پاکستان نے خطے میں جنگ کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے ۔ سرحد کے دونوں پار اتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے کہ جو ہیروشیما میں بھی استعمال نہیں ہواتھا ۔اس اسلحہ اور بارود کے اثرات آئندہ کئی صدیوں تک جاری رہیں گے ان سے متعدد نئی مہلک بیماریاں وجود میں آرہی ہیں ۔ سراج الحق سے منصورہ میں امریکی قونصلر جنرل اور مختلف وفود کی گفتگو

pic 3

لاہور22ستمبر 2015ء
    لاہور میں امریکی قونصلر جنرل Zachary Harkenrider نے آج منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونوں ملکوں کے تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ ¿ خیال کیا گیا ۔ اس موقع پر ڈائریکٹر امور خارجہ جماعت اسلامی عبدالغفار عزیز بھی موجود تھے ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان نے خطے میں جنگ کی بہت بھاری قیمت چکائی ہے ۔ سرحد کے دونوں پار اتنا اسلحہ استعمال ہوا ہے کہ جو ہیروشیما میں بھی استعمال نہیں ہواتھا ۔اس اسلحہ اور بارود کے اثرات آئندہ کئی صدیوں تک جاری رہیں گے ان سے متعدد نئی مہلک بیماریاں وجود میں آرہی ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ ہم امریکہ یا امریکی عوام کے نہیں امریکی پالیسیوں کے مخالف ہیں ۔ امریکی عوام کی بڑی تعداد بھی اپنی حکومت کی ان غلط پالیسیوں کے بارے ہمارا ہی موقف رکھتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ باہم گفت و شنید اور مذاکرات کے ذریعے تمام مسائل پر قابو پایا جاسکاہے ۔ انہو ں نے کہاکہ اس کے لیے سب کو انصاف ، برابری اور حقیقی جمہوریت کے اصول اپنانا ہوں گے ۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ پشاور دھماکوں اور ملک میں گروہی و مسلکی اختلافات کو ہوا دینے کے پیچھے منظم ریاستی دہشتگردی کا ہاتھ ہے ۔
    دریں اثنا وائس آف کرسچئن انٹر نیشنل کے وفد نے ڈائریکٹر سیموئل پیارا کی قیادت میں امیر جماعت ا سلامی سینیٹر سراج الحق سے منصورہ میں ملاقات کی ۔ وفد میں این جی او کے صدر شیراز بھٹی اور کنٹری ڈائریکٹر عدیل راجہ شامل تھے ۔ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کی تعمیرو ترقی میں مسیحی برادری کے نمایاں کردار کو سراہا جاناچاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم پاکستان میں بسنے والے غیر مسلموں کو اقلیت نہیں بلکہ پاکستانی برادری سمجھتے ہیں ۔انہو ں نے کہاکہ تمام پاکستانی شہریوں کے حقوق برابر ہیں ۔ پاکستان میں رہنے والی اقلیتوں کو مکمل مذہبی آزادی حاصل ہے ۔ہمارے دل میں اقلیتی بھائیوں کا بہت احترام ہے ۔ جماعت اسلامی کے اقلیتی ونگ میں مسیحی ، ہندو اور سکھ برادریوں کے نمایاں لوگ شامل ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ وائس آف کرسچئن انٹر نیشنل کی تعلیم ، صحت اور روزگار کے میدان میں بڑی خدمات ہیں ۔
     امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے حالیہ دورہ بلوچستان کے موقع پر اپنے سینکڑوں ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شامل ہونے والے کوئٹہ کی تحصیل پنجپائی کے ناظم جمیل احمد مشوانی کی قیادت میں بلوچستان کے ایک وفد نے بھی منصورہ میںسراج الحق سے ملاقات کی اور صوبے کو درپیش مسائل کے بارے میں انہیں آگاہ کیا ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ بلوچستان کی پسماندگی اور محرومیوں کو ختم کرنا حکومت کا فرض ہے۔ بلوچستان وسائل سے مالا مال اور رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا بڑا صوبہ ہونے کے باوجود تعلیم ، صحت اور روزگار کے میدان میں بہت پیچھے ہے ۔ سینکڑوں دیہات تک رابطہ سڑکیں موجود نہیں اور دیہاتی بچوں کو تعلیم کے لیے میلوں دور پیدل جانا پڑتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت ہر گاﺅں میں کم از کم پرائمری سکول کھولے اور نوجوانوں کو روزگار کی سہولتیں مہیا کرے ۔

