پاکستان بھی یورپ کی طرح ترقی کر سکتاہے مگر لٹیرے حکمرانوں نے ملک کو بھکار ی بنادیاہے ۔ پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی زنجیروں میں جکڑا ہواہے ۔ قومی دولت لوٹنے والوں کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

11987191_488448058003400_217035718701461204_n

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان بھی یورپ کی طرح ترقی کر سکتاہے مگر لٹیرے حکمرانوں نے ملک کو بھکار ی بنادیاہے ۔ پاکستان کا بچہ بچہ مقروض ہے اور آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی زنجیروں میں جکڑا ہواہے ۔ قومی دولت لوٹنے والوں کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہیے ۔ جو لوگ ملک میں کاروبار نہیں کرناچاہتے انہیں یہاں سیاست کا بھی کوئی حق نہیں ۔ سیاسی برہمنوں سے آزادی کا وقت قریب آگیاہے ۔ مظلوم عوام ظالم جاگیرداروں ، وڈیروں اور ساہوکار وں سے نجات کے لیے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق انہوں نے ان خیالات کا اظہار لندن میں تین روزہ احباب کنونشن کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد اصغر اور برطانیہ میں جماعت اسلامی کے ترجمان سید شوکت علی بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ برطانیہ اور یورپ میں لاکھوں پاکستانی اسلامی و خوشحال پاکستان کے لیے جماعت اسلامی کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں ، پاکستا ن کو اگر کرپٹ اور لٹیرے حکمرانوں سے آزاد کرالیا جائے تو پاکستانیوں کو روزگار کے لیے کسی دوسرے ملک کا رخ نہ کرنا پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھاہے اور محنتی اور جفاکش پاکستانی دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہے ہیں مگر پاکستان اپنے نااہل اور خود غرض حکمرانوں کی وجہ سے ترقی و خوشحالی سے محروم ہے ۔ غریب عوام دو وقت کے کھانے کو ترستے ہیں جبکہ اشرافیہ نے تمام وسائل پر قبضہ کر رکھاہے اور حکمرانوں کی لوٹ مار اور کرپشن کے چرچے چہار دانگ عالم سنائی دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ بیرون ملک پاکستانی اپنی اور ملک کی شناخت کو برقرار رکھیں اور اپنے کردار سے ثابت کریں کہ وہ دنیا میں تہذیب و تمدن اور اخلاق کے لحاظ سے کسی سے پیچھے نہیں ۔ انہوں نے برطانیہ میں زیر تعلیم 45 ہزار طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی تعلیم اعلیٰ اور امتیازی حیثیت سے مکمل کریں اور واپس پاکستان آ کر ملک کی ترقی و خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں ۔ انہوں نے کہاکہ جو حکمران قومی سرمایہ لوٹ کر بیرون ملک منتقل کررہے ہیں اور اپنا کاروبار پاکستان کی بجائے دنیا کے دوسرے ممالک میں پھیلا رہے ہیں انہیں پاکستان پر حکمرانی کا کوئی حق نہیں ۔ ایسے لوگوں کو پاکستان کی جان چھوڑ دینی چاہیے ۔ اگر وہ اپنا سرمایہ ملک میں نہیں لاسکتے تو انہیں خود بھی باہر ہی رہنا چاہیے ۔انہوں نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ لٹیروں کے پیٹ پھاڑ کر قومی دولت نکلوائی جائے ۔ عوام متحد ہو کر جماعت اسلامی کی دیانتدار قیادت کا ساتھ دیں تو ہم چند سال میں ہی پاکستان کو ایک اسلامی اور ویلفیئر ریاست میں بدل دیں گے جہاں عام آدمی کو بھی وہی حقوق حاصل ہوں گے جو حکمرانوں کو حاصل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عدل و انصاف ، تعلیم ، صحت اور روزگار کی سہولتیں مہیا کرنا حکومت کا اولین فرض ہوتاہے مگر ملک پر حکمران رہنے والے سیاسی پنڈتوں کے ٹولے نے عوام کو ان سہولتوں سے محروم کررکھاہے ۔

