پاکستان اور آزاد کشمیرکے حکمران اور عوام مل کر 2016ءکو آزادیءکشمیرکا سال منائیں،سراج الحق

01

لاہور 27اکتوبر2015 ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیرکے حکمران اور عوام مل کر 2016ءکو کشمیرکی آزادی کا سال منائیں،کشمیرکی آزادی کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا،بھارت 8لاکھ فوج کے ذریعے کشمیریوںکو غلام نہیں رکھ سکتا،میری زندگی کی آخری سانس اور خون کا آخری قطرہ کشمیرکی آزادی کے لیے ہے حکومت پاکستان آزاد خطے کو وسائل فراہم کرے تاکہ ا س کو ایک ماڈل خطہ بنایا جائے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوںنے جما عت اسلامی ہٹیاں بالا(آزاد کشمیر)کے زیر اہتمام یوم سیاہ کے موقع پر خطا ب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر،امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی،پیپلزپارٹی کے لطیف اکبر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ 27اکتوبر یوم سیاہ ہی نہیں یوم جبر بھی ہے یوم ظلم بھی ہے،اس دن ہندوستان نے سو ا کروڑ انسانوں کے بنیادی حق کو غصب کرنے کے لیے فوج کشی کی ،انھوںنے کہاکہ 1947میں بے سروسامانی کی حالت میں کشمیریوںنے جنگ لڑی آج کشمیری نوجوان پرعزم ہے اور طاقت ور بھی ہے اب آزادی کی منزل کو کوئی روک نہیں سکتا،مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث ہندوستان کے اندر عیسائی ،سکھ ،مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں ایک ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ اگر مودی نے یہ کاروائی جاری رکھی تو ہندوستان کے اندر ایک اور پاکستان بنے گا،بھارت کشمیرمیں جو مظالم ڈھاتا ہے ہماری ماﺅں اور بہنوں کی فریاد سنتا ہوں تو مجھے اپنی ماں اور بہن یاد آتی ہے میں وہ دکھ محسوس کرتا ہوں جو اپنی ماں کے لیے اور اپنی بہن کے لیے محسوس کرتا ہوں۔میں نے پوری کشمیری قیادت کو جمع کیا اور ان سے کہاکہ آپ اپنے ذاتی اور پارٹی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کشمیرکی آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر ایک ہوں،میں حکومت پاکستان سے بھی کہتا ہوں او ر میں نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ان سے کہاکہ وہ آل پارٹیز کانفرنس بلوائیں اور اس میں طے کریں کہ کشمیرکی آزادی کے لیے ہم ایک ہیں ،متحد ہیں اوریکجا ہیں،مقبوضہ کشمیرکے اندر سید علی گیلانی کی قیادت میں حریت کا متحد ہونا خوش آئند ہے،کشمیرکے اس طرف بھی اتحاد اور اس طرف سے اتحاد ہوگا تو ہم بڑی طاقت ہوںگے،ہمیں کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی،انھوںنے کہاکہ حکومت پاکستان ہندوستان کے ساتھ آلو پیاز کی تجارت نہ کرے صرف کشمیر پربات کرے یہ شہداءکے خون کا تقاضاہے،اتحاد ہی ہماری طاقت ہے،ہم امن چاہتے ہیں مگر ہندوستان طاقت کے ذریعے امن کو تباہ کررہاہے،انھوںنے کہا کہ زلزلہ کے موقع پر اور سیلاب کے موقع پر کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں آج پاکستان میں پھر زلزلہ آیا ہے پوری قوم ان کی مدد کے لےے آگے آئے،عزم آزادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہاکہ کشمیری تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کی جدوجہد کررہے ہیں،آج کے منحوس دن ہندوستان نے کشمیرپر جبری قبضہ کیا تب سے آج تک یہ آزادی کی جدوجہد جاری ہے،آزادی کی اس جدوجہد میں قبائل نے ہماری مدد کی سراج الحق کے ضلع سے 2ہزار سے زائد شہداءہیں اسی طر ح باقی قبائل نے مدد کی ،سراج الحق نے قاضی حسین احمد کے چھوڑے ہوئے مشن کو جاری رکھا ہوا ہے پانچ فروری ہویا یوم سیاہ یا اور کوئی کشمیریوں پر مصیبت ہو سراج الحق ہمارے درمیاں ہوتے ہیں،انھوںنے کہاکہ آزادی اور نظام کی تبدیلی ہمارا مشن ہے یہ مشن کامیابی تک جاری رہے گا۔
Advertisements

