قومی دولت ہڑپ کرنے والے سانپ اور بچھوﺅں سے زیادہ خطرناک ہیں ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہئے ۔سیاسی جماعتیں کرپٹ لوگوں کی خود نشاندہی کرکے انہیں قانون کے حوالے کریں اور آئندہ ایسے لٹیروں کو اپنی صفوں میں گھسنے کا موقع نہ دیں ۔کرپشن سے ہاتھ رنگنے والے قوم کے مجرم ہیں ان کی بیرونی بنکوں میں پڑی دولت کو ملک میں لایا جائے اور اسے عام آدمی کی پریشانیاں دور کرنے پر خرچ کیا جائے ۔این آراوسے فائدہ اٹھانے اور قرضے معاف کرانے والوں کو پکڑ کر ایک ایک پائی وصول کی جائے ۔سیاست میںموجود کالی بھیڑوں نے تمام سیاستدانوں کو بدنام کردیا ہے ،۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

11222075_994887990533446_2961926548458874067_n

لاہور 4ستمبر 2015      
    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ قومی دولت ہڑپ کرنے والے سانپ اور بچھوﺅں سے زیادہ خطرناک ہیں ان کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہئے ۔سیاسی جماعتیں کرپٹ لوگوں کی خود نشاندہی کرکے انہیں قانون کے حوالے کریں اور آئندہ ایسے لٹیروں کو اپنی صفوں میں گھسنے کا موقع نہ دیں ۔کرپشن سے ہاتھ رنگنے والے قوم کے مجرم ہیں ان کی بیرونی بنکوں میں پڑی دولت کو ملک میں لایا جائے اور اسے عام آدمی کی پریشانیاں دور کرنے پر خرچ کیا جائے ۔این آراوسے فائدہ اٹھانے اور قرضے معاف کرانے والوں کو پکڑ کر ایک ایک پائی وصول کی جائے ۔سیاست میںموجود کالی بھیڑوں نے تمام سیاستدانوں کو بدنام کردیا ہے ، دیر اور چترال کے پہاڑوں سے اٹھنے والا انقلاب پنجاب اور سندھ کے میدانوں کا رخ ضرور کرے گا۔کارکن بلدیاتی انتخابات کو تبدیلی کا نقطہ آغاز بنانے کیلئے کمربستہ ہوجائیں۔جماعت اسلامی کے پاس دیانتدار قیادت ہے ان شاءاللہ عوام ہمارا ساتھ ضرور دیں گے ۔ الیکشن کمیشن سمیت پورے انتخابی نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے ۔ 70 ءکے بعد کسی الیکشن کمیشن نے انتخابی نظام کی درستگی کے لیے کچھ نہیں کیا ۔ جماعت اسلامی عام آدمی کو ایوان اقتدار میں پہنچانے کی جدوجہد کررہی ہے ۔ وقت آگیاہے کہ ان مغل شہزادوں سے عوام کو نجات دلائی جائے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ کرپٹ اشرافیہ نے اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے ،غریب اور امیر کیلئے الگ قانون ہے ۔غریب کے پاس دووقت کی روٹی نہیں اور امیروں کے پاس اتنی دولت جمع ہوگئی ہے کہ انہوں نے یہ دولت قومی بنکوں میں رکھنے کے بجائے بیرونی بنکوں میں جمع کروا دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ اشرافیہ ہی پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔ان لوگوں کے برطانیہ اور دیگر مغربی و یورپی ممالک میں بڑے بڑے بنگلے اور پلازے ہیں،ان کے کاروبار پاکستان سے باہر ہیں اور یہ صرف سیاست کرنے پاکستان آتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ اشرافیہ غریب پاکستانی عوام کوبنیادی انسانی حقوق بھی دینے کو تیار نہیں ۔68سال سے چند خاندان اقتدار پر قابض ہیں اور انہی خاندانوں نے مختلف پارٹیوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔چچا ایک پارٹی میں ہے تو بھتیجا دوسری جماعت میں اور ماموں ایک جماعت میں ہے تو بھانجا دوسری سیاسی پارٹی میں ۔انہوں نے کہا کہ یہ کبھی بھی ایک دوسرے کا احتساب نہیں ہونے دیتے بلکہ موقع آنے پر سب لٹیرے اکٹھے ہوجاتے اور ایک دوسرے کی کرپشن کو تحفظ دیتے ہیں ۔اس لئے عوام کو اب ان سانپوں اور بچھوﺅں کے سر کچلنے کیلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دینا چاہئے ۔
     سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کے تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ اس کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی بھی حفاظت کی جائے ۔قومیں ہمیشہ اپنے نظریات کی بدولت زندہ رہتی ہیں ،جس قوم کا کوئی نظریہ نہ ہووہ زیادہ دیراپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی ۔بھارت ہمارا ازلی دشمن ہے ،اب وہ لوگ بھی قوم کے کٹہرے میں ہیں جو مکار دشمن کو پسندیدہ قوم قرار دیتے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا ۔عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیر ی عوام کو حق خود ارادیت دلائے تاکہ جنوبی ایشیاءپر جنگ کے منڈلاتے بادلوں کوروکا جاسکے ۔
   

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s