،آصف زرداری کی تقریر ہلکی پھلکی موسیقی ہے اسے دھمال میں تبدیل نہیں ہوناچاہیے  قومی قیادت کوباہمی اعتماد سازی کی فضا قائم رکھتے ہوئے ہر قسم کے انتشار سے بچنا چاہیے ۔ سینیٹر سراج الحق

11210381_833871646688107_236876728_n

 لاہور17جون 2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ آصف زرداری کی تقریر ہلکی پھلکی موسیقی ہے اسے دھمال میں تبدیل نہیں ہوناچاہیے ۔ ملک کے جمہوری سسٹم کو ایک دفعہ پھر کچھ خطرات لاحق ہونے کی بو محسوس ہورہی ہے ۔ سیاست اور جرائم کو الگ رہنا چاہیے اگر کوئی سیاستدان اور اسٹیبلشمنٹ کے کچھ عناصر خود کو قانون اور احتساب سے ماورا سمجھتے ہیں تو ایسے لوگوں کو اپنی سوچ کو بدلناچاہیے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کااظہار انہو ںنے پشاور میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ کوئی فرد جمہوریت کے لیے لازم و ملزوم نہیں ہے ۔ خود کو احتساب سے بالاتر سمجھنے کا رویہ تبدیل ہوناچاہیے اور ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر کسی فرد کااحتساب ہوتاہے یا وہ قانون کی گرفت میں آتاہے تو اس سے جمہوریت کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ اخلاقی بحران کا ہے جب تک ہم اپنے اخلاق کو درست نہیں کر لیتے ، ہمارے اعمال میں بہتری نہیں آ سکتی ۔ انہوں نے کہاکہ قومیں اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے ہی بلندیوں پر پہنچتی ہیں ۔ ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد ملکی آئین کا احترام کرے اور خود کو کسی آئین و قانون سے بالاتر نہ سمجھے ۔ سراج الحق نے کہاکہ اس وقت پاکستان تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گزر رہاہے ہم چین کے ساتھ اقتصادی راہداری کے ترقی و خوشحالی کے اہم ترین منصوبے پر عمل پیراہیں اور دوسری طرف بھارت اس منصوبے کو رکوانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگارہاہے ۔ بھارت کی طرف سے آئے روز ملنے والی دھمکیاں اور اشتعال انگیز بیانات خطے میں امن و امان کی صورتحال کو خراب کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس صورتحال کا تقاضاہے کہ ملک میں ملی وحدت اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ اس وقت پاکستان کسی اندرونی خلفشار کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ قومی قیادت کو انتہائی ہوشمندی کاثبوت دیتے ہوئے باہمی اعتماد سازی کی فضا کو قائم رکھنا اور ہر قسم کے انتشار سے بچنا چاہیے ۔
         

Advertisements

روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم نے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ ،انسانی حقوق کے عالمی ادارے اور عالم اسلام بھی خاموش ہے ۔ نواز شریف فوری طور پر اسلام آباد میں اسلامی سربراہی کانفرنس بلائیں۔ اسلام آباد میں برما کے مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیلئے کئے گئے احتجاجی مظاہرہ سے سینیٹرسراج الحق کا خطاب