مشتاق احمد خان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ہسپتالوں کے دورے،جماعت اسلامی کے وزراء اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمہ داران بھی ہمراہ تھے ۔ الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر نورالحق کو امدادی کاروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی۔

12183698_889808221088072_2766846074700824543_o copy

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ہسپتالوں کے دورے،جماعت اسلامی کے وزراء اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمہ داران بھی ہمراہ تھے ۔ الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر نورالحق کو امدادی کاروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی۔ ملک بھر میں شدید زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار ۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے اور ہسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی خیبرپختونخواکے امیر مشتاق احمد خان نے کہا کہ زلزلے ، بارشیں اور سیلاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتباہ ہیں۔ گناہوں کی کثرت اور ان پر معافی نہ مانگنا اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا باعث ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں پر معافی مانگیں اور استغفار کریں۔ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر نورالحق کو خیبر پختونخوا کے زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نے 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں بھی متاثرہ علاقوں میں اپنے رضا کر بھیجے اور زلزلے سے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچایا ۔ زخمیوں کو طبی امداد دی اور بے گھر ہونے والوں کو بھر بنا کر دئیے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس حالت میں جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن قوم کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور متاثرہ علاقوں اور افراد تک ہر ممکن امداد پہنچائے جائے گی۔

وزیر اعظم صاحب امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں ہماری خواہش تھی کہ وزیر اعظم اپنے ساتھ جہاز میں ڈاکٹر عافیہ کو ساتھ لاتے ، وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست دان مل بیٹھ کر عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے منصوبہ بندی کریں ،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