Advertisements

فاٹا کے حوالے سے ایک یونیفارم پالیسی وضع کرکے اسے بتدریج ایف سی آر سے نکالا جائے اور ابتدائی مرحلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بناکر پاٹا کی طرح اسے بھی ایک مخصوص حیثیت دی جائے ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا مطالبہ

Pic Sirajul Haq2, 21-09-2015

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے حوالے سے ایک یونیفارم پالیسی وضع کرکے اسے بتدریج ایف سی آر سے نکالا جائے اور ابتدائی مرحلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بناکر پاٹا کی طرح اسے بھی ایک مخصوص حیثیت دی جائے ۔ انہوں نے آئی ڈی پیز کی واپسی و بحالی اور قبائلی عوام کی محرومیوں کے ازالے کے لئے مالی ، معاشی و معاشرتی ترقی کے لئے پیکیج کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ فاٹاکے مستقبل کے حوالے سے قومی سیاسی جماعتوں اورفاٹا سیاسی اتحاد پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس بھی عید الاضحی کے بعد اسلام آباد میں طلب کی جائے گی کیونکہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ وہ مہمند ایجنسی کے دور ے کے بعد المرکز اسلامی پشاور میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی فاٹا کے امیر و سابق ایم این اے صاحبزاد ہ ہارون الرشید، ڈاکٹر منصف خان، زرنور آفریدی، جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ ایڈووکیٹ اور دیگر راہنماء و قبائلی زعماء بھی موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ فاٹا سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ ایف آر ز کے علاقوں اور ایک کروڑ محب وطن آبادی پر مشتمل علاقہ ہے ۔ یہ علاقے کسی ریفرنڈم کے بغیر اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہو ئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی ان قبائلی عوام نے ہمیشہ پاسداری کی اور یہ ملکی سرحدوں کے بغیر تنخواہ کے سپاہی ہیں۔قبائلیوں نے ملک و قوم کی بقاء و سلامتی کے لئے ہمیشہ قربانیاں دیتے ہوئے اپنی ان ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد سے یہ علاقے سرزمین بے آئین رہے ۔ ان کی معاشی ، معاشرتی ، تعلیمی اور تہذیبی ترقی کے لئے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ سراج الحق نے کہاکہ آئین کے دفعہ 247کے تحت یہ علاقے پارلیمنٹ اور عدالت عظمی کے اختیار سے باہررہے ۔ فرد واحد صدر مملکت ان علاقوں کے تمام تر انتظامی اور قانونی اُمور کا ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انگریز دور سے رائج ایف سی آر کے قوانین کی وجہ سے یہ علاقے اور اس کے باشندے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے اور اب بھی صورت حال یہ ہے کہ کئی علاقے سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں کی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کی نئی نسل کے لئے یہ صورتحال ناقابل برادشت ہے اور ان میں بیداری آئی ہے ۔وہ مثبت تبدیلی چاہتے ہیں ،اس لئے وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے موجودہ نظام کو فاٹا کے عوام ، مشران اور نمائندوں کے مشوروں اور خواہشات کے مطابق تبدیل کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ تین مختلف آپشنز کے حوالے سے سوچ پائی جار ہی ہے ایک یہ ہے کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، دوم یہ کہ گلگت بلتستان کی طرح اس کا ایک الگ انتظامی کونسل تشکیل دیا جائے اور سوم یہ کہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنا یا جائے۔ سراج الحق نے کہاکہ انہوں نے فاٹا کے تمام علاقوں کے زعماء ، پارلیمنٹرین ، علماء، وکلاء، طلباء اور نوجوانوں سے مشاورت کی ہے ۔ اس مشاورت کے نتیجے میں وہ سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے عوام کے بہتر مستقبل کے لئے فی الحال اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے اور جس طرح ملاکنڈ ڈویژن کے علاقوں پاٹا کی صوبے میں الگ حیثیت ہے اسی طرح فاٹا کی بھی الگ مخصوص حیثیت بھی ہو اور یوں بتدریج اسے قومی دھارے میں لایا جائے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ یہ سارا عمل فاٹا کے زعماء، مشران اور نمائندوں کی مشاورت سے ہوا ور وفاق کی جانب سے اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی فیصلہ قبائلی عوام پر مسلط نہ کیا جائے ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ وہ خود بھی ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں ، فاٹا سیاسی اتحاد اور فاٹا کے پارلیمنٹیرینز و قبائلی مشران پر مشتمل ایک آل پارٹیز کانفرنس عنقریب اسلام آباد میں طلب کرینگے تاکہ جو بھی پیش رفت ہو وہ کسی ایک جماعت یا طبقے کی سوچ نہ ہو بلکہ سب کی مشاورت سے طے پائیں ۔ سراج الحق نے حکومت سے قبائلی متاثرین کی واپسی اور وہاں مالی، معاشی ، معاشرتی اور ترقی کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ پیکیج 15سال کے لئے ہو ۔ تاکہ علاقہ میں معاشی و اقتصادی ترقی آئے ۔ نوجوانوں کو روز گار ملے۔ انہوں نے قبائلی عوام کے اس مطالبے کی بھی تائید کی کہ کولیشن سپورٹ فنڈ سے فاٹا کو زیادہ حصہ دیا جائے ۔ا نہوں نے پاک چین اکنامکس کو ریڈور کے 46ارب ڈالر کے معاہدوں سے بھی قبائلی علاقوں کو زیادہ فوائد اور حصہ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ قبائلی علاقوں کو مزید تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پُرامن پاکستان کے لئے قبائلی علاقوں میں امن کا قیام ضروری ہے اور پُرامن پاکستان کے لئے فاٹا میں ترقی وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں اپنے مراکز قائم کیے ہوئے ہیں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے زیادہ منفی اثرات سب سے پہلے قبائلی علاقوں پر پڑ رہے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان قبائلی عوام کی ترقی کے لئے انقلابی معاشی ترقیاتی منصوبہ بندی کرے اور قبائل کے زخموں پر مرہم رکھے ۔ ان کی محرومیوں کا ازالہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایف سی آر کسی کو بہتر نظام نظر آرہا ہے تو وہ اس کا نفاذ اسلام آباد میں کریں۔ جہاں تک قبائلی عوام کا تعلق ہے وہ اسی نظام سے نالاں ہیں وہ امن و ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی خوشحالی و ترقی اور تحفظ کے لئے اقدامات اُٹھائیں۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا سی ایم ایچ پشاور کا دورہ ، بڈھ بیر بیس پر حملے کے زخمیوں کی عیادت کی، صحتیابی کی دعا۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور وارث خان آفریدی سے بھی تعزیت کا اظہار کیا