Advertisements

کراچی آپر یشن پر کسی قسم کا دباﺅ قبول نہیں کرنا چاہیے اور اسے ہر قیمت پر اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے ۔مجرم خواہ کسی جماعت یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔کراچی میں آپر یشن پر شور مچا کر اسے متنازعہ بنانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ امریکہ اور مغرب مسلم ممالک میں ایسے لوگوں کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں جو عوام کو ان کی غلامی پر راضی رکھ سکیں۔۔امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا برطانیہ میں تقریب سے خطاب

pic Siraj-ul-haq-26aug
لاہور 26اگست 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کراچی آپر یشن پر کسی قسم کا دباﺅ قبول نہیں کرنا چاہیے اور اسے ہر قیمت پر اپنے منطقی انجام تک پہنچنا چاہئے ۔مجرم خواہ کسی جماعت یا گروہ سے تعلق رکھتا ہو، اسے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے ۔کراچی میں آپر یشن پر شور مچا کر اسے متنازعہ بنانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔ امریکہ اور مغرب مسلم ممالک میں ایسے لوگوں کو اقتدار میں دیکھنا چاہتے ہیں جو عوام کو ان کی غلامی پر راضی رکھ سکیں ۔ہم پاکستان میں امریکہ اور مغرب کی استحصالی جمہوریت نہیں بلکہ اسلامی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں عام آدمی کو بھی وہی حقوق مل سکیں جو حکمرانوں کو حاصل ہیں ۔حکمرانوں کی کرپشن نے دنیا بھر میں ملک کے وقار کو مجروح کیا ہے ۔ قومی دولت لوٹنے والے مجرموں کو اقتدار کے ایوانوں میں نہیں قید خانوں میں ہونا چاہئے ۔کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں لندن میں لارڈ نذیر احمد کی طرف سے اپنے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب سے لارڈ نذیر احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ مغرب اور امریکہ نے مسلم ممالک میں عوام کی منتخب حکومتوں کو بھی چلنے نہیں دیا اور انہیں غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے اقتدار میں آنے سے روکا گیا ۔انہوں نے کہا کہ مرسی مصری عوام کے ہر دلعزیز صدر تھے جنہیں عوام کی بھاری اکثریت کی حمایت حاصل تھی مگر فوجی ڈکٹیٹر نے ان کے اقتدار پر قبضہ کرکے انہیں اور ان کے ہزاروں ساتھیوں کو جیلوں میں بند کردیا ،ہزاروں معصوم لوگوں کا قتل عام کیا گیا مگر امریکہ اور نام نہاد عالمی قوتیں نہ صرف خاموش رہیں بلکہ جنرل سیسی کی مکمل پشت پناہی اور سرپرستی کی۔انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں تحریک اسلامی کے ہزاروں کارکنان کو صرف اس لئے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں اور ان کی قیادت کو پھانسیوں پر لٹکایا جارہا ہے کہ انہوں نے پاکستان کو توڑنے کی مخالفت کی تھی ۔سراج الحق نے کہا کہ کشمیر ،فلسطین اور برما میں مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا ہے ،ان کی آزادی کو سلب کیا گیا ہے اور لاکھوں کی تعداد میں مسلمانوں کو ذبح کرکے ان کے گھروں اور بستیوں کو نذر آتش کردیا جاتا ہے مگر عالمی امن کے ٹھیکیدار اور عالمی انصاف کے نام نہاد اداروں نے آنکھیں اور کان بند کررکھے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلم ممالک میں ایسے حکمران چاہتے ہیں جواس ظلم و جبر اور درندگی کے خلاف خاموش رہیں اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں اسلامی دنیا سے بھی کوئی آواز نہ اٹھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ اقتدار پر قابض حکمرانوں کی کرپشن سے ملکی معیشت کھوکھلی ہوچکی ہے ۔بیرون ملک مقیم پاکستانی محنت و مشقت کرکے خون پسینے کی کمائی کے اربوں روپے کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتے ہیں جبکہ حکمران قومی خزانے کو لوٹ کر وہی روپیہ بیرونی بنکوں میں جمع کروارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر سالانہ ہونے والی ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن پر قابو پالیا جائے تو پاکستان کو بیرونی قرضوں کی ضرورت نہ پڑے اور عوام کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں مفت حاصل ہوں گی ۔انہوں نے کہا کہ جب تک اللہ کے سامنے جواب دہی کا احساس رکھنے والی قیادت اقتدار میں نہیں آتی عوام کو استحصال اور ظلم و جبر کے نظام سے نجات نہیں ملے گی ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اوور سیز پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا جائے تاکہ وہ قومی معاملات میں بھرپور شرکت اور ملک میں دیانتدار اور اہل قیادت کے انتخاب میں اپنا کردار ادا کرسکیں ۔انہوں نے کہا کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ سالانہ ا ربوں روپے کما کر دینے والوں کو قومی فیصلوں میں شرکت کے حق سے محروم رکھا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مغرب اوریورپ میں مقیم مسلم کمیونٹی میں پھیلتے جرائم کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ اپنی نئی نسل کو اسلامی تہذیب و تمدن سے جوڑا جائے اور مغربی معاشرے کی خرابیوں سے انہیں دور رکھا جائے۔

