خطے میں مستحکم اور پائیدار امن کیلئے پرامن افغانستان کی ضرورت ہے ،مذاکرات کی میز ہی افغانستان سے بیرونی قوتوں کے انخلاء اور انکی مداخلت دونوں ممالک کے مسائل کے علاوہ ایشیاء کے مسائل کا حل ہے ،افغان قوم کو بندوق کی نوک پر زیر نہیں کیا جاسکتا ۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان کا افغان نجی ٹی سے گفتگو

IMG_20150728_185440

امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے مری مذاکرات کو خوش آئیند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں مستحکم اور پائیدار امن کیلئے پرامن افغانستان کی ضرورت ہے ،مذاکرات کی میز ہی افغانستان سے بیرونی قوتوں کے انخلاء اور انکی مداخلت دونوں ممالک کے مسائل کے علاوہ ایشیاء کے مسائل کا حل ہے ،افغان قوم کو بندوق کی نوک پر زیر نہیں کیا جاسکتا ،افغان قوم کیلئے جرگے اور مرکے (مذاکرات )ہی سب سے مؤثر ہتھیار ہیں اس لئے ہم نے روس کے نکلنے کے بعد سے افغان گروہوں کے درمیان مذاکرات کرائے تھے ،مری مذاکرات میں کوئی رول نہیں لیکن ان مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں اور ان مذاکرات کو خطے میں امن کیلئے نیک شگون سمجھتے ہیں پاکستان اور افغانستان کی دوستی تاریخی ہے اور پاکستان افغانوں کا دوسرا گھر ہے افغان مہاجرین کو حالات کی وجہ سے دقت اٹھانی پڑی ہے تاہم اس حوالے سے ہم نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور دیگر حکام سے دوٹوک الفاظ میں بات کی ہے افغان مہاجرین کو ہراساں کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ان خیالات کااظہار انہوں نے المر کز الاسلامی پشاور میں ایک افغان نجی ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا پروفیسرمحمد ابراہیم خان نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کی دوستی کی ایک تاریخ ہے اوردوستی کے اس تاریخ کے پیش نظر دونوں ممالک ایک دوسرے کے دکھ درد سے دور نہیں رہ سکتے ایک قوم ایک امت ہیں اس لئے ہم نے جنرل پرویز مشرف کے دور میں بھی جب افغانستان میں انتخابات قریب تھے تب تجویز دی تھی کہ ان انتخابات میں بیرونی مداخلت کا راستہ روکا جائے اور طالب ہو یاکوئی اور گروہ تمام کے تمام فریقین کو اس عمل کا حصہ بنایا جائے لیکن ہماری اس تجویز پر عمل نہیں ہوا انہوں نے کہا کہ اس وقت جن پروفیسر صبغت اللہ مجددی جرگے کے سربراہ تھے ہم نے جرگے اور مذاکرات کی بات کی تھی ہم نے کابل حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی کوششیں کیں تھیں ہم افغانستان میں کسی بھی بیرونی قوت کی مداخلت کے خلاف ہیں افغان قوم خود اپنے مسائل جرگوں کے ذرئعے حل کرنے والی قوم ہیں اگر افغانستان میں افغانوں کو خود آپس میں بات چیت اور جرگوں کیلئے چھوڑا گیا اور وہاں پر بیرونی مداخلت ختم ہوئی تو نہ صرف افغانستان اور پاکستان بلکہ پورا ایشیاء امن کا گہوارا بن جائیگا انہوں نے کہا کہ صدر حامد کرزئی سے لیکر آج کی حکومت تک جب بھی ہماری بات ہوئی تو سب کا اس بات پر اتفاق تھا کہ ہم امریکہ کا افغانستان سے انخلاء کے حامی ہیں افغان قوم کو خود مسائل حل کرنے کا موقع دیا جائے لیکن افسوس ہے کہ افغان قوم کو آپس میں مل بیٹھنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا اور بیرونی مداخلت کی وجہ سے افغانستان بارود کا ڈھیر بنا رہا انہوں نے کہا کہ دنیا میں بالآخر بڑے بڑے مسائل مذاکرات کی میز پر ہی حل ہوئے ہیں اوراب جومری مذاکرات شروع ہوئے ہیں دیر آئد درست آئید کے مصداق ہم ان مذاکرات کو پورے خطے کیلئے ایک نوید سمجھتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ یہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوجائیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی پکڑ دھکڑ کے مسئلے سے صرف افغان مہاجرین متاثر نہیں ہوئے بلکہ ان مسائل سے خود پاکستانی قوم کو بھی حالات کی وجہ سے سامنا کرنا پڑا ہے تاہم افغان مہاجرین کی مہمان کی حیثیت کی وجہ سے ہم نے ہر وقت ایسی صورتحال کے بارے میں حکام سے بات کی ہے اور اب کچھ عرصہ قبل وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ایک بیان کو غلط انداز میں پیش اور غلط مقصد لینے کی وجہ سے مہاجرین مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا جس پر ہماری صوبائی حکومت وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سے بات ہوئی تھی اور انہوں نے خود اقرار کیا تھا کہ میرے بیان سے غلط مقصد لیا گیا ہے اور اس حوالے پولیس چیف خیبر پختونخوا سمیت متعلقہ اداروں سے بات کی انہوں نے کہا کہ پاک افغان دوستی تاریخ کا حصہ ہے اور دوستی کے اس رشتے کو کسی صورت نہیں ٹوٹنے دیں گے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s