C1

پشاور( ) گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے جماعت اسلامی کے صوبائی و ضلعی ذمہ داران کے وفد کے ہمراہ سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا۔ دورے میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے سانحہ بڈھ بیر میں زخمی ہونے والے فوجی جوانوں سے فرداً فرداً ہاتھ ملا کر ان کی خیریت دریافت کی۔ دورے کے دوران جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان ، امیر ضلع صابر حسین اعوان، سیکرٹی جنرل و ڈسٹرکٹ کونسل کے پارلیمانی لیڈر خالد وقاص چمکنی، وائس چیئرمین کینٹونمنٹ بورڈ پشاور حاجی وارث خان آفریدی ، بیرسٹر عاطف علی خان ، فضل اللہ داؤدزئی ودیگر بھی موجود تھے۔ سراج الحق نے سانحہ میں زخمی ہونے والے جوانوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔ دریں اثناء امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے وفد کے ہمراہ وزیر اعلیٰ ہاؤس جاکر پرویز خٹک سے ان کے چچا زاد بھائی اور کینٹونمنٹ بورڈ کے وائس چیئرمین وارث خان آفریدی کی رہائشگاہ جاکر ان کی ہمشیرہ کی وفات پر تعزیت کی۔ انہوں نے مرحومین کی مغفرت اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی۔

