پاکستان نے خطے میں جنگ کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے ۔ سرحد کے دونوں پار اتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے کہ جو ہیروشیما میں بھی استعمال نہیں ہواتھا ۔اس اسلحہ اور بارود کے اثرات آئندہ کئی صدیوں تک جاری رہیں گے ان سے متعدد نئی مہلک بیماریاں وجود میں آرہی ہیں ۔ سراج الحق سے منصورہ میں امریکی قونصلر جنرل اور مختلف وفود کی گفتگو

pic 3

لاہور22ستمبر 2015ء
    لاہور میں امریکی قونصلر جنرل Zachary Harkenrider نے آج منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ ¿ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی عبدالغفار عزیز بھی موجود تھے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان نے خطے میں جنگ کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے ۔ سرحد کے دونوں پار اتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے کہ جو ہیروشیما میں بھی استعمال نہیں ہواتھا ۔اس اسلحہ اور بارود کے اثرات آئندہ کئی صدیوں تک جاری رہیں گے ان سے متعدد نئی مہلک بیماریاں وجود میں آرہی ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم امریکہ یا امریکی عوام کے نہیں امریکی پالیسیوں کے مخالف ہیں ۔ امریکی عوام کی بڑی تعداد بھی اپنی حکومت کی ان غلط پالیسیوں کے بارے ہمارا ہی موقف رکھتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ باہم گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل پر قابو پایا جاسکاہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اس کے لیے سب کو انصاف ، برابری اور حقیقی جمہوریت کے اصول اپنانا ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ پشاور دھماکوں اور ملک میں گروہی و مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کے پیچھے منظم ریاستی دہشتگردی کا ہاتھ ہے ۔
    دریں اثنا وائس آف کرسچئن انٹر نیشنل کے وفد نے ڈائریکٹر سیموئل پیارا کی قیادت میں امیر جماعت ا سلامی سینیٹر سراج الحق سے منصورہ میں ملاقات کی ۔ وفد میں این جی او کے صدر شیراز بھٹی اور کنٹری ڈائریکٹر عدیل راجہ شامل تھے ۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کی تعمیرو ترقی میں مسیحی برادری کے نمایاں کردار کو سراہا جاناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو اقلیت نہیں بلکہ پاکستانی برادری سمجھتے ہیں ۔انہو ں نے کہاکہ تمام پاکستانی شہریوں کے حقوق برابر ہیں ۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ہمارے دل میں اقلیتی بھائیوں کا بہت احترام ہے ۔ جماعت اسلامی کے اقلیتی ونگ میں مسیحی ، ہندو اور سکھ برادریوں کے نمایاں لوگ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وائس آف کرسچئن انٹر نیشنل کی تعلیم ، صحت اور روزگار کے میدان میں بڑی خدمات ہیں ۔
     امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے حالیہ دورہ بلوچستان کے موقع پر اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شامل ہونے والے کوئٹہ کی تحصیل پنجپائی کے ناظم جمیل احمد مشوانی کی قیادت میں بلوچستان کے ایک وفد نے بھی منصورہ میںسراج الحق سے ملاقات کی اور صوبے کو درپیش مسائل کے بارے میں انہیں آگاہ کیا ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کو ختم کرنا حکومت کا فرض ہے۔ بلوچستان وسائل سے مالا مال اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا بڑا صوبہ ہونے کے باوجود تعلیم ، صحت اور روزگار کے میدان میں بہت پیچھے ہے ۔ سینکڑوں دیہات تک رابطہ سڑکیں موجود نہیں اور دیہاتی بچوں کو تعلیم کے لیے میلوں دور پیدل جانا پڑتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہر گاﺅں میں کم از کم پرائمری سکول کھولے اور نوجوانوں کو روزگار کی سہولتیں مہیا کرے ۔

فاٹا کے حوالے سے ایک یونیفارم پالیسی وضع کرکے اسے بتدریج ایف سی آر سے نکالا جائے اور ابتدائی مرحلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بناکر پاٹا کی طرح اسے بھی ایک مخصوص حیثیت دی جائے ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا مطالبہ

