ملک میں سب سے بڑا یوم آزادی کا پروگرام لنڈی کوتل میں ہواہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قبائلی عوام پاکستان سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ سینیٹر سراج الحق کا لنڈی کوتل میں جشن آزادی یوتھ فیسٹول سے خطاب

02

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ استعفے دینے والے اب خود پشیمان ہیں ۔بلی چوہے کا کھیل جاری ہے۔ایم کیو ایم کے استعفوں کا کوئی حل نکل آئے گا۔جرائم کو سیاست سے الگ کرنا چاہئے ،پاکستان کو تقسیم کرنے کی باتیں کرنے والے خود تقسیم اور برباد ہوجائیں گے ۔پاکستان کی سا لمیت بقا اور استحکام کی جنگ ہم لڑیں گے ۔قبائل نے پاکستان کیلئے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قبائلی عوام کا اہم کردار ہے ،قبائلی امن و ترقی چاہتے ہیں ،فاٹا میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرکے وہاں روز گار کے مواقع دیئے جائیں ۔ ۔پاکستان میں کچھ لوگوں مراعات حاصل ہیں جبکہ عوام محروم ہیں۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ ہائی سکول لنڈی کوتل کے شنواری گراﺅنڈ میں شباب ملی فاٹا کے زیر اہتمام جشن آزادی یوتھ فیسٹول کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر این اے 45سے رکن قومی اسمبلی الحاج شاہ جی گل آفریدی،سینیٹر تاج محمد ،شباب ملی پاکستان کے صدر زبیر گوندل ،فاٹا کے امیر صاحبزادہ ہارون الرشید ،ڈاکٹرمنصف خان ،شباب ملی فاٹا کے صدر شاہجہان آفریدی بھی موجود تھے ۔قبل ازیں باب خیبر پر امیر جماعت اسلامی کا شاندار استقبال کیا گیا اور انہیں سینکڑوں گاڑیوں کے جلوس میں شنواری گراﺅنڈ لایا گیا۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑا یوم آزادی کا پروگرام لنڈی کوتل میں ہواہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ قبائلی عوام پاکستان سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان صرف چارصوبوں کانہیں ، بلکہ ایک نظرے اور جدوجہد کا نام ہے ۔ اس وقت پاکستان میں کہیں بھی پاکستان نظر نہیں آرہا۔ ملک میں کئی قسم کے قوانین رائج ہیں جو قانون اسلام آباد میں ہے وہ قبائل میں کیوں نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہاکہ ایف سی آر کا قانون انگریزوں نے مجرموں کو کنٹرول کرنے کے لیے بنایا تھا ، لیکن آزدای کے 70 سال بعد بھی اس کالے قانون کو جاری رکھا ہواہے اگر یہ قانون اتنا ہی اچھاہے تو اسے اسلام آباد میں بھی نافذ ہوناچاہیے ۔ انہوں نے مطالبہ کیاکہ قبائلی علاقوں میں بھی ملک کے دیگر صوبوں کی طرح بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں تاکہ یہاں کے عوام بھی اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں اور علاقہ ترقی وخوشحالی کی طرف بڑھ سکے انہوں نے کہاکہ بجٹ میں ایک کروڑ قبائلی عوام اور پورے فاٹا کے لیے صرف 19 ارب روپیہ رکھا گیاہے جبکہ چند کلو میٹر ، میٹرو منصوبے پر چالیس ارب روپیہ خرچ کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ اسے ثابت ہوتاہے کہ ملک کے آئین اور قانون میں قبائلی عوام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قبائلی عوام کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے یا تو الگ صوبے کا درجہ دیا جائے پھر گلگت بلتستان کی طرح انہیں بھی الگ گورنر ، وزیراعلیٰ اور کونسل کے انتخاب کا حق دیا جائے ۔ 
سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ہندوستان کا وزیراعظم مودی آئے روز پاکستان کو دھمکیاں دیتاہے اور لائن آ ف کنٹرول پر بھارتی فوج بلااشتعال گولہ باری کر کے معصوم پاکستانی شہریوں کو نشانہ بناتی ہے اگر اسلام آباد کے حکمران ا س سے خوفزدہ ہیں تو مودی سن لے کہ پاکستان کے قبائلی عوام ہندوستان کو 1948 کی طرح عبرتناک شکست دینے کے لیے ابھی زندہ ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے حکمران جاگیردار ، وڈیرے اور کارخانہ دار ہیں ان کی جیب میں ہر وقت گرین کارڈ رہتاہے اور وہ مشکل وقت میں ملک سے بھاگ کر لندن اور امریکہ چلے جاتے ہیںلیکن ہم عوام کے درمیان رہتے ہیں ہمارا جینامرنا عوام کے ساتھ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں جماعت اسلامی بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی ہم انشاءاللہ ملک میں شریعت کا وہ نظام لائیں گے جس میں نہ صرف قبائلی عوام بلکہ پاکستان کے پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو بھی وہی حقوق ملیں گے جو اسلام آباد کی بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کو حاصل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم سٹیٹس کو، کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں تاکہ عام آدمی کو بھی زندگی کی وہ سہولتیں مل سکیں جن سے انہیں محروم کر دیاگیاہے ۔ سراج الحق نے قبائلی عوام کو یقین دلایا کہ جماعت اسلامی ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی اور انہیں کسی بھی موقع پر تنہانہیں چھوڑے گی ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s