پاکستان اور آزاد کشمیرکے حکمران اور عوام مل کر 2016ءکو آزادیءکشمیرکا سال منائیں،سراج الحق

01

لاہور 27اکتوبر2015 ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیرکے حکمران اور عوام مل کر 2016ءکو کشمیرکی آزادی کا سال منائیں،کشمیرکی آزادی کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا،بھارت 8لاکھ فوج کے ذریعے کشمیریوںکو غلام نہیں رکھ سکتا،میری زندگی کی آخری سانس اور خون کا آخری قطرہ کشمیرکی آزادی کے لیے ہے حکومت پاکستان آزاد خطے کو وسائل فراہم کرے تاکہ ا س کو ایک ماڈل خطہ بنایا جائے ۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انھوںنے جما عت اسلامی ہٹیاں بالا(آزاد کشمیر)کے زیر اہتمام یوم سیاہ کے موقع پر خطا ب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر مسلم لیگ ن کے صدر راجہ فاروق حیدر،امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی،پیپلزپارٹی کے لطیف اکبر اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔
سینیٹر سراج الحق نے اپنے خطاب میں کہاکہ 27اکتوبر یوم سیاہ ہی نہیں یوم جبر بھی ہے یوم ظلم بھی ہے،اس دن ہندوستان نے سو ا کروڑ انسانوں کے بنیادی حق کو غصب کرنے کے لیے فوج کشی کی ،انھوںنے کہاکہ 1947میں بے سروسامانی کی حالت میں کشمیریوںنے جنگ لڑی آج کشمیری نوجوان پرعزم ہے اور طاقت ور بھی ہے اب آزادی کی منزل کو کوئی روک نہیں سکتا،مودی کی انتہا پسندانہ پالیسیوں کے باعث ہندوستان کے اندر عیسائی ،سکھ ،مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں ایک ممبر پارلیمنٹ نے کہاکہ اگر مودی نے یہ کاروائی جاری رکھی تو ہندوستان کے اندر ایک اور پاکستان بنے گا،بھارت کشمیرمیں جو مظالم ڈھاتا ہے ہماری ماﺅں اور بہنوں کی فریاد سنتا ہوں تو مجھے اپنی ماں اور بہن یاد آتی ہے میں وہ دکھ محسوس کرتا ہوں جو اپنی ماں کے لیے اور اپنی بہن کے لیے محسوس کرتا ہوں۔میں نے پوری کشمیری قیادت کو جمع کیا اور ان سے کہاکہ آپ اپنے ذاتی اور پارٹی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر کشمیرکی آزادی کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر ایک ہوں،میں حکومت پاکستان سے بھی کہتا ہوں او ر میں نے مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ان سے کہاکہ وہ آل پارٹیز کانفرنس بلوائیں اور اس میں طے کریں کہ کشمیرکی آزادی کے لیے ہم ایک ہیں ،متحد ہیں اوریکجا ہیں،مقبوضہ کشمیرکے اندر سید علی گیلانی کی قیادت میں حریت کا متحد ہونا خوش آئند ہے،کشمیرکے اس طرف بھی اتحاد اور اس طرف سے اتحاد ہوگا تو ہم بڑی طاقت ہوںگے،ہمیں کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی،انھوںنے کہاکہ حکومت پاکستان ہندوستان کے ساتھ آلو پیاز کی تجارت نہ کرے صرف کشمیر پربات کرے یہ شہداءکے خون کا تقاضاہے،اتحاد ہی ہماری طاقت ہے،ہم امن چاہتے ہیں مگر ہندوستان طاقت کے ذریعے امن کو تباہ کررہاہے،انھوںنے کہا کہ زلزلہ کے موقع پر اور سیلاب کے موقع پر کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں آج پاکستان میں پھر زلزلہ آیا ہے پوری قوم ان کی مدد کے لےے آگے آئے،عزم آزادی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہاکہ کشمیری تقسیم برصغیر کے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کی جدوجہد کررہے ہیں،آج کے منحوس دن ہندوستان نے کشمیرپر جبری قبضہ کیا تب سے آج تک یہ آزادی کی جدوجہد جاری ہے،آزادی کی اس جدوجہد میں قبائل نے ہماری مدد کی سراج الحق کے ضلع سے 2ہزار سے زائد شہداءہیں اسی طر ح باقی قبائل نے مدد کی ،سراج الحق نے قاضی حسین احمد کے چھوڑے ہوئے مشن کو جاری رکھا ہوا ہے پانچ فروری ہویا یوم سیاہ یا اور کوئی کشمیریوں پر مصیبت ہو سراج الحق ہمارے درمیاں ہوتے ہیں،انھوںنے کہاکہ آزادی اور نظام کی تبدیلی ہمارا مشن ہے یہ مشن کامیابی تک جاری رہے گا۔
Advertisements

مشتاق احمد خان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ہسپتالوں کے دورے،جماعت اسلامی کے وزراء اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمہ داران بھی ہمراہ تھے ۔ الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر نورالحق کو امدادی کاروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی۔