25 oct 2

لاہور25 اکتوبر 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کو تجویز دی تھی کہ امریکہ کے ساتھ داکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے دوٹوک الفاظ میں بات کریں کیونکہ اگر امریکہ دوپاکستانی شہریوں کو دن کی روشنی میں قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کراسکتا ہے تو پھر پاکستان کابھی حق ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرے لیکن اب معلوم ہوا ہے وزیر اعظم صاحب امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں ہماری خواہش تھی کہ وزیر اعظم اپنے ساتھ جہاز میں ڈاکٹر عافیہ کو ساتھ لاتے ، وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست دان مل بیٹھ کر عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے منصوبہ بندی کریں ،ملک کو چاروں طرف سے خطرات نے گھیر رکھا ہے بین الاقوامی سازش کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی جارہی ہے ،لاکھوں قبائل آئی ڈی پیز مسائل سے دوچار ہیں ،حکمران مغل بادشاہ بننے کا رویہ ترک کرکے سیاسی قیادت کے ساتھ مسائل کے حل پر توجہ دیں ،عوامی مفادات کی خاطر سیاستدانوں کا اکھٹاہونا کوئی جرم نہیں انتخابی سیاست انتخابات کے وقت کی جاتی ہے انتخابات کے بعد پھر عوامی مسائل حل کئے جاتے ہیں،حکومت کی جانب سے ملک و قوم کے مسائل کی طرف دوسال گذرنے کے بعد بھی توجہ نہ دینا سوالات جنم لے رہا ہے کہ حکومت مدت پوری کریگی یا نہیں ،ملک کو سودی نظام سے چھٹکارا دلانے کیلئے ۹۲اکتوبر کو قانون دان جمع کررہے ہیں کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سود کی لعنت سے عوام کو چھٹکارا دلادیں اس لعنتی نظام نے قوم کو قرضوں کے بوجھ تلے جکڑ رکھا ہے اور قوم کو طبقات میں تقسیم کررکھا ہے ۔ہم اس ملک کو ایک اسلامی وفلاحی مملکت بنانا چاہتے ہیں قوم آنے والے انتخابات میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیگی ،جمہوری عمل کے ذریعے ملک میں تبدیلی کیلئے عوام نوٹ بھی دیںگے اور ووٹ بھی ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان کلب میں جماعت اسلامی مردان کی جانب سے ڈونر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقعہ پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ،جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری شبیر احمد خان اور جماعت اسلامی مردان کے امیر ڈاکٹر عطاءالرحمن نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں عام آدمی خواہ وہ بلوچستان میں ہو یا قبائل میں مسائل سے دوچار ہے عام آدمی عدالت میں بھی انصاف کیلئے سرگرداں ہے ہم ملک میں اسلامی عدالتی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ عام آدمی کو فوری انصاف ملے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے کو نیا صوبہ بنایا جائے یا صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے کیونکہ ایک ملک میں ایک ہی شناختی کارڈ کے حامل شہری طبقاتی قوانین کے شکار ہیں اور قبائلی عوام اس وجہ سے احساس کمتری کے شکار ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں اس مقصد کیلئے ہم نے ۲نومبر کو اسلام آباد میں سیاسی قیادت کا جرگہ طلب کیا ہے جہاں پر ساری قیادت کے ساتھ مشاور ت کریں گے اور اس حوالے سے اپنی تجاویز دینگے ۔
دریں اثناءمیڈیا سے گفتگو میںایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ دینی جماعتوں کے اتحاد کا قائل ہوں تاہم یہ سوال اس وقت قبل از وقت ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عام آدمی کے مسائل کیلئے سیاسی قیادت مل بیٹھ کر متفقہ اور دیر پا لائحہ عمل طے کیا جائے انتخابی سیاست کا اپنا وقت ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ سیاست ہوش کا نام ہے انہوں نے کہا کہ امن اور ترقی کی لئے ہم نے ہروقت حکومت کا ساتھ دیا ہے عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے ہم حکومتی کاکردگی کے منتظر ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاص کارکردگی نظر نہیں آرہی ہے اور اب جو سب سے اہم مسئلہ ہے وہ لاکھوں آئی ڈی پیز کی اپنے علاقوں کو واپسی ہے لوگوں کو ڈس پلیس کرنا کوئی کام نہیں لوگوں کو چھت فراہم کرنا بہت بڑا کام ہے ہم نے آئی ڈی پیز کی واپسی کے بارے میں بارہا مطالبات اور جرگے کئے لیکن آئی ڈی پیز تاحال بدحال اور کیمپوں میں پڑے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی ڈی پیز کے اپنے علاقوں کو باعزت واپسی کیلئے فی الفور اور مﺅثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ وہ شروع ہونے والے موسم سرما میں اپنے گھروں میں رہ سکیں اور کیمپوں کی ازیت ناک زندگی سے بچ سکیں ۔انہوں نے کہا کہ دیر پا امن کیلئے متاثرین کی اپنے علاقوں کو واپسی ضروری ہے اگر یہ نقل مکانی کا عرصہ طویل ہوجاتا ہے تو پھر نئے معاشرتی اور معاشی مسائل جنم لینگے۔

منتخب بلدیاتی نمائندے عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لئے دیرپا اور مؤثر حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔ نوجوان 2018ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی کا بھر پور ساتھ دے کر ملک و قوم کو مٹھی بھر اشرافیہ سے نجات دلائیں۔ سراج الحق ملک و قوم کے لئے امید کی کرن ہیں۔امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان

0000

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندے عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لئے دیرپا اور مؤثر حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔ نوجوان 2018ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی کا بھر پور ساتھ دے کر ملک و قوم کو مٹھی بھر اشرافیہ سے نجات دلائیں۔ سراج الحق ملک و قوم کے لئے امید کی کرن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی میں 2018ء کے قوم انتخابات کے حوالے سے منعقدہ دوروزہ صوبائی سیمینار کے دوسرے روز مختلف اضلاع کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سابق امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان،نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں اسلم سمیت جماعت صوبائی رہنماؤں نے شرکت کی۔ جبکہ امرائے اضلاع ضلعی ناظمین نائب ناظمین اور منتخب کونسلرزنے الیکشن 2018ء کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کے لئے تجاویز دیں۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں عادلانہ اور منصفانہ نظام لانے اور مٹھی بھر اشرافیہ سے قوم کو نجات دلانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔جماعت اسلامی جمہوری عمل کے ذریعے اس ملک میں عدل و انصاف کا قیام چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اب ملک کو کرپٹ اشرافیہ سے نجات دلانے کا وقت آگیا ہے۔ہم بجلی لوڈشیڈنگ،مہنگائی بے روزگاری،بد امنی اور لاقانونیت کے ذمہ دار حکمرانوں انجمن غلامان امریکہ سے نجات دلائنگے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان تحریک کا آغاز کررکھا ہے۔ سراج الحق کے عوامی ایجنڈے کو عوام کی جانب سے بھر پور پذیرائی مل رہی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عوام اب اپنی اصل قیادت کو پہچان رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جماعت اسلامی ملک کی ایک مضبوط سیاسی قوت بن چکی ہے اور 2018ء کے انتخابات میں انشاء اللہ جماعت اسلامی بھر پور کامیابی حاصل کرے گی۔

ملک کوکرپشن کے ناسور سے نجات دلانے کے لئے بلا امتیاز سب کا احتساب ہونا چاہئے۔ غریب تہی دست ہونے کے باوجود ملک سے محبت کرتے اور ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں جبکہ سرمایہ دار اور مراعات یافتہ طبقہ قومی دولت کو شیر مادر سمجھ کر لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ جن کی وجہ سے ملک اقتصادی اور سماجی طور پر کھوکھلا ہوتا جارہا ہے۔ اچھی طرز حکمرانی کو فروغ دینے اور عام لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں آئین پاکستان اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ءکے مطابق تمام تر سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات بلا تاخیر ملنے چاہئیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج

06

لاہور 23اکتوبر 2015
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کوکرپشن کے ناسور سے نجات دلانے کے لئے بلا امتیاز سب کا احتساب ہونا چاہئے۔ غریب تہی دست ہونے کے باوجود ملک سے محبت کرتے اور ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں جبکہ سرمایہ دار اور مراعات یافتہ طبقہ قومی دولت کو شیر مادر سمجھ کر لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ جن کی وجہ سے ملک اقتصادی اور سماجی طور پر کھوکھلا ہوتا جارہا ہے۔ اچھی طرز حکمرانی کو فروغ دینے اور عام لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں آئین پاکستان اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ءکے مطابق تمام تر سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات بلا تاخیر ملنے چاہئیں۔ خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے لئے رولز آف بزنس جلد از جلد جاری کئے جائیں۔ مرکزی حکوت اور چاروں صوبائی حکومتوں کے پاس عوام کو ریلیف دینے اور انہیں مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے صرف 800دن باقی رہ گئے ہیں۔ بری طرز حکمرانی، توانائی کا بحران اور خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی بے روزگاری بڑے قومی مسائل ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے دورہ امریکہ میں پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے پرزور آواز اٹھانی چاہئے۔ جماعت اسلامی ہی ملک کو اہل اور دیانتدار قیادت فراہم کرسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی حکومت میں شامل وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، منتخب ضلعی ، تحصیل اور ویلج ناظمین، ڈسٹرکٹ ، ٹاو ¿ن ، گاو ¿ں و محلہ کونسلرز عوامی مسائل کے حل کے لئے کمر بستہ ہوجائیں۔ جماعت اسلامی ملک میں بہت جلد ایک مضبوط اور مو ¿ثر سیاسی قوت کے طور پر سامنے آجائے گی۔ مستقبل کی قومی سیاست میں نوجوان اور خواتین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز المرکز الاسلامی میں ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے ضلعی و تحصیل رہنماو ¿ں کے لئے منعقدہ تربیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم، جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نومنتخب امیر مشتاق احمد ، سابق صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان، انچارج سیاسی کمیٹی ڈاکٹر محمد اقبال خلیل ، سیکرٹری سیاسی کمیٹی بحراللہ خان ،صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ، سینیئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اور وزیر مذہبی امور حاجی حبیب الرحمن بھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نوجوان اس ملک کی بہت بڑی قوت اور سرمایہ ہیں لیکن بے روزگاری کا عفریت انہیں نگلے جارہا ہے ۔ نوجوان ڈگریاں لئے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن ان کے لئے روزگار کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لئے معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے ، بند صنعتی یونٹو ں کو چالو کرنے اور نئی صنعتوں کے قیام کے علاوہ زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان انتہائی محنتی اور ذہین ہیں اور انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے جوہر قابل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس ملک کو موجودہ معاشی ، سیاسی اور معاشرتی مسائل سے نکال کر اسے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے ٹھوس منصوبہ موجود ہے اور جماعت اسلامی ہی وہ واحد سیاسی قوت ہے جو ملک کو کرپشن سے پاک پُر عزم اور اہل قیادت دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ملک کے ہر حصے میں عوام بالخصوص معاشرے کے پسے ہوئے طبقات جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے جمع ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عزم کرلیا ہے کہ وہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو ان کی گردنوں پر مسلط کرپٹ اور ابن الوقت اشرافیہ سے نجات دلاکر دم لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل پر ہر فرد کا حق ہے اور اب یہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جاسکتی کہ غریب کے لئے تو دو وقت کی روٹی کا حصول ممکن نہ ہو جبکہ مٹھی بھر مراعات یافتہ طبقہ ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک میں تبدیلی اور انقلاب کے لئے آئینی ، جمہوری اور پُرامن ذرائع کے استعمال کی راہ اپنائی ہے اور دنیا میں ہونے والے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہی درست اور صحیح راستہ ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ گاو ¿ں اور محلے کی سطح تک جماعت اسلامی کی تنظیم قائم کریں اور نوجوانوں اور خواتین کو جماعت اسلامی میں شامل کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوںپر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نیک اور دیانتدار لوگوں کے لئے جماعت اسلامی کے دروازے کھلے ہیں۔ 