Pic Sirajul Haq2, 21-09-2015

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے حوالے سے ایک یونیفارم پالیسی وضع کرکے اسے بتدریج ایف سی آر سے نکالا جائے اور ابتدائی مرحلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بناکر پاٹا کی طرح اسے بھی ایک مخصوص حیثیت دی جائے ۔ انہوں نے آئی ڈی پیز کی واپسی و بحالی اور قبائلی عوام کی محرومیوں کے ازالے کے لئے مالی ، معاشی و معاشرتی ترقی کے لئے پیکیج کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ فاٹاکے مستقبل کے حوالے سے قومی سیاسی جماعتوں اورفاٹا سیاسی اتحاد پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس بھی عید الاضحی کے بعد اسلام آباد میں طلب کی جائے گی کیونکہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ وہ مہمند ایجنسی کے دور ے کے بعد المرکز اسلامی پشاور میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی فاٹا کے امیر و سابق ایم این اے صاحبزاد ہ ہارون الرشید، ڈاکٹر منصف خان، زرنور آفریدی، جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ ایڈووکیٹ اور دیگر راہنماء و قبائلی زعماء بھی موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ فاٹا سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ ایف آر ز کے علاقوں اور ایک کروڑ محب وطن آبادی پر مشتمل علاقہ ہے ۔ یہ علاقے کسی ریفرنڈم کے بغیر اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہو ئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی ان قبائلی عوام نے ہمیشہ پاسداری کی اور یہ ملکی سرحدوں کے بغیر تنخواہ کے سپاہی ہیں۔قبائلیوں نے ملک و قوم کی بقاء و سلامتی کے لئے ہمیشہ قربانیاں دیتے ہوئے اپنی ان ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد سے یہ علاقے سرزمین بے آئین رہے ۔ ان کی معاشی ، معاشرتی ، تعلیمی اور تہذیبی ترقی کے لئے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ سراج الحق نے کہاکہ آئین کے دفعہ 247کے تحت یہ علاقے پارلیمنٹ اور عدالت عظمی کے اختیار سے باہررہے ۔ فرد واحد صدر مملکت ان علاقوں کے تمام تر انتظامی اور قانونی اُمور کا ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انگریز دور سے رائج ایف سی آر کے قوانین کی وجہ سے یہ علاقے اور اس کے باشندے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے اور اب بھی صورت حال یہ ہے کہ کئی علاقے سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں کی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کی نئی نسل کے لئے یہ صورتحال ناقابل برادشت ہے اور ان میں بیداری آئی ہے ۔وہ مثبت تبدیلی چاہتے ہیں ،اس لئے وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے موجودہ نظام کو فاٹا کے عوام ، مشران اور نمائندوں کے مشوروں اور خواہشات کے مطابق تبدیل کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ تین مختلف آپشنز کے حوالے سے سوچ پائی جار ہی ہے ایک یہ ہے کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، دوم یہ کہ گلگت بلتستان کی طرح اس کا ایک الگ انتظامی کونسل تشکیل دیا جائے اور سوم یہ کہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنا یا جائے۔ سراج الحق نے کہاکہ انہوں نے فاٹا کے تمام علاقوں کے زعماء ، پارلیمنٹرین ، علماء، وکلاء، طلباء اور نوجوانوں سے مشاورت کی ہے ۔ اس مشاورت کے نتیجے میں وہ سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے عوام کے بہتر مستقبل کے لئے فی الحال اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے اور جس طرح ملاکنڈ ڈویژن کے علاقوں پاٹا کی صوبے میں الگ حیثیت ہے اسی طرح فاٹا کی بھی الگ مخصوص حیثیت بھی ہو اور یوں بتدریج اسے قومی دھارے میں لایا جائے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ یہ سارا عمل فاٹا کے زعماء، مشران اور نمائندوں کی مشاورت سے ہوا ور وفاق کی جانب سے اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی فیصلہ قبائلی عوام پر مسلط نہ کیا جائے ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ وہ خود بھی ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں ، فاٹا سیاسی اتحاد اور فاٹا کے پارلیمنٹیرینز و قبائلی مشران پر مشتمل ایک آل پارٹیز کانفرنس عنقریب اسلام آباد میں طلب کرینگے تاکہ جو بھی پیش رفت ہو وہ کسی ایک جماعت یا طبقے کی سوچ نہ ہو بلکہ سب کی مشاورت سے طے پائیں ۔ سراج الحق نے حکومت سے قبائلی متاثرین کی واپسی اور وہاں مالی، معاشی ، معاشرتی اور ترقی کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ پیکیج 15سال کے لئے ہو ۔ تاکہ علاقہ میں معاشی و اقتصادی ترقی آئے ۔ نوجوانوں کو روز گار ملے۔ انہوں نے قبائلی عوام کے اس مطالبے کی بھی تائید کی کہ کولیشن سپورٹ فنڈ سے فاٹا کو زیادہ حصہ دیا جائے ۔ا نہوں نے پاک چین اکنامکس کو ریڈور کے 46ارب ڈالر کے معاہدوں سے بھی قبائلی علاقوں کو زیادہ فوائد اور حصہ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ قبائلی علاقوں کو مزید تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پُرامن پاکستان کے لئے قبائلی علاقوں میں امن کا قیام ضروری ہے اور پُرامن پاکستان کے لئے فاٹا میں ترقی وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں اپنے مراکز قائم کیے ہوئے ہیں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے زیادہ منفی اثرات سب سے پہلے قبائلی علاقوں پر پڑ رہے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان قبائلی عوام کی ترقی کے لئے انقلابی معاشی ترقیاتی منصوبہ بندی کرے اور قبائل کے زخموں پر مرہم رکھے ۔ ان کی محرومیوں کا ازالہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایف سی آر کسی کو بہتر نظام نظر آرہا ہے تو وہ اس کا نفاذ اسلام آباد میں کریں۔ جہاں تک قبائلی عوام کا تعلق ہے وہ اسی نظام سے نالاں ہیں وہ امن و ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی خوشحالی و ترقی اور تحفظ کے لئے اقدامات اُٹھائیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ ، بڈھ بیر بیس پر حملے کے زخمیوں کی عیادت کی، صحتیابی کی دعا۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور وارث خان آفریدی سے بھی تعزیت کا اظہار کیا

