ملک میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی نظام نہیں ہر نظام کرپٹ اشرافیہ کیلئے بنایاگیا ہے ۔ملک میں نجکاری کے نام پر مکاری ہورہی ہے ،منافع بخش اداروں کو اونے پونے داموں بیچ کرسات لاکھ سے زیادہ مزدوروں کو بے روز گار کیا گیا ۔نجکاری کے نام پر تین ہزار ارب روپے کی کرپشن کی گئی ۔حکومت اسٹیل مل ،پی آئی اے جیسے اداروں کو بیچنا چاہتی ہے مگر ہم حکومت کو مزدور کشی نہیں کرنے دیں گے ۔سینیٹر سراج الحق کا یوم مئی کے موقع پر لاہور میں مزدوروں اور قلیوں کے پروگرام سے خطاب 

11168034_915287608517539_9144426893102300293_o

لاہوریکم مئی2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے کوئی نظام نہیں ہر نظام کرپٹ اشرافیہ کیلئے بنایاگیا ہے ۔ملک میں نجکاری کے نام پر مکاری ہورہی ہے ،منافع بخش اداروں کو اونے پونے داموں بیچ کرسات لاکھ سے زیادہ مزدوروں کو بے روز گار کیا گیا ۔نجکاری کے نام پر تین ہزار ارب روپے کی کرپشن کی گئی ۔حکومت اسٹیل مل ،پی آئی اے جیسے اداروں کو بیچنا چاہتی ہے مگر ہم حکومت کو مزدور کشی نہیں کرنے دیں گے ۔حکومت نے نجکاری کے نام پر محنت کشوں اور مزدوروں پر مسلسل ایک تلوار لٹکا رکھی ہے ،ٹھیکیداری نظام کے نام پر ملک میں ہزاروں بیگار کیمپ کھلے ہوئے ہیں جن میں مزدوروں اور محنت کشوں کا مسلسل استحصال ہورہا ہے ، حکومت ڈیلی ویجز اور کم از کم تنخواہ کے اپنے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں کروا سکی ، مزدوروں سے مقررہ اوقات کار سے کئی کئی گھنٹے زائد ڈیوٹی لی جارہی ہے ،جس کا اوور ٹائم بھی نہیں دیا جاتا ،طے شدہ اجرت بھی ادا نہیں کی جاتی ، مزدوروں کو کارخانوں کی پیداوار میں حصہ دار بنایا جائے اور ہوٹلوں ،ورکشاپوں ،ریڑھی و ٹھیلے لگانے والے اور گھریلودستکاریوں میں کام کرنے والے محنت کشوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کرکے انہیں مزدور قوانین کے مطابق تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولتیں دی جائیں ۔حکومت ای او بی آئی پنشنرز کی پنشن میں 2012-13کے بجٹ میں اعلان کے مطابق اضافہ کرے اورپنشنرز کوان کے بقایاجات ادا کئے جائیں ۔کم از کم پنشن آٹھ ہزار روپے مقر ر کی جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یکم مئی کے حوالے سے مزدورں سے اظہار یکجہتی کے لیے شیر بنگال لیبر کالونی فیروز والا میں جمعہ بڑے اجتماع سے خطاب اورلاہور ریلوے اسٹیشن پرقلیوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد اور شیخوپورہ کے ضلعی امیر رانا تحفہ دستگیر احمد بھی موجود تھے ۔
سراج الحق نے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں مزدور بے روز گار ہیں جنہیں کام نہ ملنے کی وجہ سے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور غربت اور بھوک کے ہاتھوں تنگ آکر لوگ خود کشیوں پر مجبور ہیں ۔حکومت نے ابھی تک محنت کشوں کے حوالے سے کوئی قانون سازی نہیں کی اور اگر کوئی قانون ہے بھی تو اس پر عمل درآمد نہیں ہوتا ۔مل مالکان اور ظالم سرمایہ داروں نے اپنی مرضی کے قوانین بنا رکھے ہیں ،سال ہا سال فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والوں کو ملازمت کا تحفظ حاصل نہیں ور فیکٹری مالک جب چاہتا ہے مزدور کو دھکے دیکر کارخانے سے نکال دیتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس ظلم و جبر کی کسی جگہ شنوائی نہیں ہوتی ،لیبر کورٹس میں بھی مزدور کی شنوائی نہیں ہوتی بلکہ اگر کوئی مزدور کسی کارخانہ دار کے خلاف کوئی شکایت کرتا ہے تو اسے اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں ۔سراج الحق نے کہا کہ ترقیاتی کاموں اور سکیموں کا مرکز صرف پوش ایریاز اور طبقہ اشرافیہ کے رہائشی علاقے ہوتے ہیں جبکہ غریب محنت کشوں کی بستیاں بنیادی سہولتوں سے محروم رہتی ہیں ،انہوں نے شیخوپورہ میں ترقیاتی کاموں کے نام پر ہونے والی کروڑوں روپے کی خورد برد کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سکینڈلز آئے روز سامنے آتے رہتے ہیں جس سے پنجاب حکومت کے گڈگورنس کے دعوﺅں کی قلعی کھل گئی ہے ،انہوں نے سٹیزن کمیونٹی بورڈ سکینڈل میں ملوث افسران کے خلاف مقدمات کے اندراج کے باوجود کوئی کاروائی نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان افسروں کی پشت پناہی کرنے والوں کو بے نقاب کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے ۔
سراج الحق نے مطالبہ کیا کہ لیبر قوانین کو تبدیل کیا جائے ،ہمیں ایساکوئی نظام قبول نہیں جس میں مزدوروں کے نمائندے شامل نہ ہوں ۔انہوں نے کہا کہ لیبر پالیسیاں بنانے والوں کو مزدوروں کے مسائل کا ادراک ہے نہ انہوں نے کبھی محنت کشوں کی پریشانیوں کو قریب سے دیکھنے کی زحمت کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھٹہ مزدوروں ،خواتین ورکروں ،کسانوں،کاشتکاروں اور اسی طرح غیر منظم لیبر کے لئے حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہے نہ ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے کسی حکومت نے قانون سازی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک بھر کے ان مزدور وں کو متحد کرے گی جو روزانہ آکر فٹ پاتھوں پر بیٹھ جاتے ہیں لیکن سارا دن سڑک پر گزارنے کے باوجود انہیں کوئی مزدوری نہیں ملتی اور وہ شام کو خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ جاتے ہیں ۔ان محنت کشوں کے بھی حقوق ہیں ،ان کے گھروں میں بھی معصوم بچے ہیں جن کو کھانے کیلئے روٹی ،پہنے کیلئے کپڑے اور رہنے کیلئے چھت کی ضرورت ہے مگر حکومت نے کبھی ان بے سہارا لوگوں کے بارے میں نہیں سوچا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ لیبر کالونیوں میں رہائش پذیر ملازمین کو مالکانہ حقوق دیئے جائیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے محنت کش کو اپنا دوست قرار دیا ہے اور حضور ﷺ نے خود یوم خندق کے دن سخت محنت اور مشقت کی اور اپنے ہاتھوں سے خندق کھود کر محنت کی عظمت کو قیامت تک کے لیے لازوال بنادیا۔
Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s