12183698_889808221088072_2766846074700824543_o copy

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان کے زلزلے سے متاثرہ علاقوں اور ہسپتالوں کے دورے،جماعت اسلامی کے وزراء اور الخدمت فاؤنڈیشن کے ذمہ داران بھی ہمراہ تھے ۔ الخدمت فاؤنڈیشن خیبر پختونخوا کے صدر نورالحق کو امدادی کاروائیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی۔ ملک بھر میں شدید زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر رنج وغم اور افسوس کا اظہار ۔ زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے دورے اور ہسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی خیبرپختونخواکے امیر مشتاق احمد خان نے کہا کہ زلزلے ، بارشیں اور سیلاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انتباہ ہیں۔ گناہوں کی کثرت اور ان پر معافی نہ مانگنا اللہ کے غضب کو دعوت دینے کا باعث ہے۔ لوگ اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہوں پر معافی مانگیں اور استغفار کریں۔ زلزلے کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر دکھ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الخدمت فاؤنڈیشن کے صوبائی صدر نورالحق کو خیبر پختونخوا کے زلزلے سے شدید متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر امدادی سرگرمیاں شروع کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن نے 8اکتوبر 2005ء کے زلزلے میں بھی متاثرہ علاقوں میں اپنے رضا کر بھیجے اور زلزلے سے متاثرہ افراد تک امدادی سامان پہنچایا ۔ زخمیوں کو طبی امداد دی اور بے گھر ہونے والوں کو بھر بنا کر دئیے۔ انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس حالت میں جماعت اسلامی اور الخدمت فاؤنڈیشن قوم کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور متاثرہ علاقوں اور افراد تک ہر ممکن امداد پہنچائے جائے گی۔

وزیر اعظم صاحب امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں ہماری خواہش تھی کہ وزیر اعظم اپنے ساتھ جہاز میں ڈاکٹر عافیہ کو ساتھ لاتے ، وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست دان مل بیٹھ کر عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے منصوبہ بندی کریں ،امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق

25 oct 2

لاہور25 اکتوبر 2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہم نے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کو تجویز دی تھی کہ امریکہ کے ساتھ داکٹر عافیہ کی رہائی کیلئے دوٹوک الفاظ میں بات کریں کیونکہ اگر امریکہ دوپاکستانی شہریوں کو دن کی روشنی میں قتل کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کراسکتا ہے تو پھر پاکستان کابھی حق ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کرے لیکن اب معلوم ہوا ہے وزیر اعظم صاحب امریکہ سے خالی ہاتھ واپس لوٹ رہے ہیں ہماری خواہش تھی کہ وزیر اعظم اپنے ساتھ جہاز میں ڈاکٹر عافیہ کو ساتھ لاتے ، وقت کا تقاضا ہے کہ سیاست دان مل بیٹھ کر عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے منصوبہ بندی کریں ،ملک کو چاروں طرف سے خطرات نے گھیر رکھا ہے بین الاقوامی سازش کے ذریعے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دی جارہی ہے ،لاکھوں قبائل آئی ڈی پیز مسائل سے دوچار ہیں ،حکمران مغل بادشاہ بننے کا رویہ ترک کرکے سیاسی قیادت کے ساتھ مسائل کے حل پر توجہ دیں ،عوامی مفادات کی خاطر سیاستدانوں کا اکھٹاہونا کوئی جرم نہیں انتخابی سیاست انتخابات کے وقت کی جاتی ہے انتخابات کے بعد پھر عوامی مسائل حل کئے جاتے ہیں،حکومت کی جانب سے ملک و قوم کے مسائل کی طرف دوسال گذرنے کے بعد بھی توجہ نہ دینا سوالات جنم لے رہا ہے کہ حکومت مدت پوری کریگی یا نہیں ،ملک کو سودی نظام سے چھٹکارا دلانے کیلئے ۹۲اکتوبر کو قانون دان جمع کررہے ہیں کہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سود کی لعنت سے عوام کو چھٹکارا دلادیں اس لعنتی نظام نے قوم کو قرضوں کے بوجھ تلے جکڑ رکھا ہے اور قوم کو طبقات میں تقسیم کررکھا ہے ۔ہم اس ملک کو ایک اسلامی وفلاحی مملکت بنانا چاہتے ہیں قوم آنے والے انتخابات میں جماعت اسلامی کا ساتھ دیگی ،جمہوری عمل کے ذریعے ملک میں تبدیلی کیلئے عوام نوٹ بھی دیںگے اور ووٹ بھی ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے پریس ریلیز کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے مردان کلب میں جماعت اسلامی مردان کی جانب سے ڈونر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقعہ پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ،جماعت اسلامی خیبرپختونخوا کے جنرل سیکرٹری شبیر احمد خان اور جماعت اسلامی مردان کے امیر ڈاکٹر عطاءالرحمن نے بھی خطاب کیا ۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ملک میں عام آدمی خواہ وہ بلوچستان میں ہو یا قبائل میں مسائل سے دوچار ہے عام آدمی عدالت میں بھی انصاف کیلئے سرگرداں ہے ہم ملک میں اسلامی عدالتی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں تاکہ عام آدمی کو فوری انصاف ملے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقے کو نیا صوبہ بنایا جائے یا صوبہ خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے کیونکہ ایک ملک میں ایک ہی شناختی کارڈ کے حامل شہری طبقاتی قوانین کے شکار ہیں اور قبائلی عوام اس وجہ سے احساس کمتری کے شکار ہیں ہم چاہتے ہیں کہ ہر شہری کو برابر کے حقوق حاصل ہوں اس مقصد کیلئے ہم نے ۲نومبر کو اسلام آباد میں سیاسی قیادت کا جرگہ طلب کیا ہے جہاں پر ساری قیادت کے ساتھ مشاور ت کریں گے اور اس حوالے سے اپنی تجاویز دینگے ۔
دریں اثناءمیڈیا سے گفتگو میںایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ دینی جماعتوں کے اتحاد کا قائل ہوں تاہم یہ سوال اس وقت قبل از وقت ہے اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عام آدمی کے مسائل کیلئے سیاسی قیادت مل بیٹھ کر متفقہ اور دیر پا لائحہ عمل طے کیا جائے انتخابی سیاست کا اپنا وقت ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ سیاست ہوش کا نام ہے انہوں نے کہا کہ امن اور ترقی کی لئے ہم نے ہروقت حکومت کا ساتھ دیا ہے عام آدمی کے مسائل کے حل کیلئے ہم حکومتی کاکردگی کے منتظر ہیں لیکن ابھی تک کوئی خاص کارکردگی نظر نہیں آرہی ہے اور اب جو سب سے اہم مسئلہ ہے وہ لاکھوں آئی ڈی پیز کی اپنے علاقوں کو واپسی ہے لوگوں کو ڈس پلیس کرنا کوئی کام نہیں لوگوں کو چھت فراہم کرنا بہت بڑا کام ہے ہم نے آئی ڈی پیز کی واپسی کے بارے میں بارہا مطالبات اور جرگے کئے لیکن آئی ڈی پیز تاحال بدحال اور کیمپوں میں پڑے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم اب بھی پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ آئی ڈی پیز کے اپنے علاقوں کو باعزت واپسی کیلئے فی الفور اور مﺅثر اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ وہ شروع ہونے والے موسم سرما میں اپنے گھروں میں رہ سکیں اور کیمپوں کی ازیت ناک زندگی سے بچ سکیں ۔انہوں نے کہا کہ دیر پا امن کیلئے متاثرین کی اپنے علاقوں کو واپسی ضروری ہے اگر یہ نقل مکانی کا عرصہ طویل ہوجاتا ہے تو پھر نئے معاشرتی اور معاشی مسائل جنم لینگے۔

