےشی اےڈوکےٹ نے بھی خطاب کےا۔سر اج الحق کی بار آمد پر بار کے عہدےداران اور سےنئر وکلا سمےت وکلا برادری نے شاندار استقبال کےا اور پھولوں کی پتےاں نچھا ور کےں ۔
سراج الحق نے کہا کہ جب مارشل لاءکے دور میں عوام اور سیاست دانوں کا بولنا مشکل ہو تو بار ایسوسی ایشن ہی وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں سے انسانی حقوق کی مہم چلائی جاتی ہے۔ میں آج ان لوگوں کے درمیان ہوں جنہوں نے ایٹم بم تو نہیں بنایالیکن اس سے بڑھ کر کام کیا اور پاکستان بنایا ۔بابائے قوم بھی پاک وہند ہی نہیں بلکہ دنیا بھر مےں ایماندار اور بہترین وکیل تھے ۔ اٹھارہ کروڑ عوام پر وکلا کا بہت بڑا احسان ہے ۔جب پرویز مشرف کی ڈکٹیٹر شپ کے آگے سب نے سرجھکادیا تھا اس وقت ایک وکیل نے ہی نعرہ مستانہ بلند کیا تھا ۔جماعت اسلامی نے بھی اس تحریک میں وکلا کا ساتھہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مسئلہ قومیتوں کا نہیں، لسانی نہیں بلکہ بنیادی مسئلہ ظالم اور مظلوم کا ہے یہ ظالم بلوچوں میں بھی موجود ہیں، سندھیوں ،پنجابےوں اور پٹھانوں میں بھی موجود ہیں اور یہ متحد بھی ہیں لیکن مظلوم منتشر ہیں ان کا کوئی پلیٹ فارم نہیں ظالم طبقہ لسانیت اور مسلک کے نام پر عوام کوتقسیم کرکے مظلوموں کو لڑواتا ہے ۔مارشل لا ءہویا جمہوریت دونوں میں ان کے وارے نیارے ہوتے ہیں۔1947 ءسے ہی مغلیہ خاندان حکمران نظر آرہے ہیں ۔میڈیا آزاد تھا لیکن اس پر بھی سرمایہ داروں نے قبضہ کرلیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ہم جسے چاہیں ہیرو اور جسے چاہیں زیرو بنادےں ۔اٹھارہ کروڑ عوام ان کے غلام ہیںپاکستان کے موجودہ نظام میں میرے جیسے غریب لوگوں کے لیے جگہ نہیں ۔موجودہ جمہوریت جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا کھیل ہے ٹیکس اور ووٹ دینے والے عوام کے لیے کوئی جگہ نہیں پاکستان کو خطرہ بیرونی سے زیادہ اندرونی دشمنوں سے ہے ۔سراج الحق نے کہا کہ کراچی کا مسئلہ پورے ملک کا مسئلہ ہے ملک میں قانون کی بالادستی نہیں ۔ آئین کے تحت اردوکو ملک بھرکی سرکاری زبان بنایا جانا تھا لیکن ایسا اب تک نہیں ہوا انگریزی ہی رائج ہے ۔ہم نے خےبر پختون خواہ میں اپنی حکومت میں تمام دفاتر میں اردو زبان رائج کردی تھی لیکن اب پھر اس کی جگہ انگرےزی رائج کردی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ طاہر پلازہ میں وکلا کوزندہ جلایا گیا لےکن ان کے ورثاءکو اب تک انصاف نہیں مل سکا۔انہوں نے کہا کہ مجرم مجرم ہوتا ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی زبان یا کسی بھی مسلک سے ہو ،ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا کمیشن بنایا جائے جس کے ذرےعے سے ان لوگوں کی مدد کی جائے جو دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے بھی دشمنی کی نہیں ،محبت کی بات کرتے ہیں عوام نے ایم کیو ایم پر دس مرتبہ اعتماد کیا ان کو ایوانوں میں پہنچایالیکن انہوں نے اس عرصہ میں عوام کو کےا دیا۔ سوائے بدامنی کے اور اسی بدامنی کی وجہ سے الطاف حسےن کراچی نہیں آنا چاہتے ۔انہوں نے کہا کہ ایک حلقہ میں بھی بائیو میٹرک سسٹم کےوںنافذنہیں کیا جاسکتا ؟ کیا حکومت کے پاس اتنے وسائل نہیں ؟انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم کے لیے ایک ہی تعلیمی نصاب ہونا چاہیے اورا س کی ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے ہم پانچ بیماریوں کا مفت علاج کرائیں گے اور تیس ہزار سے کم آمدنی والوں کو پانچ بنیادی چیزوں پر سبسڈی دیں گے اور اسٹیٹس کو ختم کریں گے۔ سیاسی جرگہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس جرگے میں مختلف لوگوں نے مل کرکام کیا اور ہم سب کی کوششوں سے پی ٹی آئی ایوان میں آئی، اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر کوئی ڈکٹیٹر مسلط ہوتا ۔سب نے مل کر مارشل لاءکا راستہ روکا ہے۔#

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s