جوڈیشل کمیشن کا کام اس وقت تک نامکمل ہے جب تک کہ بے ضابطگیوں میں ملوث لوگوں کو سزا نہیں مل جاتی ،اگر یہ بے ضابطگیاں نہ ہوتیں تو انتخابات پر اتنے سوالات اٹھتے اور نہ ہی دھاندلی کا اتنا شور ہوتا ۔پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک واپس لی جائے ،اس سے انتشار میں اضافہ ہوگا۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کا ذمہ داران جماعت سے خطاب

siraj 21 3 copy

لاہور28جولائی 2015ء
    امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا کام اس وقت تک نامکمل ہے جب تک کہ بے ضابطگیوں میں ملوث لوگوں کو سزا نہیں مل جاتی ،اگر یہ بے ضابطگیاں نہ ہوتیں تو انتخابات پر اتنے سوالات اٹھتے اور نہ ہی دھاندلی کا اتنا شور ہوتا ۔پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کی تحریک واپس لی جائے ،اس سے انتشار میں اضافہ ہوگا ۔سیاسی جماعتیں باہم دست و گریبان ہونے کی بجائے عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے مل کر جدوجہد کریں ۔ملک میں غربت ،مہنگائی بے روز گاری اور تعلیم و صحت کی سہولتوں کی عدم دستیابی سب سے بڑے مسائل ہیں ،ان کے حل پر فوکس کیا جائے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیاسیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں جماعت کے ذمہ داران سے گفتگو کرتے کرتے ہوئے کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جن بے ضابطگیوں کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ان کا سدباب کرنا اور ان بے ضابطگیوں کے ذمہ داروں کو سزا دینا جوڈیشل کمیشن کا کام ہے ،جوڈیشل کمیشن کو اپنا کام مکمل کرنا چاہئے تاکہ آئندہ انتخابات میں دھاندلی اور ایسی بے ضابطگیوں کو روکا اور انتخابی عمل کو صاف و شفاف اور عوام کیلئے قابل اعتماد بنایا جاسکے ،انہوں نے کہا کہ سیا سی جماعتیں انتشار کے خاتمہ کیلئے مثبت کردار ادا کریں ،جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر آئندہ کیلئے مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہئے ،اصل مقصد انتخابی اصلاحات ہیں ،انتخابی نظام کی بہتری سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے اگر مقابلہ بازی کرنی ہے تو عام آدمی کی حالت کو سدھارنے کیلئے آگے بڑھیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت مہنگائی ،بے روز گاری اور بدامنی جیسے گھمبیر مسائل کا شکار ہے ،عام آدمی تعلیم ،صحت اور روز گار کی سہولتوں سے محروم اور پریشانی کا شکار ہے ،ضرورت اس بات کی ہے کہ ان مسائل کا موثر حل تلاش کیا جائے اور عام آدمی کی پریشانیوں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کی جائے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندر چھپی کالی بھیڑوں کو نکال باہر کریں اور ملک و قوم کی خدمت کے جذبہ سے سرشار لوگوں کو آگے آنے کا موقع دیں ،انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں اپنے ممبران اور کارکنان پر گہری نظر رکھیں اور جرائم میں ملوث لوگوں کو پنپنے اور سیاست کو بدنام کرنے کا موقع نہ دیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک سے کرپشن اور کمیشن خوری کا خاتمہ ہونا چاہئے ،کرپشن میں ملوث کسی اعلیٰ ترین سرکاری عہدے دار کو بھی معاف نہ کیا جائے اور ایسے لوگوں کو فارغ کرکے نظام کو مکمل تباہی سے بچایا جائے ،انہوں نے کہا کہ بیرونی بنکوں میں موجود قومی دولت واپس لائی جائے اور اسے عام آدمی کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ اب عوام کرپشن مافیاکو کسی صورت بھی برداشت کرنے کو تیار نہیں ،وہی سیاسی جماعتیں عوام کا اعتماد حاصل کرسکیں گی جو عوامی خدمت کی دوڑ میں آگے ہونگی ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی قیادت کو سیلاب زدگان کی امدادی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے اور مشترکہ طور پر ایسی حکمت عملی بنائی جائے کہ سیلاب کے خطرے کو ہمیشہ کیلئے روکا جاسکے ۔