منتخب بلدیاتی نمائندے عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لئے دیرپا اور مؤثر حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔ نوجوان 2018ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی کا بھر پور ساتھ دے کر ملک و قوم کو مٹھی بھر اشرافیہ سے نجات دلائیں۔ سراج الحق ملک و قوم کے لئے امید کی کرن ہیں۔امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان

0000

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ منتخب بلدیاتی نمائندے عوام کی خدمت اور مسائل کے حل کے لئے دیرپا اور مؤثر حکمت عملی بنانے پر توجہ دیں۔ نوجوان 2018ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی کا بھر پور ساتھ دے کر ملک و قوم کو مٹھی بھر اشرافیہ سے نجات دلائیں۔ سراج الحق ملک و قوم کے لئے امید کی کرن ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکزالاسلامی میں 2018ء کے قوم انتخابات کے حوالے سے منعقدہ دوروزہ صوبائی سیمینار کے دوسرے روز مختلف اضلاع کے ذمہ داران سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیمینار میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سابق امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان،نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں اسلم سمیت جماعت صوبائی رہنماؤں نے شرکت کی۔ جبکہ امرائے اضلاع ضلعی ناظمین نائب ناظمین اور منتخب کونسلرزنے الیکشن 2018ء کے حوالے سے لائحہ عمل طے کرنے کے لئے تجاویز دیں۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا کہ جماعت اسلامی ملک میں عادلانہ اور منصفانہ نظام لانے اور مٹھی بھر اشرافیہ سے قوم کو نجات دلانے کے لئے سرگرم عمل ہے۔جماعت اسلامی جمہوری عمل کے ذریعے اس ملک میں عدل و انصاف کا قیام چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک مزید تجربات کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اب ملک کو کرپٹ اشرافیہ سے نجات دلانے کا وقت آگیا ہے۔ہم بجلی لوڈشیڈنگ،مہنگائی بے روزگاری،بد امنی اور لاقانونیت کے ذمہ دار حکمرانوں انجمن غلامان امریکہ سے نجات دلائنگے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان تحریک کا آغاز کررکھا ہے۔ سراج الحق کے عوامی ایجنڈے کو عوام کی جانب سے بھر پور پذیرائی مل رہی ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ عوام اب اپنی اصل قیادت کو پہچان رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جماعت اسلامی ملک کی ایک مضبوط سیاسی قوت بن چکی ہے اور 2018ء کے انتخابات میں انشاء اللہ جماعت اسلامی بھر پور کامیابی حاصل کرے گی۔

ملک کوکرپشن کے ناسور سے نجات دلانے کے لئے بلا امتیاز سب کا احتساب ہونا چاہئے۔ غریب تہی دست ہونے کے باوجود ملک سے محبت کرتے اور ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں جبکہ سرمایہ دار اور مراعات یافتہ طبقہ قومی دولت کو شیر مادر سمجھ کر لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ جن کی وجہ سے ملک اقتصادی اور سماجی طور پر کھوکھلا ہوتا جارہا ہے۔ اچھی طرز حکمرانی کو فروغ دینے اور عام لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں آئین پاکستان اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ءکے مطابق تمام تر سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات بلا تاخیر ملنے چاہئیں۔امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج

