حکومت حلقہ 246 میں بائیومیٹرک سسٹم کے تحت الیکشن کروائے ۔ کیا حکومت اتنی بے بس ہے کہ وہ صرف ایک حلقے میں بائیو میٹرک سسٹم کے تحت الیکشن نہیں کروا سکتی ۔ الطاف حسین نے کل کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ سے معافی تو مانگ لی مگر یہ نہیں بتایا کہ وہ کن کن جرائم کی معافی مانگ رہے ہیں اور کیا ایم کیو ایم ان دہشتگردوں کو قانون کے حوالے کر دے گی ۔سراج الحق کی منصورہ میں پریس کانفرنس

sir2

لاہور19اپریل2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیاہے کہ حکومت حلقہ 246 میں بائیومیٹرک سسٹم کے تحت الیکشن کروائے ۔ کیا حکومت اتنی بے بس ہے کہ وہ صرف ایک حلقے میں بائیو میٹرک سسٹم کے تحت الیکشن نہیں کروا سکتی ۔ الطاف حسین نے کل کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ سے معافی تو مانگ لی مگر یہ نہیں بتایا کہ وہ کن کن جرائم کی معافی مانگ رہے ہیں اور کیا ایم کیو ایم ان دہشتگردوں کو قانون کے حوالے کر دے گی جنہوں نے اپنے جرائم کا جے ٹی آئی کے سامنے خود اعتراف کیا ۔ کراچی میں بدامنی اور خوف کی فضا اب بھی موجود ہے اور الطاف حسین خود بھی کراچی آنے سے خوفزدہ ہیں ۔ کراچی میں امن اور خوشحالی پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی بھی ضرورت ہے ۔ ہم قائد اعظم کے وژن کے مطابق ہم ملک کے گلی کوچوں سے چلائیں گے ۔ الطاف حسین نے مجرموں کے خلاف ایک لفظ نہیں بولا ۔ قوم کو نعروں کی نہیں ، سیاسی شعور اور امن و امان کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر اور سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم بھی موجودتھے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ دنیا ئے اسلام کا سب سے بڑا شہر کراچی اس وقت انتہائی مشکل حالات سے دوچار ہے ۔ 24سال سے اس شہر پر ایم کیو ایم کا قبضہ ہے ۔ ایم کیو ایم کو شہر کا قبضہ دلانے میں ملک کے بعض اداروں او ر بین الاقوامی قوتوں کا نہایت گھناﺅنا کردار ہے ۔الطاف حسین نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ اب بھی ایک دو تین کہہ کر شہر کو بند کر سکتے ہیں لیکن وقت نے ثابت کر دیاہے کہ اب ان کی زبان میں وہ اثر نہیں رہا۔ الطاف حسین جب جلسے میں اسٹیبلشمنٹ سے معافیاں مانگ رہے تھے ، تو پاکستان کے عوام چاہتے تھے کہ وہ ۹ اپریل کو زندہ جلائے گئے وکلا ، بلدیہ ٹاﺅن میں 260 مزدوروں اور ولی خان بابر کے پکڑے گئے قاتلوں کی طرف سے بھی معافی مانگیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین کو اسٹیبلشمنٹ سے نہیں اپنے گناہوں کی اللہ تعالیٰ اور پاکستان کے عوام سے معافی مانگنی چاہیے ۔ سراج الحق نے کہاکہ کراچی کے عوام کا اصل مسئلہ خوف وبدامنی کا خاتمہ ہے ۔ کراچی کے چھوٹے بڑے تاجر ،وکلا اور شہری اب بھی خوف و ہراس میں مبتلاہیں ۔ میڈیا اور عدلیہ یرغمال ہے کوئی اینکر سچ بول سکتاہے نہ کسی صحافی کا قلم سچ لکھ سکتاہے ۔ اگر کوئی وکیل جرا ¿ت کے ساتھ کسی کا مقدمہ لڑتاہے یا کوئی جج دیانتدار ی سے فیصلہ کرنے کی جرا ¿ت کرتاہے تو اسے اگلے روز ہی ختم کر دیاجاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ میں اس دن کے انتظار میںہوں جس دن نہ صرف کراچی کے شہری امن و امان میں ہوں بلکہ خود الطاف حسین بھی کراچی آتے ہوئے کوئی خوف محسوس نہ کریں ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں ہمارے کئی کارکنوں کو شہید کر دیا گیا اور درجنوں کو اغوا کر کے زخمی کیا گیا مگر ہم نے ظلم کا بدلہ صبر سے لیاہے آج وہ لوگ جو سمجھتے تھے کہ کراچی پر صرف ان کی حاکمیت ہے ، اسٹیبلشمنٹ سے معافیاں مانگ رہے ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہمیں اب اپنے سیاسی رویوں کو تبدیل کرناچاہیے ۔ اللہ تعالیٰ نے عوام کو کراچی میں تبدیلی کا ایک موقع دیاہے اب انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے مستقبل اور اپنی آئندہ نسلوں کو بچانے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم ملک میں افراد اور پارٹیوں کی نہیں ، میرٹ اور قانون کی حکومت چاہتے ہیں ملک میں قومیتوں اور مسلکوں کی نہیں ،ظالم اور مظلوم کی جنگ ہے ۔ کامیابی اسی میں ہے کہ قوم متحد ہو کر ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو ۔
    ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ الیکشن لڑنا سب کا جمہوری حق ہے کراچی میں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے پاس پہلے سے نمائندگی موجود ہے اب عوام کو چاہیے کہ وہ جماعت اسلامی کو نمائندگی کاحق دیں ۔ انہوں نے کہاکہ حلقہ 246 ہمارے اور تحریک انصاف کے گہرے دوستانہ تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ جماعت اسلامی سٹیٹس کو کے خلاف اور حق کے ساتھ ہے اور میں سراج الحق ہوں ۔
    سراج الحق نے جماعت اسلامی اور اہل پاکستان کی طرف سے چین کے صدر کو پاکستان کے دو روزہ دورہ کی آمد پر خوش آمدید کہا ۔ انہوں نے کہاکہ پاک چین دوستی لازوال اور بے مثال ہے ۔ دونوں ممالک کی دوستی ہر نئے دن کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے اور مسلسل عظمتوں اور رفعتوں کی جانب گامزن ہے ۔ چین ہمارا ایسا دوست ہے جس نے ہر موقع پر پاکستان کا ساتھ دیا ۔ سراج الحق نے بتایا کہ ہمارے اور چین کی نیشنلسٹ پارٹی کے درمیان چند سال قبل ایک ایم او یو سائن ہوا تھا جس کی پابندی ہم دونوں کر رہے ہیں ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s