3

امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ میانمار میں مسلمانوں پر انسانی تاریخ کے بدترین مظالم جاری ہیں مگر خود کو مہذب اور انسانی حقوق کے چیمیئن کہنے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں ،جانوروں کے حقوق پر شور مچانے والوں کو ذبح ہوتے نوجوان ،زندہ آگ میں جلائے جانے والے بچے اور برہنہ خواتین کے کٹی گردنیں کیوں نظر نہیں آتیں ، عالم اسلام مجرمانہ خاموشی اور بے حسی کو ختم کرکے روہنگیا مسلمانوں کے تحفظ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد ڈی چوک میں برما کے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے کئے گئے بڑے احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔مظاہر ہ سے نائب امیر جماعت اسلامی میاں محمد اسلم ،امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر،اسلام آباد کے امیر زبیر فاروق ،ضلعی امیر راولپنڈی شمس الرحمن سواتی اور روہنگیا مسلمانوں کے نمائندہ عبدللہ معروف نے بھی خطاب کیا ۔احتجاجی مظاہرہ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔مظاہرہ میں خواتین اور بچوں اور مسیحی برادری کی بھی بڑی تعداد شریک تھی ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ برما میں نوجوانوں کو ذبح کیا جارہا ہے ،بچوں کو زندہ آگ میں ڈال دیا جاتا ہے اور حاملہ خواتین کو برہنہ کرکے ان کے پیٹ پھاڑ کر بچوں کو نکالا جاتا ہے اور بچے کی آنکھیں نکال کر اسے نیزوں میں پرویا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچوں کو ذبح کرکے ان کا خون کتوں کو پلایا جارہا ہے ۔یہ سب مظالم اس جدید دنیا کے سامنے ہورہے ہیں جو خود کو مہذب ،ترقی یافتہ اور جمہوری کہتی ہے ،انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام نہاد محافظ جانوروں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں مگر برما میں لاکھوں انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ذبح کردیا اور زندہ جلادیا جاتا ہے لیکن کسی کے ماتھے پر بل نہیں پڑتااور کسی کی زبان سے اس ظلم کے خلاف ایک بھی لفظ نہیں نکلتا ،انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ یا اوآئی سی کو برما ،بنگلا دیش اور مصر میںجاری مسلمانوںکے قتل عام سے کوئی غرض نہیں ،ظلم کے خلاف خاموش رہنا بھی ظلم ہے ،اس وقت ضرورت ہے کہ پاکستان آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرے اور اسلام آباد میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے دنیا بھر میں مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مشترکہ حکمت عملی کا اعلان کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم میں بنگلا دیشی حکومت بھی برابر کی شریک ہے ۔
    احتجاجی مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا کہ اس وقت عالم اسلام پر ایک جمود طاری ہے ،اٹھاون مسلم ممالک کے حکمرانوں کے سامنے برما میں لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام ہوا مگر سب خواب غفلت کے مزے لے رہے ہیں اور جس طرح اسلام دشمن قوتیں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اسی طرح مسلم حکمران بھی بے حسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبے ہوئے ہیں ،انہوں نے کہا کہ اگر مسلم حکمرانوں میں ذرا برابر بھی غیر ت اور حمیت ہوتی تو دنیا میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹنے کی کسی کو جرا ¿ت نہ ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس ظلم کے خلاف متحد کرے گی اور عالم اسلام کے حکمران کو خواب غفلت سے جگانے کی کوشش کرے

بلدیاتی انتخابات بدنظمی،خیبر پختونخوا دھرنوں کی سیاست کا متحمل نہیں ہوسکتا،تمام مسائل کو سیاسی انداز میں مذاکرات کے زریعے حل کیا جائے۔۔سراج الحق

20150609_112429

امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے حالات ھڑتالوں کی سیاست کے متحمل نہیں ہو سکتے اور بلدیاتی انتخابات کے بعد کی صورت حال کو سیاسی انداز میں اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہیے۔ہمارے معاشرہ میں غربت کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے اور اس ناسور کو صرف جماعت اسلامی کی قیادت ختم کر سکتی ہے۔قومی دولت لوٹنے والوں کا بھرپور احتساب کرکے عوام کا حق چھینیں گے۔صرف جماعت اسلامی ہی ملک کو اہل اور باصلاحیت قیادت فراہم کرسکتی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز اسلامی پشاور میں انٹرنیشنل اسلامک چئیریٹیبل آرگنائزیشن کویت کے تعاون سے الخدمت فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام تین ہزار سے زائد مستحقین میں میں رمضان پیکیج کی تقسیم کے موقع پر خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ رمضان پیکیج کا اہتمام انٹرنیشنل اسلامک چئیریٹیبل آرگنائزیشن کویت نے کیا تھا۔ اس موقع پر چیرٹیبل آرگنائزیشن کے نمائندے شیخ محمد النجار،شیخ ناصر السعید،اور شیخ محمد عیسیٰ کے علاوہ سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اور الخدمت فاؤنڈیشن صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر نورالحق نے بھی خطاب کیا۔سراج الحق نے کہا گزشتہ کئی سال سے صوبہ قدرتی اور انسانی آفات کاشکار رہا ہے اور ترقی کی دوڑ میں کافی پیچھے رہ گیا ہے۔بلدیاتی انتخابات میں جو بد نظمی ہوئی ہے۔ اس کا حل نکالنے کے لیے سڑکوں پر آنا اور احتجاج کرنا کسی طور مناسب نہیں تمام مسائل کو مذا کرات کے ذریعے حل کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ جن حلقوں میں شکایات اور اعتراضات ہیں، چاہے وہ کسی بھی جماعت کی طرف سے ہوں وہاں پر دوبارہ انتخابات کرائے جائیں۔اور غلطی کے مرتکب اہلکاروں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ 85پولنگ سٹیشنوں میں گڑبڑ اور انتخابی بھاندلی کی شکایات کی بنیاد پر صوبے بھر کے 978 ڈسٹرکٹ اور ٹاؤن وارڈ کے انتخابات کو کالعدم کیسے کیاجاسکتا ہے ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ہمارے معاشرہ میں غربت کی سب سے بڑی وجہ کرپشن ہے اور اس ناسور کو صرف جماعت اسلامی کی قیادت ختم کر سکتی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہم قومی دولت لوٹنے والوں کا پیٹ پھاڑ کر عوام کا حق چھینیں گے۔سرا ج ا لحق نے کہا کہ اہل اور باصلاحیت قیادت ہمارے ساتھ ہے ۔عوام ہمارا ساتھ دیں۔ انھوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن نے اسلامک چیرٹیبل آرگنائزیشن کے تعاون سے بڑی تعداد میں غربا اور مساکین کو رمضان پیکیج فراہم کرکے اہم قومی فریضہ انجام دیا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ ہم این جی اوز کے خلاف نہیں لیکن اسلامی ثقافت اور روایات کا مزاق اڑانے والوں کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔کچھ این جی اوز یہاں مغربی کلچر پھیلانے ، دینی مدارس اور مساجد کے خلاف پرو پیگنڈا میں مصروف ہیں دوسری طرف انٹرنیشنل اسلامک چئیرٹیبل ارگنائزیشن اور اس طرح کی دوسری تنظیمیں ہیں جنھوں نے مسلمان معاشرہ سے غربت کے خاتمے کا بیڑا اٹھا رکھا ہے ۔خیبر پختونخوا میں یہ اہم فریضہ الخدمت فاؤنڈیشن انجام دے رہی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو غریب عوام کی کوئی پروا نہیں اور دو دن پہلے جو بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مخصوص گرہوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ غریب عوام کو حقوق صرف جماعت اسلامی دلا سکتی ہے اور ہم دلا کر رہیں گے۔

