حکومت من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگانا چاہتی ہے ۔ قومی اداروں کو اونے پونے بیچنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے ۔سراج الحق کی نیشنل لیبر فیڈریشن کے وفد سے گفتگو

pic jip

    امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ حکومت من پسند افراد کو نوازنے کے لیے قومی اداروں کی لوٹ سیل لگانا چاہتی ہے ۔ قومی اداروں کو اونے پونے بیچنے کی کوشش کی گئی تو سخت مزاحمت کریں گے ۔ گزشتہ ادوار میں کی گئی نج کاری کا قوم کو ابھی تک کوئی حساب نہیں دیا گیا ۔ مزدوروں کے استحصال اور روزگار چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ حکمران نج کاری کے نام پر اداروں کو فروخت کرکے ملک کو ٹھیکے پر دیناچاہتے ہیں ۔ حکمران مزدوروں کو لاوارث نہ سمجھیں ، جماعت اسلامی مزدوروں اور پسے ہوئے طبقوں کی نمائندہ جماعت ہے اورعوام کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے نیشنل لیبر فیڈریشن کے صدر رانا محمو د علی کی قیادت میں ملنے والے مزدوروں کے وفد سے ملاقات کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔
    سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ نج کاری قومی یا ملکی مفاد میں نہیں بلکہ آئی ایم ایف کے حکم پر کی جارہی ہے۔پاکستان سٹیل ملز،پی آئی اے ،او جی ڈی سی ،پاکستان ریلوے سمیت 68قومی ادارے اونے پونے بیچنے کا منصوبہ ہے۔زیادہ تر اداروں کی خریداری میں حکومت میں شامل لوگ دلچسپی لے رہے ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نجکاری شفاف نہیں بلکہ سفارشی بنیادوں پر ہوگی ۔18ویں ترمیم کے بعد صوبائی سطح پر بنائے گئے لیبر قوانین دستور پاکستان کے خلاف ہیں ۔قومی اداروں کے پاس اربوں روپے کی زمین اور اثاثے ہیں جن پر ملکی و غیر ملکی کمپنیوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔نجکاری اپنے رشتہ داروں اور پارٹی ورکرز کو نوازنے کا حکمرانوں کا آزمودہ نسخہ ہے جس سے ہر حکومت مستفید ہونے کی کوشش کرتی ہے ۔ قومی ترقی کیلئے ہمیشہ نئے ادارے بنانے کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ہمارے حکمران محنت و مشقت اور کثیر سرمائے سے کھڑے کئے گئے اداروں کو بیچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ نجکاری سے لاکھوں مزدور اور محنت کش بے روز گار ہوجائیں گے ۔حکومتوں کا فرض ہوتا ہے کہ وہ روز گار کے نئے مواقع پید ا کرکے ملک سے بے روز گاری کا خاتمہ کریں جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہتی ہے ، روز گار دینے کی بجائے برسر روزگار لوگوں سے روز گار چھین لیا جاتا ہے ۔انہو ں نے کہاکہ پی ٹی سی ایل میں نجکاری سے قبل 62ہزا ر ملازمین تھے اور سالانہ 14ارب روپے قومی خزانے کو منافع ملتا تھا مگر نجکاری کے بعد 44ہزار ملازمین کو فارغ کردیا گیا ،قومی خزانے میں صرف چار ارب روپے جمع ہوئے جبکہ ادارے کی اربوں ڈالر مالیت کی زمین اور اثاثے کوڑیوںکے مول اتصالات کے حوالے کردیئے گئے ۔یہ نجکاری کی دیگ کا ایک چاول ہے ۔نجکاری کی دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری کی ساری دال کالی ہے اور شفاف اور غیر جانبداری کے تمام دعوے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے ۔نجکاری کا مقصد کرپشن کے نئے در کھولنا ہے۔        
    سراج الحق نے کہاکہ ملک میں غیر رجسٹرڈ مزدور، کسان اور ہاری انتہائی کسمپرسی اور بدحالی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں غریب کے بچے تعلیم اور صحت کی سہولتوں سے محروم ہیں ۔ معاشرے میں معاشی استحصال اپنی تمام حدیں عبور کر چکاہے ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتاجارہاہے ۔ تمام وسائل پر امیر قابض ہیں جبکہ غریب کو دو وقت کا کھانا نصیب نہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملکی ترقی و خوشحالی غریب کے خون پیسنے کی مرہون منت ہے لیکن حکومت نے ان لوگوں کی قدر کرنے کی بجائے انہیں لاوارث چھوڑ دیا ہے ۔ سراج الحق نے کہاکہ ریلوے ، پی آئی اے اور سٹیل مل سمیت کسی ادارے کی نج کاری نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے مسلط کردہ ظالمانہ اور استحصالی نظام اور معاشی ناہمواریوں سے معاشرے کے اندر احساس محرومی بڑھتا جارہاہے جس سے عوام کے اندر حکمرانوں کے خلاف ایک لاوا پک رہاہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس دن یہ پھٹ پڑا حکمرانوں کے محل بھی سلامت نہیں رہیں گے ۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s