(روہنگیا مسلمانوں کا تحفظ کرنا عالم اسلام کی ذمہ داری ہے (سراج الحق 

pic sirajul haq 8 june

لاہور8جون 2015ئ   
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کا قتل عام رکوانا اور انہیں تحفظ دینا عالم اسلام کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔روہنگیا مسلمانوں کو اقوام متحدہ سمیت حقوق انسانی کے تحفظ کی دعویدارکسی عالمی تنظیم نے تحفظ نہیں دیا اور اوآئی سی اور اسلامی دنیا کے حکمرانوں نے بھی انتہائی غفلت اور کوتاہی کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے لاکھوں معصوم مسلمانوں کو زندہ جلایا گیا اور پکڑ کر جانور وں کی طرح ذبح کردیا گیا ۔حکومت فوری طور پر اقوام متحدہ میں برما کے مسلمانوں کے تحفظ کیلئے قرارداد لائے اور مسلمانوں کی برما سے بے دخلی کے خلاف عالمی رائے عامہ کوہموار کیا جائے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ مرکزی ذمہ داران کے اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کیا ۔
     سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں کی حالت زار پر جس طرح اسلام دشمنوں اور غیر مسلموں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے اسی طرح مسلم حکمرانون نے بھی اپنے لب سی لئے ہیں،عالم اسلام اور او آئی سی خواب غفلت سے جاگے اور برما کے مسلمانوں کے تحفظ کیلئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے ،اقوام متحدہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویہ ترک کرے اقوام متحدہ اور نام نہاد مہذب دنیا کے سامنے روہنگیا مسلمان پناہ کی تلاش میں سمندر میں مارے مارے پھر رہے ہیں ،انہیں خشکی پر پناہ نہیں مل رہی ،اب تک ہزاروں لوگ سمندر میں ڈوب کر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ،لیکن پوری دنیا خاموشی سے یہ موت کا کھیل دیکھ رہی ہے مگر جانوروں کے حقوق کی باتیں کرنے والوں کو مسلمانوں کی حالت زار پر رحم نہیں آتا۔انہوں نے اقوام متحدہ کے منافقانہ رویہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی وجہ سے ہی دنیا میں امن قائم نہیں ہورہا ۔
    سینیٹرسراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی 14جون کو اسلام آباد میں روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کے خلاف بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کیلئے ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں باہر نکلیں اور بے حس حکمرانوں کو جگانے کی کوشش کریں۔برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر مسلم دنیا کے حکمرانوں نے بھی مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے ،عالم اسلام کا فرض تھا کہ 2011ءمیں مسلم کش فسادات کے بعد ہی برمی مسلمانوں کے تحفظ کیلئے کوئی مشترکہ حکمت عملی بنائی جاتی اور اقوام متحدہ میں ایک قرار داد پیش کی جاتی کہ روہنگیا مسلمانوں کو میانمار سے بے دخل کرنے اور ان کی شہریت ختم کرنے کی کوششوں کو روکا جاتا ،انہوں نے کہا کہ آج چار سال بعد بھی جبکہ لاکھوں مسلمان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں مسلم حکمرانوں کی طرف سے کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مسلمانوں سے امتیازی سلوک کی وجہ سے عالم اسلام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے ،دنیا میں امن کے قیام کے دعویدار مسلمانوں کے ساتھ ایک معاندانہ رویہ اختیار کیئے ہوئے ہیں،نہوں نے کہا کہ برما میں قتل عام رکوانے کیلئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری کچھ نہیں کررہی جو ایک المیہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مشرقی تیمور کی انڈونیشیا ءسے علیحدگی اور جنوبی سوڈان کو سوڈان سے الگ کردیا گیامگر فلسطین ،برمااور کشمیر کے کروڑوں مسلمان اپنے اپنے علاقوں میں ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں انہیں چن چن کر قتل کیا جارہا ہے ۔                          
       

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s