ملک میں ظالمانہ اور استحصالی نظام کو تقویت دینے والوں کے خلاف قوم کو پرامن جدوجہد کے لیے اٹھناچاہیے ۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ لادنے والے اور کرپشن کے محل تعمیر کرنے والے کسی کے خیر خواہ نہیں ۔ سینیٹر سراج الحق

pic ji metting (2)

لاہور22اکتوبر2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں ظالمانہ اور استحصالی نظام کو تقویت دینے والوں کے خلاف قوم کو پرامن جدوجہد کے لیے اٹھناچاہیے ۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ لادنے والے اور کرپشن کے محل تعمیر کرنے والے کسی کے خیر خواہ نہیں ۔ سٹیٹس کو ،کی قوتیں عوام کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں ۔ آئین ، عدلیہ اور احتساب کے اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نوجوان پرامن جدوجہد کے ذریعے گلے سڑے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے یوتھ ونگ کی کور کمیٹی اور مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صدر یوتھ ونگ زبیر گوندل بھی موجود تھے ۔ 
سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے الیکشن میں دیے گئے منشور اور عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا ۔ غربت ، مہنگائی ،بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے تمام حکومتی دعوے نقش بر آب ثابت ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس نوجوانوں کے لیے کوئی پالیسی نہیں ۔ڈگری ہولڈرز نوجوانوں کا جم غفیر مایوسی اور بے بسی کا شکار ہو کر مارا مارا پھر رہاہے ۔ حکومت کے پاس ان کے لیے کوئی روزگار نہیں ۔ محنت کشوں اور مزدوروں کو ان کی محنت کا صلہ نہیں مل رہا۔ کسانوں کی محنت کا پھل جاگیردار اور وڈیرے ، جبکہ محنت کشوں کی محنت کا پھل ظالم سرمایہ دار کھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ چڑھ گیاہے ۔ ملک میں جاری استحصالی، تعلیمی ،معاشی اور سیاسی نظام کے خلاف نوجوانوں کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سب سے زیادہ یوتھ جماعت اسلامی کے ساتھ ہے ۔ ظالم ، جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور وڈیروں کا ظلم و جبر ختم کرنے کے لیے نوجوانوں کو ایک بڑی تحریک کے لیے اٹھ کھڑے ہوناچاہیے ۔ جب تک نوجوان اس ظالمانہ نظام کے خلاف نہیں اٹھیں گے ، عام آدمی ظلم کی اس چکی میںپستا رہے گا ۔