06

لاہور 23اکتوبر 2015
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کوکرپشن کے ناسور سے نجات دلانے کے لئے بلا امتیاز سب کا احتساب ہونا چاہئے۔ غریب تہی دست ہونے کے باوجود ملک سے محبت کرتے اور ہر قربانی کے لئے تیار رہتے ہیں جبکہ سرمایہ دار اور مراعات یافتہ طبقہ قومی دولت کو شیر مادر سمجھ کر لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ جن کی وجہ سے ملک اقتصادی اور سماجی طور پر کھوکھلا ہوتا جارہا ہے۔ اچھی طرز حکمرانی کو فروغ دینے اور عام لوگوں کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لئے مقامی حکومتوں کو زیادہ سے زیادہ مضبوط اور مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں آئین پاکستان اور لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ءکے مطابق تمام تر سیاسی ، انتظامی اور مالی اختیارات بلا تاخیر ملنے چاہئیں۔ خیبر پختونخوا میں مقامی حکومتوں کے لئے رولز آف بزنس جلد از جلد جاری کئے جائیں۔ مرکزی حکوت اور چاروں صوبائی حکومتوں کے پاس عوام کو ریلیف دینے اور انہیں مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لئے صرف 800دن باقی رہ گئے ہیں۔ بری طرز حکمرانی، توانائی کا بحران اور خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی بے روزگاری بڑے قومی مسائل ہیں۔ وزیر اعظم نواز شریف کو اپنے دورہ امریکہ میں پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لئے پرزور آواز اٹھانی چاہئے۔ جماعت اسلامی ہی ملک کو اہل اور دیانتدار قیادت فراہم کرسکتی ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی حکومت میں شامل وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، منتخب ضلعی ، تحصیل اور ویلج ناظمین، ڈسٹرکٹ ، ٹاو ¿ن ، گاو ¿ں و محلہ کونسلرز عوامی مسائل کے حل کے لئے کمر بستہ ہوجائیں۔ جماعت اسلامی ملک میں بہت جلد ایک مضبوط اور مو ¿ثر سیاسی قوت کے طور پر سامنے آجائے گی۔ مستقبل کی قومی سیاست میں نوجوان اور خواتین کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہوگا۔ جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز المرکز الاسلامی میں ملاکنڈ ڈویژن سے تعلق رکھنے والے جماعت اسلامی کے ضلعی و تحصیل رہنماو ¿ں کے لئے منعقدہ تربیتی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر میاں محمد اسلم، جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے نومنتخب امیر مشتاق احمد ، سابق صوبائی امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان، انچارج سیاسی کمیٹی ڈاکٹر محمد اقبال خلیل ، سیکرٹری سیاسی کمیٹی بحراللہ خان ،صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈووکیٹ، سینیئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اور وزیر مذہبی امور حاجی حبیب الرحمن بھی موجود تھے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ نوجوان اس ملک کی بہت بڑی قوت اور سرمایہ ہیں لیکن بے روزگاری کا عفریت انہیں نگلے جارہا ہے ۔ نوجوان ڈگریاں لئے مارے مارے پھر رہے ہیں لیکن ان کے لئے روزگار کا مناسب انتظام نہیں ہے۔ روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لئے معاشی سرگرمیوں میں تیزی لانے ، بند صنعتی یونٹو ں کو چالو کرنے اور نئی صنعتوں کے قیام کے علاوہ زراعت کے شعبے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے نوجوان انتہائی محنتی اور ذہین ہیں اور انہیں جب بھی موقع ملتا ہے وہ اپنے جوہر قابل کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس ملک کو موجودہ معاشی ، سیاسی اور معاشرتی مسائل سے نکال کر اسے ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے ٹھوس منصوبہ موجود ہے اور جماعت اسلامی ہی وہ واحد سیاسی قوت ہے جو ملک کو کرپشن سے پاک پُر عزم اور اہل قیادت دے سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ملک کے ہر حصے میں عوام بالخصوص معاشرے کے پسے ہوئے طبقات جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے جمع ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عزم کرلیا ہے کہ وہ ملک کے کروڑوں غریب عوام کو ان کی گردنوں پر مسلط کرپٹ اور ابن الوقت اشرافیہ سے نجات دلاکر دم لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے وسائل پر ہر فرد کا حق ہے اور اب یہ صورتحال مزید برداشت نہیں کی جاسکتی کہ غریب کے لئے تو دو وقت کی روٹی کا حصول ممکن نہ ہو جبکہ مٹھی بھر مراعات یافتہ طبقہ ملک کی دولت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ملک میں تبدیلی اور انقلاب کے لئے آئینی ، جمہوری اور پُرامن ذرائع کے استعمال کی راہ اپنائی ہے اور دنیا میں ہونے والے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہی درست اور صحیح راستہ ہے۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ گاو ¿ں اور محلے کی سطح تک جماعت اسلامی کی تنظیم قائم کریں اور نوجوانوں اور خواتین کو جماعت اسلامی میں شامل کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوںپر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نیک اور دیانتدار لوگوں کے لئے جماعت اسلامی کے دروازے کھلے ہیں۔ 

ملک میں ظالمانہ اور استحصالی نظام کو تقویت دینے والوں کے خلاف قوم کو پرامن جدوجہد کے لیے اٹھناچاہیے ۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ لادنے والے اور کرپشن کے محل تعمیر کرنے والے کسی کے خیر خواہ نہیں ۔ سینیٹر سراج الحق

pic ji metting (2)

لاہور22اکتوبر2015ء
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں ظالمانہ اور استحصالی نظام کو تقویت دینے والوں کے خلاف قوم کو پرامن جدوجہد کے لیے اٹھناچاہیے ۔ ملک پر قرضوں کا بوجھ لادنے والے اور کرپشن کے محل تعمیر کرنے والے کسی کے خیر خواہ نہیں ۔ سٹیٹس کو ،کی قوتیں عوام کے خلاف اکٹھی ہو گئی ہیں ۔ آئین ، عدلیہ اور احتساب کے اداروں کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نوجوان پرامن جدوجہد کے ذریعے گلے سڑے نظام کو تبدیل کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے جماعت اسلامی کے یوتھ ونگ کی کور کمیٹی اور مرکزی ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر صدر یوتھ ونگ زبیر گوندل بھی موجود تھے ۔ 
سراج الحق نے کہاکہ حکومت نے الیکشن میں دیے گئے منشور اور عوام سے کیے گئے وعدوں پر عمل نہیں کیا ۔ غربت ، مہنگائی ،بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے تمام حکومتی دعوے نقش بر آب ثابت ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے پاس نوجوانوں کے لیے کوئی پالیسی نہیں ۔ڈگری ہولڈرز نوجوانوں کا جم غفیر مایوسی اور بے بسی کا شکار ہو کر مارا مارا پھر رہاہے ۔ حکومت کے پاس ان کے لیے کوئی روزگار نہیں ۔ محنت کشوں اور مزدوروں کو ان کی محنت کا صلہ نہیں مل رہا۔ کسانوں کی محنت کا پھل جاگیردار اور وڈیرے ، جبکہ محنت کشوں کی محنت کا پھل ظالم سرمایہ دار کھا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ملک پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ چڑھ گیاہے ۔ ملک میں جاری استحصالی، تعلیمی ،معاشی اور سیاسی نظام کے خلاف نوجوانوں کو منظم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک کی سب سے زیادہ یوتھ جماعت اسلامی کے ساتھ ہے ۔ ظالم ، جاگیرداروں ، سرمایہ داروں اور وڈیروں کا ظلم و جبر ختم کرنے کے لیے نوجوانوں کو ایک بڑی تحریک کے لیے اٹھ کھڑے ہوناچاہیے ۔ جب تک نوجوان اس ظالمانہ نظام کے خلاف نہیں اٹھیں گے ، عام آدمی ظلم کی اس چکی میںپستا رہے گا ۔ 

