سراج الحق نے اسلام آباد میں وفد کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کے دفتر جاکر روہنگیا (برما) کے مسلمانوں پر گزشتہ کئی سالوں سے جاری بے پناہ تشدد، ظلم و جبر ، بربریت اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کے نام خط اور یادداشت پیش کیے۔

abc

اسلام آباد5؍جون2015 ء
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے آج اسلام آباد میں وفد کے ہمراہ اقوامِ متحدہ کے دفتر جاکر روہنگیا (برما) کے مسلمانوں پر گزشتہ کئی سالوں سے جاری بے پناہ تشدد، ظلم و جبر ، بربریت اور انسانیت سوز مظالم کے خلاف سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون کے نام خط اور یادداشت پیش کیے۔ اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے سینیٹر سراج الحق کو یقین دلایا کہ ایک گھنٹے کے اندر اُن کا خط سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ کو پہنچا دیا جائے گا۔ وفد میں نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم، جماعتِ اسلامی امورِ خارجہ کے نگران عبدالغفار عزیز، امیر جماعتِ اسلامی اسلام آباد زبیر فاروق خان، امیر جماعتِ اسلامی راولپنڈی شمس الرحمن سواتی بھی موجود تھے۔ بعد ازاں اقوامِ متحدہ آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آج ہم نے اسلام آباد میں اقوامِ متحدہ کے دفتر میں 18 کروڑ پاکستانی عوام کی طرف سے برما کے علاقے روہنگیا میں گزشتہ چند سالوں سے مسلمانوں کے قتلِ عام کے خلاف ایک یادداشت پیش کی ہے، جس میں ہم نے کہا ہے کہ روہنگیا میں مسلمانوں کی آبادی پانچ ملین تھی، جو اب گھٹ کر ایک ملین رہ گئی ہے۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ اتنے بڑے genocide پر اقوامِ متحدہ، عالمی برادری اور مسلم حکمران تک خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ روہنگیا میں سرکاری مشینری کی سرپرستی میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ ڈھائے گئے جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ راتوں کو لوگوں کو پکڑ پکڑ کر کشتیوں میں زبردستی سوار کرکے انہیں بیچ سمندر ذبح کرکے، خواتین کی اجتماعی عصمت دری کرکے جلایا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم حیران ہیں کہ اقوامِ متحدہ ، جو جانوروں کے حقوق کی بھی بات کرتا ہے، لیکن وہ چار ملین مسلمانوں کی نسل کشی پر کس طرح مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر او آئی سی مسلم اقلیتوں کے تحفظ کے لیے کچھ نہیں کرسکتی تو پھر اسے ختم کردیا جائے۔ دنیا بھر کے مسلمان ممالک یہ ظلم و جبر دیکھ رہے ہیں لیکن وہ آنکھیں بند کرکے اندھے بہرے بن کر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور وزیر اعظم نواز شریف سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس قتلِ عام کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے ہمیشہ مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھائی ہے، اور ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم ہر فورم پر روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ اس سلسلے میں 14 جون 2015ء کو ایک بڑا احتجاجی مارچ بھی کیا جائے گا۔ سینیٹر سراج الحق نے بنگلہ دیش میں ہونے والی ظلم و زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں بھی بے گناہ شہریوں کو پھانسیاں دی جارہی ہیں ، اور خدشہ ہے کہ جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش کی اعلیٰ قیادت میں سے مزید افراد کو پھانسیاں دی جائیں۔ ہم اس غیر انسانی، غیر قانونی، غیر اخلاقی عمل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے فی الفور روکا جائے۔ حیرانگی کی بات ہے کہ پاکستان کی ریاست اور حکومتِ پاکستان ، پاکستان کی محبت میں گرفتار لوگوں کو سزا پر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ انہوں نے مصر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مصر میں بھی موجود وقت کے فرعوں جنرل سیسی نے ایک سو سے زائد بے گناہ منتخب نمائندوں کو موت کی سزائیں سنائی ہیں۔ ہم ان ظالمانہ اور جمہوریت کش سزاؤں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس ظالمانہ فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اس وقت روہنگیاکے مسلمان ہزاروں کشتیوں میں بیچ سمندر موجود ہیں، لیکن کوئی ملک انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ خدشہ ہے کہ کہیں اس وحشیانہ اور انسان سوز بربریت پر کہیں اللہ کا عذاب نہ آجائے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی اس کے خلاف آواز اٹھائیں گے۔ تمام سیاسی پارٹیوں سے بھی اپیل ہے کہ وہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف یک آواز ہوجائیں گے۔ ہزاروں روہنگیائی مسلمان، جو کشتیوں میں موجود ہیں، انہیں بچانے کی کوشش کی جائے۔ سراج الحق نے اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی برادری، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور پاکستانی و مسلم حکمرانوں ، سیاسی جماعتوں اور تمام طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراداور اداروں سے اس ظلم کے خلاف بھر پور آواز اٹھانے کی اپیل کی اور کہاکہ پاکستانی عوام روہنگیا کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و بربریت کے خلاف 14 جون کو ہونے والے جماعتِ اسلامی کے احتجاج میں شریک ہوں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s