(روہنگیا مسلمانوں کا تحفظ کرنا عالم اسلام کی ذمہ داری ہے (سراج الحق 

pic sirajul haq 8 june

لاہور8جون 2015ئ   
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام رکوانا اور انہیں تحفظ دینا عالم اسلام کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔روہنگیا مسلمانوں کو اقوام متحدہ سمیت حقوق انسانی کے تحفظ کی دعویدارکسی عالمی تنظیم نے تحفظ نہیں دیا اور اوآئی سی اور اسلامی دنیا کے حکمرانوں نے بھی انتہائی غفلت اور کوتاہی کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے لاکھوں معصوم مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا اور پکڑ کر جانور وں کی طرح ذبح کردیا گیا ۔حکومت فوری طور پر اقوام متحدہ میں برما کے مسلمانوں کے تحفظ کیلئے قرارداد لائے اور مسلمانوں کی برما سے بے دخلی کے خلاف عالمی رائے عامہ کوہموار کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مرکزی ذمہ داران کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔
     سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر جس طرح اسلام دشمنوں اور غیر مسلموں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے اسی طرح مسلم حکمرانون نے بھی اپنے لب سی لئے ہیں،عالم اسلام اور او آئی سی خواب غفلت سے جاگے اور برما کے مسلمانوں کے تحفظ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے ،اقوام متحدہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویہ ترک کرے اقوام متحدہ اور نام نہاد مہذب دنیا کے سامنے روہنگیا مسلمان پناہ کی تلاش میں سمندر میں مارے مارے پھر رہے ہیں ،انہیں خشکی پر پناہ نہیں مل رہی ،اب تک ہزاروں لوگ سمندر میں ڈوب کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ،لیکن پوری دنیا خاموشی سے یہ موت کا کھیل دیکھ رہی ہے مگر جانوروں کے حقوق کی باتیں کرنے والوں کو مسلمانوں کی حالت زار پر رحم نہیں آتا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے منافقانہ رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سے ہی دنیا میں امن قائم نہیں ہورہا ۔
    سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی 14جون کو اسلام آباد میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلیں اور بے حس حکمرانوں کو جگانے کی کوشش کریں۔برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم دنیا کے حکمرانوں نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے ،عالم اسلام کا فرض تھا کہ 2011ءمیں مسلم کش فسادات کے بعد ہی برمی مسلمانوں کے تحفظ کیلئے کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائی جاتی اور اقوام متحدہ میں ایک قرار داد پیش کی جاتی کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار سے بے دخل کرنے اور ان کی شہریت ختم کرنے کی کوششوں کو روکا جاتا ،انہوں نے کہا کہ آج چار سال بعد بھی جبکہ لاکھوں مسلمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مسلم حکمرانوں کی طرف سے کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مسلمانوں سے امتیازی سلوک کی وجہ سے عالم اسلام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ،دنیا میں امن کے قیام کے دعویدار مسلمانوں کے ساتھ ایک معاندانہ رویہ اختیار کیئے ہوئے ہیں،نہوں نے کہا کہ برما میں قتل عام رکوانے کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کچھ نہیں کررہی جو ایک المیہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی تیمور کی انڈونیشیا ءسے علیحدگی اور جنوبی سوڈان کو سوڈان سے الگ کردیا گیامگر فلسطین ،برمااور کشمیر کے کروڑوں مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں انہیں چن چن کر قتل کیا جارہا ہے ۔                          
       

