عوام مغل بادشاہوں سے تنگ آ چکے ہیں ۔ سیاستدانوں کو اب اپنی روش بدلناہوگی ۔اداروں کو ٹھیک کرنے کے لیے بے لاگ احتساب ضروری ہے ۔سراج الحق کا برمنگھم میں بڑے اجتماع سے خطاب

01.09.15 Today Pic Siraj ul haq

لاہوریکم ستمبر 2015ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ عوام مغل بادشاہوں سے تنگ آ چکے ہیں ۔ سیاستدانوں کو اب اپنی روش بدلناہوگی ۔اداروں کو ٹھیک کرنے کے لیے بے لاگ احتساب ضروری ہے ۔ مغرب کو مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کا رویہ چھوڑناچاہیے ۔ مسلمانوں پر اپنا کلچر مسلط کرنا ناقابل قبول ہے ۔ امریکہ اور مغرب اپنا اسلحہ بیچنے کے لیے مسلمانوں پر جنگیں مسلط کر کے دنیا کو بدامنی کی آگ میں دھکیل رہے ہیں ۔ انڈیا کا جارحانہ رویہ خطے میں کشیدگی کا باعث ہے ،اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو اس کا نوٹس لیناچاہیے ۔دنیا کو ایک بین المذاہب مکالمے کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کااظہار انہوں نے برمنگھم میں بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ جلسے سے برمنگھم کے ڈپٹی لارڈ میئر شفیق الرحمن اور یوکے اسلامک مشن کے صدر ڈاکٹر زاہد پرویز نے بھی خطا ب کیا۔جلسہ میں جماعت اسلامی کے علاوہ دوسری سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے بھی بڑی تعدادمیں شرکت کی ۔
سراج الحق نے کہاکہ گزشتہ 68 سالوں میں پاکستانی عوام کا بدترین استحصال کیا گیا ۔ برسراقتدار رہنے والی جماعتوں نے قومی مفادات پس پشت ڈال کر ذاتی مفادات کو ترجیح دی یہی وجہ ہے کہ عوام سیاستدانوں کی اکثریت سے نالاں ہیں اور اب وہ چہروں اور نظام کو بدلنے کی بات کرتے ہیں ۔ انہو ںنے کہاکہ کرپشن نے تمام قومی اداروں کو گھن کی طرح چاٹ لیاہے ہر طرف مایوسی اور ناامیدی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ۔چند خاندانوںنے نصف صدی سے ملکی اقتدار پر قبضہ جما رکھاہے یہی وجہ ہے کہ عوام کے اصل نمائندے ایوان اقتدار میں نہیں پہنچ سکے ۔ سیاسی پارٹیوں پرخاندانوں کا قبضہ ہے اور پسند اور ناپسند کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹیں بیچی جاتی ہیں جس کے پاس زیادہ سرمایہ ہوتاہے وہ ٹکٹ خرید کر عوام کی گردنوں پر سوار ہوجاتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ عوام اب اس چوہے بلی کے کھیل سے تنگ آچکے ہیں اور چاہتے ہیںکہ ملک میں دیانتدار اور عوام دوست قیادت برسراقتدار آئے جو ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی اہلیت رکھتی ہو ۔
سراج الحق نے کہاکہ عالمی برادری کو مسلمانوں کے ساتھ معاندانہ اور متعصب رویہ بدلناہوگا مسلمانوں کو دیوار سے لگانے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ دنیا پر اپنا نیا عالمی نظام اسلحے اور بارود کی قوت سے نافذ کرنا چاہتاتھا مگر اسے بدترین ناکامی کا سامنا کرناپڑاہے ۔ اب عالمی قوتیں اپنا اسلحہ بیچنے کے لیے مسلم ممالک میں خانہ جنگی کرا رہی ہیں اور دنیا کو بدامنی کی طرف لے جاناچاہتی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی قوتیں لڑاﺅ اور حکومت کرو کی پالیسی کو چھوڑ کر باہمی اعتماد کی فضا پیدا کریں جس کے لیے بین المذاہب مکالمے کی اشد ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ عالمی برادری مقبوضہ مسلم علاقوں کشمیر ، فلسطین اوربرما جیسے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s