الیکشن کمیشن انتخابات میں دولت کے استعمال کو روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ حکمران جماعت انتخابی اصلاحات کے راستے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ ملک پر اشرافیہ کے نام پر بدمعاشیہ قابض ہے۔ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت صرف جماعت اسلامی کے پاس ہے۔اسلامی نظام اور دین کے غلبے کا واحد راستہ انتخابات کا راستہ ہے۔ اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان ہمارا ویژن ہے۔ امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان

Mushtaq sb

امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن انتخابات میں دولت کے استعمال کو روکنے میں ناکام ہوچکا ہے۔ حکمران جماعت انتخابی اصلاحات کے راستے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ ملک پر اشرافیہ کے نام پر بدمعاشیہ قابض ہے۔ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی صلاحیت صرف جماعت اسلامی کے پاس ہے۔اسلامی نظام اور دین کے غلبے کا واحد راستہ انتخابات کا راستہ ہے۔ اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان ہمارا ویژن ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے المرکز الاسلامی پشاور میں 2018ء کے قومی انتخابات کی تیاریوں کے حوالے سے منعقدہ دوروزہ سیمینار کے پہلے روز اپنے خطاب میں کیا۔ سیمینار میں جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے سابق امیر پروفیسر محمد ابراہیم خان، سیکرٹری جنرل شبیر احمد خان، نائب امراء ڈاکٹر محمد اقبال خلیل، معراج الدین خان ایڈووکیٹ ، حکیم عبدالوحید، ڈپٹی سیکرٹری جنرل عبدالواسع اور سیاسی کمیٹی کے سیکرٹری بحر اللہ خان سمیت کرک بنوں ڈیرہ اسماعیل خان اور ہنگو کے امراء اور سیاسی کمیٹیوں کے سربراہان بھی موجود تھے۔ نومنتخب امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتخابات میں پیسے اور دولت کا استعمال ناسور بن چکا ہے۔ الیکشن کمیشن انتخابات میں پیسے کے استعمال کو روکنے میں بری طرح ناکام ہے۔ انتخاب لڑنا اب غریب کے بس کی بات نہیں بلکہ یہ امیروں کا کھیل بن چکا ہے۔ انتخابی نظام میں اصلاحات کی سخت ضرورت ہے لیکن حکمران جماعت نہیں چاہتی کہ اس میں اصلاحات ہوں۔ حکمران جماعت انتخابی اصلاحات میں روڑے اٹکا رہی ہے اور وہ اس میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ انتخابی عمل کو شفاف بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پارٹیاں اور امیدواران دولت کے بل بوتے پر اور جعلی طریقوں سے انتخابی عمل کی شفافیت کو سبوتاژ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے بعد بلدیاتی نمائندے 2018ء کے انتخابات میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔ 2018ء کے انتخابات میں خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی بہترین حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترے گی ۔ بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی صوبے کی دوسری بڑی قوت بن کے ابھری ہے ۔ انشاء اللہ 2018ء کے قومی انتخابات میں کامیابی ھاصل کرکے صوبے کی نمبر ایک سیاسی جماعت بن کے دکھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک پر اشرافیہ کے نام پر بدمعاشیہ قابض ہے جن کا ایک نکاتی ایجنڈا لوٹ کھسوٹ کے سوا کچھ نہیں۔ جماعت اسلامی اس بدمعاشیہ سے قوم کو نجات دلائی گی۔2018ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی کے وژن اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کو حاصل کریں گے۔ انہوں نے ہر سطح کے نظم پر زور دیا کہ اس وژن کے حصول کے لئے دن رات ایک کردیں۔

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اب تک کی کارکردگی سے عوام النا س مطمئن نہیںہیں۔بڑے بڑے دعوں اور وعدوں کے ساتھ آنے والی حکومتوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔غربت،منگائی،بے روزگاری لوڈشیڈنگ سمیت حکومت کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال دھرنا دینے والی دو جماعتوں اور حکومت میں مصالحت اس لئے کروائی تھی کہ حکومت کو ڈلیور کرنے کا موقع مل سکے اور اپنے اوپر لگنے والے دھاندلی کے الزامات کو دھو سکے۔حکومت نے قوم سے انتخابی اصلاحات کا وعدہ بھی کیا مگر آج تک حکومت اپنے اس وعدے پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔سینیٹر سراج الحق

