ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا جو ماحول بناتھا ، اسے مودی کے آمرانہ رویہ نے خراب کردیاہے ۔ ہندوستان کا مذاکرات سے اچانک پیچھے ہٹ جانا اس بات کو ثابت کرتاہے کہ بھارت مذاکرات نہیں چاہتا ۔ مودی کا رویہ کسی بڑے جمہوری ملک کے وزیراعظم کے شایان شان نہیں ۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج

sirajulhaq

لاہور22 اگست 2015ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کا جو ماحول بناتھا ، اسے مودی کے آمرانہ رویہ نے خراب کردیاہے ۔ ہندوستان کا مذاکرات سے اچانک پیچھے ہٹ جانا اس بات کو ثابت کرتاہے کہ بھارت مذاکرات نہیں چاہتا ۔ مودی کا رویہ کسی بڑے جمہوری ملک کے وزیراعظم کے شایان شان نہیں ۔ مودی نے بھارتی ہندوﺅں کو اشتعال دلاکر، ناصرف پاکستان بلکہ خود بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کردیے ہیں ۔ جب تک کشمیر کو اصل موضوع نہیں بنایا جاتا ، بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے فائدہ رہیں گے ۔ ہندوستان ،پاکستان اور کشمیر تینوں مذاکرات میں برابر کے شریک ہیں ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے برمنگھم ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سراج الحق سات روزہ دورے پر برطانیہ پہنچے ہیں۔
    سراج الحق نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان اصل تنازع کشمیر کے مسئلہ پر ہے لیکن بھارت کسی طرح بھی کشمیر پر مذاکرات کے لیے تیار نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ہم مذاکرات کے حامی ہیں اور چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مسائل بات چیت سے حل ہوں لیکن بھارت کا رویہ ہمیشہ منفی رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان بارڈر ایشوز میں مسلسل اضافہ ہورہاہے بھارت نے اس سال کئی بار لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باﺅنڈری کی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے بلااشتعال پاکستانی علاقوں پر گولہ باری کی ہے جس کی وجہ سے سیالکوٹ بارڈر کے قریبی دیہات سے چالیس ہزار لوگوں کو ہجرت کرنا پڑی ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اب بھی چاہتے ہیں کہ بھارت اپنے رویے پر نظر ثانی کرے اور زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کا موضوع بنائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو سکیں۔
    ایم کیو ایم کے استعفوں کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سراج الحق نے کہاکہ استعفے دینے کا جذباتی فیصلہ ایم کیو ایم نے بڑی عجلت میں کیا ہے۔ ایسے لگتاہے کہ اس فیصلہ کے بارے میں خود ایم کیو ایم کے ارکان بھی یکسو نہیں تھے ۔ انہو ں نے کہاکہ جرائم اور سیاست کی دنیا کو الگ ہوناچاہیے اور مجرم خواہ کسی بھی پارٹی کے اندر پناہ لےے بیٹھے ہوں ان کے خلاف بلاامتیاز کاروائی ہونی چاہیے ۔ انہو ں نے کہاکہ پرامن کراچی خود ایم کیو ایم کے لیے بھی ضروری ہے اس لیے کراچی آپریشن کو جاری رہناچاہیے ۔
      

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s