مودی کی موجودگی میں جنوبی ایشیاءکے امن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔مودی کی انتہا پسندی اور مسلم کش رویے نے خطے کے امن کو تہہ و بالاکردیا ہے ۔مودی ایک فسادی ہے جس نے بھارتی اور کشمیری مسلمانوں پر زندگی اجیرن کررکھی ہے ۔مودی ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ہے ۔سراج الحق کا بریڈ فورڈ میں پاکستانیوں سے خطاب

sirajulhaq

لاہور24گست 2015ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ مودی کی موجودگی میں جنوبی ایشیاءکے امن کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔مودی کی انتہا پسندی اور مسلم کش رویے نے خطے کے امن کو تہہ و بالاکردیا ہے ۔مودی ایک فسادی ہے جس نے بھارتی اور کشمیری مسلمانوں پر زندگی اجیرن کررکھی ہے ۔مودی ہزاروں مسلمانوں کا قاتل ہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والے مذاکرات مودی کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے سبو تاژ ہوئے ،بھارتی وزیر اعظم یورپ اور امریکہ سمیت دنیا کے جس ملک میں بھی جائے گامسلمان اس کے خونخوار چہرے کو بے نقاب کریں گے اور اس کی آمدپر ہر جگہ احتجاج کیا جائے گا ۔کشمیر کا مسئلہ برطانیہ ہی کا چھوڑا ہوا ہے، جس کی وجہ سے نصف صدی سے زائد عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ چل رہا ہے ،برطانیہ کا فرض ہے کہ وہ مسئلہ کشمیراقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہش کے مطابق حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ ،نیلسن اور برلے میںپاکستانی کمیونٹی کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اجتماعات سے امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر عبد الرشید ترابی ،لارڈنذیر احمد اور یوکے اسلامک مشن کے صدر ڈاکٹر زاہد پرویز نے بھی خطاب کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمان انتہاپسندی اور دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ہر جگہ میں مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے ،اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق سات لاکھ مہاجرین میں سے 70 فیصد مسلمان ہیں لیکن ستم برائے ستم یہ ہے کہ مسلمانوں کو ظلم کا نشانہ بھی بنایا جارہاہے اور الٹا انہیں ظالم قرار دیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہر جگہ ہمارے اوپر جنگ مسلط ہے ،مسلمانوں کے شہروں اور بستیوں کو ملیا میٹ کیا جارہا ہے اور الزام بھی اسلام اور مسلمانوں پر دھر دیا جاتا ہے ،انہوں نے کہا کہ دنیا کو اپنے اس منافقانہ اور اسلام و مسلم دشمن رویے کو بدلنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو دنیا کے سامنے اسلام کے امن و آشتی کے پیغام کو پیش کرنا چاہئے ،مسلمان امن دشمن نہیں بلکہ دنیا میں امن کے قیام کے خواہاں اور اس کیلئے سب سے زیادہ قربانیاں پیش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک ایسا نظام دیا ہے جسے آدم ؑ سے نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاءنے انسانیت کے سامنے پیش کیا اور بتایا کہ انسانوں کی بھلائی اسی نظام میں ہے ۔
سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک سے سٹیٹس کو کے خاتمہ اور عام آدمی کو اس کے غصب شدہ حقوق دلانے کی جدوجہد کررہی ہے ۔ملک میں سالانہ ہونے والی ایک ہزار ارب روپے کی کرپشن کا خاتمہ کرکے ملک میں مفت علاج اور تعلیم کا بندوبست کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا رویہ اور کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے ۔پولیس غریبوں پر جھپٹتی اور امیروں کو سلام کرتی ہے ۔وی آئی پی کلچر نے عوام کا جینا دوبھر کردیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جرائم میں ملوث بااثر لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جاتی ہے اور غریبوں کا مسلسل استحصال کیا جارہا ہے ،جماعت اسلامی اس استحصالی اور ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ امیر اور غریب کیلئے علیحدہ قانون ہے ۔ہم ایسا نظام دینا چاہتے ہیں جس میں قانون کی نظر میں سب برابر ہوں۔انہوں نے قصور کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں لاقانونیت اور درندگی کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے جس میں سینکڑوں معصوم بچوں کو حیوانیت کا نشانہ بنایا گیا مگر جب ان کے والدین پولیس کے پاس فریادی بن کر گئے تو الٹا ان کے خلاف پرچہ درج کرکے انہیں ہراساں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ یہ ظلم اگر کسی امیر کے بچے کے ساتھ ہوتا تو اب تک حکومتی ایوانوں میں لرزا طاری ہوچکا ہوتا مگر چونکہ یہ غریبوں کے بچے تھے اس لئے ان کی طرف کسی نے دھیان نہیں دیااور وہ آج بھی انصاف کے حصول کیلئے در بدرٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا جو ماحول بناتھا ، اسے مودی کے آمرانہ رویہ نے خراب کردیاہے ۔ ہندوستان کا مذاکرات سے اچانک پیچھے ہٹ جانا اس بات کو ثابت کرتاہے کہ بھارت مذاکرات نہیں چاہتا ۔ مودی کا رویہ کسی بڑے جمہوری ملک کے وزیراعظم کے شایان شان نہیں ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج

