مالی سال 2015-16کا وفاقی بجٹ مایوس کن اور مزدور کش ہے اس بجٹ میں ملک کی غریب اور پسی ہوئی عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ،وفاقی بجٹ مزدورکش،ملکی ترقی کے شعبوں کو نظر اندازکیا گیا ہے۔سینیٹر سراج الحق کا وفاقی بجٹ پر ردعمل

abc2ا

اسلام آباد5 جون2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ مالی سال 2015-16کا وفاقی بجٹ مایوس کن اور مزدور کش ہے اس بجٹ میں ملک کی غریب اور پسی ہوئی عوام کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا جمعہ کے روز وفاقی حکومت کی طرف سے پیش کیے گئے بجٹ پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بجٹ الفاظ کے گورکھ دھندے اور ہیر پھیر کے علاوہ کچھ نہیں ۔بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئی بلکہ عوام نے حکمرانوں سے جو امیدیں لگا رکھی تھیں ان کا بھی خون کیا گیا ۔سراج الحق نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوںاور پنشن میں دس فیصد اضافے کا عندیہ دیا گیا تھا جو کم کرکے.5 7فیصد کردیا گیا ہے ،اسی طرح حکومت نے دعوی ٰ کیا ہے کہ ان کی کو ششوں سے زرمبادلہ کے ذخائر 16بلین ڈالرز سے زائد کے ہیں جبکہ خود تسلیم کررہے ہیں کہ برآمدات میں تین فیصد کمی ہوئی ہے ،حالانکہ یہ کمی 5فیصد ہے ۔انہوں نے کہا کہ زر مبادلہ میں اضافہ برآمد ات کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ اس کی دیگرپانچ وجوہات ہیں ،جن میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی بھیجی ہوئی رقوم ،سعودی عرب سے ملنے والے ڈیڑھ ارب ڈالرز،کولیکشن فنڈ سے ملنے والا حصہ ،دو بلین ڈالر کے بیچے گئے یوروبانڈز اور بھاری شرح سود پر بیچے گئے سکوک بانڈز ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے جی ڈی پی میں اضافے کا ہدف 5.1فیصد رکھا تھا وہ 4.2فیصد رہا ،اس میں صنعت اور زراعت میں بڑھوتری نہ ہونے کے برابر ہے ۔وزیر خزانہ نے خود تسلیم کیا ہے کہ بجٹ خسارہ 5فیصد ہے ۔حکومت نے ایف بی آر میں ریونیو کا ہدف 2.8ٹریلین مقر ر کیا تھاجسے بعد میں کم کرکے پہلے 2.7اور پھر 2.6کردیا گیا لیکن حکومتی پالیسیاں بتا رہی ہیں کہ ان سے یہ بھی پورا نہیں ہوگا۔اس میں عوام کا ریفنڈ ایبل 220بلین ہے ۔
    سراج الحق نے کہا کہ موجودہ بجٹ کا حجم 4.7ٹریلین ہے ،جس میں ٹیکس ریونیو31سو ارب روپے ہے اور جی ڈی پی کی شرح گروتھ 5.5مقرر کی گئی ہے ۔برآمدات کا ہدف 25.5بلین رکھا گیا ہے ،جبکہ اس وقت برآمدات20.6بلین ڈالر کی ہوئی ہیں ،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1.5ٹریلین رکھا گیا ہے جس میں سات سو بلین وفاق اور 800بلین صوبوں کا ہوگا۔780بلین ڈیفنس اور 227بلین منسٹریز کیلئے رکھے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ سارے اہداف کاغذی کاروائی ہے ۔یہ کسی صورت بھی پورے نہیں ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک فریب اور دھوکہ ہے جو قوم کو دیا جارہا ہے ۔مجموعی قومی پیداوار میں کوئی اضافہ نہیں ہوگاکیونکہ حکومت کی موجودہ پالیسیوں سے صنعت اور زراعت میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی۔حکمران اسی طرح ڈینگیں مارتے رہیں گے اور آئندہ سال بھی انہیں قرضوں پر گزارا کرنا پڑے گا۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ اس بجٹ میں صحت، تعلیم، زراعت، صنعت سمیت تمام شعبوںکی ترقی کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف امیروں ، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا گیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ بات افسوسناک ہے کہ صحت کے شعبے کے بجٹ میں گذشتہ سال کی نسبت کمی کی گئی ہے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں صرف ساڑھے سات فیصد بڑھانا” اونٹ کے منہ میں زیرے” کے برابر ہے ملازمین کی تنخواہیں مہنگائی کی شرح میں اضافے کے مطابق بڑھائی جانی چاہیں بعض سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو دوگناکرناباقی ملازمین کی ساتھ سراسر زیادتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت جو ہمارے ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اس کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کسانوں کے لیے کوئی ریلیف نہیں دیا گیا سراج الحق نے کہا کہ اس بجٹ کے نتیجے میں امیرمزید امیر ہو گا اور غریب پس جائے گا تعلیم کے شعبے میں طلباءکو کوئی سہولت نہیں دی گئی اور نہ ہی تعلیمی بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کیا گیا ہے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s