C1

پشاور( ) گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جماعت اسلامی کے صوبائی و ضلعی ذمہ داران کے وفد کے ہمراہ سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا۔ دورے میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سانحہ بڈھ بیر میں زخمی ہونے والے فوجی جوانوں سے فرداً فرداً ہاتھ ملا کر ان کی خیریت دریافت کی۔ دورے کے دوران جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان ، امیر ضلع صابر حسین اعوان، سیکرٹی جنرل و ڈسٹرکٹ کونسل کے پارلیمانی لیڈر خالد وقاص چمکنی، وائس چیئرمین کینٹونمنٹ بورڈ پشاور حاجی وارث خان آفریدی ، بیرسٹر عاطف علی خان ، فضل اللہ داؤدزئی ودیگر بھی موجود تھے۔ سراج الحق نے سانحہ میں زخمی ہونے والے جوانوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ دریں اثناء امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وفد کے ہمراہ وزیر اعلیٰ ہاؤس جاکر پرویز خٹک سے ان کے چچا زاد بھائی اور کینٹونمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین وارث خان آفریدی کی رہائشگاہ جاکر ان کی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کی۔ انہوں نے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

حکومت من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگانا چاہتی ہے ۔ قومی اداروں کو اونے پونے بیچنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے ۔سراج الحق کی نیشنل لیبر فیڈریشن کے وفد سے گفتگو

pic jip

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگانا چاہتی ہے ۔ قومی اداروں کو اونے پونے بیچنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے ۔ گزشتہ ادوار میں کی گئی نج کاری کا قوم کو ابھی تک کوئی حساب نہیں دیا گیا ۔ مزدوروں کے استحصال اور روزگار چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکمران نج کاری کے نام پر اداروں کو فروخت کرکے ملک کو ٹھیکے پر دیناچاہتے ہیں ۔ حکمران مزدوروں کو لاوارث نہ سمجھیں ، جماعت اسلامی مزدوروں اور پسے ہوئے طبقوں کی نمائندہ جماعت ہے اورعوام کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر رانا محمو د علی کی قیادت میں ملنے والے مزدوروں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نج کاری قومی یا ملکی مفاد میں نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے حکم پر کی جارہی ہے۔پاکستان سٹیل ملز،پی آئی اے ،او جی ڈی سی ،پاکستان ریلوے سمیت 68قومی ادارے اونے پونے بیچنے کا منصوبہ ہے۔زیادہ تر اداروں کی خریداری میں حکومت میں شامل لوگ دلچسپی لے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نجکاری شفاف نہیں بلکہ سفارشی بنیادوں پر ہوگی ۔18ویں ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر بنائے گئے لیبر قوانین دستور پاکستان کے خلاف ہیں ۔قومی اداروں کے پاس اربوں روپے کی زمین اور اثاثے ہیں جن پر ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔نجکاری اپنے رشتہ داروں اور پارٹی ورکرز کو نوازنے کا حکمرانوں کا آزمودہ نسخہ ہے جس سے ہر حکومت مستفید ہونے کی کوشش کرتی ہے ۔ قومی ترقی کیلئے ہمیشہ نئے ادارے بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارے حکمران محنت و مشقت اور کثیر سرمائے سے کھڑے کئے گئے اداروں کو بیچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نجکاری سے لاکھوں مزدور اور محنت کش بے روز گار ہوجائیں گے ۔حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ روز گار کے نئے مواقع پید ا کرکے ملک سے بے روز گاری کا خاتمہ کریں جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے ، روز گار دینے کی بجائے برسر روزگار لوگوں سے روز گار چھین لیا جاتا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ پی ٹی سی ایل میں نجکاری سے قبل 62ہزا ر ملازمین تھے اور سالانہ 14ارب روپے قومی خزانے کو منافع ملتا تھا مگر نجکاری کے بعد 44ہزار ملازمین کو فارغ کردیا گیا ،قومی خزانے میں صرف چار ارب روپے جمع ہوئے جبکہ ادارے کی اربوں ڈالر مالیت کی زمین اور اثاثے کوڑیوںکے مول اتصالات کے حوالے کردیئے گئے ۔یہ نجکاری کی دیگ کا ایک چاول ہے ۔نجکاری کی دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری کی ساری دال کالی ہے اور شفاف اور غیر جانبداری کے تمام دعوے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔نجکاری کا مقصد کرپشن کے نئے در کھولنا ہے۔        
    سراج الحق نے کہاکہ ملک میں غیر رجسٹرڈ مزدور، کسان اور ہاری انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں غریب کے بچے تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ معاشرے میں معاشی استحصال اپنی تمام حدیں عبور کر چکاہے ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتاجارہاہے ۔ تمام وسائل پر امیر قابض ہیں جبکہ غریب کو دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملکی ترقی و خوشحالی غریب کے خون پیسنے کی مرہون منت ہے لیکن حکومت نے ان لوگوں کی قدر کرنے کی بجائے انہیں لاوارث چھوڑ دیا ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ریلوے ، پی آئی اے اور سٹیل مل سمیت کسی ادارے کی نج کاری نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے مسلط کردہ ظالمانہ اور استحصالی نظام اور معاشی ناہمواریوں سے معاشرے کے اندر احساس محرومی بڑھتا جارہاہے جس سے عوام کے اندر حکمرانوں کے خلاف ایک لاوا پک رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس دن یہ پھٹ پڑا حکمرانوں کے محل بھی سلامت نہیں رہیں گے ۔