خطے میں مستحکم اور پائیدار امن کیلئے پرامن افغانستان کی ضرورت ہے ،مذاکرات کی میز ہی افغانستان سے بیرونی قوتوں کے انخلاء اور انکی مداخلت دونوں ممالک کے مسائل کے علاوہ ایشیاء کے مسائل کا حل ہے ،افغان قوم کو بندوق کی نوک پر زیر نہیں کیا جاسکتا ۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان کا افغان نجی ٹی سے گفتگو

IMG_20150728_185440

امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے مری مذاکرات کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مستحکم اور پائیدار امن کیلئے پرامن افغانستان کی ضرورت ہے ،مذاکرات کی میز ہی افغانستان سے بیرونی قوتوں کے انخلاء اور انکی مداخلت دونوں ممالک کے مسائل کے علاوہ ایشیاء کے مسائل کا حل ہے ،افغان قوم کو بندوق کی نوک پر زیر نہیں کیا جاسکتا ،افغان قوم کیلئے جرگے اور مرکے (مذاکرات )ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں اس لئے ہم نے روس کے نکلنے کے بعد سے افغان گروہوں کے درمیان مذاکرات کرائے تھے ،مری مذاکرات میں کوئی رول نہیں لیکن ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں اور ان مذاکرات کو خطے میں امن کیلئے نیک شگون سمجھتے ہیں پاکستان اور افغانستان کی دوستی تاریخی ہے اور پاکستان افغانوں کا دوسرا گھر ہے افغان مہاجرین کو حالات کی وجہ سے دقت اٹھانی پڑی ہے تاہم اس حوالے سے ہم نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور دیگر حکام سے دوٹوک الفاظ میں بات کی ہے افغان مہاجرین کو ہراساں کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے المر کز الاسلامی پشاور میں ایک افغان نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا پروفیسرمحمد ابراہیم خان نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی دوستی کی ایک تاریخ ہے اوردوستی کے اس تاریخ کے پیش نظر دونوں ممالک ایک دوسرے کے دکھ درد سے دور نہیں رہ سکتے ایک قوم ایک امت ہیں اس لئے ہم نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی جب افغانستان میں انتخابات قریب تھے تب تجویز دی تھی کہ ان انتخابات میں بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جائے اور طالب ہو یاکوئی اور گروہ تمام کے تمام فریقین کو اس عمل کا حصہ بنایا جائے لیکن ہماری اس تجویز پر عمل نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ اس وقت جن پروفیسر صبغت اللہ مجددی جرگے کے سربراہ تھے ہم نے جرگے اور مذاکرات کی بات کی تھی ہم نے کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششیں کیں تھیں ہم افغانستان میں کسی بھی بیرونی قوت کی مداخلت کے خلاف ہیں افغان قوم خود اپنے مسائل جرگوں کے ذرئعے حل کرنے والی قوم ہیں اگر افغانستان میں افغانوں کو خود آپس میں بات چیت اور جرگوں کیلئے چھوڑا گیا اور وہاں پر بیرونی مداخلت ختم ہوئی تو نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ پورا ایشیاء امن کا گہوارا بن جائیگا انہوں نے کہا کہ صدر حامد کرزئی سے لیکر آج کی حکومت تک جب بھی ہماری بات ہوئی تو سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ہم امریکہ کا افغانستان سے انخلاء کے حامی ہیں افغان قوم کو خود مسائل حل کرنے کا موقع دیا جائے لیکن افسوس ہے کہ افغان قوم کو آپس میں مل بیٹھنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے افغانستان بارود کا ڈھیر بنا رہا انہوں نے کہا کہ دنیا میں بالآخر بڑے بڑے مسائل مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں اوراب جومری مذاکرات شروع ہوئے ہیں دیر آئد درست آئید کے مصداق ہم ان مذاکرات کو پورے خطے کیلئے ایک نوید سمجھتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوجائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ کے مسئلے سے صرف افغان مہاجرین متاثر نہیں ہوئے بلکہ ان مسائل سے خود پاکستانی قوم کو بھی حالات کی وجہ سے سامنا کرنا پڑا ہے تاہم افغان مہاجرین کی مہمان کی حیثیت کی وجہ سے ہم نے ہر وقت ایسی صورتحال کے بارے میں حکام سے بات کی ہے اور اب کچھ عرصہ قبل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ایک بیان کو غلط انداز میں پیش اور غلط مقصد لینے کی وجہ سے مہاجرین مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جس پر ہماری صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات ہوئی تھی اور انہوں نے خود اقرار کیا تھا کہ میرے بیان سے غلط مقصد لیا گیا ہے اور اس حوالے پولیس چیف خیبر پختونخوا سمیت متعلقہ اداروں سے بات کی انہوں نے کہا کہ پاک افغان دوستی تاریخ کا حصہ ہے اور دوستی کے اس رشتے کو کسی صورت نہیں ٹوٹنے دیں گے۔

شہریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر کسی حکومت نے بھی اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کیا ۔ سرکاری ہسپتالوں میں سفارش کے بغیر کسی غریب مریض کو داخل نہیں کیا جاتا ۔ وزیروں ،مشیروں کے علاج پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر ہسپتالوں اور شعبہ صحت کی بہتری کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ جماعت اسلامی حکومت میں آکر پانچ بڑی بیماریوں کا علاج مفت کرے گی ۔سینیٹرسراج الحق کا مصورہ ہسپتال کے دورے کے موقع پر اظہار خیال

jjj

لاہور27جولائی2015ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ شہریوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر کسی حکومت نے بھی اپنی اس ذمہ داری کو پورا نہیں کیا ۔ سرکاری ہسپتالوں میں سفارش کے بغیر کسی غریب مریض کو داخل نہیں کیا جاتا ۔ وزیروں ،مشیروں کے علاج پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر ہسپتالوں اور شعبہ صحت کی بہتری کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ۔ جماعت اسلامی حکومت میں آکر پانچ بڑی بیماریوں کا علاج مفت کرے گی ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے الخدمت منصورہ ٹیچنگ ہسپتال کے دورہ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ ہسپتال کے نگران ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ، ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر طارق شفیق اور میڈیکل سپرننٹنڈنٹ ڈاکٹر صاحبزادہ انوار بگری بھی ان کے ہمراہ تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں شدید بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ وبائی امراض کا شکار ہورہے ہیں ۔ لوگوں میں پیٹ اور سانس کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں مگر حکومت ان کے سدباب کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں کر رہی ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں دل ، گردے ، کینسر ، یرقان اور تھلیسمیا کی بیماریوں کا علاج اتنا مہنگا ہے کہ اس کے بارے میں کوئی غریب سوچ بھی نہیں سکتا اور جن گھروں میں یہ بیماریاں داخل ہو جاتی ہیں ان کے لیے زندگی موت سے بدترہو جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی ویلفیئر ریاست کا فرض ہے کہ وہ ایسی بیماریوں کا مفت علاج کرے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ان بیماریوں کا علاج تمام سرکاری ہسپتالوں میں مفت کرے گی ۔ سراج الحق نے ایمر جنسی سرجیکل ، میڈیکل وارڈ ز سمیت لیبارٹری کا دورہ کیا اور مریضو کی عیادت کی ۔
دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے اسرائیلی پولیس اور فوجیوں کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور خواتین سمیت نمازیوں پر بہیمانہ تشدد اور گرفتاری کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ اسرائیل عالمی دہشتگرد ہے ۔ کسی مذہب میں بھی مذہبی مقامات کی بے حرمتی کی اجازت نہیں مگر اسرائیلی فوج تمام عالمی قوانین کو روندتے ہوئے بارہا مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی کر چکی ہے ۔ انسانی حقوق کے نام نہاد عالمی چمپئن امریکہ کی سرپرستی میں مسلمانوں پر پوری دنیا میں مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔ یہودیوں نے نصف صدی سے فلسطین پر قبضہ کر رکھاہے مگر عالمی برادری کشمیر اور فلسطین کے مسائل پر آنکھیں بند کیے بیٹھی ہے اور یہود و ہنود کو کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے ۔