حکومت من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگانا چاہتی ہے ۔ قومی اداروں کو اونے پونے بیچنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے ۔سراج الحق کی نیشنل لیبر فیڈریشن کے وفد سے گفتگو

pic jip

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگانا چاہتی ہے ۔ قومی اداروں کو اونے پونے بیچنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے ۔ گزشتہ ادوار میں کی گئی نج کاری کا قوم کو ابھی تک کوئی حساب نہیں دیا گیا ۔ مزدوروں کے استحصال اور روزگار چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکمران نج کاری کے نام پر اداروں کو فروخت کرکے ملک کو ٹھیکے پر دیناچاہتے ہیں ۔ حکمران مزدوروں کو لاوارث نہ سمجھیں ، جماعت اسلامی مزدوروں اور پسے ہوئے طبقوں کی نمائندہ جماعت ہے اورعوام کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر رانا محمو د علی کی قیادت میں ملنے والے مزدوروں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نج کاری قومی یا ملکی مفاد میں نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے حکم پر کی جارہی ہے۔پاکستان سٹیل ملز،پی آئی اے ،او جی ڈی سی ،پاکستان ریلوے سمیت 68قومی ادارے اونے پونے بیچنے کا منصوبہ ہے۔زیادہ تر اداروں کی خریداری میں حکومت میں شامل لوگ دلچسپی لے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نجکاری شفاف نہیں بلکہ سفارشی بنیادوں پر ہوگی ۔18ویں ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر بنائے گئے لیبر قوانین دستور پاکستان کے خلاف ہیں ۔قومی اداروں کے پاس اربوں روپے کی زمین اور اثاثے ہیں جن پر ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔نجکاری اپنے رشتہ داروں اور پارٹی ورکرز کو نوازنے کا حکمرانوں کا آزمودہ نسخہ ہے جس سے ہر حکومت مستفید ہونے کی کوشش کرتی ہے ۔ قومی ترقی کیلئے ہمیشہ نئے ادارے بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارے حکمران محنت و مشقت اور کثیر سرمائے سے کھڑے کئے گئے اداروں کو بیچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نجکاری سے لاکھوں مزدور اور محنت کش بے روز گار ہوجائیں گے ۔حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ روز گار کے نئے مواقع پید ا کرکے ملک سے بے روز گاری کا خاتمہ کریں جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے ، روز گار دینے کی بجائے برسر روزگار لوگوں سے روز گار چھین لیا جاتا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ پی ٹی سی ایل میں نجکاری سے قبل 62ہزا ر ملازمین تھے اور سالانہ 14ارب روپے قومی خزانے کو منافع ملتا تھا مگر نجکاری کے بعد 44ہزار ملازمین کو فارغ کردیا گیا ،قومی خزانے میں صرف چار ارب روپے جمع ہوئے جبکہ ادارے کی اربوں ڈالر مالیت کی زمین اور اثاثے کوڑیوںکے مول اتصالات کے حوالے کردیئے گئے ۔یہ نجکاری کی دیگ کا ایک چاول ہے ۔نجکاری کی دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری کی ساری دال کالی ہے اور شفاف اور غیر جانبداری کے تمام دعوے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔نجکاری کا مقصد کرپشن کے نئے در کھولنا ہے۔        
    سراج الحق نے کہاکہ ملک میں غیر رجسٹرڈ مزدور، کسان اور ہاری انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں غریب کے بچے تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ معاشرے میں معاشی استحصال اپنی تمام حدیں عبور کر چکاہے ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتاجارہاہے ۔ تمام وسائل پر امیر قابض ہیں جبکہ غریب کو دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملکی ترقی و خوشحالی غریب کے خون پیسنے کی مرہون منت ہے لیکن حکومت نے ان لوگوں کی قدر کرنے کی بجائے انہیں لاوارث چھوڑ دیا ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ریلوے ، پی آئی اے اور سٹیل مل سمیت کسی ادارے کی نج کاری نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے مسلط کردہ ظالمانہ اور استحصالی نظام اور معاشی ناہمواریوں سے معاشرے کے اندر احساس محرومی بڑھتا جارہاہے جس سے عوام کے اندر حکمرانوں کے خلاف ایک لاوا پک رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس دن یہ پھٹ پڑا حکمرانوں کے محل بھی سلامت نہیں رہیں گے ۔