Siraj 21

سینیٹرسراج الحق کا منصورہ میں جماعت اسلامی کے نو منتخب صوبائی امراءکی تقریب حلف برداری سے خطاب 
لاہور 21اکتوبر2015 ئ
امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں منعقدہ صوبائی امراءکی حلف برادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی اب تک کی کارکردگی سے عوام النا س مطمئن نہیںہیں۔بڑے بڑے دعوں اور وعدوں کے ساتھ آنے والی حکومتوں نے عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دیا۔غربت،منگائی،بے روزگاری لوڈشیڈنگ سمیت حکومت کوئی مسئلہ حل نہیں کرسکی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے گزشتہ سال دھرنا دینے والی دو جماعتوں اور حکومت میں مصالحت اس لئے کروائی تھی کہ حکومت کو ڈلیور کرنے کا موقع مل سکے اور اپنے اوپر لگنے والے دھاندلی کے الزامات کو دھو سکے۔حکومت نے قوم سے انتخابی اصلاحات کا وعدہ بھی کیا مگر آج تک حکومت اپنے اس وعدے پر عمل درآمد نہیں کراسکی۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے بھی اپنی کارکردگی کو بہتر نہیں بنایا۔حالیہ ضمنی انتخابات الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوالیہ نشا ن ہیں۔ملک کا بچہ بچہ کہہ رہا ہے کہ دو جماعتوں کے درمیان دولت کا مقابلہ تھا۔جس الیکشن کی بنیاد خدمت ،صلاحیت کی بجائے دولت ہو اس سے عوام کے مسائل حل ہونے کی بجائے بڑھتے ہیں اور منتخب ہونے والی قیادت فلاح و بہبود کی بجائے اپنے بینک بیلنس میں اضافہ کرتی ہے۔
سراج الحق نے بھارت میں انتہاپسندی اور مسلمانوں سمیت اقلیتوں پر ہندوﺅں کے تشد د اور جلاﺅ گھیراﺅ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران کرکٹ ڈپلومیسی اور فنکاروں ،اداکاروں کے ذریعے مودی کی اسلام و پاکستان دشمنی ختم نہیں کرسکتے ۔بھارت سے دوستی کی باتیں کشمیر کاز کے ساتھ غداری ہے۔ ۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف اوبامہ کے پاس گئے ہیں کہ شاید وہ خطے کے مسائل حل کروائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی سادگی پر ترس آتا ہے اوبامہ کا مسئلہ کشمیر کے تنازعہ کو حل کروانا نہیں بلکہ اپنے مطالبات منوانا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا پاکستان کا ازلی دشمن ہے جو اس کے ساتھ دوستی کی بات کر تا ہے وہ پاکستان کے ساتھ دشمنی کرتا ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہم ملک میں آزاداور خود مختار عدلیہ کے قائل ہیں اور آئین کی بالادستی کے لیے ہم نے بڑی قربانیاں دی ہیں مگر آج عدالتوں کا کردار بھی اطمینان بخش نہیں۔جن ججز کی بحالی کے لیے تحریک میں ہم نے ڈکٹیٹر مشرف کے ظلم و جبر کا مقابلہ کیا آج آئین اور جمہوریت کاساتھ دینے کی بجائے آئین کے بنیادی ڈھانچے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کسی بھی قانون کی اجازت نہیں دیتا،قرآن و سنت نے سود کو اللہ اور رسول کے خلاف جنگ قرار دیا ہے۔مگر ایک جسٹس صاحب کہتے ہیں کہ جس کی مرضی وہ سود لے اور جس کی مرضی نہ ہو نہ سود نہ لے۔انہوںنے کہا کسی پارلیمنٹ اور عدالت کو حق نہیں کہ وہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کرے۔
سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ جماعت اسلامی حقیقی جمہوری جماعت ہے۔ہماراایجنڈا ملک کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی و فلاحی مملکت بنانا ہے تاکہ عوام کو غربت،جہالت ،مہنگائی بے روزگاری اور کرپشن جیسے مسائل سے نجات دلائی جاسکے۔جماعت اسلامی علاقائی ،ملکی اور قومیت کے تعصبات سے پاک ہے ۔اس لیے صرف جماعت اسلامی علاقے اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کو متحدکرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اپنی دعوت کی بنیاد پر ملک کو ایک ترقی یافتہ خوشحال ملک بنانے کے لیے ہر قربانی دیں گے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی 2018ءکے انتخابات میں ایک بڑی عوامی قوت بن کر سامنے آئے گی۔
قبل ازیں پنجاب سے میاں مقصود احمد ،سندھ سے معراج الہدیٰ صدیقی ،خیبر پختونخوا سے مشاق احمد خان اور بلوچستان سے مولانا عبدالحق ہاشمی نے تین سال کے لیے امارت صوبہ کا حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں جماعت اسلامی کی مرکزی و صوبائی قیادت منتخب ضلعی ناظمین ،ضلعی امرائ،ارکان قومی اسمبلی ،سنیئر صحافیوں سمیت کارکنان کی بڑی تعداد شریک تھی،تقریب میں پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور سمیت سیاسی و دینی جماعتوں کے رہنماﺅں نے بھی شرکت کی۔

ہم حکومتوں کو گرانا نہیں چاہتے لیکن اگر نواز حکومت اور صوبائی حکومتوں نے مہنگائی،بے روزگاری اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے ٹھوس اور نظر آنے والے اقدامات نہ کیے۔اور پھرہم مجبور ہوں گے کہ ملک بھر کے غریبوں ،مزدوروں،نوجوانوں کو ساتھ لے کر حکمرانوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالیں۔بھارتی توپیں ہماری سرحدی علاقوں میں گولہ باری کررہی ہیں۔ آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہیں لیکن ہماری سرکار کا بھارت کے بارے میں رویہ انتہائی معذرت خواہانہ ہے۔ امیر سراج لحق

