موجودہ حکومت اپنے اڑھائی سالہ دور میں عوام کو ڈلیور نہیں کرسکی ،اصل ایشوز سے روگردانی کی جارہی ہے ،موجودہ جمہوری تماشے میں غریبوں کیلئے کچھ نہیں ،عام آدمی سیاسی و معاشی بحرانوں سے تنگ آچکا ہے ۔پہاڑوں کا رخ کرنے والے اور احساس محرومی کا شکار نوجوان پاکستان کے نہیں ظلم و جبر کے نظام اور ظالموں کے خلاف ہیں ۔سراج الحق

01

لاہور8ستمبر2015 ء
کوئٹہ( )امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہاہے کہ موجودہ حکومت اپنے اڑھائی سالہ دور میں عوام کو ڈلیور نہیں کرسکی ،اصل ایشوز سے روگردانی کی جارہی ہے ،موجودہ جمہوری تماشے میں غریبوں کیلئے کچھ نہیں ،عام آدمی سیاسی و معاشی بحرانوں سے تنگ آچکا ہے ۔جب بھی کوئی بحران آتا ہے عام آدمی کی مشکلات بڑھ جاتی ہیں ۔مرکزی حکومت کو بلوچستان کے مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے ۔چائنہ سے 46ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا ہے تو وہ گوادر کی وجہ سے ہے ،اگر گوادر ترقی کرتا ہے تو اس پر پہلا حق بلوچستان کے لوگوں کا ہے ۔پہاڑوں کا رخ کرنے والے اور احساس محرومی کا شکار نوجوان پاکستان کے نہیں ظلم و جبر کے نظام اور ظالموں کے خلاف ہیں ۔یہ مظلوم نوجوان اپنا حق مانگتے ہیں ،انہیں حق دینا چاہئے ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلوچستان کے تین روزہ دورہ پر کوئٹہ پہنچنے پر ایئر پورٹ پر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو اور بعد ازاں تربیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر امیر جماعت اسلامی بلوچستان عبدالمتین اخوندزادہ اور صوبائی سیکرٹری اطلاعات ولی خان شاکر بھی موجود تھے ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکومت اپنے منشور پر عمل کرنے میں اب تک ناکام رہی ہے ،ہماری تجویز تھی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اپنا وقت پورا کریں اور اپنے منشور اور عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل درآمد کریں ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب اور مرکز میں مسلم لیگ ن ،سندھ میں پیپلز پارٹی خیبر پختونخواہ میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف اور بلوچستان میں مخلوط حکومت ہے ،ان حکومتوں کا فرض تھا کہ وہ مل کر عوام کے مسائل حل کرتیں اور عام آدمی کو درپیش مشکلات کا حل نکالتیں مگر وفاقی حکومت کی اب تک کی کارکردگی سے عوام کے اندر مایوسی بڑھی ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو بلوچستان کے مسائل پر فوکس کرنا چاہئے اور صوبے کے عوام سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ پہاڑوں پر جانے اور غاروں میں پناہ لینے والے نوجوان اسلام دشمن یا پاکستان مخالف نہیں ہیں وہ مظلوم ہیں اور ظلم اور ظالم کے خلاف ہیں ۔اس لئے ضروری ہے کہ ان کو قومی دھارے میں لانے کیلئے حکومت اپنے رویوں کو تبدیل کرے اور فوری طور پر بلوچستان کے عوام کے اندر پائی جانے والی محرومیوں کو دور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ میں قوم پرستوں کی اس تجویز کی حمایت کرتا ہوں کہ گوادر میں ملازمتوں پر پہلا حق بلوچستان کے عوام کا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملازمتیں دینے کیلئے یہ بہانہ نہ بنایا جائے کہ بلوچستان کے نوجوان تعلیم یافتہ یا ہنر مند نہیں ہیں ،اگر یہ مسئلہ ہے بھی تو اس کے ذمہ دار بھی حکمران ہیں ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ حکمرانوں کو ماضی سے سبق سیکھنا چاہئے ،ملک میں بے چینی حکمرانوں کی پیدا کردہ ہے ، کرپٹ اشرافیہ اور حکومتی اداروں میں کرپشن کی وجہ سے عام آدمی کا حکومت پر اعتماد نہیں رہا ۔کرپٹ سیاستدانوں اور بیوروکریسی نے قومی دولت بیرون ملک منتقل کردی ہے ،حکمرانوں کے اپنے کاروبار اور فیکٹریاں بیرون ملک ہیں تو باہر سے سرمایہ کار آکر پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ عام آدمی کا مسئلہ آٹا ،دال ،چینی اور تعلیم ،صحت اور روزگار کی سہولتیں ہیں ۔اگر عوام کو یہ سہولتیں میسر نہیں تو حکمرانوں کے ترقی و خوشحالی کے دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ،جس دن عام آدمی اطمینان کی زندگی بسر کرے گا حکمرانوں کو دعوؤں کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔
******

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s