sirajulhaq

لاہور22 اگست 2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا جو ماحول بناتھا ، اسے مودی کے آمرانہ رویہ نے خراب کردیاہے ۔ ہندوستان کا مذاکرات سے اچانک پیچھے ہٹ جانا اس بات کو ثابت کرتاہے کہ بھارت مذاکرات نہیں چاہتا ۔ مودی کا رویہ کسی بڑے جمہوری ملک کے وزیراعظم کے شایان شان نہیں ۔ مودی نے بھارتی ہندوﺅں کو اشتعال دلاکر، ناصرف پاکستان بلکہ خود بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کردیے ہیں ۔ جب تک کشمیر کو اصل موضوع نہیں بنایا جاتا ، بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے فائدہ رہیں گے ۔ ہندوستان ،پاکستان اور کشمیر تینوں مذاکرات میں برابر کے شریک ہیں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے برمنگھم ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سراج الحق سات روزہ دورے پر برطانیہ پہنچے ہیں۔
    سراج الحق نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اصل تنازع کشمیر کے مسئلہ پر ہے لیکن بھارت کسی طرح بھی کشمیر پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل بات چیت سے حل ہوں لیکن بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بارڈر ایشوز میں مسلسل اضافہ ہورہاہے بھارت نے اس سال کئی بار لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے بلااشتعال پاکستانی علاقوں پر گولہ باری کی ہے جس کی وجہ سے سیالکوٹ بارڈر کے قریبی دیہات سے چالیس ہزار لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ بھارت اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کا موضوع بنائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔
    ایم کیو ایم کے استعفوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ استعفے دینے کا جذباتی فیصلہ ایم کیو ایم نے بڑی عجلت میں کیا ہے۔ ایسے لگتاہے کہ اس فیصلہ کے بارے میں خود ایم کیو ایم کے ارکان بھی یکسو نہیں تھے ۔ انہو ں نے کہاکہ جرائم اور سیاست کی دنیا کو الگ ہوناچاہیے اور مجرم خواہ کسی بھی پارٹی کے اندر پناہ لےے بیٹھے ہوں ان کے خلاف بلاامتیاز کاروائی ہونی چاہیے ۔ انہو ں نے کہاکہ پرامن کراچی خود ایم کیو ایم کے لیے بھی ضروری ہے اس لیے کراچی آپریشن کو جاری رہناچاہیے ۔
      

سراج الحق ایک ہفتہ کے دورہ پر برطانیہ روانہ ہوگئے لیاقت بلوچ قائم مقام امیر جماعت مقرر۔

02

لاہور22 اگست 2015ء
امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق 22 تا 29اگست سات روزہ دورے پر برطانیہ روانہ ہوگئے ہیں۔ سراج الحق اپنے دورہ کے دوران برطانیہ کے مختلف شہروں میں پاکستانی کمیونٹی کے اجتماعات سے خطا ب کریں گے ۔سراج الحق نے اس عرصہ کیلئے لیاقت بلوچ کو جماعت اسلامی پاکستان کا قائم مقام امیر مقرر کیا ہے ۔لیاقت بلوچ نے حلف اٹھا کر قائم مقام امیر جماعت کی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

پاکستان کو کشمیر کے معاملہ میں اپنے قومی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے ،بھارت بندوق کی نوک پر زیادہ دیر کشمیر یوں کو غلام نہیں رکھ سکتا ۔عالمی قانون کی رو سے کشمیر ی عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہئے ۔مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات بے معنی ہونگے ۔پاکستان نے دولت مشترکہ کانفرنس منسوخ کرکے اچھا کیا ہے ۔اگر پاکستان کی نظریاتی اساس کو چھیڑا گیا تواس کی جغرافیائی اساس بھی قائم نہیں رہے گی۔جماعت اسلامی آئین کا حلیہ بگاڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

