فاٹا کے حوالے سے ایک یونیفارم پالیسی وضع کرکے اسے بتدریج ایف سی آر سے نکالا جائے اور ابتدائی مرحلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بناکر پاٹا کی طرح اسے بھی ایک مخصوص حیثیت دی جائے ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق کا مطالبہ

Pic Sirajul Haq2, 21-09-2015

امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کے حوالے سے ایک یونیفارم پالیسی وضع کرکے اسے بتدریج ایف سی آر سے نکالا جائے اور ابتدائی مرحلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بناکر پاٹا کی طرح اسے بھی ایک مخصوص حیثیت دی جائے ۔ انہوں نے آئی ڈی پیز کی واپسی و بحالی اور قبائلی عوام کی محرومیوں کے ازالے کے لئے مالی ، معاشی و معاشرتی ترقی کے لئے پیکیج کا بھی مطالبہ کیا اور کہا کہ فاٹاکے مستقبل کے حوالے سے قومی سیاسی جماعتوں اورفاٹا سیاسی اتحاد پر مشتمل آل پارٹیز کانفرنس بھی عید الاضحی کے بعد اسلام آباد میں طلب کی جائے گی کیونکہ یہ کسی ایک جماعت کا نہیں پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ وہ مہمند ایجنسی کے دور ے کے بعد المرکز اسلامی پشاور میں ایک پُر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی فاٹا کے امیر و سابق ایم این اے صاحبزاد ہ ہارون الرشید، ڈاکٹر منصف خان، زرنور آفریدی، جماعت اسلامی کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات اسرار اللہ ایڈووکیٹ اور دیگر راہنماء و قبائلی زعماء بھی موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ فاٹا سات قبائلی ایجنسیوں اور چھ ایف آر ز کے علاقوں اور ایک کروڑ محب وطن آبادی پر مشتمل علاقہ ہے ۔ یہ علاقے کسی ریفرنڈم کے بغیر اپنی مرضی سے پاکستان میں شامل ہو ئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کی ان قبائلی عوام نے ہمیشہ پاسداری کی اور یہ ملکی سرحدوں کے بغیر تنخواہ کے سپاہی ہیں۔قبائلیوں نے ملک و قوم کی بقاء و سلامتی کے لئے ہمیشہ قربانیاں دیتے ہوئے اپنی ان ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا مگر بدقسمتی سے قیام پاکستان کے بعد سے یہ علاقے سرزمین بے آئین رہے ۔ ان کی معاشی ، معاشرتی ، تعلیمی اور تہذیبی ترقی کے لئے کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ سراج الحق نے کہاکہ آئین کے دفعہ 247کے تحت یہ علاقے پارلیمنٹ اور عدالت عظمی کے اختیار سے باہررہے ۔ فرد واحد صدر مملکت ان علاقوں کے تمام تر انتظامی اور قانونی اُمور کا ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کہاکہ انگریز دور سے رائج ایف سی آر کے قوانین کی وجہ سے یہ علاقے اور اس کے باشندے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے اور اب بھی صورت حال یہ ہے کہ کئی علاقے سکولوں، ہسپتالوں، سڑکوں کی سہولت سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام کی نئی نسل کے لئے یہ صورتحال ناقابل برادشت ہے اور ان میں بیداری آئی ہے ۔وہ مثبت تبدیلی چاہتے ہیں ،اس لئے وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کے موجودہ نظام کو فاٹا کے عوام ، مشران اور نمائندوں کے مشوروں اور خواہشات کے مطابق تبدیل کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ تین مختلف آپشنز کے حوالے سے سوچ پائی جار ہی ہے ایک یہ ہے کہ فاٹا کو علیحدہ صوبہ بنایا جائے ، دوم یہ کہ گلگت بلتستان کی طرح اس کا ایک الگ انتظامی کونسل تشکیل دیا جائے اور سوم یہ کہ قبائلی علاقوں کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنا یا جائے۔ سراج الحق نے کہاکہ انہوں نے فاٹا کے تمام علاقوں کے زعماء ، پارلیمنٹرین ، علماء، وکلاء، طلباء اور نوجوانوں سے مشاورت کی ہے ۔ اس مشاورت کے نتیجے میں وہ سمجھتے ہیں کہ فاٹا کے عوام کے بہتر مستقبل کے لئے فی الحال اسے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے اور جس طرح ملاکنڈ ڈویژن کے علاقوں پاٹا کی صوبے میں الگ حیثیت ہے اسی طرح فاٹا کی بھی الگ مخصوص حیثیت بھی ہو اور یوں بتدریج اسے قومی دھارے میں لایا جائے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ یہ سارا عمل فاٹا کے زعماء، مشران اور نمائندوں کی مشاورت سے ہوا ور وفاق کی جانب سے اسلام آباد میں بیٹھ کر کوئی فیصلہ قبائلی عوام پر مسلط نہ کیا جائے ۔ امیرجماعت اسلامی سراج الحق نے کہاکہ وہ خود بھی ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں ، فاٹا سیاسی اتحاد اور فاٹا کے پارلیمنٹیرینز و قبائلی مشران پر مشتمل ایک آل پارٹیز کانفرنس عنقریب اسلام آباد میں طلب کرینگے تاکہ جو بھی پیش رفت ہو وہ کسی ایک جماعت یا طبقے کی سوچ نہ ہو بلکہ سب کی مشاورت سے طے پائیں ۔ سراج الحق نے حکومت سے قبائلی متاثرین کی واپسی اور وہاں مالی، معاشی ، معاشرتی اور ترقی کے لئے خصوصی پروگرام ترتیب دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ پیکیج 15سال کے لئے ہو ۔ تاکہ علاقہ میں معاشی و اقتصادی ترقی آئے ۔ نوجوانوں کو روز گار ملے۔ انہوں نے قبائلی عوام کے اس مطالبے کی بھی تائید کی کہ کولیشن سپورٹ فنڈ سے فاٹا کو زیادہ حصہ دیا جائے ۔ا نہوں نے پاک چین اکنامکس کو ریڈور کے 46ارب ڈالر کے معاہدوں سے بھی قبائلی علاقوں کو زیادہ فوائد اور حصہ دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ قبائلی علاقوں کو مزید تجربہ گاہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہاکہ پُرامن پاکستان کے لئے قبائلی علاقوں میں امن کا قیام ضروری ہے اور پُرامن پاکستان کے لئے فاٹا میں ترقی وقت کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے حالات میں کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف افغانستان میں اپنے مراکز قائم کیے ہوئے ہیں اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف عدم استحکام کا شکار کرنے کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کے زیادہ منفی اثرات سب سے پہلے قبائلی علاقوں پر پڑ رہے ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان قبائلی عوام کی ترقی کے لئے انقلابی معاشی ترقیاتی منصوبہ بندی کرے اور قبائل کے زخموں پر مرہم رکھے ۔ ان کی محرومیوں کا ازالہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایف سی آر کسی کو بہتر نظام نظر آرہا ہے تو وہ اس کا نفاذ اسلام آباد میں کریں۔ جہاں تک قبائلی عوام کا تعلق ہے وہ اسی نظام سے نالاں ہیں وہ امن و ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ان کی خوشحالی و ترقی اور تحفظ کے لئے اقدامات اُٹھائیں۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s