اسمبلیوں میں ٹھیکیدار بیٹھے ہیں جو عوامی مفاد کے بجائے اپنی ٹھیکیداری چمکا ر ہے ہیں۔ سیاست خدمت کی بجائے کاروبار بن گیا ہے۔ نظام کے بگاڑ کی وجہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر غیروں کے نظام کو اپنانا ہے۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان

Pic Prof Ibrahim Khan, 13-09-2015

شانگلہ (            )امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ اسمبلیوں میں ٹھیکیدار بیٹھے ہیں جو عوامی مفاد کے بجائے اپنی ٹھیکیداری چمکا ر ہے ہیں۔ سیاست خدمت کی بجائے کاروبار بن گیا ہے۔ نظام کے بگاڑ کی وجہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر غیروں کے نظام کو اپنانا ہے۔ دنیا فساد اور ظلم سے بھر چکی ہے۔57اسلامی ممالک میں سے کسی بھی ملک کا حکمران قرآن و سنت کا نظام رائج نہیں۔ جماعت اسلامی اللہ کے دین کو زمین پر نافذ کرنے کے لئے اٹھی ہے۔ وہ مسجد مدینہ چکیسر میں جماعت اسلامی ضلع شانگلہ کے اجتماع ارکان سے خطاب کررہے تھے۔ اجتماع ارکان سے جماعت اسلامی ضلع شانگلہ کے امیر نجم اللہ اور نائب امیر ضلع عزیز الحق نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ٹھیکیدار اور کاروباری فرد اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا تھا۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اب بھی یہ قانون موجود ہے کہ کوئی ٹھیکیدار یا کاروباری شخصیت اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا۔ اسے کاروبار یا سیاست میں سے ایک کے انتخاب کا کہا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی اسمبلیوں میں ٹھیکیدار اور کاروباری شخصیات بیٹھی ہیں جن کی ساری تگ و دو اپنے کاروبار کو بچانے اور اسے مزید بڑھانے کے لئے ہوتی ہے۔ قوم اور عوام کے مسائل کا حل ان کے منشور میں سرے سے شامل ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بے حیائی، فساد اور ظلم سے بھر چکی ہے ۔ مسلمانوں کے ملکوں اوران کی مساجد پر غیر مسلم قابض ہیں لیکن سارے مسلمان تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ مسلمان ممالک میں سے کسی بھی ملک کا حکمران اسلامی نظام کے نفاذکا حامی نہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کا نظام تباہ و برباد ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی جدوجہد لئے وجود میں آئی ہے۔ جماعت اسلامی کا مقصد خدا کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر خدا کی بندگی میں دینا ہے۔ اقامت دین کی یہ تحریک ہمارے بزرگوں نے ہمیں امانت کے طور پر دی ہے۔ اسے اگلی نسل کو منتقل کرنا اور اپنے اہل و عیال اور دوست احباب کو اس کی دعوت دینا جماعت اسلامی کے کارکنان پر لازم ہے۔

میڈیا نے کرپٹ چہرے بے نقاب کردئیے ،کرپشن کے خاتمہ کیلئے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں،سراج الحق

pic ameer jip 1

لاہور13ستمبر2015ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان سینٹرسراج الحق نے کہاکہ میڈیا نے کرپٹ اوربددیانت پارٹیوں کے چہرے عوام کے سامنے بے نقاب کردئیے ہیں،عوام کو مسائل میں دھکیل کران کی لاشوں پرمحلات بنانے والی کرپٹ اشرافیہ کے بے نقاب ہونے کے بعد عوام کی نظریں ملک کی واحدشفاف پارٹی جماعت اسلامی پرہیں، کارکنان عوام سے رابطے کومضبوط کریں اورباطل نظام کو جڑسے اکھاڑنے کیلئے اپناکرداراداکریں،جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزتحریک محنت میں جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اجتماع سے خیبرپختونخواہ کے امیرپروفیسرمحمدابراہیم،ضلعی امیر راولپنڈی شمس الرحمن سواتی ودیگررہنماؤں نے بھی خطاب کیا،اس موقع پر تحریک محنت کے مرکزی صدرخالدحسین بخاری،جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیرمولانا عبدالجلیل بھی موجود تھے جبکہ اجتماع میں ضلع بھرکے ارکان نے شرکت کی۔
سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف سے مسجدنبوی ﷺمیں بیٹھ کر درخواست کی تھی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے یہاں سے سودی نظام اورفحاشی کاخاتمہ کردیں لیکن انہوں نے بے حسی کامظاہرہ کیا ،محض مطالبات سے نظام تبدیل نہیں ہوگا،پائیدارتبدیلی کیلئے اختیارات نیک ،صالح اوردیانت دارلوگوں کومنتقل کرنا ہوں گے، ملک میں غیراسلامی اقدامات کاخاتمہ کئے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے ،انھوں نے کہاکہ ہم بیلٹ کے ذریعے پاکستان میں اسلامی انقلاب برپاکرناچاہتے ہیں، مینارپاکستان پرہونے والے اجتماع میں ہم نے دنیابھرکی اسلامی تحریکوں کے ساتھ مل کرجواعلامیہ جاری کیا اس میں بھی ہماراجمہوریت اوربیلٹ پر اتفاق تھا۔سراج الحق نے کہاکہ خیبرپختونخواہ کے بعدبلوچستان کے عوام میں بھی بیداری ہے ، دیگرسینکڑوں افرادکے علاوہ تحصیل ناظم اور مختلف قبیلوں اور برادریوں کی قد آور شخصیات نے ہمارے ساتھ شمولیت کااعلان کرتے ہوئے عزم کیا کہ ہم کوئٹہ کوجماعت اسلامی کا قلعہ بنائیں گے۔ اب پنجاب کی قیادت اورکارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صوبے میں بھی بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات میں بہترین نتائج دیں۔امیرصوبہ پختونخواہ پروفیسرمحمد ابراہیم نے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت غیراسلامی نہیں ہے ،جہاں حرام وحلال کااختیاراللہ کی بجائے فردواحدیاحکمرانوں کوحاصل ہوجائے وہ جمہوریت کفرہے ،پاکستان میں ووٹ دینے کاحقدارہرشہری ہے لیکن ہمارے اکابرین کی کاوشوں سے آئین پاکستان کی دفعہ 62-63 کے تحت ووٹ لینے کا حق صرف اسی کوحاصل ہے جوفرائض کاپابند اورکبائرسے اجتناب کرنے والا ہو۔شمس الرحمن سواتی نے کہاکہ ارکان نوجوانوں کوجماعت اسلامی میں سمونے کیلئے وسیع پیمانے پرورکنگ کریں۔