اسمبلیوں میں ٹھیکیدار بیٹھے ہیں جو عوامی مفاد کے بجائے اپنی ٹھیکیداری چمکا ر ہے ہیں۔ سیاست خدمت کی بجائے کاروبار بن گیا ہے۔ نظام کے بگاڑ کی وجہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر غیروں کے نظام کو اپنانا ہے۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان

Pic Prof Ibrahim Khan, 13-09-2015

شانگلہ (            )امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا ہے کہ اسمبلیوں میں ٹھیکیدار بیٹھے ہیں جو عوامی مفاد کے بجائے اپنی ٹھیکیداری چمکا ر ہے ہیں۔ سیاست خدمت کی بجائے کاروبار بن گیا ہے۔ نظام کے بگاڑ کی وجہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے راستے کو چھوڑ کر غیروں کے نظام کو اپنانا ہے۔ دنیا فساد اور ظلم سے بھر چکی ہے۔57اسلامی ممالک میں سے کسی بھی ملک کا حکمران قرآن و سنت کا نظام رائج نہیں۔ جماعت اسلامی اللہ کے دین کو زمین پر نافذ کرنے کے لئے اٹھی ہے۔ وہ مسجد مدینہ چکیسر میں جماعت اسلامی ضلع شانگلہ کے اجتماع ارکان سے خطاب کررہے تھے۔ اجتماع ارکان سے جماعت اسلامی ضلع شانگلہ کے امیر نجم اللہ اور نائب امیر ضلع عزیز الحق نے بھی خطاب کیا۔ پروفیسر محمد ابراہیم خان نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ٹھیکیدار اور کاروباری فرد اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا تھا۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اب بھی یہ قانون موجود ہے کہ کوئی ٹھیکیدار یا کاروباری شخصیت اسمبلی کا ممبر نہیں بن سکتا۔ اسے کاروبار یا سیاست میں سے ایک کے انتخاب کا کہا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی اسمبلیوں میں ٹھیکیدار اور کاروباری شخصیات بیٹھی ہیں جن کی ساری تگ و دو اپنے کاروبار کو بچانے اور اسے مزید بڑھانے کے لئے ہوتی ہے۔ قوم اور عوام کے مسائل کا حل ان کے منشور میں سرے سے شامل ہی نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بے حیائی، فساد اور ظلم سے بھر چکی ہے ۔ مسلمانوں کے ملکوں اوران کی مساجد پر غیر مسلم قابض ہیں لیکن سارے مسلمان تماشہ دیکھ رہے ہیں۔ مسلمان ممالک میں سے کسی بھی ملک کا حکمران اسلامی نظام کے نفاذکا حامی نہیں۔ اسی وجہ سے دنیا کا نظام تباہ و برباد ہے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اقامت دین کی جدوجہد لئے وجود میں آئی ہے۔ جماعت اسلامی کا مقصد خدا کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر خدا کی بندگی میں دینا ہے۔ اقامت دین کی یہ تحریک ہمارے بزرگوں نے ہمیں امانت کے طور پر دی ہے۔ اسے اگلی نسل کو منتقل کرنا اور اپنے اہل و عیال اور دوست احباب کو اس کی دعوت دینا جماعت اسلامی کے کارکنان پر لازم ہے۔

