کشمیرکے معاملے پر آرمی چیف کابیان خوش آئنداور دلیرانہ ہے، بھارت پاکستان کوکمزورنہ سمجھے۔پاکستان ایک مشکل سے دوچار ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پاکستان بن تو گیا لیکن یہ ایک اسلامی فلاحی ریاست نہ بن سکا۔حکومت لوگوں کے لئے ماں باپ کی طرح ہوتی ہے۔لیکن ہمارے ملک کی حکومت ایک ٹیکس جمع کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے۔ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے قومی ایشوز پر نہیں بلکہ اپنے تنظیمی ایشوز پر استعفے دئیے۔ان کے استعفے الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے اور نہ کرنے کی ایشو پر ہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق

1

 امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ ریاست ،سیاست ،تجارت اور عدالت سب کچھ امیروں کیلئے ہے ،غریبوں کے لئے کچھ بھی نہیں۔کشمیرکے معاملے پر آرمی چیف کابیان خوش آئنداور دلیرانہ ہے، بھارت پاکستان کوکمزورنہ سمجھے۔پاکستان ایک مشکل سے دوچار ہے۔ سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ پاکستان بن تو گیا لیکن یہ ایک اسلامی فلاحی ریاست نہ بن سکا۔حکومت لوگوں کے لئے ماں باپ کی طرح ہوتی ہے۔لیکن ہمارے ملک کی حکومت ایک ٹیکس جمع کرنے والی ایجنسی بن گئی ہے۔ایم کیو ایم کے ارکان اسمبلی نے قومی ایشوز پر نہیں بلکہ اپنے تنظیمی ایشوز پر استعفے دئیے۔ان کے استعفے الطاف حسین کی تقریر نشر کرنے اور نہ کرنے کی ایشو پر ہیں۔الطاف حسین کے نیٹو اور ہندوستان کو پاکستان پر حملے کی دعوت دینا قوم سے غداری اور دشمنی ہے۔ کراچی میں جاری آپریشن کی حمایت کرتے ہیں۔ کراچی آپریشن پر وہ لوگ واویلا مچارہے ہیں جنہوں نے اس کے امن کو سب سے زیادہ تباہ کیا۔ملک کا عدالتی نظام مضبوط نہیں۔ عدالتی نظام مضبوط ہوتا تو قصور کا واقعہ پیش نہ آتا۔بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی اسرائیل کے ساتھ ملک کر نئے اتحاد کا اعلان کیا۔مودی اور اسرائیل کا اتحاد فرانس اور برطانیہ کے خلاف نہیں بلکہ عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف ہے۔الیکشن کمیشن کے چار ارکان کے استعفوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ جب تک سسٹم تبدیل نہیں کیا جاتا تب تک حالات ایسے ہی رہیں گے۔الخدمت فاؤنڈیشن نے ہر مشکل وقت میں قوم کی مدد کی۔سیلاب ہو یا زلزلہ یا کوئی اور آفت ،الخدمت کے رضا کاروں نے سب سے پہلے پہنچ کر لوگوں کی مدد کی۔ الخدمت سیاسی نہیں فلاحی تنظیم ہے۔ سیاسی جماعتوں کے ورکر ز الخدمت کے رضاکار بن کر دکھی انسانیت کی خدمت کریں۔ میں خود بھی الخدمت فاؤنڈیشن کا رضا کار ہوں۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے چارسدہ میں الخدمت فاؤنڈیشن اور ترکی کی غیر سرکاری فلاحی تنظیم یاردی ملی کے اشتراک سے2010ء کے متاثرین سیلاب میں رکشے اور کاروبارکیلئے قرض حسنہ کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان، الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے صدر عبدالشکور، الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر نورالحق ، ترکش ایڈ (TIKA)کے سربراہ مصطفی گرے تسل ،یاردی ملی کے کنٹری ڈائیریکٹر سیف الاسلام اور جماعت اسلامی ضلع چارسدہ کے امیر مصباح اللہ بھی موجود تھے۔ تقریب میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی شریک تھے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے تقریب میں 150 مستحق افراد میں کروڑوں روپے مالیت کے رکشے اور کاروبار کے لئے قرضہ حسنہ کے چیک تقسیم کئے۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا کہ ملک میں پانچ ارب سے زائد کے فلاحی کام الخدمت فاؤنڈیشن کے فورم سے کرچکے ہیں اس میں کوئی سیاسی عنصر نہیں سیاست سے بالاترہوکر خدمت کررہے ہیں۔ یتیم بچوں کیلئے جوکچھ الخدمت فاؤنڈیشن کررہی ہے اس کے اچھے نتائج برآمدہونگے کیونکہ یتیم بچوں کوہمیشہ جرائم کی جانب راغب کیاجاتاہے جوکہ ملک وقوم کیلئے نقصان دہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان تو بن گیا لیکن اسے اسلامی اور فلاحی ریاست نہ بنایا جاسکا۔ فلاحی ریاست لوگوں کی فلاح و بہبود کے کام کرتی ہے اور انہیں ہر قسم کی امداد مہیا کرتی ہے لیکن پاکستان کی حکومت لوگوں کو امداد دینے کے بجائے ان سے ٹیکس وصول کرتی ہے۔ پاکستان میں حکومت صرف ٹیکس جمع کرنیوالی ایجنسی کی طرح ہے جوکہ صرف عوام سے بل لیتی ہے لیکن ان کے فلاح و بہبود کے لئے نہیں سوچتی ۔انہوں نے کہاکہ ملک میں اختلافات کے خاتمے کیلئے مشترکہ حکمت عملی طے کرنی ہوگی۔ ہم صوبے بنانے کے خلاف نہیں لیکن مسلک اورتعصب کی بنیاد پر علیحدہ ہونے کی کبھی حمایت نہیں کریں گے۔ پاکستان مشرقی ومغربی سرحدات کی جانب سے مشکلات کاشکار ہے ایسے میں اندرونی اختلافات بھلانے ہونگے۔انہوں نے کہاکہ بھارت اسرائیل کے ساتھ مل کرپاکستان کیخلاف سازش کرناچاہتاہے لیکن وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔مستحکم پاکستان کیلئے مستحکم ادارے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سیاست،ریاست،تجارت اور عدالت سب کچھ امیروں کیلئے ہے۔ مٹھی بھر اشرافیہ نے حکومت اور عوام کو یرغمال بنا کر رکھا ہے۔ اگر عدالت غریبوں کیلئے ہوتی توچیف جسٹس، وزیر اعظم اور صدر پاکستان قصورواقعے کے بعدخودوہاں جاتے اور قصورواروں کیخلاف ایکشن لیتے۔پاکستان میں گونگااوربہرہ عدالتی نظام ہے ،عدالت کا دروازہ پیسے سے کھلتاہے، اس کی چابی سونے اور چاندی کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ قوم ایسی قیادت کو کبھی آگے نہ آنے دیے جوکہ ملکی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد کے پیچھے جائے ۔پاکستا ن میں رشوت اور سفارش کا دوردورہ ہے۔ پاکستان پر ستربلین کے قرضے ہیں جب کہ صرف ایک شخص کے پاکستان سے باہر سوئس بنکوں میں200بلین روپے پڑے ہیں۔ اگر یہ رقم پاکستان لائی گئی تو ہم قرض لینے والے نہیں بلکہ قرض دینے والے بن جائیں گے۔انہوں نے کہاکہ میں اپنے آپ کو ہر چوراہے اور مسجد میں احتساب کیلئے پیش کرنے کو تیار ہوں۔ وڈیروں شہزادوں کے لئے زندہ بادکے نعرے لگانے سے کچھ تبدیلی نہیں آئے گی ۔تبدیلی کے لئے نیک اور دیانتدار افراد کا انتخاب ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان میں اسلامی حکومت کے قیام ، کرپشن اور ظلم کے خلاف زندگی کی آخری سانس اور خون کے آخری قطرے تک جنگ لڑتے رہیں گے۔میں عام لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ کرپشن ، ناانصافی اور ظلم کے خلاف جنگ میں میرا ساتھ دیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s