کوئٹہ ،تحصیل پنجپائی کے ناظم سمیت 1200افراد جماعت اسلامی میں شامل

000کوئٹہ 10ستمبر 2015 ء
کوئٹہ،تحصیل پنجپائی کے ناظم جمیل احمدمشوانی سمیت بارہ سو افرادنے جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کردیا۔اعلان امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی موجودگی میں کیا ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق تقریب کے مہمان خصوصی تھے ،تقریب میں تحصیل ناظم پنجپائی جمیل احمد مشوانی کے علاوہ محمد اکرم ملازئی ،ڈاکٹر خان محمد،مشتاق انجم،ڈاکٹر حفیظ،عبد الحق عمبرانی سمیت بارہ سو افراد نے جماعت اسلامی میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا ،شمولیت کرنے والوں کو امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مبارکباد دی ،امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے دروازے ہرشخص کیلئے کھلے ہیں جماعت اسلامی ایک مذہبیو جمہوری جماعت ہے اور عوام کو ساتھ ملاکر جمہوری عمل کے ذرئعے اس ملک میں منصفانہ اور عادلانہ نظام قائم کرنا چاہتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم زیر زمین اور خفیہ سازشوں پر یقین نہیں رکھتے انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام جماعت اسلامی کے پشتیبان بن کر اس ملک کو قائد اعظم اور علامہ اقبال کے خوابوں کے مطابق اسلامی و فلاحی ریاست بنائیں انہوں نے کہا کہ بلوچ قوم نے مجھے محبت اور حوصلہ دیا ہے جس پر میں بلوچ قوم کا مشکور ہوں ۔سراج الحق نے کہا کہ سابق حکمرانوں نے بلوچ قوم کو محرومیوں اور مایوسیوں کے سوا کچھ نہیں دیا ہم انشاء اللہ بلوچ قوم کو محرومی اور مایوسی کی اس کیفیت سے نکالیں گے ۔
سراج الحق نے کہاکہ بلوچستان ایک پسماندہ اور محروم صوبہ ہے اور اس کی محرومیوں میں اسلام آباد کی متعصب اور تنگ نظر بیوروکریسی کا ہاتھ ہے اور دوسری طرف بلوچستان کے اقتدار پر ایسے لوگ براجمان ہیں جنہیں عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں وہ صرف اپنے اقتدار کو طول دیناچاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن ملک کا مستقل روگ بن گیاہے ۔68سال میں اقتدار میں آنے والے حکمرانوں نے دونوں ہاتھوں سے قومی دولت کو لوٹا اور بیرونی بینکوں میں منتقل کیا ۔ کرپشن کی موجودگی میں پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ۔ چاروں صوبوں میں کرپشن کے خلاف بڑا آپریشن ہوناچاہیے اور کسی کرپٹ سیاسی لیڈر یا سرکاری افسر کو نہ چھوڑا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ایف آئی اے لائق اور ڈس لائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلاتفریق کرپٹ لوگوں کے خلاف کاروائی کرے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم اقتدار میں آ کرکرپٹ لوگوں کو گردن سے دبوچیں گے اور اس وقت تک ان کی گردن نہیں چھوڑیں کے جب تک قومی دولت کی ایک ایک پائی وصول نہ کرلیں ۔

اسلام آباد اور کراچی میں میٹرو بس چلانے والوں کو کوئٹہ کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ اقتصادی راہداری کے روٹ کوتبدیل کیا گیا تو ہم سمجھیں گے حکمران خود ہی اس منصوبے کو سبوتاژ کرناچاہتے ہیں ۔سراج الحق کا کوئٹہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب

000
کوئٹہ 9ستمبر 2015 ء
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت کی گاڑی ہچکولے کھارہی ہے چاروں صوبوں میں ایک غیر یقینی صورتحال ہے لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا حکومت اپنی مدت پوری کر سکے گی ۔ پولیس کے چہروں پر خوف ہے ۔ وزیراعظم ، گورنر اور وزرائے اعلیٰ سیکورٹی کے حصار کے بغیر گھر سے نہیں نکلتے۔ سینکڑوں گاڑیوں اور مسلح پہرے داروں کے ساتھ گھومنے والے عوام کو تحفظ نہیں دے سکتے ۔ پاکستان کے مسائل کا ایک ہی حل ہے کہ ملک میں نوابوں ، سرداروں اور جاگیرداروں کی بجائے عوامی راج قائم ہو ۔ ملک میں نظریہ پاکستان کی حکمرانی ہو اور پارٹیوں اور افراد کی بجائے اصولوں کی بادشاہت ہو اور ذاتی و پارٹی مفادات کی بجائے قومی مقاصد کو پورا کیا جائے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے کوئٹہ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ کنونشن سے صوبائی امیر اخونزاد ہ عبدالمتین ، مولانا عبدالحق ہاشمی اور امیر جماعت اسلامی کوئٹہ عبدالحکیم نے بھی خطاب کیا ۔
    سراج الحق نے کہاکہ لاہور ،اسلام آباد اور کراچی میں میٹرو بس چلانے والوں کو کوئٹہ کا خیال کیوں نہیں آیا ۔ اقتصادی راہداری کے روٹ کوتبدیل کیا گیا تو ہم سمجھیں گے حکمران خود ہی اس منصوبے کو سبوتاژ کرناچاہتے ہیں ۔ گوادر کی ترقی پر سب سے پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے گوادر کی زمین آج بھی ایک کروڑ سال بعد بھی گوادر کے عوام کی رہے گی ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے ساتھ ہے اور ہم کسی صورت بھی ان پرظلم برداشت نہیں کریں گے ۔سراج الحق نے کہاکہ واپڈا ، سٹیل ملزاور پی آئی اے سمیت کسی بھی قومی ادارے کی نج کاری نہیں ہونی چاہیے۔ قومی اداروں کو کسی سرمایہ دار اور جاگیردار کی جھولی میں ڈالنے کی بجائے حکومت ان کو چلانے کی کوشش کرے اور اگر ان قومی اداروں کو حکومت نہیں چلاسکتی تو ہمارے حوالے کر دے ہم ان اداروں کو منافع بخش بنائیں گے ۔
    سراج الحق نے کہاکہ بلوچستان ایک پسماندہ اور محروم صوبہ ہے اور اس کی محرومیوں میں اسلام آباد کی متعصب اور تنگ نظر بیوروکریسی کا ہاتھ ہے اور دوسری طرف بلوچستان کے اقتدار پر ایسے لوگ براجمان ہیں جنہیں عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں وہ صرف اپنے اقتدار کو طول دیناچاہتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کرپشن ملک کا مستقل روگ بن گیاہے ۔68سال میں اقتدار میں آنے والے حکمرانوں نے دونوں ہاتھوں سے قومی دولت کو لوٹا اور بیرونی بینکوں میں منتقل کیا ۔ کرپشن کی موجودگی میں پاکستان ترقی نہیں کر سکتا ۔ چاروں صوبوں میں کرپشن کے خلاف بڑا آپریشن ہوناچاہیے اور کسی کرپٹ سیاسی لیڈر یا سرکاری افسر کو نہ چھوڑا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ایف آئی اے لائق اور ڈس لائق کی بنیاد پر نہیں بلکہ بلاتفریق کرپٹ لوگوں کے خلاف کاروائی کرے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم اقتدار میں آ کرکرپٹ لوگوںکو گردن سے دبوچیں گے اور اس وقت تک ان کی گردن نہیں چھوڑیں کے جب تک قومی دولت کی ایک ایک پائی وصول نہ کرلیں ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کے بارڈر انڈین توپوں کی زد میں ہیں بھارت کا رویہ جارحانہ جبکہ ہمارے حکمرانوں کا معذرت خواہانہ ہے ۔ استعمار کے غلام بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی بجائے سہمے بیٹھے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے لیے جرا ¿ت مندقیادت کی ضرورت ہے ۔ بحرانوں میں پھنسی ملک کی کشتی کو صرف جماعت اسلامی بھنو ر سے نکال سکتی ہے ۔ ترکی ، مراکش اور الجزائر سمیت بہت سے اسلامی ممالک کے عوام نے وہاں کی اسلامی تحریکوں پر اعتماد کیا اور انشاءاللہ وہ دن دور نہیں جب پاکستان کے عوام بھی ہماری تائید کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اقتدار صرف امریکی ایما اور خوشنودی سے مل سکتاہے ہم ایسے اقتدار پر لعنت بھیجتے ہیں ۔ ہم انشاءاللہ عوامی قوت سے اقتدار میں آئیں گے ۔

موجودہ حکومت اپنے اڑھائی سالہ دور میں عوام کو ڈلیور نہیں کرسکی ،اصل ایشوز سے روگردانی کی جارہی ہے ،موجودہ جمہوری تماشے میں غریبوں کیلئے کچھ نہیں ،عام آدمی سیاسی و معاشی بحرانوں سے تنگ آچکا ہے ۔پہاڑوں کا رخ کرنے والے اور احساس محرومی کا شکار نوجوان پاکستان کے نہیں ظلم و جبر کے نظام اور ظالموں کے خلاف ہیں ۔سراج الحق