IMG_0126

لاہور21گست 2015ء
     امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے پاکستان کو کشمیر کے معاملہ میں اپنے قومی موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے ،بھارت بندوق کی نوک پر زیادہ دیر کشمیر یوں کو غلام نہیں رکھ سکتا ۔عالمی قانون کی رو سے کشمیر ی عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہئے ۔مسئلہ کشمیر کے بغیر بھارت سے مذاکرات بے معنی ہونگے ۔پاکستان نے دولت مشترکہ کانفرنس منسوخ کرکے اچھا کیا ہے ۔اگر پاکستان کی نظریاتی اساس کو چھیڑا گیا تواس کی جغرافیائی اساس بھی قائم نہیں رہے گی۔جماعت اسلامی آئین کا حلیہ بگاڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔جو لوگ دفعہ 62,63کو آئین سے نکالنا چاہتے ہیں وہ چوروں لٹیروں کی حکمرانی کا رستہ ہموار کررہے ہیں ۔ہمارے لئے برطانیہ اور ترکی نہیں مدینہ منورہ کی اسلامی جمہوریت ماڈل ہے ۔عدالتوں کو ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جو 18کروڑ جمہور کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوں اور آئین و دستور سے ہم آہنگ ہوں۔ 2ستمبر کو ملک بھر میں ”یوم اردو“ منایا جائے گا ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آئین پاکستان بندوں کی فرمانبردار ی کیلئے اللہ کی نافرمانی کی اجازت نہیں دیتا۔حکومت وزارت قانون اور اٹارنی جنرل کو حکم دے کہ وہ 21ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ، جس میں کہا گیاہے کہ اسلام کو ایک طرف رکھ کر ملک میں جمہوریت اور پارلیمان کو مضبوط کیا جائے، نظرثانی کی اپیل دائر کریں ۔چیف جسٹس جواد ایس خواجہ ازخود نوٹس لیکر 21ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے فیصلے میں موجود ابہام اور شکوک و شبہات کو دور کریں ۔انہوں نے کہا کہ سابق چیف جسٹس ناصر الملک نے اپنے آخری فیصلہ میں آئین کی اسلامی دفعات کے حوالے سے جن شکوک شبہات اور ابہام کو ایڈریس نہیں کیا موجودہ چیف جسٹس کو انہیں دور کرنے کیلئے فوری طور پر ازخود نوٹس لینا چاہئے تاکہ عوام کے اندر اس وجہ سے پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہوسکے ۔انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس کونظریہ ضرورت کے تحت تسلیم کیا گیا لیکن ملک میں سیکولر اور مذہب بیزار ایک معمولی اقلیت کی خواہش پریہاںبرطانیہ امریکہ اور فرانس ماڈل جمہوریت کی قطعا اجازت نہیں دی جاسکتی ۔اگر اسی بے لگام جمہوریت کو اپنانا تھا تو پھر قیام پاکستان کیلئے لاکھوں جانیں قربان کرنے اور ہجرت کی کیا ضرورت تھی ۔ انہوں نے کہا کہ قوم اسی جمہوریت کو قبول کرے گی جس کی تشریح آئین پاکستان میں کی گئی ہے ۔دستور میں پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے ،قرآن و سنت کو سپریم لا ءاور اللہ کی حاکمیت کا اقرار کیا گیا ہے ۔ اسلام کو ایک طرف رکھنے سے آئین اور دستور قائم نہیں رہ سکتا۔متفقہ آئین سے انحراف قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کردے گی ۔ملک و قوم کیلئے وحدت اور یکجہتی ایٹم بم سے بھی زیادہ ضروری ہے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان مدینہ منورہ کے بعد لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والی دوسری اسلامی ریاست ہے جس کے نظریے اور جغرافیے کی حفاظت کیلئے جہاد کرنا ،لڑنا اور مرنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے اور ہم اس اسلامی ریاست کی خاطر شہادت سے ہمکنار ہونے کو ایک سعادت سمجھتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے قومی زبان اردو میں حلف لیکر اور اختلافی نوٹ لکھ کر قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے ۔اب انہیں قومی زبان کو اس کا حق دلانے کیلئے فوری اوردور رس فیصلے کرنے چاہئیں ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ 68سال سے قومی زبان کے ساتھ ظلم ہورہا ہے اور انگریزوں سے آزادی کے باوجود قوم کو انگریزی کا اسیر رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کسی زبان کی مخالفت نہیں کرتے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ قومی زبان کو وہ عزت اور وقار ضرور ملنا چاہئے جس کی وہ حق دار ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم اردو کے ساتھ ساتھ دیگر علاقائی زبانوں کا بھی فروغ اور ترقی چاہتے ہیں ۔