عام آدمی کا مسئلہ ایئر کنڈیشنر اور گاڑی نہیں بلکہ آٹا ہے ،حکمرانوں نے عام آدمی کی پریشانیوں کو کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کردیا ہے ۔حکومت نے بجٹ میںعام آدمی کی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔ سینیٹر سراج الحق

siraj 7
لاہور7جون 2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ عام آدمی کا مسئلہ ایئر کنڈیشنر اور گاڑی نہیں بلکہ آٹا ہے ،حکمرانوں نے عام آدمی کی پریشانیوں کو کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کردیا ہے ۔حکومت نے بجٹ میںعام آدمی کی ضروریات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔عوام ٹیکس چوروں اور حرام خوروں سے تنگ آچکے ہیں اور ملک میں اسلامی انقلاب کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو مسلم ریاستوں سے الگ کرنے والوں کو برما میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں نظر نہیں آتا,برما کے مسئلہ پراقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں بھی قبرستان کی سی خاموشی ہے ۔ مسلم دنیا کے حکمران اس وقت تک زبان نہیں کھولتے جب تک اوبامہ کسی ظلم کی مذمت نہ کردے ۔حکمرانوں کا قبلہ مکہ مکرمہ نہیں واشنگٹن ہے۔ واشنگٹن کے غلام چاہتے ہیں کہ قرآن پڑھنے اور اسلامی نظام کی بات کرنے والے ”مجرموں“ کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں مختلف شہروں سے آئے ہوئے سینکڑوںکارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر حافظ محمد ادریس بھی موجود تھے ۔
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ نے کہا کہ ملک میں اسلام کے عادلانہ نظام کی راہ میں امریکہ بھارت یا اسرائیل نہیں حکمران رکاوٹ ہیں ،حکمران نہیں چاہتے کہ عام آدمی ان کے برابر کھڑا ہواورعوام کی رسائی اقتدار کے ایوانوں تک ہو،انہوں نے کہا کہ ملک پر ایک استحصالی اور طبقاتی نظام مسلط ہے ،جس میں عوام کوچھوت سے زیادہ اہمیت نہیں دی جاتی ،اقتدار پر قابض طبقہ اپنے ”اسٹیس کو “کے تحفظ کیلئے عوام پر ظلم و جبر کے کوڑے برسا رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ اب عوام اس اشرافیہ اور سیاسی پنڈتوں کے ٹولے سے بیزارہو چکے ہیں اور ملک میں اسلامی نظام اور شریعت کے نفاذ کیلئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں،عوام کرپشن اور کمیشن خوروں سے نجات کیلئے آخری حد تک جانا چاہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں” اسٹیس کو “کے اس ظالمانہ نظام کے خاتمہ کیلئے عوام کی امنگوں کی ترجمانی کرے گی ۔ہم عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانے کی جدوجہد کررہے ہیں ،انہوں کہا کہ جماعت اسلامی اقتدار میں آکر ملک سے اس استحصالی اور طبقاتی نظام کا خاتمہ کردےگی ،ہم ملک میں طرح طرح کے تعلیمی نظاموں کے بجائے یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے جس میں عام مزدور اور محنت کش کا بیٹا بھی اسی سکول میں پڑھے گا جس میں صدر پاکستان اور وزیر اعظم کا بیٹا پڑھتا ہے ،انہوں نے کہا کہ ہم معاشرے کو مسجد کے گرد جمع کریں گے ۔بڑی بڑی سرکاری عمارتوں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں تبدیل کردیں گے اور ملک میں میٹرک تک تعلیم بالکل مفت ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں تیس لاکھ سے زائد بچے بچیاں تعلیم حاصل کرتے ہیں مگر حکمران ان کیلئے کچھ کرنے کو صرف اس لئے تیار نہیں کہ وہ ملک میں دین کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ 
سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر جس طرح غیر مسلموں نے آنکھیں بند اور لبوں کو سی رکھا ہے اسی طرح مسلم دنیا کے حکمرانوں نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے ،انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مسلمانوں سے امتیازی سلوک کی وجہ سے عالم اسلام میں ایک کرب کی کیفیت ہے ،دنیا میں امن کے قیام کے دعویدار مسلمانوں کے ساتھ ایک معاندانہ رویہ اختیار کیئے ہوئے ہیں،انہوں نے کہا کہ مشرقی تیمور کی انڈونیشیا ءسے علیحدگی اور جنوبی سوڈان کو سوڈان سے الگ کرکے ایک الگ ملک بنانے کے پیچھے بھی اسلام دشمنی ہے ،انہوں نے کہا کہ برما میں قتل عام رکوانے کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کچھ نہیں کررہی جو ایک المیہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 14جون کو اسلام آباد میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ 