01

لاہور8ستمبر2015 ء
کوئٹہ( )امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ موجودہ حکومت اپنے اڑھائی سالہ دور میں عوام کو ڈلیور نہیں کرسکی ،اصل ایشوز سے روگردانی کی جارہی ہے ،موجودہ جمہوری تماشے میں غریبوں کیلئے کچھ نہیں ،عام آدمی سیاسی و معاشی بحرانوں سے تنگ آچکا ہے ۔جب بھی کوئی بحران آتا ہے عام آدمی کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں ۔مرکزی حکومت کو بلوچستان کے مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔چائنہ سے 46ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے تو وہ گوادر کی وجہ سے ہے ،اگر گوادر ترقی کرتا ہے تو اس پر پہلا حق بلوچستان کے لوگوں کا ہے ۔پہاڑوں کا رخ کرنے والے اور احساس محرومی کا شکار نوجوان پاکستان کے نہیں ظلم و جبر کے نظام اور ظالموں کے خلاف ہیں ۔یہ مظلوم نوجوان اپنا حق مانگتے ہیں ،انہیں حق دینا چاہئے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے تین روزہ دورہ پر کوئٹہ پہنچنے پر ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو اور بعد ازاں تربیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی بلوچستان عبدالمتین اخوندزادہ اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات ولی خان شاکر بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت اپنے منشور پر عمل کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے ،ہماری تجویز تھی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا وقت پورا کریں اور اپنے منشور اور عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کریں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ ن ،سندھ میں پیپلز پارٹی خیبر پختونخواہ میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے ،ان حکومتوں کا فرض تھا کہ وہ مل کر عوام کے مسائل حل کرتیں اور عام آدمی کو درپیش مشکلات کا حل نکالتیں مگر وفاقی حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے عوام کے اندر مایوسی بڑھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو بلوچستان کے مسائل پر فوکس کرنا چاہئے اور صوبے کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پہاڑوں پر جانے اور غاروں میں پناہ لینے والے نوجوان اسلام دشمن یا پاکستان مخالف نہیں ہیں وہ مظلوم ہیں اور ظلم اور ظالم کے خلاف ہیں ۔اس لئے ضروری ہے کہ ان کو قومی دھارے میں لانے کیلئے حکومت اپنے رویوں کو تبدیل کرے اور فوری طور پر بلوچستان کے عوام کے اندر پائی جانے والی محرومیوں کو دور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میں قوم پرستوں کی اس تجویز کی حمایت کرتا ہوں کہ گوادر میں ملازمتوں پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملازمتیں دینے کیلئے یہ بہانہ نہ بنایا جائے کہ بلوچستان کے نوجوان تعلیم یافتہ یا ہنر مند نہیں ہیں ،اگر یہ مسئلہ ہے بھی تو اس کے ذمہ دار بھی حکمران ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے ،ملک میں بے چینی حکمرانوں کی پیدا کردہ ہے ، کرپٹ اشرافیہ اور حکومتی اداروں میں کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کا حکومت پر اعتماد نہیں رہا ۔کرپٹ سیاستدانوں اور بیوروکریسی نے قومی دولت بیرون ملک منتقل کردی ہے ،حکمرانوں کے اپنے کاروبار اور فیکٹریاں بیرون ملک ہیں تو باہر سے سرمایہ کار آکر پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کا مسئلہ آٹا ،دال ،چینی اور تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولتیں ہیں ۔اگر عوام کو یہ سہولتیں میسر نہیں تو حکمرانوں کے ترقی و خوشحالی کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ،جس دن عام آدمی اطمینان کی زندگی بسر کرے گا حکمرانوں کو دعوؤں کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
******

کشمیرکے معاملے پر آرمی چیف کابیان خوش آئنداور دلیرانہ ہے، بھارت پاکستان کوکمزورنہ سمجھے۔پاکستان ایک مشکل سے دوچار ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پاکستان بن تو گیا لیکن یہ ایک اسلامی فلاحی ریاست نہ بن سکا۔حکومت لوگوں کے لئے ماں باپ کی طرح ہوتی ہے۔لیکن ہمارے ملک کی حکومت ایک ٹیکس جمع کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے۔ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے قومی ایشوز پر نہیں بلکہ اپنے تنظیمی ایشوز پر استعفے دئیے۔ان کے استعفے الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے اور نہ کرنے کی ایشو پر ہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق

1

 امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ ریاست ،سیاست ،تجارت اور عدالت سب کچھ امیروں کیلئے ہے ،غریبوں کے لئے کچھ بھی نہیں۔کشمیرکے معاملے پر آرمی چیف کابیان خوش آئنداور دلیرانہ ہے، بھارت پاکستان کوکمزورنہ سمجھے۔پاکستان ایک مشکل سے دوچار ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پاکستان بن تو گیا لیکن یہ ایک اسلامی فلاحی ریاست نہ بن سکا۔حکومت لوگوں کے لئے ماں باپ کی طرح ہوتی ہے۔لیکن ہمارے ملک کی حکومت ایک ٹیکس جمع کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے۔ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے قومی ایشوز پر نہیں بلکہ اپنے تنظیمی ایشوز پر استعفے دئیے۔ان کے استعفے الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے اور نہ کرنے کی ایشو پر ہیں۔الطاف حسین کے نیٹو اور ہندوستان کو پاکستان پر حملے کی دعوت دینا قوم سے غداری اور دشمنی ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔ کراچی آپریشن پر وہ لوگ واویلا مچارہے ہیں جنہوں نے اس کے امن کو سب سے زیادہ تباہ کیا۔ملک کا عدالتی نظام مضبوط نہیں۔ عدالتی نظام مضبوط ہوتا تو قصور کا واقعہ پیش نہ آتا۔بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اسرائیل کے ساتھ ملک کر نئے اتحاد کا اعلان کیا۔مودی اور اسرائیل کا اتحاد فرانس اور برطانیہ کے خلاف نہیں بلکہ عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف ہے۔الیکشن کمیشن کے چار ارکان کے استعفوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جب تک سسٹم تبدیل نہیں کیا جاتا تب تک حالات ایسے ہی رہیں گے۔الخدمت فاؤنڈیشن نے ہر مشکل وقت میں قوم کی مدد کی۔سیلاب ہو یا زلزلہ یا کوئی اور آفت ،الخدمت کے رضا کاروں نے سب سے پہلے پہنچ کر لوگوں کی مدد کی۔ الخدمت سیاسی نہیں فلاحی تنظیم ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ورکر ز الخدمت کے رضاکار بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کریں۔ میں خود بھی الخدمت فاؤنڈیشن کا رضا کار ہوں۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے چارسدہ میں الخدمت فاؤنڈیشن اور ترکی کی غیر سرکاری فلاحی تنظیم یاردی ملی کے اشتراک سے2010ء کے متاثرین سیلاب میں رکشے اور کاروبارکیلئے قرض حسنہ کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان، الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر عبدالشکور، الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر نورالحق ، ترکش ایڈ (TIKA)کے سربراہ مصطفی گرے تسل ،یاردی ملی کے کنٹری ڈائیریکٹر سیف الاسلام اور جماعت اسلامی ضلع چارسدہ کے امیر مصباح اللہ بھی موجود تھے۔ تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تقریب میں 150 مستحق افراد میں کروڑوں روپے مالیت کے رکشے اور کاروبار کے لئے قرضہ حسنہ کے چیک تقسیم کئے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ ملک میں پانچ ارب سے زائد کے فلاحی کام الخدمت فاؤنڈیشن کے فورم سے کرچکے ہیں اس میں کوئی سیاسی عنصر نہیں سیاست سے بالاترہوکر خدمت کررہے ہیں۔ یتیم بچوں کیلئے جوکچھ الخدمت فاؤنڈیشن کررہی ہے اس کے اچھے نتائج برآمدہونگے کیونکہ یتیم بچوں کوہمیشہ جرائم کی جانب راغب کیاجاتاہے جوکہ ملک وقوم کیلئے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تو بن گیا لیکن اسے اسلامی اور فلاحی ریاست نہ بنایا جاسکا۔ فلاحی ریاست لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام کرتی ہے اور انہیں ہر قسم کی امداد مہیا کرتی ہے لیکن پاکستان کی حکومت لوگوں کو امداد دینے کے بجائے ان سے ٹیکس وصول کرتی ہے۔ پاکستان میں حکومت صرف ٹیکس جمع کرنیوالی ایجنسی کی طرح ہے جوکہ صرف عوام سے بل لیتی ہے لیکن ان کے فلاح و بہبود کے لئے نہیں سوچتی ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اختلافات کے خاتمے کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔ ہم صوبے بنانے کے خلاف نہیں لیکن مسلک اورتعصب کی بنیاد پر علیحدہ ہونے کی کبھی حمایت نہیں کریں گے۔ پاکستان مشرقی ومغربی سرحدات کی جانب سے مشکلات کاشکار ہے ایسے میں اندرونی اختلافات بھلانے ہونگے۔انہوں نے کہاکہ بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کرپاکستان کیخلاف سازش کرناچاہتاہے لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔مستحکم پاکستان کیلئے مستحکم ادارے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاست،ریاست،تجارت اور عدالت سب کچھ امیروں کیلئے ہے۔ مٹھی بھر اشرافیہ نے حکومت اور عوام کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔ اگر عدالت غریبوں کیلئے ہوتی توچیف جسٹس، وزیر اعظم اور صدر پاکستان قصورواقعے کے بعدخودوہاں جاتے اور قصورواروں کیخلاف ایکشن لیتے۔پاکستان میں گونگااوربہرہ عدالتی نظام ہے ،عدالت کا دروازہ پیسے سے کھلتاہے، اس کی چابی سونے اور چاندی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قوم ایسی قیادت کو کبھی آگے نہ آنے دیے جوکہ ملکی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کے پیچھے جائے ۔پاکستا ن میں رشوت اور سفارش کا دوردورہ ہے۔ پاکستان پر ستربلین کے قرضے ہیں جب کہ صرف ایک شخص کے پاکستان سے باہر سوئس بنکوں میں200بلین روپے پڑے ہیں۔ اگر یہ رقم پاکستان لائی گئی تو ہم قرض لینے والے نہیں بلکہ قرض دینے والے بن جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے آپ کو ہر چوراہے اور مسجد میں احتساب کیلئے پیش کرنے کو تیار ہوں۔ وڈیروں شہزادوں کے لئے زندہ بادکے نعرے لگانے سے کچھ تبدیلی نہیں آئے گی ۔تبدیلی کے لئے نیک اور دیانتدار افراد کا انتخاب ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام ، کرپشن اور ظلم کے خلاف زندگی کی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک جنگ لڑتے رہیں گے۔میں عام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ کرپشن ، ناانصافی اور ظلم کے خلاف جنگ میں میرا ساتھ دیں۔