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے کسان راج تحریک کے اعلیٰ سطحی وفد نے کسان بورڈ پاکستان کے صدر صادق خان خاکوانی کی قیادت میں منصورہ میں ملاقات کی اور انہیں کسانوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ۔

IMG_6902
لاہور25جولائی 2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے کسان راج تحریک کے اعلیٰ سطحی وفد نے کسان بورڈ پاکستان کے صدر صادق خان خاکوانی کی قیادت میں منصورہ میں ملاقات کی اور انہیں کسانوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ۔وفد میں نائب صدر کسان بور ڈ اور سابق ممبر فیڈرل بورڈ آف پاکستان سرفراز احمد خان ،نائب صدر چوہدری نثار احمد ،سیکرٹری جنرل محمد رمضان روہاڑی اور کسان راج تحریک کے آرگنائزر محمد ارسلان خان خاکوانی شامل تھے ۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کی 70فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے لیکن آبادی کی یہ اکثریت گونا نگوں مسائل کا شکار ہے اورپورے ملک کو کھلانے والے خودانتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،حکومت کی زراعت کش پالیسیوں نے کسان کو جیتے جی مار دیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کسانوںکے چار مسائل کا حل نکالا جائے تاکہ ملک کی مجموعی پیداروار میں خاطر خواہ اضافہ کیا اور کسانوں کو ریلیف دیا جاسکے۔زراعت سیکڑ میں غیر سودی قرضوں کا انتظام کیا جائے ۔حکومت اہم فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے ،زرعی مقاصد اور ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کا فلیٹ ریٹ مقرر کیا جائے اور کسانوں کو سستی بجلی مہیا کی جائے ۔زرعی مداخل پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ کسانوں کو بیج ،کھاد ،زرعی ادویات اور مشینری کم قیمت پر مل سکے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگرحکومت کسانوں اور کاشتکاروں کے مسائل کی طرف مناسب توجہ دیتی تو آج ہماری فی ایکٹرپیداوار خطے اور دنیا میں سب سے کم نہ ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ زراعت مجموعی قومی پیداوار کا 25.3فیصد دیتا ہے اور صنعتی شعبہ سے جی ڈی پی کا 21.6فیصد حاصل ہوتا ہے ،جبکہ زراعت سے ملک کے 44فیصد لوگوں کا روز گار وابستہ ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں 90فیصد کسان 12.5ایکٹر تک کے مالک ہیں ،وسائل کی کمی اور جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہونے کی وجہ سے فی ایکٹر اوسط پیداوار انتہائی کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ طبقہ ہے جو مسلسل غربت کی چکی میں پس رہا ہے ،انہی لوگوں کے ووٹوں سے حکومتیں بنتی ہیں لیکن دھڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے یہ طبقہ اپنے حقوق سے آگاہ ہے اور نہ ہی انہیں حاصل کرپاتاہے ۔انہوں نے کسان راج تحریک کی کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ،جاگیر داروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں ہونے والے چھوٹے کسانوں کے استحصال روکنے کیلئے بہت بڑی تحریک کی ضرورت ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کاشتکاروں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے ،لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں ،ہزاروں مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور سینکڑوں بستیاں چاروں طرف سے پانی کے اندر گھری ہوئی ہیں ،ان حالات میں ضروری ہے کہ حکومت بہت بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کا انتظام کرے اور محض فضائی نظارے اورجائزوںکے بجائے زمین پر اتر کر بحالی کے کاموں کی طرف توجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ ہرسال آنے والے سیلاب سے کسانوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں لیکن حکومتی بے حسی اور لاپرواہی میں کوئی کمی نہیں آتی ۔حکومت نے سیلاب کی روک تھام کیلئے کوئی منصوبہ بندی کی نہ نقصان کو کم کرنے کیلئے کسی قسم کے پیشگی اقدامات کئے ہیں ،جس کی وجہ سے کسانوں کو بہت بڑے پیمانے پرنقصان کا سامنا ہے ۔ 

