امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے کسان راج تحریک کے اعلیٰ سطحی وفد نے کسان بورڈ پاکستان کے صدر صادق خان خاکوانی کی قیادت میں منصورہ میں ملاقات کی اور انہیں کسانوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ۔

IMG_6902
لاہور25جولائی 2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق سے کسان راج تحریک کے اعلیٰ سطحی وفد نے کسان بورڈ پاکستان کے صدر صادق خان خاکوانی کی قیادت میں منصورہ میں ملاقات کی اور انہیں کسانوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا ۔وفد میں نائب صدر کسان بور ڈ اور سابق ممبر فیڈرل بورڈ آف پاکستان سرفراز احمد خان ،نائب صدر چوہدری نثار احمد ،سیکرٹری جنرل محمد رمضان روہاڑی اور کسان راج تحریک کے آرگنائزر محمد ارسلان خان خاکوانی شامل تھے ۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک کی 70فیصد آبادی زراعت سے وابستہ ہے لیکن آبادی کی یہ اکثریت گونا نگوں مسائل کا شکار ہے اورپورے ملک کو کھلانے والے خودانتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ،حکومت کی زراعت کش پالیسیوں نے کسان کو جیتے جی مار دیا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کسانوںکے چار مسائل کا حل نکالا جائے تاکہ ملک کی مجموعی پیداروار میں خاطر خواہ اضافہ کیا اور کسانوں کو ریلیف دیا جاسکے۔زراعت سیکڑ میں غیر سودی قرضوں کا انتظام کیا جائے ۔حکومت اہم فصلوں کی امدادی قیمت مقرر کرے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے ،زرعی مقاصد اور ٹیوب ویلوں کیلئے بجلی کا فلیٹ ریٹ مقرر کیا جائے اور کسانوں کو سستی بجلی مہیا کی جائے ۔زرعی مداخل پر سیلز ٹیکس ختم کیا جائے تاکہ کسانوں کو بیج ،کھاد ،زرعی ادویات اور مشینری کم قیمت پر مل سکے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اگرحکومت کسانوں اور کاشتکاروں کے مسائل کی طرف مناسب توجہ دیتی تو آج ہماری فی ایکٹرپیداوار خطے اور دنیا میں سب سے کم نہ ہوتی ۔انہوں نے کہا کہ زراعت مجموعی قومی پیداوار کا 25.3فیصد دیتا ہے اور صنعتی شعبہ سے جی ڈی پی کا 21.6فیصد حاصل ہوتا ہے ،جبکہ زراعت سے ملک کے 44فیصد لوگوں کا روز گار وابستہ ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں 90فیصد کسان 12.5ایکٹر تک کے مالک ہیں ،وسائل کی کمی اور جدید ٹیکنالوجی سے محروم ہونے کی وجہ سے فی ایکٹر اوسط پیداوار انتہائی کم ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہی وہ طبقہ ہے جو مسلسل غربت کی چکی میں پس رہا ہے ،انہی لوگوں کے ووٹوں سے حکومتیں بنتی ہیں لیکن دھڑوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے یہ طبقہ اپنے حقوق سے آگاہ ہے اور نہ ہی انہیں حاصل کرپاتاہے ۔انہوں نے کسان راج تحریک کی کسانوں کے مسائل کے حل کیلئے جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت ،جاگیر داروں وڈیروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں ہونے والے چھوٹے کسانوں کے استحصال روکنے کیلئے بہت بڑی تحریک کی ضرورت ہے ۔
سینیٹر سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے کاشتکاروں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ کیا جائے ،لاکھوں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں ،ہزاروں مویشی سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور سینکڑوں بستیاں چاروں طرف سے پانی کے اندر گھری ہوئی ہیں ،ان حالات میں ضروری ہے کہ حکومت بہت بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کا انتظام کرے اور محض فضائی نظارے اورجائزوںکے بجائے زمین پر اتر کر بحالی کے کاموں کی طرف توجہ دے ۔ انہوں نے کہا کہ ہرسال آنے والے سیلاب سے کسانوں کی کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں لیکن حکومتی بے حسی اور لاپرواہی میں کوئی کمی نہیں آتی ۔حکومت نے سیلاب کی روک تھام کیلئے کوئی منصوبہ بندی کی نہ نقصان کو کم کرنے کیلئے کسی قسم کے پیشگی اقدامات کئے ہیں ،جس کی وجہ سے کسانوں کو بہت بڑے پیمانے پرنقصان کا سامنا ہے ۔ 

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s