جماعت اسلامی نے متنازعہ یونین کونسلوں میں دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر دیا شدید بد انتظامی ہلڑ بازی اور الیکشن کمیشن کی ناکامی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں،اہم صوبائی اجلاس میں مرکزی امیر جماعت کی خصوصی شرکت

siraj 21 3 copy

امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات منعقد کرانے میں کامیاب نہیں ہوا اور بد انتظامی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات پر ہر طرف سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں جس سے صوبائی حکومت کی نیک نامی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ جس آفسر نے بھی اپنی ڈیوٹی میں کوتاہی کی اسکو سزاملنی چاہئے اور اور انکا محاسبہ ہونا چاہئے ۔اس حوالے سے ہفتہ کے روز المرکز اسلامی پشاور میں صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان کی صدارت میں جماعت اسلامی کے اراکین پارلیمنٹ اور مرکزی وصوبائی عہدیداروں کا اہم اجلاس ہوا جس میں مرکزی امیر سراج الحق نے خصوصی شرکت کی۔دیگر شرکا میں سینئر صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان مرکزی نائب امیر میاں محمد اسلم ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد اصغر،صوبائی نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال ارکان قومی اسمبلی صاحبزادہ طارق اللہ،صاحبزادہ یعقوب خان اور شیر اکبر کے علاوہ ضلع پشاور کے امیر صابر حسین اعوان شامل تھے۔مرکزی امیر سراج الحق نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات منعقد کرانے میں کامیاب نہیں ہوا اور بد انتظامی کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات پر ہر طرف سے انگلیاں اٹھ رہی ہیں جس سے صوبائی حکومت کی نیک نامی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ انھوں نے کہا کہ جن جن یونین کونسلوں پر سیاسی جماعتوں ،میڈیا اور آزاد ذرائع کی جانب سے شکایات ہیں ان کا ازالہ کرتے ہوئے دوبارہ انتخابات منعقد کرائے جائیں۔اور انتخابی عملہ میں جو جو بد انتظامی ملوث پایا جائے اس کے خلاف قانونی کارروائی کرکے سزا دی جائے اجلاس میں صوبائی نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال نے صوبہ بھر میں جماعت اسلامی کے امیدوواروں کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا جبکہ ضلع پشاور کے امیر صابر حسین اعوان نے ضلع پشاور میں انتخابات کے اور اس میں ہونے والی بدانتظامی کے بارے میں تفصیلی روپرٹ پیش کی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ صوبہ کے وسطی اضلاع بشمول پشاور میں شدید بد انتظامی دیکھنے میں آئی جس میں ووٹروں کی بروقت رائے دہی میں رکاوٹیں،بیلٹ بکسوں کا تھوڑا جانا اور ٖائب کیا جان،بیلٹ پیپروں کا جلائے جانا اور پولنگ سٹیشنوں سے باہر لے جانا شامل ہیں۔امیر جماعت کو مزید بتایا گیا کہ کہ پولنگ ایجنٹوں کو مکمل فہرستیں فراہم نہیں کی گئیں اور نتائج بھی وقت پر تیار کرانے میں الیکشن کمیشن ناکام رہا۔پولنگ اسٹیشنوں پر ہلڑ بازی اور لڑائی جھگڑے عام ہوئے 35یونین کونسلوں اور85پولنگ اسٹیشنوں میں بدانتظامی دیکھنے میں آئی۔اجلاس نے اس تاثر کا اظہار کیا گیا کہ شدید بدانتظامی کی وجہ صوبائی حکومت پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور میڈیا میں اس پر مباحثے چل رہے ہیں۔