میڈیا نے کرپٹ چہرے بے نقاب کردئیے ،کرپشن کے خاتمہ کیلئے عوام جماعت اسلامی کا ساتھ دیں،سراج الحق

pic ameer jip 1

لاہور13ستمبر2015ء
امیرجماعت اسلامی پاکستان سینٹرسراج الحق نے کہاکہ میڈیا نے کرپٹ اوربددیانت پارٹیوں کے چہرے عوام کے سامنے بے نقاب کردئیے ہیں،عوام کو مسائل میں دھکیل کران کی لاشوں پرمحلات بنانے والی کرپٹ اشرافیہ کے بے نقاب ہونے کے بعد عوام کی نظریں ملک کی واحدشفاف پارٹی جماعت اسلامی پرہیں، کارکنان عوام سے رابطے کومضبوط کریں اورباطل نظام کو جڑسے اکھاڑنے کیلئے اپناکرداراداکریں،جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی میڈیا سیل سے جاری پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزتحریک محنت میں جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے ارکان کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ،اجتماع سے خیبرپختونخواہ کے امیرپروفیسرمحمدابراہیم،ضلعی امیر راولپنڈی شمس الرحمن سواتی ودیگررہنماؤں نے بھی خطاب کیا،اس موقع پر تحریک محنت کے مرکزی صدرخالدحسین بخاری،جماعت اسلامی پنجاب کے نائب امیرمولانا عبدالجلیل بھی موجود تھے جبکہ اجتماع میں ضلع بھرکے ارکان نے شرکت کی۔
سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف سے مسجدنبوی ﷺمیں بیٹھ کر درخواست کی تھی کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے یہاں سے سودی نظام اورفحاشی کاخاتمہ کردیں لیکن انہوں نے بے حسی کامظاہرہ کیا ،محض مطالبات سے نظام تبدیل نہیں ہوگا،پائیدارتبدیلی کیلئے اختیارات نیک ،صالح اوردیانت دارلوگوں کومنتقل کرنا ہوں گے، ملک میں غیراسلامی اقدامات کاخاتمہ کئے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے ،انھوں نے کہاکہ ہم بیلٹ کے ذریعے پاکستان میں اسلامی انقلاب برپاکرناچاہتے ہیں، مینارپاکستان پرہونے والے اجتماع میں ہم نے دنیابھرکی اسلامی تحریکوں کے ساتھ مل کرجواعلامیہ جاری کیا اس میں بھی ہماراجمہوریت اوربیلٹ پر اتفاق تھا۔سراج الحق نے کہاکہ خیبرپختونخواہ کے بعدبلوچستان کے عوام میں بھی بیداری ہے ، دیگرسینکڑوں افرادکے علاوہ تحصیل ناظم اور مختلف قبیلوں اور برادریوں کی قد آور شخصیات نے ہمارے ساتھ شمولیت کااعلان کرتے ہوئے عزم کیا کہ ہم کوئٹہ کوجماعت اسلامی کا قلعہ بنائیں گے۔ اب پنجاب کی قیادت اورکارکنان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صوبے میں بھی بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابات میں بہترین نتائج دیں۔امیرصوبہ پختونخواہ پروفیسرمحمد ابراہیم نے کہاکہ پاکستان میں جمہوریت غیراسلامی نہیں ہے ،جہاں حرام وحلال کااختیاراللہ کی بجائے فردواحدیاحکمرانوں کوحاصل ہوجائے وہ جمہوریت کفرہے ،پاکستان میں ووٹ دینے کاحقدارہرشہری ہے لیکن ہمارے اکابرین کی کاوشوں سے آئین پاکستان کی دفعہ 62-63 کے تحت ووٹ لینے کا حق صرف اسی کوحاصل ہے جوفرائض کاپابند اورکبائرسے اجتناب کرنے والا ہو۔شمس الرحمن سواتی نے کہاکہ ارکان نوجوانوں کوجماعت اسلامی میں سمونے کیلئے وسیع پیمانے پرورکنگ کریں۔