سمندر پار پاکستانی ملک کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ سفارت خانے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہیں اور لوگوں کو ان سفارتخانوں سے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا ۔ سعودی عرب میں مقیم بائیس لاکھ پاکستانیوں کو فوری طور پر ووٹ کا حق دیا جائے اور الیکشن کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کا انتظام کرے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق

123

  امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ سمندر پار پاکستانی ملک کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں ۔ سفارت خانے اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہیں اور لوگوں کو ان سفارتخانوں سے سوائے مایوسی کے کچھ نہیں ملتا ۔ سعودی عرب میں مقیم 22 لاکھ پاکستانیوں کو فوری طور پر ووٹ کا حق دیا جائے اور الیکشن کمیشن بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹ ڈالنے کا انتظام کرے ۔ بیرون ملک پاکستانی ملکی سیاست میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کرناچاہتے ہیں مگر انہیں مسلسل ووٹ کے حق سے محروم رکھا جارہاہے ۔ تعلیمی ادارے نہ ہونے کی وجہ سے ان کے بچے تعلیم کی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے سعودی عرب کے اٹھارہ روزہ دورہ سے واپسی پر علامہ اقبال ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر ، سیکرٹری اطلاعات امیر العظیم ، ڈائریکٹر شعبہ امور خارجہ عبدالغفار عزیز اور امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد بھی موجود تھے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکمران اپنی نااہلی کی وجہ سے نئے ڈیم بنانے میں تساہل سے کام لے رہے ہیں ۔ جماعت اسلامی اقتدار میں آ کر 100نئے ڈیم بنائے گی تاکہ ملک کو پانی اور بجلی کے بحرانوں سے نجات دلائی جاسکے اور ہر سال آنے والے تباہ کن سیلاب پر قابو پایا جاسکے ۔ قوم بھاشا ڈیم پر متفق ہے بھاشا ڈیم پر جنگی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے ۔ تباہ کن بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے ہزاروں بستیاں ڈوب گئی ہیں کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور درجنوں لوگ ڈوب کر جاں بحق ہو گئے ہیں مگر حکمران ہاتھ پر ہاتھ دھرے لوگوں کو ڈوبتا دیکھ رہے ہیں ۔عوام کو مصیبت میں چھوڑ کر ملک سے باہر بھاگ جانا لاپرواہی کی بدترین مثال ہے ۔ موبائل فون اور پیغامات کے ذریعے ملک نہیں چلائے جاتے ۔ شہبازشریف آئندہ بلدیاتی انتخابات میں پنجاب کو ایک مثال بنائیں اور دھاندلی کے تمام راستے بند کر کے شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حالیہ شدید بارشوں کی وجہ سے چترال سمیت پورا ملک سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے لاکھوں ایکڑپر کھڑی فصلیں تباہ اور سینکڑوں بستیاں پانی میں گھری ہوئی ہیں مگر حکومت کی طرف سے سیلاب کی روک تھام کے لیے نہ تو کوئی پیشگی انتظامات کیے گئے اور نہ ہی ڈوبتے لوگوں کو بچانے کے لیے کوئی عملی اقدامات کیے جارہے ہیں ۔حکمران صرف اخباری بیانات اور فضائی جائزے لینے تک محدود ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کسی چھوٹے سے چھوٹے ملک کے حکمران بھی اپنے ملک کوکسی مصیبت میں چھوڑ کر بیرونی دورے پر نہیں جاتے جبکہ حکمران لاپرواہی اور خود غرضی کی تمام حدیں پھلانگ چکے ہیں ۔ سراج الحق نے عوام کو سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے الخدمت فاﺅنڈیشن کی امدادی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ الخدمت فاﺅنڈیشن کے رضا کاروں کے ساتھ مل کر امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ۔