PicSiraj 20 oct Peshawar

جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سراج لحق نے کہا ہے کہ ہم حکومتوں کو گرانا نہیں چاہتے لیکن اگر نواز حکومت اور صوبائی حکومتوں نے مہنگائی،بے روزگاری اور کرپشن کے خاتمہ کے لیے ٹھوس اور نظر آنے والے اقدامات نہ کیے۔اور پھرہم مجبور ہوں گے کہ ملک بھر کے غریبوں ،مزدوروں،نوجوانوں کو ساتھ لے کر حکمرانوں کے گریبان میں ہاتھ ڈالیں۔بھارتی توپیں ہماری سرحدی علاقوں میں گولہ باری کررہی ہیں۔ آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج میں کشمیریوں کی نسل کشی کر رہی ہیں لیکن ہماری سرکار کا بھارت کے بارے میں رویہ انتہائی معذرت خواہانہ ہے۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئر مین شہریار خان کے ساتھ بھارت میں جو بدترین سلوک راوارکھا گیا ہے اس سے یہ بات بھی ثابت ہو گئی ہے کہ نہ تو
کرکٹ ڈپلومیسی سے مسائل بھارت کے ساتھ مسائل حل ہو سکتے ہیں اور نہ بس ڈپلومیسی سے۔مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے ہی سے خطے میں پائدار مان قائم ہو سکتا ہے۔کراچی میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے درمیان بلدیاتی انتخابات میں اتحاد شہر قائد کو بھتہ خوروں ،ٹارگٹ کیلرز اور بوری بند لاشوں کا کاروبار کرنے والوں کا خاتمہ کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔حیدرآباد میں20یونین ناظمین کے عہدوں کے امیدواروں کو جان سے مارنے کی دھمکی دے کر دستبردار کرایا گیاہے۔صوبہ سندھ میں آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے جائیں۔کراچی سمیت ہر شہر اور گوٹھ میں سلیکشن نہیں الیکشن ہونا چاہیے۔29اکتوبرکو قومی اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہزاروں قبائلی عوام فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم8 کرنے کے حق میں پیش کیے گئے بل کے حق میں مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔لیکن حکمران جماعت نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کراکر اسے چھ نومبر کو منعقد کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔حکمران جو بھی کر لیں انھیں قبائلی عوام کو اپنے حقوق دینے پڑیں گے۔ دو نومبر کو اسلام آباد میں قبائلی علاقوں کے مستقبل کے حوالے سے ملک بھر کی قومی قیادت کو ایک صفحے پر لانے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کی جائے گی۔محمد اعظم خان چشتی،مسجد مہابت خان کے خطیب مولانا محمد یوسف قریشی اور محمد اقبال جموی جماعت اسلامی کے بہترین اثاثہ تھے اور انھوں نے اسلام اور پاکستان کے لیے بے بہا قربانیاں دی ہیں جنھیں مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کے روز المرکزاسلامی پشاور میں جماعت اسلامی کے مرحوم رہنماؤں کی یاد میں منعقدہ تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام(س) کے مرکزی رہنما مولانا حامد الحق،سابق سینیٹر حاجی غلام علی۔جماعت اسلامی صوبہ خیبر پختونخوا کے نائب امیر ڈاکٹر محمد اقبال،کاشف اعظم،مسجد مہا بت خان کے خطیب مولانا محمد طیب قریشی نے بھی خطاب کیا جبکہ جماعت اسلامی کے صوبائی جنرل سیکرٹری شبیر احمد خان،اور نائب امیر صاحبزادہ ہارون الرشید بھی موجود تھے۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ موجودہ مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے اقتدار کو تین سال کا عرصہ پورا ہونے کو ہے لیکن اب تک ان کی کارکردگی مایوس کن ہے اور انھوں نے عوام کو درپیش مہنگائی ،بے روزگاری اور کرپشن جیسے مسائل کے حل کے لیے کچھ نہیں کیا اور اگر ان کی کارکردگی کا یہی حال رہا تو یہ ہماری مجبورہ ہو گی کہ ہم ملک بھر کے مظلوم اور غریب عوام کو متحد کرکے حکمرانوں کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیں۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکمرانوں کے پاس ملک کو مسائل کے گرداب سے نکالنے اور وطن عزیز کو ترقی ا ور خوشحالی کے ارستے پر گامزن کرنے کے لیے کوئی ویژن نہیں ہے ۔انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک بحرانی دور سے گزر رہا ہے۔ ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے پر عزم قیادت کی ضرورت ہے۔انھوں نے لوگوں پر زور دیاکہ وہ پاکستان کو حقیقی معنوں میں خوشحال پاکستان بنانے کے لیے جماعت اسلامی کے جھنڈے تلے متحد ہو جائیں ۔دیگر مقررین نے جماعت اسلامی کے مرحوم رہنماؤں محمد اعظم چشتی ،مولانا محمد یوسف قریشی اور محمد اقبال جموی کو شاندار خراج تحسین پیش کیا کہ انھوں نے اسلام اورپاکستان کے لیے مثالی خدمات انجام دیں اور انھوں نے پوری ز ندگی عوام کی خدمت کے لیے وقف کی۔اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ان کی کو ششیں ضرور رنگ لائیں گی۔

وفاقی حکومت زیر انتظام قبائلی علاقوں کو پاٹا کا درجہ دیکر اسے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کی حمایت میں 29 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل فاٹا سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام عظیم الشان مظاہرہ مظاہرہوگا، جس میں فاٹا کی آٹھوں ایجنسیوں کے قبائلی عوام ہزروں کی تعداد میں شریک ہونگے۔امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق

03

اسلام آباد19اکتوبر2015ء
امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سراج الحق نے اعلان کیا ہے کہ وفاقی حکومت زیر انتظام قبائلی علاقوں کو پاٹا کا درجہ دیکر اسے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بل کی حمایت میں 29 اکتوبر کو ڈی چوک اسلام آباد میں تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل فاٹا سیاسی اتحاد کے زیر اہتمام عظیم الشان مظاہرہ مظاہرہوگا، جس میں فاٹا کی آٹھوں ایجنسیوں کے قبائلی عوام ہزروں کی تعداد میں شریک ہونگے۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس عظیم الشان مظاہرے میں شرکت کی دعوت دی جائے گی۔ جبکہ مورخہ 02 نومبر کو اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج اسلام آباد میں نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان میاں محمد السم کی رہائش گاہ پر فاٹا سیاسی اتحاد کے قائدین کے ہمراہ ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر فاٹا سیاسی اتحاد کے صدر اخوند زادہ چٹان (پی پی پی پی)، صاحبزادہ ہارون الرشید (امیرجماعتِ اسلامیقبائل)،،بریگیڈیئر قیوم شیرپاکستان تحریک انصاف،نثار مہمند عوامی نیشنل پارٹی ،فضل سبحان جماعت اسلامی مہمند ایجنسی،محمد اصغر ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان ،محترمہ انیتا محسود ساحبہ پاکستان تحریک انصاف،سراج الدین جماعت اسلامی ،مولانا عین الدین شاکرجمعیت علماء اسلام،ذرنور آفریدی جماعت اسلامی فاٹا ،آفتاب خانپاکستان مسلم لیگ ق،ظاہر شاہ قومی وطن پارٹی،ڈاکٹر منصف خان جماعت اسلامی،اسرار اللہ خان ایڈوکیٹ جماعت اسلامی ،تفہیم الرحمان جماعت اسلامی،حاجی لاہور خان تحریک انصاف، شاہد خان تحریک انصاف،شاہد شمسی ،سیف اللہ ،اور میاں عطاؤالرحمان بھی موجود تھے۔امیر جماعِت اسلامی سراج الحق نے اس موقع پر کہا کہ وقت آگیا ہے کہ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے میں لایا جائے اور قبائلی عوام کو بھی آئینی میں دیے گئے وہ تمام بنیادی حقوق دیے جائیں جو ملک کے دیگر حصوں کے شہریوں کو حاصل ہیں، اور انہیں انگریز کے مسلط کردہ بدنامِ زمانہ ایف سی آر سے نجات دلائی جائے۔ انہوں ںے کہا کہ وہ فاٹا سیاسی اتحاد کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ اُس کے قائدین نے انتہائی دانشمندی، دور اندیشی اور بے مثال اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے طویل جرگوں اور مشاورت کے بعد فاٹا کو خیبر پختونخواہ میں شامل کرنے کا متفقہ فیصلہ اور مطالبہ کیا ہے۔ اب ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور ادروں کا فرض ہے کہ وہ انہیں تقسیم کرنے کی بجائے اُن کی حمایت کریں۔امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ قبائلی عوام نے قائد اعظم سے کیے گئے تمام معاہدوں کی پاسداری کی ہے اور اُنہوں نے ہمیشہ پاکستان کے لیے قربانیاں دی ہیں اور ملک کے لیے اپنا خون تک نچھاور کیا ہے۔ لیکن گزشتہ 69 برسوں میں قبائلی عوام کو ہمیشہ ان کے حقوق سے محروم رکھا گیا ہے، اور وہ ترقی کی دوڑ میں لک کے دیگر حصوں میں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں اس وقت سیاسی خلا ہے، جسے پُر کرنا انتہائی ضروری ہے۔ فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرکے اسے مالاکنڈ ڈویژن کی طرح پاٹا کا درجہ دیکر قبائلی علاقوں میں موجود سیاسی خلا کو بہترین طریقے سے پُرکیا جاسکتا ہے اور قبائلی علاقوں میں دیرپا امن کے لیے یہ بہترین تجویز ہے۔ فاٹا سیاسی اتحاد کے تمام سیاسی قائدین کو ایک ہی موقف پر متفق کرنے کا جو کارنامہ سرانجام دیا گیا ہیوہ ملک کی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک سبق ہے کہ قومی ایشوز پر متفقہ اختیار کی اجاسکتا ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا کہ قبائلی علاقوں کے لیے ایک بڑے مالیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے اور ان علاقوں میں انفراسٹرکچر کی تعمیر نو، تعلیم، صحت سے متعلق سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔
امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے ایک سوال کے جوا میں کہا کہ ڈی چوک اسلام آباد میں 29 اکتوبر کو ہونے والے مظاہرے کا مقصد قبائلی عوام کی طرف سے اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہے۔ اور اس مظاہرے کا بنیادی مقصد قومی اسمبلی میں فاٹا پارلیمینٹیرینز کی طرف سے پیش کردہ بل کی حمایت کرنا ہے۔ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے آئی ڈی پیز کی حالت زار کی طرف حکومت کی توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ موسمِ سرما شروع ہوچکا ہے لیکن وعدے کے مطچابق آئی ڈی پیزکو باعزت طور پر اپنے گھروں کی واپسی کے لیے اقسامات نہیں کیے گئے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ آئی ڈی پیز کے اپنے گھروں کو باعزت واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔ امیر جماعتِ اسلامی سراج الحق نے ایکا ور سوال کے جواب میں کہا کہ قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ دراصل ایجنسی کا بادشاہ ہوتا ہے، جسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ اسے تمام تر انتظامی، سیاسی اور قانونی اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔موجودہ فرسودہ اور ظالمانہ نظام سے نجات حاصل کرنے کیلئے میدان عمل میں اتر آئے ہیں اور جماعت اسلامی انکا بھرپور ساتھ دیگی ،فاٹا سیاسی اتحاد کے صدر اخونزادہ چٹاننے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی نے ہمیشہ فاٹا کے عوام کیلئے آواز اٹھائی ہے انہوں نے کہا کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے قبائلی علاقوں کے مسائل کے حل کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کی میزبانی کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے جس پر ہم انکے مشکور ہیں انہوں نے کہا کہ29اکتوبر کو اسلام آباد کا جلسہ کسی کی کرسی گرانے کیلئے نہیں بلکہ قبائلی عوام کے حقوق کیلئے منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